Source : Neo tv

گستاخانہ خاکوں کیخلاف عالم اسلام سراپا احتجاج ،سوشل میڈیا پر ہالینڈ کیخلاف مہم جاری
28 اگست 2018 (16:23) 2018-08-28

لاہور: ہالینڈ کی جانب سے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی اور گستاخانہ خاکوں کی نمائش کو لیکر پوری امت مسلمہ میں غم و غصے کی لہر دوڑگئی ہے اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر زبردست مہم جاری ہے ۔

پاکستانیوں کی جانب سے جاری مہم میں حکومت پاکستان سے ایک میسج میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’ہم حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ہالینڈ کے سفیر کو کو ملک بدر کر کے فوری طور پر سفارتخانے کو بند کیا جائے۔

سینٹر کامران مائیکل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں کرسچن کمیونٹی کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی مذمت کر تا ہو ں ،ان کا کہنا تھا ایسے کرنے سے مذہبی انتہاپسندی کو فروغ ملتا ہے ہمیں تمام مذاہب کا احترام کرنا چاہیے ۔

دوسری طرف ہالینڈمیں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے معاملے پرایم کیوایم کے ارکان اسمبلی نے مذمتی قرارداد جمع کروادی۔ قرارداد محمدحسین اور منگلا شرما نے جمع کروائی جس میں آزادی اظہار کے نام پر دل آزاری کو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قراردیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت گستاخانہ خاکوں کے خلاف اپنا بھرپوراحتجاج ریکارڈ کرائے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ یورپی یونین،عالمی برادری اور اسلامی ممالک گستاخانہ خاکوں کے خلاف ایکشن لیں اورعالمی سطح پرگستاخانہ خاکوں کے خلاف اقدامات بروئے کارلائے جائیں۔

صدر متحدہ مجلس عمل و امیر جماعت اسلامی ملتان میاں آصف محمود اخوانی نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومتی اداروں کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے متعلق ہالینڈ اور یورپی یونین کے سفیروں کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرانا نا کافی ہے۔ حکمران ہالینڈ کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کریں۔ مسلم امہ رسول اللہ کی شان میں گستاخی کے خلاف اپنا تن، من، د ھن تک قربان کرنے کو تیار ہیں۔ تحفظ ناموس رسالت پر ہر کلمہ گو کا پختہ ایمان ہے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت صیہونی قوتوں کی طرف سے ایسے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں اور ایسے اقدامات دراصل مسلمانوں کی نظریاتی سرحد پر حملہ ہیں۔ ملک پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا اور حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ شعائر اسلام کی حفاظت کرے۔

خیال رہے کہ ہالینڈ میں  گستاخانہ خاکوں کے خلاف سینیٹ میں مذمتی قرار داد بھی پاس کی گئی ہے جبکہ ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔


ای پیپر