ایک بدلی ہوئی دنیا میں حکومت اور عوام کی ذمہ داریاں
28 اپریل 2020 (22:56) 2020-04-28

پاکستان میں موبائل فون سروس پرکورونا آگاہی پیغام میںکی جانے والی اس ابلاغی تبدیلی کے بعدکہ ’’کورونا وائرس کی وبا خطرناک ہے اور جان لیوا ہو سکتی ہے‘‘اورعالمی ادرہ صحت کے سربراہ کی جانب سے زیادہ مشکل حالات کے لیے خبردار کیے جانے اور وزیر اعظم عمران خان کے تازہ ٹویٹ میں زیادہ احتیاط کی اپیل نے ایک بارپھر اہل وطن کو تشویش و پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔یہ وبا بالآخر چند ہفتوں میں ختم ہوجائے گی کہ روئے زمیں پر اب سے پہلے آنے والے عذاب بھی ہمیشہ کے لیے نہیں تھے اور ماضی کی کوئی وبا بھی دائمی نہیں رہی تاہم آپ اس وبا کو اللہ کا عذاب کہیں‘ قدرت کی پکڑ شمار کریں‘ روئے زمین پر کوئی جان لیوا بیماری سمجھیں یا حیاتیاتی جنگ کی کوئی شکل قرار دیں‘ یہ بات طے ہے کہ اب ایک بدلی ہوئی دنیا ہوگی جس کے تقاضے بھی پہلے سے مختلف ہوں گے ۔۔کہ اس وبا نے صرف سوچ اور طرز معاشرت ہی نہیں بدلی‘ معیشت اور انفرادی و اجتماعی نظام زندگی بھی بدل دیا ہے ۔

اس وقت پاکستان کے حکمرانوں اور عوام‘ اشرافیہ اور شہریوں کے ساتھ ساتھ اداروں کو بھی سوچنا ہوگا کہ دنیا بھر کے اسٹاک ایکسچینج ہی نہیں امریکہ جیسی سپر پاورکی معیشت بیٹھ چکی ہے۔وہاںبے روزگاروں کا گراف دو کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ گیا ہے تیل کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک نیچے آگئی ہیں ۔ ایسے میں ہم جو پہلے ہی قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں‘ ہم اس صورت حال سے کس طرح نمٹیں گے؟ جب کہ مستقبل قریب میں ہماری برآمدات اور ترسیل زر کی شرح بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ متحدہ عرب امارات سے چالیس ہزار پاکستانی واپس آرہے ہیں‘ دنیا کے دیگر ممالک سے بھی پاکستانی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر واپسی کا خدشہ ہے ایسے میں حکومت اور عوام کو ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن میں بدلے ہوئے حالات میں عزت کے ساتھ زندہ رہنے کی سبیل نکِل آئے ورنہ کورونا سے بچنے والے بھوک‘ بے روزگاری اور فاقوں سے نہ مر جائیں۔ حکومت نے مستقبل کی فوری اور قابلِ عمل منصوبہ بندی نہ کی تو آنے والی حکومت پہلے سے بھی زیادہ قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوگی حکومت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ محض ضرورت مندوں کے گھروں پر 12 ہزار روپے ماہانہ پہنچا کر مستقبل کے چیلج سے نمٹا نہیں جاسکتا۔ اوّل تو حکومت زیادہ عرصے یہ سلسلے جاری نہیں رکھ سکے گی۔ دوم اس طریقۂ کار میں کرپشن کے علاوہ عوام کی ایک بڑی ورک ایبل فورس کا حکومت پر انحصار بہت زیادہ ہو جائے گا جس کے نتیجے میں بے کاروں کی ایک فوج تیار ہو سکتی ہے ۔بہتر ہوتا کہ حکومت کیش رقم کی بجائے ضروتمندوں کو ان کے گھروں پر راشن پہنچانے کا بندبست کرتی اور یہ کام فوج کے سپرد کیا جاتا ،نادرا،مقامی انتظامیہ ، محکمہ تعلیم اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن فوج کی نگرانی میں یہ فریضہ انجام دیتیں ، یہ کام کسی غیر تربیت یافتہ ٹائیگر فورس کے بس کا نہیں ہے۔یہ فورس حکومت کے لیے مشکلات اور بدنامی کاباعث بنے گی، حکومت اب بھی یہ کام کرلے تو بہتر ہے ۔

ان حالات میںحکومت کچھ ایسے منصوبے شروع کرے جن کے ذریعے مستحق خاندانوں کو اپنے پائوں پر کھڑا کیا جاسکے اور غریب کی مشکلات میں حکومت اس کا کچھ سہارا بھی بنے۔ اس وقت حکومت کے پاس بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام‘ احساس پروگرام‘ بیت المال اور سوشل ویلفیئر کے مستحقین کے علاوہ موجودہ وبا میں درخواستیں دینے والے ضرورت مندوں کی مکمل فہرستیں موجود ہیں۔ یہ فہرستیں یکجا کرکے ایک جامع فہرست تیار کر لی جائے اور ان خاندانوں کو دو ماہ تک امداد دینے کے بعد تیسرے ماہ تقسیم ہونے والی رقم بجلی پانی اور گیس کے محکموں کو سبسیڈی کے طور پر دیدی جائے اور وہ پورے ملک میں سب سے نچلی سطح کے ٹیرف میں آنے والے گھرانوں کی یوٹیلٹی بلز کچھ عرصہ کے لیے مکمل معاف کر دیں۔ اسی طرح حکومت یوٹیلٹی اسٹور کی موجودہ گنجائش کو دگنا کر دے اس سے روزگار کے بہت سے مواقع پیدا ہوجائیں گے۔ یہاں ضرورت مند خاندانوں کو رجسٹر کرکے نصف قیمت پر اشیائے ضروریہ مہیا کی جائیں ۔ساتھ ہی حکومت ذخیرہ اندوزوں پر کڑی نظر رکھے اور قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے دے ۔اس جانب حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے مارکیٹ میں ہر چیز کی قیمت بلاجواز بڑھ گئی ہے جس کی ذمہ داری آخرکار حکومت پر ہی آئے گی ۔ یوٹیلٹی اسٹور پر مدافعتی نظام محفوظ کرنے والی اشیا سستے داموں فراہم کر دی جائیں۔ حکومت ملک بھر میں صنعتوں کا جال بچھانے کے لیے ایک میگا پراجیکٹ شروع کرے‘ صنعتیں لگانے والوںکو زیادہ سے زیادہ مراعات فراہم کرے۔ تارکین وطن کو صنعتیں لگانے کے لیے خصوصی مراعات اور سہولتیں فراہم کی جائیں‘ ساتھ ہی ملازمین‘ کارکنوں اور ورکرز کو روزگا کا مکمل تحفظ فراہم کرے۔ کارکنوں کو راشن کی فراہمی اس طرح کی جائے کہ یوٹیلٹی اسٹورز سے سستی نرخوں پر ملنے والی اشیائے ضروریہ کی پچاس فیصد ادائیگی آجر اورپچاس فیصد کارکن کرے۔ساتھ ہی حکومت نجی اداروں میں کم از کم تنخواہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تنخواہیں بھی متعین کردے تاکہ صنعت کاروں اور نجی اداروں کو بھی ریلیف مل سکے ۔اگلے بجٹ میں حکومت سب سے زیادہ رقم اسکولوں‘ کالجوں‘ یونیورسٹیوں اور اسپتالوں کے لیے مختص کرے اور ان اداروں کا معیار بیس پچیس سال قبل والا بنا دے تاکہ عام آدمی بہ خوشی یہاں تعلیم اور صحت کی سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور اسپتالوں کی فیسوں کو کسی ڈسپلن میں لا کر کم از کم موجودہ سطح سے نصف پر لے آئے۔ حکومت اپنے پچاس لاکھ گھروں کے منصوبے کو انتہائی تیز رفتاری سے آگے بڑھائے اس سے روزگار بھی پیدا ہوگا اور بے گھروں کو چھت بھی میسر آجائے گی۔ ساتھ ہی گھریلو صنعتوں کا ایک ایسا جال بچھا دے کہ ہر غریب خاندان فارغ اوقات میں محنت کرکے اپنی آمدنی میں اضافہ کرسکے۔ اس کے لیے انتہائی ضرورت کی اشیا اور مشینری کے علاوہ ہر قسم کی درآمدات پر پابندی لگانا ہوگی لیکن یہ سب کچھ کرنے کے لیے سب سے پہلے وزیراعظم‘ صدر‘ وزراء کو نیوزی لینڈ کی طرح اپنی تنخواہوں اور مراعات میں رضا کارانہ طو پر بیس سے پچاس فیصد تک کمی اوراپنے صوابدیدی اختیارات ختم کرنے ہوںگے ۔چونکہ پارلیمنٹ کا اجلاس کرونا کی وجہ سے نہیں ہوسکا اس لیے ارکان پارلیمنٹ کی مارچ اور اپریل کی تنخواہیں کرونا فنڈ میں دے دی جائیں تاکہ پوری قوم کے سامنے ایثار کرنے کے لیے ایک اچھی مثال موجود ہو۔ اگر حکومت زراعت کے شعبے کے لیے مراعات کا اعلان کرکے زرعی اجناس کی پیداوار اوربرآمد میں اضافہ کرسکے تو خود حکومت کی بہت سی مشکلات حل ہو جائیں گی۔ ایک اور کام جو حکومت کے کرنے کا ہے وہ دکانوں‘ مکانوں اور عمارات کے ہوشربا کرائے ہیں جن کی وجہ سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور کمزور کا استحصال بھی۔ حکومت کرائے کے لیے جو فارمولے طے کرے، اسی کے مطابق کرایہ داروںکے معاملات کو دستاویزی شکل میں لائے اس طرح ایک تو حکومتی ٹیکس کی شرح میں اضافہ ہوگا دوسرے مالک کرایہ دار کا اور کرایہ دار اپنے صارف کا استحصال نہیںہوسکے گا۔ حکومت سادگی کو قومی نعرہ بنا دے‘ وزرا اور سرکاری افسر ماضی کی طرح ٹرینوں پر سفر کریں‘ فائیو اسٹار ہوٹلز کے بجائے سرکاری ریسٹ ہائوسز میں قیام کریں‘ ٹی اے‘ ڈی اے لینے سے انکار کردیں اور اگر سرکاری گاڑی کے بجائے ذاتی گاڑی ہی استعمال کرلیں تو اچھی مثال قائم ہو جائے گی۔ دفاتر کی غیر ضروری تزئین و آرائش‘ پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور ائر کنڈیشنرز کے بے استعمال ختم کر دیا جائے۔ وزراء اور اعلیٰ سرکاری افسر اپنے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھانے لگیں اور سرکاری اسپتالوں میں علاج کرانے لگیں تو ان کا معیار بہتر ہو جائے گا۔

لیکن یہ سب کام عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں،صفائی‘ احتیاط‘ منضبط زندگی‘ دوسروں کا احساس اور قناعت ایسی چیزیں ہیں جو اس وبا کے دوران دیکھنے میں آئیں اگر یہ جاری رہیں تو یہ اس وبا کا ایک مثبت نتیجہ ہوگا اس کے ساتھ ہی اگر مواخات کے اسلامی اصول کے تحت ہر خوش حال خاندان اپنے ہی کسی کمزور عزیز یا بھائی بند کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کی ذمہ داری لے لے تو ہم بہت جلداپنے پائوں پر کھڑے ہو جائیں گے عوام حکومت سے تعاون کرتے ہوئے اس کی ہدایات پرمکمل عمل کرتے رہیں خاص طور پر مساجد اس معاملہ میں اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں اور اگر ممکن ہو تو مضان کے دوران تراویح مختصر کر دی جائے عوام اور متمول افراد اس بار افطار پارٹیاں کرنے کے بجائے یہ رقم ضرورتمند لوگوں تک پہنچائیں اگر ہم نے یہ پیش بندی نہ کی تو کورونا کے بعد کی صورت حال بہت خوف ناک ؤدکھائی دے رہی ہے۔اور عوام نے اگر سادگی اور قناعت کے ساتھ ہاتھ پائوں نہ مارے تو ملکی آبادی کا ایک اورحصہ غربت کی لکیر سے نیچے چلا جائے گا۔ غریب مارا جائے گا اور سفید پوش ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو جائے گا۔ عام آدمی کئی ہفتے گھر میں پڑے رہنے اور وبا کے ساتھ روزگار کے خوف کے باعث نفسیاتی مسائل کا شکار ہوا ہے۔ ان کا حل بھی تلاش کرنا ہوگا کہ نفسیاتی عوارض کا شکار قوم مستقبل کے چیلنجز سے نبرد آزما نہیں ہو سکتی۔


ای پیپر