وزیر اعظم عمران خان کا دورہ چین
28 اپریل 2019 2019-04-28

وزیر اعظم عمران خان نے چین کے چار روزہ دورہ کے دوران میگامنصوبے ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلئے پانچ نکات پیش کئے ہیں۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم 2019ء کی افتتاحی تقریب میں پیش کردہ نکات میں انہوںنے کہاکہ دنیا موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کیلئے مشترکہ کوششیں کرے۔ سیاحت کے فروغ، کرپشن ختم کرنے اور وائٹ کالر کرائمز کے خلاف مشترکہ حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ اسی طرح غربت کے خاتمہ کیلئے فنڈ قائم کرنے اور تجارت و سرمایہ کاری کیلئے ماحول بہتر بنانے کی کوششیں کی جائیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین سی پیک کے اگلے فیز کی جانب بڑھ رہے ہیںجس میں سپیشل اکنامک زونز کا قیام ہوگا۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے پاکستان میں توانائی بحران میں کمی ہوئی اور چین کے تعاون سے گوادر تیزی سے دنیا کا تجارتی مرکز بن رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ اہمیت کا حامل ہوگا، ہم بنیادی ڈھانچے، ریلوے، آئی ٹی اور توانائی میں چین کے ساتھ تعاون چاہتے ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ زراعت، صحت اور تعلیم میں تعاون کے بھی خواہاں ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے چین کے صدر شی چن پنگ سے بھی ملاقات کی۔ اس دوران چینی صدر نے گفتگو کرتے ہوئے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کو رابطے مضبوط کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے ترقی پذیر ملکوں کے لیے دیرپا ترقی کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ دوسرے ممالک کی مصنوعات کا چینی مارکیٹ میں خیر مقدم کریں گے۔ بیلٹ اینڈ روڈ فورم تمام شریک ممالک کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرے گا۔ہم مزید ملکوں کیساتھ آزادانہ تجارت کے مختلف معاہدوں پر بات چیت کریں گے۔

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ یہ منصوبہ جوں جوں تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے پاکستان دشمن قوتوں کے اوسان خطا ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس منصوبہ کو ’’گیم چینجر‘‘ کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ سی پیک کے ذریعہ چینی علاقے کاشغر سے شروع ہونیوالا یہ تجارتی راستہ پاکستانی بندرگاہ گوادر تک پہنچے گا۔ چین آبنائے ملاکہ جو انڈونیشیا اور ملائشیا کو علیحدہ کرتی ہے اور چین سے لے کر ویت نام ،ہانگ کانگ سے تائیوان اور جنوبی کوریا سے جاپان تک تمام ممالک کا تجارتی راستہ ہے اس پر انحصار کم کر کے ایک چھوٹا تجارتی راستہ بنانا چاہتا ہے تاکہ دنیا بھر میں چینی مصنوعات کم خرچ اور کم وقت میں پہنچ سکیں۔ آبنائے ملاکہ سے چینی تجارتی سامان کو یورپ اور دیگر منڈیوں تک پہنچنے میں پینتالیس دن لگتے ہیں جبکہ کاشغر تا گوادر اقتصادی راہداری کی تکمیل کے بعد یہ سفر کم ہو کر دس دن کا رہ جائیگا۔پاکستان کو اس راہداری سے یہ فائدہ ہوگا کہ وہ تجارتی سرگرمیوں میں شامل ہو کر معاشی ترقی اور ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ملک تک کا سفر تیزی سے طے کر سکے گا۔ چین کی کوشش ہے کہ وہ صرف گوادر تا کاشغر اقتصادی راہداری کی تکمیل ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ساتھ مل کرا سی طرح کے سمندری تجارتی راستے بھی کھولے تاکہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدے اٹھائے جاسکیں۔ سی پیک سے پاکستان کے تمام صوبوں کو فوائد حاصل ہوں گے اور ملک میں امن وخوشحالی کا ان شاء اللہ ایک نیا دور آئے گا۔ چین کی سٹیٹ کونسل نے چند سال قبل ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کا اعلان کیا جس کے تحت سنٹرل ایشیا، جنوب ایشیا اور عرب علاقوں تک تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے سڑکوں، ریل، پائپ لائنز اور توانائی مراکز قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا۔ اس منصوبے کے ذریعہ چین کا یورپ کے ساتھ رابطہ ہو گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بحرہند، خلیج فارس اور بحیراوقیانوس سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے چین ون بیلٹ ون روڈ کے ساتھ میری ٹائم سلک روڈ کو بھی تعمیر کر رہا ہے تاکہ دنیا کے 60سے زائد ممالک کے درمیان سڑک، ریل کے علاوہ سمندری راستوں کے ذریعے بھی تجارتی سرگرمیاں بڑھانے میں مدد حاصل ہو۔پاکستان نے اس سلسلہ میں انڈیا سمیت تمام ملکوں کو واضح طور پر پیش کش کی تھی کہ سی پیک منصوبہ سے خطے کے تمام ممالک استفادہ حاصل کر سکتے ہیں لیکن چانکیائی سیاست پر عمل پیرا بھارت نے خود کو اس منصوبہ سے بالکل الگ تھلگ رکھا ہوا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اقتصادی راہداری منصوبہ کے تحت سڑکیں آزاد کشمیراور گلگت سے گزریں۔بھارت ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ میں شامل ہونے سے بھی انکار کر چکا ہے۔اسے چین کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری اور بھائی چار ے کا مستحکم رشتہ برداشت نہیں ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ جغرافیائی وسیاسی غیر یقینی کی عالمی صورتحال، عدم مساوات میں اضافے اور تجارتی رکاوٹوں کے خاتمہ کیلئے ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ بین الاقوامی تعاون، شراکت داری، رابطوں کے فروغ اور مشترکہ خوشحالی کا بہترین ماڈل پیش کرتا ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ (بی آر آئی) کا ایک بڑا جزو ہے۔ گوادر جو کبھی ایک چھوٹا سا مچھیروں کا گائوں ہوتا تھا تیزی سے تجارتی مرکز بن رہا ہے اور گوادر میں تعمیر ہونے والا ایئرپورٹ پاکستان کا سب سے بڑا ایئرپورٹ ہوگا۔ چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات سے تعلیم، نئی ایجادات اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں باہمی رابطوں کومزید فروغ ملے گا۔یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ سی پیک کے ساتھ ساتھ خصوصی اقتصادی زونز قائم کئے گئے ہیں جہاں پر پاکستانی، چینی اور بین الاقوامی اداروں کو سرمایہ کاری کے مواقع حاصل ہوں گے۔

سی پیک منصوبہ کی تکمیل سے پاکستان خطہ کی ایک مضبوط معاشی قوت بن کر ابھرے گا یہی وجہ ہے کہ انڈیا جس نے پاکستان کے وجود کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا ‘وہ مسلسل اسے ناکامی سے دوچار کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ بھارت کی مودی سرکار نے باقاعدہ ایک سیل قائم کر رکھا ہے جس کی نگرانی ہندو انتہا پسندتنظیم بی جے پی کے وزیر اعظم نریندر مودی کے دست راست اجیت دوول کر رہے ہیں۔ بھارت اس سے قبل بھی پاکستان میں کام کرنے والے چینی انجینئروں کے قتل کی سازشیں کرتا رہا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہوں لیکن اللہ کا شکر ہے کہ دونوں ملک بھارتی خفیہ ایجنسی را اور بھارت سرکار کی سازشوں کو سمجھتے ہیںاس لئے پاک چین دوستی کمزور ہونے کی بجائے دن بدن مزید مضبوط ہوئی ہے۔ بھارت سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے کروڑوں ڈالر خرچ کر رہا ہے تاہم یہ سب سازشیں دم توڑ رہی ہیں۔سی پیک پر پورا پاکستان متفق ہے اور اسے ملک کیلئے حقیقی طور پر ایک بڑی نعمت سمجھا جارہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے دورہ چین کے دوران برادر ملک کی جانب سے پاکستان کی بھرپور معاونت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہماری دوستی لازوال اور پرانی ہے جبکہ چین کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری اور بھائی چارے کا رشتہ مستحکم بنیادوں پر استوار ہے جو ہر مشکل کی گھڑی میں پورا اترا ہے۔انہوںنے بیلٹ اینڈروڈ فورم کی تقریب میں تمام شرکاء کو دعوت دی کہ وہ پاکستان میں آزادانہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ماحول سے استفادہ کریں اور ہماری معیشت میں شراکت دار بنیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کو پاکستان کے بنیادی ڈھانچے، ریلویز، ڈیموں کی تعمیر، آئی ٹی اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی خصوصی دعوت دی اورکانفرنس کے شرکاء کو عالمی سطح پر عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دینے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ہم پائیدار معاشی ترقی کے مطلوبہ اہداف کے حصول کی جانب کامیابی سے سفر کرسکتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کا چار روزہ دورہ چین اس لحاظ سے کامیاب رہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر سی پیک کی اہمیت پوری دنیا کے سامنے اجاگر ہوئی ہے۔ مشہور چینی مقولہ ہے کہ ’’سمندر اس لئے وسیع ہوتا ہے کیونکہ وہ کسی دریا کو مسترد نہیں کرتا‘‘۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی دورہ چین کے دوران بین الاقوامی دنیا کے سامنے یہ بات رکھی ہے کہ پاکستان باہمی عزت اور مساوات کی بنیاد پر اپنا عمل جاری رکھے گا اور چین سمیت بی آر آئی کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر اپنے عوام کے بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔ہم امید رکھتے ہیں کہ سی پیک کا یہ گیم چینجر منصوبہ جلد پایہ تکمیل کو پہنچے گا، پاکستان کی معیشت مضبوط و مستحکم ہو گی اوراسلام دشمن قوتوں کی ملک کو کمزور کرنے کی سب سازشیں ان شاء اللہ ناکامی سے دوچار ہوں گی۔


ای پیپر