نئے پاکستان کا عہد اور تعلیمات قائدؒ

28 اگست 2018 (21:14)

حافظ طارق عزیز:چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پاکستان کے نئے وزراعظم بن چکے ہیں۔ ان کا ”رسمی “ مقابلہ کرنے کے لیے مد مقابل شہباز شریف سابق خادم اعلیٰ پنجاب تھے۔ اوپن رائے شماری کی بنیاد پر وزیراعظم کا انتخاب ہوا جس کے بعد عمران خان پاکستان کے22 ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد عمران خان یقیناانقلابی اقدامات کرنے اور ملکی مفاد میں بہترین فیصلے کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔کیوں کہ عمران خان نے پاکستانی تاریخ کرید لی ہے اور تمام حکمرانوں کے آخری دورکا مطالعہ بھی کر لیا ہے، اُن کے انجام کی وجوہات کو بھی ”انڈر اسٹینڈ“ کر لیا ہے ، اور یہ اخذ کیا ہے کہ ان کے بُرے انجام کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ کرپشن ہے۔

عمران خان اس ملک کو قائدا عظم ؒ کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں اور اُن کے بتائے ہوئے اصولوں پر حکومت بنانا چاہتے ہیں۔ یہی انہوں نے اپنی ہر تقریر میں کہا ہے۔ وہ اپنی حکومت کے لیے اقرباءپروری، رشوت اور جھوٹ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ توکیا ہی اچھا ہوکہ اگر وہ ایسا کردیں اورواقعی اس ملک کی تقدیر بدل جائے۔ تسلی بخش بات یہ ہے کہ عمران خان نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اپوزیشن کی شدید نعرے بازی کے باوجود ایوان سے خطاب میں قوم کا شکریہ ادا کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملک کو لوٹنے والوں کا کڑا احتساب ہوگا اورکسی کو این آر او نہیں ملے گا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ”میں اللہ کا سب سے پہلے شکریہ ادا کرتا ہوں“۔ جس نے مجھے موقع دیاکہ پاکستان میں تبدیلی لانے کے خواب کو عملی تعبیر دے سکوں جس تبدیلی کے لیے یہ قوم 70سال سے انتظارکر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ” قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم وہ تبدیلی لے کرآئیں گے جس کے لئے یہ قوم گزشتہ70 برسوں سے ترس رہی تھی۔ سب سے پہلے کڑا احتساب کرنا ہے۔ جن لوگوں نے ملک کو لوٹا اور مقروض کیا ایک ایک آدمی کو نہیں چھوڑوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ” کسی قسم کا این آر اوکسی کو نہیں ملے گا۔ 22 سال کی جدوجہد کے بعد یہاں پہنچا ہوں، جنھوں نے ہمارے بچوں کا مستقبل لوٹا میں ایک ایک آدمی کو انصاف کے کٹہرے میں لاو¿ں گا۔

نہ میرے والد سیاست میں تھے اورنہ مجھے کسی ملٹری ڈکٹیٹر نے پالا۔ ایک لیڈر تھا جو میرا ہیرو تھا وہ قائداعظم محمد علی جناح تھے۔ عمران خان نے کہا کہ ہر مہینے دو مرتبہ ہاو¿س میں آ کر سوالوں کے جواب دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت احتساب نہیں کیا گیا جب ہم نے چار حلقے کھولنے کو کہا۔ منتخب وزیراعظم نے کہا کہ جس طرح کی تفتیش کرنا چاہتے ہیں ہم آپ کے ساتھ تعاون کریں گے۔کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ ہم نے دھاندلی نہیں کی۔ آج تک کوئی مجھ سے کسی قسم کی بلیک میلنگ کر سکا اور نہ ہی آئندہ کر سکے گا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر عمران خان نے شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے پیغام دیا کہ وہ چاہیں تو دھرنا دے سکتے ہیں اس کے لیے کنٹینر وہ خود مہیا کریں گے۔ عمران خان کے بعد شہباز شریف نے بھی خطاب کیا۔ جس میں انہوں نے پارلیمانی کمیشن کے ذریعے دھاندلی کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس اہم موقع پر جب پوری دنیا خاص طور پر پاکستان کی جانب متوجہ ہوئے بیٹھی تھی، بعض افراد نے پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے یہاں خوب ہنگامہ آرائی کی۔


خیروزیر اعظم کے انتخاب کے فوری بعد اسمبلی میں جو ہوا سو ہوا، اب دیکھنا یہ ہے عمران ملکی سیاست و معاشرت میں رائج علتوں کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں۔ اس سے پہلے عمران خان معاشرتی برائیوں کا خاتمہ کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، لوگوں کو ایجوکیٹ کریں، اُن کے اندر قانون پر عمل کرنے کا شعور بیدار کروائیں۔ اس حوالے سے وہ مشہور پوپ گریگوری اوّل کی تعلیمات کا سہارا لے سکتے ہیں جنہیں معاشرے میں اصلاح کا بانی سمجھا جاتا ہے، اُس نے معاشرے کی اصلاح کے لیے بہت سے فرمودات جاری کیے جنہیں بعد میں کتابی شکل بھی دی گئی اور کئی تعلیمی اداروں میں بطور نصاب بھی پڑھایا جاتا رہا۔

اُس نے 590ءمیں سات خوفناک گناہوں کی فہرست جاری کی تھی، جس کے مطابق انسان کو سات گناہ ہوس، بسیار خوری، لالچ ،کاہلی، شدید غصہ، حسد اور تکبر ہلاک کر دیتے ہیں، انسان اگر ان سات گناہوں پر قابو پا لے تو یہ شاندار، بھر پور اور مطمئن زندگی گزارتا ہے اور اجتماعی طور پر اس کا سب سے بڑا فائدہ معاشرے کو ہوتا ہے۔ معاشرہ ترقی کرے تو ملک ترقی کرتا ہے، لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ مثبت رجحانات سامنے آتے ہیں۔ انہی ”سات گناہوں “ سے متاثر ہوکر گاندھی جی نے 1925ءمیں سات سماجی گناہوں کی فہرست جاری کی۔ ان کا کہنا تھا جب تک کوئی معاشرہ ان سات گناہوں پر قابو نہیں پاتا وہ معاشرہ اس وقت تک معاشرہ نہیں بنتا۔ گاندھی کے بقول اصولوں کے بغیر سیاست گناہ ہے، کام کے بغیر دولت گناہ ہے۔


آپ قائداعظم کی شخصیت کو پڑھ لیں ،جنہوں نے معاشرے میں بدلاﺅ کے رہنماءاصول پیش کیے۔ مگر مجال ہے ہم اُن کو کبھی گہرائی سے پرکھ لیں۔ ہم فاتحہ خوانی، پھول چڑھانے، حاضری دینے،گارڈ تبدیل کرنے اور انہیں خراج تحسین پیش کرنے سے آگے جاتے ہی نہیں۔ 1948ءمیں جب اُن کی وفات ہوئی تب بھی اُن کی ایمبولینس خراب حالت میں سڑک پر گھنٹوں کھڑی رہی۔ ہم پاکستان بننے کے فوراََ بعد ہی بھول گئے تھے۔ اُن کے بعد ہم جس شان سے 14اگست ، 25 دسمبر اور 23 مارچ مناتے ہیں،کوئی یہ کہہ ہی نہیں سکتا کہ ہم اُن کے احکامات کی پیروی بھی کرتے ہوں گے۔ ہم نے کبھی قائداعظمؒ کی ذات اور حیات میں جھانکنے کی کوشش نہیں کی اور یہ وہ سیاسی منافقت ہے جس نے ہمارے سیاست دانوں کوکہیں کا نہیں چھوڑا، اور یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ آج ملک کے اندر رہ سکتے ہیں اور نہ ہی باہر ۔کاش ہمارے سیاستدان اُن کو تھوڑا سا پڑھ لیتے تو آج ملک کی یہ حالت نہ ہوتی۔ کاش ہمارے سیاستدان اُن کی زندگی کا مطالعہ کر لیتے تو کبھی کوئی یہ نہ سمجھتا کہ یہ ملک اس کے باپ کی جاگیر ہے۔


آج عمران خان جس عزم کے ساتھ ملکی بقاءکی جنگ لڑنے جا رہا ہے وہ یقینا پورے ملک کی جنگ ہے۔ اور ہم نے قائداعظم کے اصولوں کو فالو کرتے ہوئے یہ جنگ جیتنی ہے، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے قائد اعظم ؒ اسلامی تاریخ اور اسلامی روایات کا گہرا مطالعہ رکھتے تھے۔ قائد اعظم پریکٹیکل انسان تھے، وہ کہنے کے بجائے کرنے پر یقین رکھتے تھے ۔ قائداعظم نے پوری زندگی وقت کی پابندی کی، پوری زندگی قانون نہیں توڑا، پوری زندگی اقرباءپروری نہیں کی، پوری زندگی رشوت دی اورنہ لی، پوری زندگی اپنے مذہبی رجحانات کی نمائش نہیں کی( وہ سنی تھے‘ وہابی تھے یا پھر بریلوی قائد نے پوری زندگی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی)، پوری زندگی وعدے کی پابندی کی، پوری زندگی کوئی سمجھوتہ نہیں توڑا، پروٹوکول نہیں لیا، سرکاری رقم نہیں کھائی، ٹیکس نہیں بچایا، آمدنی نہیں چھپائی، اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا، کسی کا حق نہیں مارا اور پوری زندگی کسی شخص کے ساتھ بدتمیزی نہیں کی۔آج جب وزیر اعظم عمران خان حلف اُٹھا چکے ہیں تو کیا وہ اس قوم کا رہن ، سہن، عادات قائداعظم کے مطابق ڈھال سکتے ہیں؟ یقینا یہ ایک مشکل کام ہوگا مگر میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر عمران خان قائداعظم کی مذکورہ بالا باتوں کو صرف اپنی حکومت پر لاگو کر لیں تو اس ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ عمران خان کے پاس جو ٹیم ہے، ہمیں اُن کے ماضی سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے، صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آگے وہ کیا ڈلیورکرنا چاہ رہے ہیں۔ عمران خان اگر اپنی ٹیم کا آئیڈیل قائداعظم کو بنا دیں اور ہر ٹیم ممبر اپنی زندگی کو قائداعظم ؒکی طرح سادگی اور عوام کی فلاح کے لیے پیش کر دے تو یہی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ عمران خان انہیں بتائیں کہ اگر واقعی قائداعظم ؒسے محبت کرتے ہیں تو پھر یہ قائداعظم جیسے ہو جائیں، پورا ملک قائداعظم کا ملک ہو جائے گا۔


قائداعظمؒ کے ہم عصرسیاستدان بین الاقوامی سطح پر ہٹلر، مسولینی، چرچل، روز ویلٹ، سٹالن، گاندھی جی، موتی لال نہرو، جوہر لال نہرو، ابوالکلام آزاد اور اس طرح چند دوسرے لوگ تھے۔ محمد علی جناحؒ کی ذاتی زندگی، ان کے اجلے کردار، ان کے اخلاق، ان کی دیانت و امانت، سیاسی شعور، اپنے مقصد کی لگن کے اعتبار سے ان کے ہم عصر سیاستدانوں سے جب ہم موازنہ کرتے ہیں تو وہ ان سب سے منفرد اور بھاری نظر آتے ہیں، گاندھی جی اور نہرو کے فرمان کے مطابق کہ ہندوستان ہماری لاشوں پر تقسیم ہوگا، محمد علی جناحؒ کی فراست نے مکار ہندو، شاطر اور عیار انگریز اور چند علماءکی طرف سے پاکستان کی مخالفت کے باوجود اپنے مشن میں کامیاب رہے۔ الغرض تمام ہم عصر بین الاقوامی یا بر صغیر کے سیاستدانوں کے کردار اور اخلاق کے بارے تاریخی حقائق سامنے آچکے لیکن محمد علی جناح ایسے اجلے کردارکے مالک ہیں کہ دشمن بھی ان پر انگلی نہیں اٹھاسکا۔


لیکن افسوس کہ ہم آج تک قائداعظم ؒکی ان باتوں کو Ownنہیں کیا، وہ سیاستدانوں کی ”خرید و فروخت“ سے سخت نفرت کیا کرتے تھے۔ ایک ایسا ہی واقعہ کیمبل جانسن کی ڈائری میں آج بھی محفوظ ہو گا جس میں انہوں نے لکھا کہ ”لارڈ ریمزے میکڈانلڈ نے ایک مرتبہ قائداعظمؒ کو خریدنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ اگر سہنا ایک صوبے کا گورنر بن سکتا ہے تو دوسرا کیوں نہیں بن سکتا۔ اگر سہنا لارڈ کا خطاب حاصل کر سکتا ہے تو کوئی اور کیوں نہیں حاصل کر سکتا۔ اس پر قائداعظم بغیر کوئی بات کئے لارڈ ریمزے کے کمرے سے اٹھ کر باہر نکل گئے۔ قائداعظم کا یہ فعل برطانوی وزیراعظم کیلئے انتہائی باعث تعجب تھا چنانچہ وہ بھی حیرانگی کے عالم میں قائداعظم کے پیچھے دروازے تک آیا اور الوداع کہنے کے لئے قائداعظم کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا مگر قائداعظم نے اس سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا جس پر برطانوی وزیر اعظم شرم اور خجالت کے باعث پسینے سے شرابور ہو گیا اور بڑی ندامت کے ساتھ پوچھا۔ آخر ایسا کیوں؟ جس پر قائد اعظم نے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا۔ آئندہ میں آپ سے کبھی نہیں ملوں گا۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ میں کوئی بکاﺅ مال ہوں“سر فریڈرک جیمزنے قائداعظم کے اس ناقابل تسخیر کردار کو اپنے ان الفاظ میں تحریر کیا ہے کہ ”قانون ساز اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے جناح کا کوئی ہمسر نہیں۔ ان میں بحث و استدلال کی غیر معمولی صلاحتیں ہیں اور وہ عملی سیاست کے داﺅ پیچ کے زبردست ماہر ہیں۔ ان میں قیادت کے اعلیٰ جوہر موجود ہیں۔ وہ نہ کسی سے مرغوب ہوتے ہیں اور نہ کسی قیمت پر خریدے جا سکتے ہیں۔“


لیکن اس کے برعکس ہم نے قائداعظم کی زندگی کی پیروی کرنے کے بجائے ہم نے اُن سے منافقت کی، یہ دراصل قائداعظم کے ساتھ منافقت کی سزا ہے، آپ پاکستان کی تاریخ نکال کر دیکھ لیجیے‘ آپ قائداعظم اور قائداعظم کے پاکستان کے ساتھ منافقت کرنے والے ہر حکمران کو عبرت کا نشانہ بنتے اور گم نامی میں مرتے دیکھیں گے، آپ کو ملک کے تمام حکمران آخری زندگی میں تنہائی کے شکار اور لوگوں سے ڈرتے اورگھبراتے ملیں گے۔ لہٰذا عمران خان کی ٹیم قائداعظم کے نقشے قدم پر چل کر آگ پاکستان کی خدمت کرے گی تو سینہ ٹھوک کر عوام کے سامنے بھی جاسکے گی۔

مزیدخبریں