Source : File Photo

مودی حکومت کی پالیسیاں اور بھارتی اقلیتیں
28 اگست 2018 (21:23) 2018-08-28

امتیازکاظم:گیان دیو آہاجو راجستھان کے ایم ایل اے کہتے ہیں کہ ”جواہر لال نہرو“ پنڈت نہیں تھے، گائے کا گوشت کھاتے تھے۔ جو شخص گائے اور خنزیر (سور) کا گوشت کھائے وہ پنڈت نہیں ہو سکتا، یہ کانگریس ہے جس نے ان کے نام کے آگے پنڈت کا لفظ بڑھایا“۔ آہوجا کا تعلق بی جے پی (بھاجپا) سے ہے اور یہ رام گڑھ (الور) سے رُکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ کانگریس نے پنڈت کا لفظ نہرو کے آگے لگایا ہے تو بی جے پی کو بھی چاہیے کہ وہ مودی کے نام کے آگے ”مودھ گھانچی“ (تیلی) کا اضافہ کردیں تاکہ کام برابر ہو جائے اور لوگ پنڈت اور مودھ گھانچی دونوں کو پرکھ سکیں۔

ایک اور ممبر پارلیمنٹ نراملی شیواپرساد نے کہا کہ مودی نے وعدہ خلافیوں کے ضمن میں ہٹلر کا رُوپ دھار لیا۔ راشٹریہ سوائم سنگھ کی جھولی کا پروردہ یہ انتہا پسند ویدنگر کے سٹیشن پر اپنے والد مُول چند کے ساتھ صرف چائے فروشی کا کام ہی نہیں کرتا رہا بلکہ یہ RSS کا سیوک (جونیئر کیڈٹ) بھی تھا یعنی اپنے ”بالکے“ کی برین واشنگ کا کام آرایس ایس نے بچپن سے ہی شروع کردیا تھا اور پھر برہمچاری بن کر یاتریوں کے بھیس میں 1968-69ءسے آشرم یاترا کرتا چلا آرہا ہے۔ سوامی ویوک آنند کا ہندو آشرم، کولکتہ کا بیلرناتھ آشرم، ادوتیہ آشرم المورا اور راج کوٹ کے راماکرشنا آشرم اس کی یاترا کے گواہ ہیں جبکہ 1990ءمیں ایل کے ایڈوانی کے ساتھ مل کر مشہور ”ایودھیارتھ یاترا“ کی اور 1991-92ءمیں ہی بی جے پی، بھاجپا کے مُرلی منوہر جوشی کے ساتھ ”ایکتایاترا“ کی ۔

ایکتا بمعنی یونٹی، اتحاد اور یاترا بمعنی مقدس سفر۔ تو اس کی یاترائی ”ذہنیت“ کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مودی جی آج بھی اپنے کٹرہندوﺅانہ اور بنیاد پرستانہ مقدس سفر پر رواں دواں ہیں۔ ان کا یہ سفر ”گجرات ایکسپریس“ نان سٹاپ پر بڑی تیزی سے جاری ہے۔ آرایس ایس کا یہ سچا پرچارک 3 اکتوبر 2001ءکو جب گجرات ایکسپریس میں سوار ہوا تو یہ یہاں کا وزیراعلیٰ تھا۔ یہ ٹرین گوا میں رُ کی تو بی جے پی کے منوہر پاریکر کو بطور وزیراعلیٰ گوا اس میں سوار کرا لیا۔ ریاست چھتیس گڑھ سے اس میں رمن سنگھ بطور بی جے پی وزیراعلیٰ سوار ہوئے۔ شیوراج چوہان مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کے طور پر سوار ہوئے۔

رگھوویر اس بطور وزیراعلیٰ جھاڑکھنڈ، تروندر سنگھ راوت بطور وزیراعلیٰ اُترکھنڈ، منی پور سے بہرین سنگھ بطور وزیراعلیٰ، ریاست مہاراشٹر سے بطور وزیراعلیٰ دیوندرمسٹر نویس اور منوہر لال کھڑ بطور وزیراعلیٰ ریاست ہریانہ سے سوار ہوئے جب کہ ان سب کو اکٹھا کر کے مودی جی اُترپردیش (UP) جیسی اہم ریاست میں اُترے تو وہاں آدتیہ ناتھ یوگی بطور وزیراعلیٰ اُن کے سواگت کو آئے اور یہ سب کے سب بی جے پی کے اہم رُکن ہیں اور کٹرہندوو¿انہ اور بنیاد پرستانہ ذہنیت کے حامل ہیں، یہی وجہ ہے کہ صرف اُترپردیش (UP) میں 20 سے 21 فی صد مسلمان اور 22 سے 23 فیصد دلت بے بس نظر آتے ہیں۔

دلت OBC یعنی Other Backward Casts میں آتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ مودی جی خود بھی OBC میں شامل ہیں۔ سیکولر بھارت کا چہرہ OBC مودی کی سربراہی میں کٹر بنیاد پرستانہ اور ہندوﺅانہ ریاست کے پیچھے چھپ رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مودی کو راستہ کس نے فراہم کیا جب کہ کانگریس سمیت بڑی پارٹیاں اور بڑے منجھے ہوئے سیاست دان موجود تھے تو کیا طبقاتی کشمکش کے نظریہ دان، سیاست دان اور بائیں بازو کی پارٹیاں اپنا مخصوص لائحہ عمل اور لائن آف ایکشن چھوڑ کر بھارت کے سیکولر نظام کو مذہبیت اور رجعت پسندی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ ہندوکٹر بنیاد پرستانہ نظام لانا چاہ رہی ہیں یا 1925ءمیں آرایس ایس کی بنیاد رکھنے والے گول والکر کے نظریات کو تقویت دینا چاہ رہی ہیں۔ موجودہ دور میں ہندوبنیاد پرست کیوں جیتے باقی جماعتیں کیا کرتی رہیں مثلاً فیض آباد ، ایودھیا وغیرہ میں ہمیشہ ماضی میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ہی جیتا کرتی تھی آج اُس کا نام ونشان نظر نہیں آتا۔کیا مودی کے کھوکھلے نعرے ”گﺅرکھشا“، ”شائننگ انڈیا“، ”بھارت ماتا کی جے“ اُس کی جیت کا سبب بنے یا آرایس ایس، بی جے پی اور یاتریوں/ آشرموں سے تعلقات اُس کی جیت کا سبب بنے۔ یہ سمجھنے کے لیے میں تھوڑا ماضی میں جاتا ہوں۔


مودی جی کو 2001ءمیں بی جے پی کے کیشو بھائی پٹیل کی گجرات میں ساکھ کھو جانے کے بعد میدان عمل میں آنے کا موقع ملا حالانکہ اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے ایڈوانی نے مودی کی مخالفت کی تھی لیکن 3 اکتوبر 2001ءمیں وزیراعلیٰ گجرات کے لیے نامزدگی کو مودی نے چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور وہ تمام منفی ہتھکنڈے اور داﺅ پیچ استعمال کیے جو اُس نے 1978ءتک RSS کے سمبھاگ پرچارک (ریجنل آرگنائزر) بننے تک سیکھے تھے، یہی وجہ تھی کہ انڈین نیشنل کانگریس کے آشون مہتہ کو ہرا کر گجرات کا الیکشن جیتا اور اسی سال 2002ءکو گجرات میں ہندو مسلم فسادات ہوئے۔ (27 فروری 2002ءگودھرا پونے سٹیشن کا گاڑی کو آگ لگنے کا واقعہ) اور اسی جیسے درجنوں واقعات اُس وقت ہوئے اور2014ءمیں مودی جی بھارت کے 15ویں وزیراعظم بھی RSS / بی جے پی کی مدد سے بنے اور اپنے دستِ راست امیت شاہ پہلے بھاجپا (BJP) کا جنرل سیکرٹری بنایا، پھر صدر بنایا اور امیت شاہ نے بھی اُترپردیش (UP) کے انتخابات میں بھاجپا کو واضح اکثریت سے کامیاب کرا کے خوب نمک حلال کیا۔ یہی وہ امیت شاہ ہے جس نے2002ءسے 2006ءتک 22 عدد جعلی پولیس مقابلوں میں درجنوں مسلمانوں کو مارا۔ ان میں 2004ءکا مشہور عشرت جہاں کیس بھی شامل ہے۔ مودی جی کا کچھ ماضی کا چہرہ دیکھنے کے بعد اب موجودہ BJP کے کم ازکم 10 وزیراعلیٰ مقرر کرنا چہ معنی دارد؟


2017ءمیں بھارت کے ممتاز دانشور ”بھانوپرتاب مہتا“ نے اخبار انڈین ایکسپریس میں لکھا ” اقتدار کے مرکز دہلی میں براہ راست بیچ کا سامنا کوئی نہیں کرنا چاہتا بھارت کا بادشاہ ننگا ہے“ یقینا بھانوپرتاب مہتا جی بڑے دانشور ہیں اور اپنے ”نانگے“ کے متعلق خوب جانتے ہیں کہ انہوں نے ”ہندو یووا واہنی“ جیسی کٹر اور بدنام انتہا پسند تنظیم کے بانی یوگی آرتیہ ناتھ کو اُترپردیش جیسی اہم ریاست کا وزیراعلیٰ کیوں بنایا ہے، اس کا انتخابی حلقہ گورکھپور ، خوشی نگر ہے۔ یہاں سے 2014ءسے 2016ءتک 389 نابالغ مسلمان لڑکیوں کے غائب ہونے کی وارداتیں ریکارڈ ہوئی ہیں اور جو ریکارڈ پر نہیں آسکیں وہ الگ ہیں۔

بس عقلمند کے لیے ایک ہی واقعے کا اشارہ کافی ہے کہ یہ یوگی کس سوچ کا مالک ہے اور مودی کے اسی دست راست نے بھارت میں تطہیر (پیوریفیکیشن) کی تحریک شروع کر رکھی ہے۔ قارئین اس ایک لائن میں درجنوں واقعات چھپے ہوئے ہیں۔ تنگی اوراق آڑے آتی ہے ورنہ کیا کچھ نہیں لکھا جا سکتا۔ جتنے واقعات ذہن کی سکرین پر چل رہے ہیں اُن کو سوچ کر دم گھٹ رہا ہے۔ مودی کا انڈیا اب ایک ایسی ریاست بن چکا ہے جہاں مسلمانوں کو زیادہ بچے نہیں پیدا کرنے دیئے جا رہے۔ طلاق اور یوسی سی (یونیفارم سول کوڈ) اور کثرتِ ازدواج کے مسئلہ کو اُچھالا جا رہا ہے۔ لڑکیوں کو اغوا کرکے اُن کو زبردستی ہندو بنا کر رکھا جا رہا ہے۔ بنگالی پٹی بنجاریہ گاﺅں کی17سالہ آسیہ کا کیس لے لیں یا ”چوبیہ رام پورگاﺅں“ کی زبیدہ کو دیکھ لیں جو اب امیشاٹھاکر کے نام سے ایک ہندو خاندان میں زندگی گزار رہی ہے۔ مودی کا بھارت اب ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں جانور اور انسان ایک برابر نہیں بلکہ جانور / گائے کی قدرو قیمت یاد ہی نہیں بلکہ بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ ریاست گجرات کی اسمبلی میں ایک قانون پاس ہوا ہے جس کے تحت ”گجرات جانور ایکٹ 1954ئ“ میں ترمیم کی گئی ہے کہ گائے ذبح کرنے پر عمرقید کی سزا ہو گی۔ اسی قانون میں2011ءپھر ترمیم ہوئی جس کے تحت گائے اور انسان دونوں کو ذبح ، قتل کرنے پر دفعہ 302 لاگو ہو گی۔


اب وقت ہے کہ مسلمان اور ”دلت“ دونوں مل کر اگلے الیکشن میں پانسہ پلٹ دی۔ اُتر پردیش جیسی اہم اور بڑی ریاست کے 49 اضلاع میں دلت ووٹرز اکثریت میں ہیں کیونکہ یہاں دلتوں کی 70 کے قریب ذاتی مقیم ہیں، 20اضلاع میں یہاں مسلمان ووٹرز اکثریت میں ہیں۔ اُترپردیش میں دلت ووٹرزکُل آبادی کا21 فیصد ہیں جب کہ مسلمان ووٹرز20 فیصد ہیں۔ لوک سبھا کی کُل 545 نشستیں ہیں جن میں دلتوں اور شیڈولڈ کاسٹ کی بالترتیب 84 اور 47 لوک سبھا نشستیں ہیں۔ ان 545 میں سے80 نشستیں اُترپردیش کی ہیں اور ان 80 میں سے 17شیڈولڈ کاسٹ کی ہیں۔

بھارت میں پچھلے70 سال سے مسلمان ووٹرز کو کیش کرانے کی پالیسی چلتی رہی ہے، اب وقت ہے کہ شیڈولڈ کاسٹ ، دلت اور مسلمان مل کر بڑی پارٹی سے اتحاد کرکے مودی کو اگلے الیکشن میں انڈیا سے باہر پھینک دیں۔اس سارے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک بات امید افزا ہے کہ ایک طرف بھارت کے حکمران عدم روا داری کے فروع میں پیش پیش ہیں تو دوسری جانب بھارت کی سول سوسائٹی بھارتی حکومت کی رجعت پسندی کے خلاف سراپہ احتجاج ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق 2015ءبی جے پی حکومت کی انتہا پسند روش کے خلاف بھارت کے 200 سے زائد سرکردہ فلم سازوں، قلم کاروں، ادیبوں، سائنسدانوں، مورخین اور فلم سازوں اپنے ایوارڈز حکومت کو واپس کرکے حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا ، جبکہ اسی دوران بی جے پی حکومت کے وزراءسول سوسائٹی کے ان اقدامات پر شدید اعتراضات کرتے رہے۔ لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بھارت کے دانشور حکومت کے گمراہ کن اقدامات کے خلاف جو احتجاج کر تے رہتے ہیں اُس سے امید بنتی ہے کہ شاید بھارتی معاشرہ موجودہ حکومت کے اقدامات کو برداشت کرنے کے لئے تیارنہیں۔


ای پیپر