سندھ کی وزارتِ اعلیٰ، سیدوں کا راج جاری

28 اگست 2018 (21:19)

مقبول خان: سندھ میں شاہوں کے اقتدارکا تسلسل جاری ہے۔ سید مراد علی شاہ دوسری مرتبہ وزیر اعلیٰ سندھ منتخب ہوچکے ہیں، ان کا دوسری مرتبہ وزارت اعلیٰ کے منصب پر انتخاب پارٹی قیادت کا مراد علی شاہ کی صلاحیتوں اور اہلیت پراعتماد کا مظہر ہے۔ اس پر انہوں نے پارٹی قیادت سے اظہار تشکر بھی کیا ہے۔ مراد علی شاہ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سندھ کے نویں وزیر اعلیٰ ہیں۔ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی کے ایوان میں 97 ارکان کا اعتماد حاصل کیا، جب کہ 158ارکان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ چار ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ حزب اختلاف کے امیدوار شہر یار مہر نے 61 ووٹ حاصل کئے تھے۔ پیپلزپارٹی نے سندھ میں اپنی حکمرانی ہیٹرک کرلی ہے، نثار کھوڑوکے بقول حکمرانی کی ہیٹ ٹرک عوام کے تعاون بغیر ممکن نہیں تھی۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے منتخب ہونے کے بعد ایوان میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی نے گزشتہ دس سال عوام کی بلاامتیازخدمت کی ہے۔ انشاءاللہ اگلے پانچ سال بھی بلاامتیاز خدمت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے اپنے اس عزم کا اظہارکیاکہ عوامی مسائل ترجیحی بنیاد پر حل کئے جائیں گے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں اس بات کا بھی ذکرکیا کہ اپنی گزشتہ وزارت اعلیٰ کے دو سال میں کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہری علاقوں میں ترقیاتی کام کرائے ہیں جو عوام کو نظر بھی آرہے ہیں۔ اب مزید ترقیاتی کام کرائے جائیں گے تاکہ کراچی اور حیدرآباد کے شہریوں کے دیرینہ مسائل حل ہو سکیں۔


یہ سندھ کے وہ واحد وزیراعلیٰ ہیں، جن کے والد سید عبداللہ شاہ بھی سندھ کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔ وہ بھٹو شہیدکے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ عبداللہ شاہ بے نظیر بھٹوکے دوسرے دور حکومت میں وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔ سندھ میں اگر وزراءاعلیٰ کی فہرست کا تاریخی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بمبئی سے علیحدہ ہونے کے بعد صوبہ سندھ کے پہلے وزیر اعلیٰ غلام حسین ہدایت اللہ تھے، جنہوں نے 28 اپریل1937ءکو وزارت اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ اس کے بعد سندھ کے سومرو، تالپور، کھوڑو ، قاضی، ہارون ، بھٹو اور جتوئی فیملی سے تعلق رکھنے والے وزراءاعلیٰ منتخب ہوتے رہے ہیں۔ سندھ میں پہلی مرتبہ 6 اپریل1985ءمیں شاہ فیملی سے تعلق رکھنے والے سید غوث علی شاہ نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھایا تھا۔ صدر جنرل ضیاءالحق کے دور حکومت میں غوث علی شاہ غیر جماعتی انتخابات میں رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ سندھ کی شاہ فیملی کے سید قائم علی شاہ سندھ کی وہ واحد شخصیت ہیں، جنہیں سندھ میں تین مرتبہ وزیراعلیٰ منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے، تینوں ادوار میں ان کی وزارت اعلیٰ کا مجموعی دورانیہ کم و بیش ساڑھے نو سال بنتا ہے۔ سندھ کے نو منتخب وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کا تعلیمی، پیشہ ورانہ کیریئر متاثرکن ہے۔اس کا جائزہ لئے بغیرمراد علی شاہ کی شخصیت کا احاطہ ممکن نہ ہوگا۔


تعلیمی کیریئر
6 مبر 1962ءکوکراچی میں پیدا ہونے والے سید مراد علی شاہ نے اپنی تعلیم کا آغاز سینٹ پیٹرک اسکول سے کیا تھا۔ میٹرک کرنے کے کے بعدگورنمنٹ ڈی جے سائنس کالج سے انٹرکیا، جس کے بعد این ای ڈی انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی سے وابستہ ہوگئے، جہاں سے انہوں نے سلور میڈلسٹ کے طور پر بی ای سول انجینئرنگ میں سند حاصل کی ، بعدازاں قائد اعظم اسکالر شپ پر امریکہ چلے گئے، جہاں انہوں نے کولمبیا کی اسٹین فورڈ یونیورسٹی سے اسٹرکلچرل انجینیئرنگ میں ایم ایس سی کیا۔ اس کے بعد اسی یونیورسٹی سے اکنامک سسٹم میں دوسری ماسٹر ڈگری حاصل کی ، اور وہا ں پر انہوں نے انٹر نیشنل اسکالر شپ بھی حاصل کیا۔


پیشہ ورانہ کیریئر
مراد علی شاہ کا پیشہ ورانہ کیریئر بھی شاندار رہا ہے، ان کا پیشہ ورانہ کیریئر انجینرنگ کے ساتھ مالیات کے شعبے میں بھی متاثرکن رہا ہے، مراد علی شاہ 1986ءسے1990ءتک انیجینیئرنگ کے شعبے سے وابستہ رہے، انہوں نے اس عرصے کے دورانواپڈا لاہور میں واٹر انجینیئرکے طور پر فرائض انجام دئے۔ بعد ازاں وہ پورٹ قاسم اتھارٹی سے وابستہ ہوگئے، انہوں نے حیدرآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں انجینیئرکی حیثیت سے فرائض انجام دئے، اس کے بعد انہوں نے انجینیئرنگ کے شعبہ کی طرف اب تک نہیں دیکھا ہے، ایچ ڈی اے سے سبکدوش ہونے کے بعد انہوں نے مالیات کے شعبہ میں خدمات انجام دیں۔ اور سٹی بینک سے وابستہ ہوگئے۔سٹی بینک میں انہوں نے نہ صرف صوبہ سندھ بلکہ لندن میں بھی خدمات انجام دیں ۔ سٹی بینک کے بعد ماہر مالیات کی حیثیت سے انہوں نے گلف انویسٹمنٹ میں بھی پیشہورانہ فرائض انجام دئے، انجینیئرنگ اور مالیات کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے کے بعد انہوں نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا، یہاں بھی ان کی خوش بختی اور قابلیت نے انہیں صوبہ سندھ کے سب سے بڑے سیاسی اور انتظامی منصب پر فائز کرایا۔ یہاں ہم ان کے سیاسی کیریئر کا اختصار کے ساتھ جائزہ لیتے ہیں۔


سیاسی کیرئر
پیپلز پارٹی سے سیاسی وابستگی رکھنے والے سید مراد علی شاہ کا سیاسی کیریئر بھی ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ کیریئرکی طرح شاندار رہا ہے، جسے سیاسی کامیابیوں کا سفر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا، وہ پہلی مرتبہ 2002ءمیں جامشورو دادو کے انتخابی حلقے پی ایس ۔77 سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے، یہ ان کی سیاسی کامیابیوں کی طرف پہلا قدم ثابت ہوا، اس کے بعد انہوں نے پیچھے کی طرف مڑکر نہیں دیکھا۔ 2008ءمیں بھی مراد علی شاہ ایم پی اے منتخب ہوئے۔ اس مرتبہ انہیں سید قائم علی شاہ کی سربراہی میں بننے والی سندھ کابینہ میں محکمہ آباشی کا صوبائی وزیر مقررکیا گیا۔2013 ءکے عام انتخابات میں بھی وہ ایم پی اے منتخب ہوئے، لیکن ان کی الیکش میں نامزدگی کو روکنے کی کوشش کی گئی، اور انہیں کینیڈا کا شہری قرار دے کر الیکشن سے باہر رکھنے کی کوشش کی ، لیکن انہوں نے عدالت میں اس بات کو ثابت کیا کہ وہ دہری شہریت نہیں رکھتے ہیں، عدالت سے کلیئر قرار دئے جانے کے بعد مراد علی شاہ نے الیکشن میں حصہ لیا اورکامیاب ہوئے۔ اس مرتبہ ان کی اقتصادی معاملات میں مہارت اور سابقہ وزارت کے کامیاب تجربہ کو مدنظر رکھتے ہوئے پیپلزپارٹی کی قیادت نے انہیں وزیراعلی سید قائم علی شاہ کی سربراہی میں بننے والی سندھ کابینہ میں وزیر خزانہ کے اہم منصب پر فائزکیا۔ سندھ کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے انہوں نے صوبائی اسمبلی کے ایوان میں تین بجٹ پیش کئے، 2016ءمیں پیپلزپارٹی کی قیادت نے انہیں سید قائم علی شاہ کے مستعفی ہوجانے کے بعد سندھ کا وزیراعلیٰ منتخب کرایا، انہوں نے کم و بیش دو سال تک سندھ کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے انتہائی خوش اسلوبیکے ساتھ فرائض انجام دیتے رہے۔ 31مئی2018ءکو اسمبلیوں کی آئینی مدت مکمل ہونے پر اسمبلیاں تحلیل کی گئیں اور ملک بھر میں نگراں سیٹ اپ آیا، تو وہ بھی دیگر صوبوں کے وزراءاعلیٰ کے طرح سبکدوش کر دئے گئے۔


مراد علی شاہ دوسری مرتبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے، اس مرتبہ سندھ کے شہری علاقوں میں سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوچکا ہے، اب سندھ میں تحریک انصاف دوسرے نمبر کی جماعت ابھرکر سامنے آئی ہے، جو انہیں اپوزیشن کی حیثیت سے ٹف ٹائم دے سکتی ہے، انہیں سندھ کے شہری علاقوں کے عوم کے دل جیتنے کا دوسری بار موقعہ ملا ہے۔کراچی کے عوام اپنے مسائل کا حل اور ملک سب سے بڑے شہرکی ترقی چاہتے ہیں۔ سندھ کی سیاسی تاریخ کا یہ پہلا موقعہ ہے کہ اس صوبہ میں جو جماعت حزب اختلاف میں ہے، وہ مرکز میں برسر اقتدار ہے، لہذا تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی مل کر اس شہرکے لئے وسائل میں اضافہ کرانے میں فعال کردار ادا کرسکتی ہیں۔کراچی کی ترقی ممکن ہوئی تو دونوں جماعتیں عوام کا دل جیت سکتی ہیں۔ کراچی کے عوام بجا طور پر یہ توقع کر رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کی قیادت میں کراچی ترقی کی شاہراہ پرگامزن ہوگا اورعوام کے دیرینہ مسائل بھی حل ہوںگے ۔

مزیدخبریں