میٹھی جیل(2)

28 اگست 2018

شاہزاد انور فاروقی

وفاقی کابینہ کی حلف برداری کیساتھ ہی حکومت سازی مکمل ہو گئی ہے۔ نو منتخب حکومت کی ترجیحات اور حکمت عملی و طریقہ کار کا جائزہ لیے بغیر ذاتی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر رائے قائم کرنا اور لکھنا غیر مناسب ہے لہٰذا حکومت کے پہلے 100 دن امریکا یاترا اور وہاں مقیم پاکستانیوں کی زندگی آپ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج دوسری قسط پیش خدمت ہے۔

                                                                         جہاز سیالکوٹ ایئرپورٹ پر کھڑا تھا جبکہ مسافر جہاز کی سیڑھی تک پہنچ گئے اور اپنے آپ کو بخیریت زمین پر موجود پانے کی خوشی میں بے مقصد سی باہمی گفتگو میں مصروف ہوگئے۔وقت گزرتا رہا ایک گھنٹہ ،دو گھنٹے اسی طرح چار گھنٹے گزر گئے مسافروں کی بے چینی اپنے عروج پر تھی اور انہیں کسی جانب سے اچھی خبر نہیں مل رہی تھی بالاخر جہاز کے کپتان نے طویل خاموشی کو توڑتے ہوئے مسافروں کو مخاطب ہونے کے اعزاز سے نوازا ۔ کپتان نے بتایا کہ انہیں لاہور یا اسلام آباد سے بدستور لینڈنگ کی اجازت نہیں مل رہی اور باوجود اس کے کہ موسم سازگار ہوچکا ہے انہیں اسلام آباد نہیں لے جایا جا سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ کپتان نے یہ بھی بتایا کہ کیونکہ اس کے مروجہ فلائٹ آورز(جہاز اڑانے کےلئے مخصوص وقت) ختم ہورہے ہیں اور وہ اب سیالکوٹ سے جہاز کو لے کر روانہ ہورہاہے اور یہ فلائٹ واپس ابوظہبی ائیرپورٹ جائے گی جہاں سے اس جہاز کے مسافروں کو کسی اور فلائٹ کے ذریعے واپس اسلام آباد روانہ کردیا جائےگا۔اس اعلان نے جہاز میں موجود مسافروں کی قوت برداشت کو ختم کردیا اور بے ساختہ کئی مسافر اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔اب جہاز میں کسی سبزی منڈی کا سا سماں تھا اور بے شمار لوگ اپنی اپنی بولی بول رہے تھے ۔ جہاز میں گنتی کے دو چار بدیسی مسافر خاموشی سے اس سارے منظر کوتک رہے تھے کیونکہ وہ ان اردو اور گاڑھی پنجابی کی منہ سے بے ساختہ نکلنے والی گالیوں سے متعارف نہ تھے لیکن انہیں بہرحال یہ پتہ لگ گیا تھا کہ یہ سارے مسافر اس اعلان سے خوش نہیں ہیں۔
تھوڑی دیر کے بعد جہاز کے مسافر تین گروپس میں تقسیم ہوگئے ، سب سے بڑا گروپ کسی صور ت اس جہاز کو واپس ابوظہبی لیجانے کے حق میں نہ تھا دوسرا گروپ جو تعداد میں نہ ہونے کے برابر تھا جہاز کو کسی بھی سمت روانہ کرنے کے حق میں تھا جبکہ ایک بڑی تعداد ان دونوں گروپس کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی کہ ان کے درمیان کیا معاملہ ہوتا ہے۔ ان تینوں گروپس کے مسافر اپنے ماضی کے تجربات اور سنے سنائے واقعات سے اخذ کردہ نتائج کے تحت باہمی بحث میں مبتلا تھے۔ جن لوگوں کے پاس فرسٹ کلاس کے ٹکٹ تھے ان کے خیال کے مطابق طیارے کو واپس ابوظہبی لیجانے میں کوئی حرج نہ تھا ان کے ساتھ چند اکانومی کلاس کے مسافر بھی شریک تھے لیکن یہ گروپ کوئی زیادہ بڑا نہ تھا ، جبکہ اکانومی کلاس کے زیادہ تر مسافر کسی صورت اس جہاز کو پاکستان سے واپس امارات لیجانے کے حق میں نہ تھے۔ پہلے گروپ کے لوگوں کا لب ولہجہ نسبتا دھیما تھا جبکہ دوسرے گروپ کے لوگ بلند آہنگ تھے۔دراصل دونوں گروپس کی رائے کی بنیاد اس مفروضے پر تھی کہ اگر یہ طیارہ واپس ابوظہبی چلا گیا تو ان تمام مسافروں کی پاکستان کو دوبارہ روانگی فورا ممکن نہ ہوگی اوریہ تمام مسافر چھوٹے چھوٹے گروپس کی صورت میں مختلف فلائٹس میں ایڈ جسٹ کیے جائیں گے اور اس سارے عمل میں تین چار دن بھی لگ سکتے ہیں۔ اب ایک گروپ کے خیال میں ائیر لائین کے خرچے پر امارات میں ایک دو دن گزارنے میں کوئی حرج نہیں تھا بلکہ وہ اس ممکنہ اضافی تفریحی دورے کے لئے دل ہی دل میں مختلف پروگرام اور مقامات سوچ رہے تھے جبکہ دوسرے گروپ کے لوگوں کو مزید دو تین دن سفر میں گزارنے کے تصور سے بھی ہول اٹھ رہے تھے کہ یہاں سے ائیر لائن واپس لیجاکر واجبی سے ہوٹلز کے ایک ایک کمرے میں تین تین ،چار چار مسافروں کو ٹھونس دے گی اور کھانے کے لئے دئیے گئے واوچرز پر سوائے دھکوں کے کچھ نہیں ملے گا۔جہاز میں موجود اکثریت تیسرے گروپ کے ایسے لوگ تھے جو ایسی کسی صورتحال سے پہلے کبھی دوچار نہیں ہوئے تھے اسی لئے انہیں کسی ممکنہ تفریح یا خواری کے تصورات تنگ نہیں کررہے تھے لہٰذاوہ خاموشی سے اس ساری بحث کو دیکھ رہے تھے جو کاک پٹ سے ملحق خالی جگہ،جہاز سے منسلک سیڑھی کی سب سے پہلی پائیدان اور فرسٹ کلاس کی راہدایوں میں جاری تھی۔جہاز کا کپتان واپس جانے کامتمنی تھا جبکہ وہ مسافر جو اس کے حق میں نہیں تھے انہوں نے ری فیولنگ کے دوران کھل جانے والے جہاز کے دروازے اور سیڑھیوں پر قبضہ کرکے دروازہ بند کرنے اور جہاز کے پرواز کرنے کے تمام امکانات کو ختم کر دیاتھا۔
سیالکوٹ ائیرپورٹ گراونڈ سٹاف کے لوگ جو پہلے اس جہاز کے دروازے بند ہونے اور روانگی کے منتظر تھے اب بے چینی سے اس بڑھتی ہوئی بحث کے ختم ہونے کے خواہشمند تھے جو شیطان کی آنت کی طرح لمبی ہوتی چلی جارہی تھی۔ بحث کرنےو الوں کے لہجے بلند ہوتے جارہے تھے جبکہ جہاز کے عملے کے لہجے میں تلخی آتی جارہی تھی جو اس بات کی واضح نشانی تھی کہ اب فریقین دلائل سے ہٹ کر دستی معاملت کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔ اس سارے قضیے سے قطع نظر جہاز رکنے کے فورا بعد سگریٹ نہ پی سکنے کی کوفت نے اس سارے جھمیلے کو میرے لئے غیردلچسپ بنا دیا تھا گو کہ نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائیر پورٹ سے روانگی کو تو محض چھبیس گھنٹے ہی ہوئے تھے لیکن اس سے پہلے بالٹی مور سے نیویارک ،کیٹنزویل سے ڈاون ٹاون اور بستر سے واش روم تک کے وقت کو شمار کیا جائے تو یہ سفر اکتالیس گھنٹے کھا چکاتھا اور ابھی معلوم نہیں تھا کہ یہ سفر پندرہ بیس منٹ کی مسافت پر موجود اسلام آباد ائرپورٹ پر ختم ہوگا یا ہمیں ایک مرتبہ پھر ابوظہبی ائیرپورٹ سکیورٹی کے سوئی کے ناکے سے گزرنا ہوگا ۔ ابوظہبی کا سوچ کر میرے لبوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ آگئی کہ امریکہ سے پاکستان واپسی کے سفرکے دوران پاکستانیوں کو بھول بھلیاں جیسے راستوں سے گزارنے کے علاوہ سخت سکیورٹی مراحل سے گزارا گیا تھا۔ویسے تو یہ سب ہمارا اپنا ہی کیا دھرا تھا کیونکہ گزرے برسوں میں پاکستانی شناختی کارڈاور پاسپورٹ کا حصول اتنا آسان رہا تھا کہ چند ٹکوں کے عوض کوئی بھی انہیں حاصل کرسکتا تھا سو بہت سارے لوگوں نے ایسا ہی کیا اور نجانے کتنے انڈین ایجنٹ اور افغان شہری پاکستانی دستاویز کے ساتھ دساور کا سفر کرنے کے دوران سبز پاسپورٹ کی ایسی کی تیسی کرتے رہے۔اب بالاخر وہ وقت آگیا تھا کہ چند لوگوں کی جیب بھرنے کی قیمت سب نے بلا استثنااداکرنی تھی اور سب کررہے ہیں۔مسافروں کی چیخ و پکار اور میری جانب سے چند ٹی وی چینلز کے اہم نمائندوں عامر الیاس رانا ،اعزاز سید، اعجاز احمد اور ہمایوں سلیم کو اس تمام صورتحال سے آگاہی کے بعد ٹی وی چینلز پر ٹکرز چلنے کے باعث معاملہ سنجیدہ ہوگیا تھا اور ائیر پورٹ منیجر سمیت سول ایوی ایشن اور ائیر پورٹ سکیورٹی سٹاف کے اعلیٰ حکام سیالکوٹ ائیرپورٹ پر موجود اس جہاز تک آگئے تھے اور گفت وشنید کے بعد بالاخر یہ طے پایا کہ یہ فلائٹ اب واپس اسلام آباد ہی جائے گی۔دن دس بجے کے بعد خدا خدا کرکے ٹیک آف ہوا اور بیس منٹ کے بعدہم اسلام آباد کے بے نظیرشہید انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اتر رہے تھے۔ (جاری ہے)

مزیدخبریں