احتساب عدالت میں خواجہ حارث اور واجد ضیا میں سخت جملوں کا تبادلہ
28 اگست 2018 (16:13) 2018-08-28


اسلام آباد:سابق وزیراعظم نواز شریف کیخلاف دو نیب ریفرنسز کی سماعت کے دوران ان کے وکیل خواجہ حارث اور نیب کے گواہ واجدضیا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔


احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے سابق وزیراعظم کے خلاف دائر العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی سماعت کی۔سابق وزیراعظم کو انتہائی سخت سیکیورٹی میں اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت لایا گیا جس کے بعد وہ کمرہ عدالت میں کی کارروائی دیکھتے رہے۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے سماعت کے دوران کہا کہ واجد ضیا بار بار بیان بدل رہے ہیں، انہیں کہیں کہ ایک بار سوچ کر جواب دیں جس پر فاضل جج نے کہا کہ پہلے سوال آنے دیں پھر جواب دیں۔ واجد ضیا نے کہا کہ حمد بن جاسم کو خط میں تصدیق اور انویسٹی گیشن میں فرق کی وضاحت نہیں کی جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ اب میرا اگلا سوال آیا تو آپ مان گئے، یہ ہمیں بے وقوف بنا رہے ہیں، ان کے بیانات میں تضاد آرہا ہے۔


اس پر واجد ضیا نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ حمد بن جاسم سے منسوب خط کی تاریخ غلط درج ہے ٗیہ ایماندارانہ غلطی ہے جو ہوجاتی ہے جس پر نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ آپ کی بددیانتی کی وجہ سے یہ سوالات ہو رہے ہیں۔ خواجہ حارث کی جانب سے بددیانت کہنے پر نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض اٹھایا یہ غلط بات ہے، گواہ کو بددیانت نا کہیں جس پر نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ میں واجد ضیا کو سوری کہہ کر یہ بات واپس لیتا ہوں۔اس موقع پر واجد ضیا نے کہا کہ اب میں آپ کو کیا کہوں آپ کا پروفیشن ہی ایسا ہے، آپ کوئی بات کہیں یا پھر نہ کہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ آپ کو سوری قبول نہیں تو میں اپنی بات پر قائم ہوں۔ واجد ضیا نے کہا میں معذرت چاہتا ہوں جس پر خواجہ حارث نے کہا میں بھی معافی چاہتا ہوں۔
جملوں کے تبادلے کے دوران واجد ضیا نے خواجہ حارث کو کہا کہ مجھے آپ کا سوال سمجھ نہیں آیا جس پر نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ کمرہ عدالت میں پوچھ کر دیکھ لیں ٗیہاں آپ کے سوا سب کو میرا سوال سمجھ آیا ہوگا جس پر واجد ضیا نے کہا کہ سوال مجھ سے ہے اس لیے مجھے سمجھ آنا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے بھی احتساب عدالت کو دونوں ریفرنسز نمٹانے کے لیے مزید 6 ہفتوں کا وقت دیا تھا۔


ای پیپر