یمن میں کمپیوٹر سافٹ ویئر کے ذریعے ہیضہ کا علاج

28 اگست 2018 (19:34)

صنعاء :جنگ زدہ ملک یمن میں ایک کمپیوٹر سافٹ ویئر کے ذریعے ہیضہ کے مرض میں مبتلا افراد کی تعداد میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔گذشتہ سال ایک ہفتے کے دوران ہیضے کے 50 ہزار کیسز کے مقابلے میں اس سال ڈھائی ہزار کیسز سامنے آئے ہیں۔


تفصیلات کے مطابق کمپیوٹر سافٹ ویئر کے ذریعے کسی مخصوص علاقے میں ہونے والی بارش کے ذریعے امدادی کارکن ہیضے کی وبا پھیلنے کے خدشات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ہیضے کے مرض کنٹرول ہونے کی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئیں ہیں جب اقوام متحدہ یمن میں ممکنہ طور پر ہیضے کی تیسری وبا پھیلنے کا خدشہ ظاہر کر چکا ہے۔یہ سافٹ ویئر برطانوی امدادی ادارے نے بنایا ۔ ادارے کی مشیر پروفیسر شارلیٹ واٹس کا کہنا تھا کہ اس سسٹم کی مدد سے امدادی کارکن وبا پھیلنے سے روک سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہر سال ہزاروں افراد ہیضے کی وجہ سے مر جاتے ہیں اور اس سسٹم کی مدد سے شرحِ اموات کو کم کیا جا سکتا ہے،گذشتہ برس یمن میں گندے پانی سے لاحق ہونے والی بیماریوں کے سبب دس لاکھ سے زائد افراد بیمار ہوئے تھے جن میں سے دو ہزار افراد مر گئے تھے۔


مرنے والوں میں زیادہ تر تعداد بچوں کی تھی۔یہ سسٹم محکمہ موسمیات کے تعاون سے بنایا گیا ہے جس کے ذریعے کسی علاقے میں ہیضے کا مرض پھیلنے سے چار ہفتے قبل پتہ چل سکتا ہے۔محکمہ موسمیات یمن میں ہونے والی بارش کی پیشنگوئی کرتا ہے اور سپر کمپیوٹر اس بات اندازہ لگاتا ہے کہ بارش کتنے ملی میٹر ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد دس کلومیٹر کی حدود کا تعین ہو کیا جاتا ہے۔یہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کیونکہ زیادہ بارش سے نکاسیِ آب کا مسئلہ ہوتا ہے اور اْس سے بیماریاں پھیلتی ہیں۔

مزیدخبریں