Source : File Photo

مہاتیر محمد۔۔۔دنیا کے معمرترین وزیراعظم
28 اگست 2018 (21:27) 2018-08-28

رانا اشتیاق احمد:ہمارے ہاں اکثرطیب اردوان اور مہاتیر محمد کا نام گڈ گورننس کے حوالے سے سننے میں آتا ہے۔ ان میں سے اوّل الذکر تعلق ترکی جب کہ آخرالذکر کا تعلق ملائیشیا سے ہے۔ اندونوں رہنماو¿ں نے اپنے اپنے ملک کی معاشی و سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہاں ہم ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی زندگی، ان کے سیاسی کریئر اور معاشی پالیسیوں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں تاکہ ہم جان سکیں کہ آخر کیوں ان کا تذکرہ ہمارے ہاں اس قدر تواتر سے کیا جاتا ہے۔


ملائیشیا رقبے کے لحاظ سے سے 67 واں سب سے بڑا ملک ہے۔ مغرب میں اس کی زمینی سرحد تھائی لینڈ کے ساتھ ملتی ہے جب کہ انڈونیشیا اور برونائی دارالسلام اس کے مشرق میں واقع ہیں۔ جنوب میں براستہ پل سنگاپور سے منسلک ہے، ویتنام کے ساتھ اس کی سمندری حدود ملتی ہیں۔ ملائیشیاکا آئین مذہب کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے جب کہ اسلام سرکاری مذہب ہے۔ اس ملک میں مسلم 61.3 فیصد، بدھ مت 19.8، عیسائی 9.2، ہندو 6.3 فیصد اور کچھ دیگ مذاہب کے پیروکار بھی آباد ہیں۔ ملائیشیا ہم سے 10برس بعد یعنی 31اگست 1957ءکو برطانوی استعمار سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ ملائیشیا چھوٹی چھوٹی بادشاہتوں یعنی (Princely States) پر مشتمل 13ریاستوں کا وفاق ہے۔ 1961ءمیں یہ ملایا سے ملائیشیا بن گیا۔ 1969ءمیں مقامی ملائی اور چینی باشندوں کے درمیان بدترین فسادات ہوئے اور پورا ملک ایک ہفتے تک مکمل مفلوج رہا۔ ان فسادات کے بعد ریاستی منصوبہ سازوں نے چند دور رس فیصلے کیے، جن کی وجہ سے ملک میں پائیداراور دیرپا امن قائم ہوا ، جو آج تک قائم ہے۔ مہاتیر محمد نے اپنے وزارت عظمی کے دور میں معاشی حوالے سے جو مو¿ثر اور انقلابی اقدامات اُٹھائے ان کی وجہ سے آج ملائیشیا کی معیشت مضبوط ہے اور مزید ترقی کی طرف گامزن ہے۔


ڈاکٹر مہاتیر بن محمد ملائیشیا کے ساتویں وزیر اعظم ہیں جنہوں نے 10 مئی 2018ءکو انتخابات میں کامیابی کے بعد یہ عہدہ سنبھالا تھا۔ قبل ازیں وہ اس عہدہ پر 1981ءسے 2003ءتک، 22 سال، فائز رہے۔ 2018 ءمیں ملائیشیا کے انتخابات میں فتح کے بعد وزیراعظم مہاتیر محمد دنیا کے سب سے معمرترین منتخب حکمران بن گئے تھے۔ 92 سالہ مہاتیر محمد نے پندرہ برس پہلے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ تاہم 2016ءمیں انہوں نے یہ فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے ملائیشین یونائیٹڈ انڈیجنس پارٹی قائم کی تھی۔ وزیر اعظم کا حلف اٹھانے کے بعد مہاتر محمد نے کہا کہ ان کی توجہ ملک کی معیشت پر ہوگی۔


ڈاکٹر مہاتیر محمد 10جولائی 1925ءکو پید ہوئے۔ اسکول میں داخلے کے وقت ان کی تاریخ پید ائش 20 دسمبر لکھوائی گئی۔ ان کے دادا بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھتے تھے جنہیں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ملائیشیا بھیجا تاکہ وہ وہاں کے باشندوں کو انگلش سکھا سکیں۔ مہاتیر کی والدہ خالص مَلے (Malay) تھیں اور ایک سکول میں پڑھاتی تھیں، مہاتیر محمد بچپن سے انتہائی ذہین تھے اور اعلیٰ قابلیت کے جوہر دکھانے لگے۔ دوسری جنگ عظیم میں جب تمام سکول اور تعلیمی ادارے بند ہوگئے تو مہاتیر محمد نے خاندانی انکم میں اضافے کے لیے ایک کیفے قائم کیا اور حالات کا مقابلہ کیا۔ اپنی والدہ کی نصیحت کو ہمیشہ یاد رکھتے کہ ”رزق حلال کی برکت سے تم اپنی اور اپنی قوم کی تقدیر بدل سکتے ہو“دوسری جنگ عظیم کے دوران جب ملایا پر جاپانیوں کا قبضہ ہو گیا تو انگلش میڈیم سکول بند کروا دیے گئے جس کے باعث مہاتیر محمد کو تعلیم درمیان میں ہی چھوڑنا پڑی۔ مہاتیر محمد نے جنگ عظیم دوئم کے خاتمے کے بعد دوبارہ اپنی تعلیم شروع کی اور سنگاپور کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا۔


مہاتیر محمد نے 1946ءمیںیونائٹڈ مالیزنیشنل آرگنائزیشن میں شمولیت اختیارکی ،1957ءمیں عملی سیاست میں قدم رکھا اور یونائیٹڈ ملایو نیشنل آرگنائزیشن UMNO میں شمولیت اختیار کی۔ بابائے ملائیشیا تنکو عبدالرحمان سے اختلافات کی وجہ سے مہاتیر محمد کو 1959ءمیں پارٹی سے نکال دیا گیا۔ ملائیشیا کے دوسرے وزیراعظم عبدالرزاق انہیں دوبارہ پارٹی میں لے آئے اور یہیں سے مہاتیر محمد کی سیاسی کامیابیوں کا سفر شروع ہوا۔ 1964ءمیں پہلی بار پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے، 1974ء میں ملائیشیا کے وزیر تعلیم مقرر ہوئے، 1976ءمیں نائب وزیر اعظم، 1978ءمیں وزیر صنعت و تجارت بنے۔ 16جولائی 1981ءکو مہاتیر محمد نے ملائیشیا کے چوتھے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ مہاتیر کی پالیسیوں سے ملایشیا ایک پسماندہ ملک سے ایشن ٹائیگر بن گیا۔ اکتوبر 2003 ءمیں وزارتِ عظمی سے دستبرداری کے بعد مہاتیر محمد نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ 2016ءمیں وہ ایک بار سیاست کے میدان میں آئے اور اپنی نئی جماعت PPBM بنائی، دیگر ہم خیال جماعتوں سے انتخابی اتحاد کیا اور اس جماعت کو شکست دی جس میں رہتے ہوئے وہ خود دو دہائیوں تک وزیر اعظم رہے۔


مہاتیر کے پہلے دور اقتدار میں ملائیشیا نے تیز ترین معاشی ترقی اور جدیدیت کی طرف سفرکیا۔ ان کی حکومت نے انفراسٹرکچرکی بہتری کے لئے کئی منصوبے شروع کیے جو کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ اپنی معاشی و اقتصادی پالیسیوں کے باعث مہاتیر محمد نے مسلسل پانچ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔


ملائیشیا کی تاریخ میں مہاتیر محمد کا کردار ایک محسن اور دور جدید کے انقلاب کے بانی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، مہاتیر محمد نے جس طرح ملائیشیا کی تاریخ بدلی قوم کو سیاسی اور سماجی اندھیروں سے نکالا۔ مَلے اور چینی اقوام کی بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کرکے انہیں ایک قوم کے وجود کے اندر سمو دیا کیونکہ وہاں دوسری بڑی قوم چینی بولنے والوں کی ہے۔ اس کا سارا کریڈٹ اور فخر اس فلسفہ انقلاب کو جاتا ہے جس کی آبیاری مہاتیر محمد نے کی، آج مسلم امہ کو جو معاشی اور سیاسی مسائل درپیش ہیں، ان کا علاج مہاتیر محمد کے نظریات میں پوشیدہ ہے۔


ہماری پاکستانیوں کی قسمت میں قائد اعظم کے بعد کوئی بھی رہنما ایسا نہیں ملا جس کا کردار قابل فخر ہو لیکن اب چیئر مین تحریک انصاف عمران خان کی صورت میں عوام کو امید کی کرن نظرآئی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ عوام کی امیدوں پر پورا اترتے ہیں یا پھر نہیں۔


صنعتی اور قومی ترقی کیلئے مہاتیرکا ایجنڈا
مہاتیر محمد نے اپنے ملک کو اہم صنعتی اور ترقی یافتہ قوم میں بدلنے کا ایجنڈا پیش کیا، جو پبلک پالیسی مہاتیر محمد نے اختیارکی اس کی بنیاد درج ذیل سیاسی فلسفہ پر قائم ہیں۔


1: مشرق کی تہذیبیں جن اخلاقی اور روحانی اصولوں پر قائم ہیں مہاتیر محمد کے نزدیک امریکہ اور اہل مغرب اس فکری شعور سے نابلد ہیں مثلاً مشرق کی روحانی اقدار میں ”خاندان کا کردار ہے“ جب کہ مغربی معاشرہ خاندان کے وجود کے تقدس سے انکاری ہے چنانچہ مہاتیر محمد کے نزدیک ”خاندان کا ادارہ“ مالے معاشرہ کا بنیادی سماجی اکائی ہے جس کو ریاست اپنے نظام کا حصہ بنا کر اس کو مالی اور سماجی استحکام بخشے اور اس خاندانی نظام نے ملائیشیا کو جدید ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسرا نظریہ ریاست ہے جو مہاتیر محمد کے نزدیک آئین اور قانون کی پاسداری پر قائم ہونی چاہیے۔ ریاست کا نظام خود احتسابی پر قائم ہونا چاہیے۔
2: وسائل کی تقسیم کا منصفانہ نظام ریاست کو قائم کرنا چاہیے۔
3: نظم و ضبط میں کسی قسم کی جھول برداشت نہیں کرنی چاہیے۔
4: مہاتیر محمدکے نزدیک دہشت گردی کا نظریہ بھی مغرب کے سیاسی فلسفہ کا حصہ ہے جس کا مقصد مسلم ممالک کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔
5: مہاتیر محمد کے نزدیک انسانی حقوق و فرائض میں ایک توازن قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔
6: مہاتیر محمد کے مطابق مَلے قوم اپنی اسلامی اور دینی شناخت کوکبھی قربان نہیں کر سکتی، وہ اسلامی تاریخ ورثہ کو اپنی قوم کے وجود کے لیے بہت اہم قرار دیتے ہیں اور یہی وہ مہاتیر محمد کا فلسفہ تھا جس نے ملائیشیا کو دنیا کی ترقی یافتہ قوم میں بدل دیا۔


مہاتیر محمد بحثیت مفکر
ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتر محمد نہ صرف ایک بہترین سیاست دان ثابت ہوئے ہیں بلکہ ان کو قومی اور بین الاقوامی امور پر بھی گہری دسترس حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں مسلم امہ کے مسائل کا نہ صرف ادارک ہے بلکہ وہ ان کے حل کے لئے ایک واضح ایجنڈا بھی رکھتے ہیں ۔ اس بات کا بیّن ثبوت ان کی کتاب ”اچیونگ ٹرو گلوبلائزیشن“ ہے۔ مہاتیر محمد کی یہ کتاب 2004ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس میں انہوں نے عالمگیریت کے حوالے سے بحث کی ہے اور اس بحث کے دوران امریکہ اور یورپ کے مجموعی استحصالی کردار پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ کتاب کے مندرجات سے چند امور میں اختلاف کی گنجائش ہے، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ موصوف نے اسلامی دنیا کو درپیش مسائل بیان کرکے ان کا حل پیش کرنے کی قابلِ ذکرکوشش کی ہے۔


اپنی اس کتاب میں وہ جمہوریت کے بارے میں خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہتے ہیں” دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں کمزور ممالک کے پاس صرف ایک راستہ رہ گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ انھیں جمہوریت اپنا لینی چاہیے۔کمیونسٹ ممالک بھی خود کو جمہوری کہتے ہیں، تاہم ان کے اس دعوے کو مسترد کردیا جاتا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ مغربی طرزکی جمہوریت کا نمونہ پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ ممالک ہر وقت حملے اور قبضے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

مثلاً شمالی کوریا خود کو ”عوامی جمہوریہ کوریا“ کہتا ہے، تاہم مطلق العنان حکومت کے باعث اسے بھی حملے کے خطرے کا سامنا ہے۔ سوال صرف جمہوریت کو اپنانے کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہر ملک کو امریکی انداز کا لبرل ڈیموکریٹک سیٹ اپ اپنانا ہوگا۔ ایسے میں کشیدگی، تصادم، محاذ آرائی، اور عدم استحکام کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ ہر معاشرہ جمہوریت کو اپنے مزاج کے مطابق اپناتا ہے۔ جمہوریت کی کوئی بھی شکل اتنی جامع نہیں کہ ہر معاشرے پر اطلاق پذیر ہو“۔ وہ مزید لکھتے ہیں ” اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت اس وقت حکومتی نظام کی بہترین شکل ہے، تاہم ہر اعتبار سے جامع تو یہ بھی نہیں۔ جمہوریت کی سب سے بڑی کمزوری بدعنوانی ہے۔ جمہوری حکومتوں کے ساتھ بدعنوانی کا دُم چَھلّا جڑا رہا ہے۔ جو لوگ خود کو انتخاب کے لیے عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں وہی بدعنوان ہیں۔ سیاست دان چونکہ اپنی مقبولیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں اس لیے وہ ووٹروں کو خوش کرنے کے اقدام بھی کرتے رہتے ہیں۔ بعض حالات میں وہ ووٹروں کو رشوت دینے سے بھی باز نہیں آتے۔ چند علاقوں میں ترقیاتی منصوبے زیادہ عمدگی سے تکمیل کو پہنچتے ہیں۔ دوسرے بہت سے علاقوں کے لوگ ترستے ہی رہ جاتے ہیں۔ جمہوری ڈھانچے میں عوام خود کو طاقت کا سرچشمہ سمجھتے ہیں اس لیے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ سیاست دانوں پر دباﺅ بھی ڈالتے ہیں۔ نتیجتاً رقوم کی بے ہنگم تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ جمہوریت عوام کو طاقت ضرور بخشتی ہے، مگر انہوں نے اس میں بدعنوانی کے پہلو کو یکسر نظر انداز کردیا ہے۔ بہت سے سیاست دان مذہب کےنام پر ووٹ لیتے ہیں۔ دل خراش حقیقت یہ ہے کہ بدعنوانی جمہوریت کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے ہے“۔


اپنی کتاب میں دہشتگردی کے بارے میں ان کا کہنا ہے ” 11 ستمبر2001 ءکے واقعات کے بعد سے یہ خدشہ پروان چڑھتا رہا ہے کہ امریکہ کے خلاف دہشت گردی کا دائرہ وسعت اختیار کرے گا اور یہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ عراق میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جنگ چھیڑنے کے بعد سے معاملہ مزید الجھ گیا ہے۔ عراقی روایتی جنگ تو ہار گئے، اب وہ گوریلا جنگ ہی لڑسکتے ہیں اور لڑ رہے ہیں۔ اس ضمن میں خاص طور پر یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اگر آپ کسی پر بھی حملہ آور ہو رہے ہوں تو آپ کے پاس اس کا معقول جواز ضرور ہونا چاہیے۔ امریکہ اگر دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے تو اس کے بنیادی اسباب پہلے ختم کرنا ہوں گے“ ۔


ای پیپر