ہمارا سیدھا سادہ وزیراعظم!

28 اگست 2018

توفیق بٹ

عمران خان بڑا خوش قسمت ہے اس کی کسی کمی کوتاہی ، کسی غلطی کسی بلنڈر کی وجہ سے جب بھی اس کی شہرت داغدار ہونے لگتی ہے یا اُس کا گراف گرنے لگتا ہے، وہ کوئی نہ کوئی ایسا کارنامہ کر گزرتا ہے جس سے اس کی عزت اور شہرت پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ پچھلے کچھ دنوں میں اس سے کئی چھوٹی چھوٹی غلطیاں سرزد ہوئیں۔ جنہیں ان کے سیاسی وذاتی مخالفین نے اتنی بڑی بڑی غلطیاں قرار دیاجیسے وزیراعظم بننے سے پہلے ہی پاکستان کا اس نے سودا کرلیا ہو .... وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب نے بھی اُسے رسوا کردیا۔ بہتر یہی تھا وہ کسی بہتر شخص کو وزیراعلیٰ پنجاب بناتا ، بظاہر ایک کمزور سے شخص کو وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کرتے ہوئے اس کے ذہن میں کیا تھا ؟ یہ راز آگے چل کر شاید کھل جائے، فی الحال تو اس فیصلے سے اس کی اپنی جماعت کے اندر بہت بے چینی ہے۔....وزارتِ عظمیٰ کا حلف اُٹھاتے ہوئے بھی وہ کچھ نروس تھا۔ یہ ایک قدرتی امر ہے۔ ظاہر ہے وہ اس سے پہلے کبھی وزیراعظم نہیں رہا۔ یہی بدقسمتی بھی ہے کہ ایسے ایماندار اور شاندار شخص کو عوام نے کبھی وزیراعظم بننے کا موقع ہی فراہم نہیں کیا۔ دیر آئے درست آئے کا محاورہ پہلی بار عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد صحیح معنوں میں ہم پر کھلا ہے۔ حلف نامہ پڑھتے ہوئے اُردو کے کئی الفاظ بلکہ مشکل الفاظ بولتے ہوئے اس کی زبان لڑکھڑا گئی۔ شکر ہے اس کی صرف زبان ہی لڑکھڑائی ورنہ کچھ ایسے وزیراعظم بھی رہے جو اکثر مواقعوں پر پورے کے پورے لڑکھڑا رہے ہوتے تھے۔ حلف کے موقع پر جوشیروانی اُس نے پہنی ہوئی تھی یوں محسوس ہورہا تھا کسی مجبوری کے تحت ہی پہنی ہوئی ہے۔ اصل میں اس ملک کے ”سیاسی شیروں“ نے اس ملک کا جو حال کردیا ہے اسے ہر اُس چیز سے نفرت ہوگئی ہے جس میں ”شیر“ آتا ہو، جیسے ”شیروانی“ .... شیروانی اتنی ہی ”ڈھیلی“ تھی جتنا بعض معاملات میں وہ ”سخت“ ہے۔ .... لباس اور کھانے پینے کے معاملے میں وہ ہمیشہ بڑا بے نیاز رہا ہے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں اس کا نام عمران خان نیازی کے بجائے عمران خان ”بے نیازی“ ہونا چاہیے تھا۔ ہم نے بہت اکٹھے سفر کیا ہے۔ اندرون ملک بھی بیرون ملک بھی۔ اندرون ملک دوران سفر راستے میں جہاں کہیں اسے بھوک لگی، سڑک کنارے جہاں کہیں کوئی میلا کچیلا ریسٹورنٹ کوئی تندور وغیرہ دکھائی دیا، اچانک گاڑی رکوالی۔ کبھی قریب پڑی ٹوٹی ہوئی کسی چارپائی پر بیٹھ گیا، کبھی گندی سی کسی کرسی پر۔ اور قریب کھڑے ”چھوٹے“ سے کہا ” جو دال سبزی پکی ہے جلدی سے لے آﺅ اور سنوروٹی گرم ہونی چاہیے، کچی بھی نہیں ہونی چاہیے اور زیادہ جلی ہوئی بھی نہ ہو“ .... البتہ دیسی مرغی کا وہ رسیا ہے۔ دس ہزار ڈشیں (سالن ) اس کے سامنے پڑے ہوں۔ دیسی مرغی ان میں نہ ہو، پھر وہ کھاتا نہیں بس گزارا کرتا ہے۔ ایک بار ازراہ مذاق میں نے اس سے کہا تھا ”خان صاحب آپ اگر اصلی یعنی ”اصلی دیسی مرغی“ کھانا چھوڑ دیں تو اصیل مرغی جو مارکیٹ میں بہت مشکل سے ملتی ہیں آسانی سے ملنا شروع ہوجائیں گے“۔ میں ایسے ہی سوچ رہا تھا دیسی مرغی بھی ممکن ہے اس لیے اسے بڑی پسند ہو کہ وہ ”دیسی “ ہوتی ہے۔ صرف مرغی نہیں لباس اور جوتے تک اسے ”دیسی“ پسند ہیں، .... اٹلی سے میرا عزیز چھوٹا بھائی فہد چیمہ مجھے بتارہا تھا ” ایک بار خان صاحب اٹلی کے دورے پر آئے، گپ شپ کے دوران میں نے ان سے کہا ”خان صاحب میں نے آپ کو کبھی برانڈیڈ کپڑے یا جوتے پہنے نہیں دیکھا“ ،....وہ بولے ” اللہ نے مجھے خود ایک ”برانڈ“ بنایا ہے، مجھے کیا ضرورت ہے برانڈیڈ کپڑے یا جوتے وغیرہ پہننے کی ؟“۔....پاکستان کے سب سے بڑے منصب کا حلف اٹھاتے ہوئے بھی وہ عام لباس میں تھا۔ شیروانی بھی صحیح طرح نہیں سلی ہوئی تھی، اس کی جگہ میں ہوتا وزیراعظم بننے کے فوراً بعد سب سے پہلے اس ”ٹیلر“ کی ’دھلائی“ کرتا جس نے شیروانی تیار کی تھی۔ یہ خاص طورپر تیار کروائی گئی شیروانی ہرگز نہیں لگ رہی تھی۔ سچ پوچھیں مجھے تو یوں محسوس ہورہا تھا جیسے رکن قومی اسمبلی کے طورپر تصویر بنواتے ہوئے قریب کھڑے قومی اسمبلی کے ایک ملازم سے ”واسکٹ“ اس نے چند لمحوں کے لیے ادھار لے لی تھی ایسے ہی ڈھیلی ڈھالی شیروانی بھی ممکن ہے کسی سے اس نے ادھار لے لی ہو، مجھے تو یہ ڈھیلی ڈھالی شیروانی صدر ممنون حسین سے ادھار لی ہوئی لگ رہی
تھی، عمران خان کا بس چلے تو ہر چیز ادھار لے کر گزارا کرلے، سوائے ایک آدھی چیز کے جو ادھار نہیں لی جاسکتی ، .... شلوار قمیض کے نیچے وہ ہمیشہ ”پشاوری چپل“ پہنتا ہے، بلکہ کئی بار ”پینٹ کوٹ“ کے نیچے بھی ہم نے اسے پشاوری چپل پہنے ہوئے ہی دیکھا، .... پشاوری چپل اسے اتنی پسند ہے اس کا بس چلے تو ”جاگنگ“ وغیرہ بھی پشاوری چپل پہن کر کرے۔ اور جنہوں نے اس ملک کو بے دردی سے لُوٹا ہے ان پر جوتیاں برسانا پڑیں تو ان کے لیے بھی ”پشاوری چپلوں“ کا ہی وہ انتخاب کرے، .... وزیراعظم نامزد ہوتے ہی اس نے اعلان فرمادیا تھا ”وہ وزیراعظم ہاﺅس میں نہیں رہے گا“ .... ہم یہ سوچ رہے تھے وہ وزیراعظم ہاﺅس میں نہیں رہے گا تو ممکن ہے اس کا ”ملٹری سیکرٹری“ اپنا حق سمجھ کے وزیراعظم ہاﺅس میں رہنا شروع کردے۔ اب اگلے روز کچھ اطمینان سا ہوا جب بطور وزیراعظم اپنی پہلی تقریر میں اس نے کھلم کھلا یہ اعلان کردیا ” وزیراعظم ہاﺅس“ کو جلد ہی ایک ”ریسرچ یونیورسٹی“ میں تبدیل کردیا جائے گا“ ....ہماری خواہش ہے اس ”ریسرچ یونیورسٹی“ میں ایک ریسرچ یہ بھی ہو کہ وزیراعظم اگر ذاتی طورپر ایماندار ہو تو اپنے کچھ بے ایمان ساتھیوں سے جان کیسے چھڑواسکتا ہے؟“....ابھی نامزد صدر مملکت عارف علوی نے اس کی ایک تصویر ٹویٹ کی ہے جس میں نانگا پربت تھرپارکر میں وہ کھلے آسمان تلے چھوٹی سی ایک چارپائی پر ٹانگیں سمیٹ کر سکون کی نیند سویا ہوا ہے، وہ ایسا ہی ہے، وزارت عظمیٰ کا عہدہ بھی اس کا شاید کچھ نہ بگاڑ سکے، مجھے یقین ہے اس وزیراعظم کا سول و ملٹری سٹاف اس سے تنگ ہی رہے گا، جنہیں اور ہی طرح کے وزیراعظموں کی عادت پڑی ہوتی ہے۔ ان کے لیے ایک پریشانی اب شاید یہ بھی ہو ہرقسم کے ”کھابے“ خصوصاً ”نوٹی کھابے“ انہیں میسر نہیں ہوں گے، ....2013ءکے انتخابات کے نتیجے میں بننے والا وزیراعظم کھاتا بھی بہت تھا کھلاتا بھی تھا، ہریسے، نہاریاں، بونگیں، سری پاوے، خصوصاً ”کھدیں“ ،لسیاں، تلاں آلے کلچے ،مچھی ساگ، کھگے سب اپنی جگہ مگر جو مزہ اسے نوٹ کھانے کا آتا تھا شاید ہی اور کسی چیز کا آتا ہوگا،....پاکستان کی یہ خوش قسمتی ہے پہلی بار یا شاید بہت سالوں بعد ایک ایسا وزیراعظم اس کے مقدر میں لکھا گیا ہے جس کے بارے میں اس کے مخالفین بھی یہ ”پشین گوئیاں“ فرمارہے ”وہ کھائے گا نہ کھانے دے گا“ ....”کھاتا ہے تولگاتا بھی ہے“ کی شہرت کا حامل سابق وزیراعظم اپنے انجام کے قریب ہے۔ ایک نیا دور شروع ہوچکا ہے۔ دعا ہے اللہ اسے نظر بد سے محفوظ فرمائے !

مزیدخبریں