سحری یا ’’سیری‘‘
28 اپریل 2020 (22:55) 2020-04-28

دوستو،سب سے پہلے تو آپ ایک خوشخبری سن لیں۔۔خبر کے مطابق سنگاپور یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ ڈیزائن نے دعویٰ کیا ہے کہ 8 جون تک پاکستان میں کورونا وائرس کے 97 فیصد کیسز ختم ہو جائیں گے۔سنگاپور کی یونیورسٹی نے اعدادوشمار کی بنیاد پر تخمینہ لگایا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز اپنی چوٹی پر پہنچ کر گھٹنا شروع ہو جائیں گے اور 8 جون تک 97 فیصد کیسز ختم ہو جائیں گے۔اس کے برخلاف عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا تھا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو جولائی کے وسط تک پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ادھر آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان جدید کورونا وائرس اینٹی باڈی ٹیسٹ کٹس بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ٹیسٹ کٹس کے ذریعہ شہری خود گھر میں ٹیسٹ کر سکیں گے کہ کیا ان کے جسم میں کورونا وائرس کے خلاف مدافعت موجود ہے؟امیونٹی ٹیسٹ کٹس صرف 20 منٹ میں نتیجہ دے گی۔ ایک ٹیسٹ کی قیمت 10 پاؤنڈ ہوگی۔ برطانوی حکومت نے پہلے ہی 5 کروڑ کٹس کا آرڈر دے دیا ہے۔ جون سے ایک ہفتے میں 10 لاکھ ٹیسٹ کٹس بنانے کے عمل کا آغاز ہوگا۔

کورونا کی بات بھی چلتی رہے گی۔۔رمضان المبارک کے حوالے سے کچھ باتیں ہوجائیں۔۔ آج پانچواں روزہ ہے اور آج رات ہم چھٹی سحری تناول کریں گے۔۔ سحری کے حوالے سے قرآن پاک میں اللہ پاک سورۃ بقرہ کی آیت نمبر ایک سو ستاسی میں فرماتے ہیں۔(ترجمہ)اور کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا (رات کے) سیاہ ڈورے سے (الگ ہو کر) نمایاں ہو جائے، پھر روزہ رات (کی آمد) تک پورا کرو۔۔۔ اسی طرح کئی احادیث مبارکہ میں سحری کی فضیلت بیان کی گئی ۔۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اور حضرت زید بن ثابت نے سحری کھائی۔ جب دونوں اپنی سحری سے فارغ ہوئے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور نماز پڑھی۔ ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ان کے سحری سے فارغ ہونے اور نماز میں شامل ہونے میں کتنا وقفہ تھا؟ فرمایا کہ جتنی دیر میں کوئی آدمی پچاس آیتیں پڑھے۔۔ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ ۔۔حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں صرف سحری کھانے کا فرق ہے۔ایک اور حدیث مبارکہ کے مطابق عبد اللہ بن حارث حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: میں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سحری تناول فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ اللہ کی دی ہوئی برکت ہے، تم اسے ترک نہ کیا کرو۔‘‘ اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے۔

اسلامی روایات کے مطابق مسلمانوں کے اولین مساہراتی (منادی کرنے والے) حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ تھے، جو اسلام کے پہلے موذن بھی تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کی ذمے داری لگائی تھی کہ وہ اہل ایمان کو سحری کے لیے بیدار کریں۔ مکہ المکرمہ میں مساہراتی کو زمزمی کہتے ہیں۔ وہ فانوس اٹھا کر شہر کے مختلف علاقوں کے چکر لگاتا ہے، تاکہ اگر کوئی شخص آواز سے بیدار نہیں ہوتا تو وہ روشنی سے جاگ جائے۔ اسی طرح سوڈان میں مساہراتی گلیوں کے چکر لگاتا ہے اور اس کے ساتھ ایک بچہ ہوتا ہے، جس کے ہاتھ میں ان تمام افراد کی فہرست ہوتی ہے جن کو سحری کے لیے آواز دے کر اٹھانا مقصود ہوتا ہے۔ مصر میں سحری کے وقت دیہاتوں اور شہروں میں ایک شخص لالٹین تھامے ہر گھر کے سامنے کھڑا ہوکر اس کے رہائشی کا نام پکارتا ہے یا پھر گلی کے ایک کونے میں کھڑا ہوکر ڈرم کی تھاپ پر حمد پڑھتا ہے۔اسی طرح ایشیا اور بالخصوص پاکستان میں بھی سحری جگانے کیلیے مختلف طریقے آزمائے جاتے ہیں، جس کے تحت کہیں ڈھول، دف، کنستر بجاکر سحری میں لوگوں کو جگایا جاتا ہے، تو کہیں نوجوان لڑکے ٹولیاں بناکر رات بھر گلیوں میں گھومتے ہوئے بلند آواز میں حمد و ثنا کرکے لوگوں کو جگاتے ہیں۔

عموماً افراد سحری کی وجہ سے زیادہ فکرمند ہوتے ہیں کہ ہم کچھ ایسا کھا لیں کہ نہ دن بھر بھوک لگے اور نہ پیاس لگے۔وہ افراد جو سحری اور افطاری میں کھانوں کی وجہ سے فکرمند رہتے ہیں۔ اگر وہ اپنی سحری میں چند چھوٹی چیزیں شامل کرلیں تو ان افراد کو کئی طبی فوائد حاصل ہونگے، جیسے مثال کے طور پر، 1 کپ دودھ میں 1 کپ پانی ملاکر پینے سے پورے دن توانائی حاصل ہوگی اور پیاس نہیں لگے گی۔ دہی کی لسی پینے سے بھی کمزوری اور بدہضمی سے بچا جاسکتا ہے۔ سحری میں پانچ کھجوریں کھانے سے پورا دن جسم میں گلوکوز کی کمی واقع نہیں ہوتی۔تازہ پھلوں اور جوس کا استعمال ضرور کریں۔ اپنی سحری میں جو کا دلیہ ، دودھ اور شہد کے ساتھ ضرور تناول فرمائیں تاکہ فائبر حاصل ہو، اور اس سے آنتوں میں خشکی بھی نہیں ہوگی۔روٹی کے ساتھ دال یاکم روغن والا سالن کھانے کو ترجیح دیں۔ صحت مند روزے کے لیے بھرپور سحری ضروری ہے۔جتنا ممکن ہو پراٹھے ، روغنی اور تیز مرچ مصالحے والے کھانوں سے پرہیز کریں۔۔لیکن ہمارے یہاں معاملہ الٹ ہی نظر آتا ہے۔۔ سحری میں کچھ لوگ اونٹ کی طرح پانی اور خوراک اپنے پیٹ میں ذخیرہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ انسانوں کو ’’کوہان‘‘ نہیں لگا ہوتا۔۔ سحری میں ’’ سیری ‘‘ سے پرہیز کرنا چاہیئے۔۔ سیر ہوکر جتنا کھائیں گے ،اگلے دن طبیعت بے چین پائیں گے۔ سیانے کہتے ہیں کہ ۔۔کم خوردن، کم گفتن، کم خفتن میں ہی بھلائی ہے۔۔یعنی کم کھانے، کم بولنے اور کم سونے میں بے شمار فوائد موجود ہیں بس ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔فجر اور مغرب کے اوقات کی جتنی پابندی مچھر کرتے ہیں اتنی آج کل نمازی بھی نہیں کرتے ہاں روزے دار ضرور کرتے ہیں۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر