کھیل تماشے، گالم گلوچ، ہاتھا پائی
28 اپریل 2019 2019-04-28

اپوزیشن حکومتی ارکان سے کھیل رہی ہے۔ حکومت تماشے کر رہی ہے، قانون ساز اداروں میں گالم گلوچ، نوبت بایں جا رسید کہ ایک دوسرے کے گریبانوں تک ہاتھ پہنچ گئے، کیسی جمہوریت ہے؟ ایسی جمہوریت ہے تو سوچنا ہوگا، کھیل تماشوں میں 8 ماہ گزر گئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں کوئی کام کابل پاس نہ ہوسکا، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے، اسمبلیوں کی باگ ڈور’’ بے بی ارکان‘‘ کے ہاتھوں میں ہے۔ سنجیدہ ارکان سر پکڑے بلکہ دل تھامے تماشہ دیکھتے رہتے ہیں۔ قومی اسمبلی میںحکومتی بینچوں سے مراد سعید اور اپوزیشن سے بلاول بھٹو زرداری کی ملی جلی آوازوں میں تقریریں سننے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ ایک کی اردو صحیح نہیں دوسرے کی انگریزی، دونوں ملاوٹ شدہ اردو بولتے ہیں۔ ایک کی تقریر میں آکسفورڈ والی انگلش کی چاشنی، دوسرے کے خطاب میں پتھر برساتی سختی، جیسے اپوزیشن کو سنگسار کر رہے ہوں۔ ایک کے پاس کرپشن کی گولیاں، دوسرے کے پاس نا اہلی کے بم، ایک طرف کے ارکان صرف ڈیسک بجانے، دوسری جانب کے حریف اسپیکر کا گھیرائو کرنے، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑنے، ایوان میں دھرنا دینے یا پھر واک آئوٹ کے لیے گھروں سے آتے اور لوٹ کے گھروں کو جاتے ہیں، لاکھوں کی تنخواہیں، کروڑوں کی مراعات، اربوں کے اثاثے اور بینک بیلنس اس پر غریبوں کی حالت سدھارنے کے بلند بانگ دعوے، عمل ندارد، ریاست مدینہ کے نعرے لیکن مدینے کے تاجدار شاہ دو عالم ختمی مرتبت نبی رحمتؐ کی سیرت طیبہ سے بے بہرہ، حیات مطہرہ سے لا علم، حضرت فاضل بریلویؒ نے کہا تھا۔

دو جہاں مِلک اور جو کی روٹی غذا

اس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام

شرم ہم کو مگر نہیں آتی، کیسے آئے، سیرت پاک کا کبھی مطالعہ نہیں کیا۔ ریاست مدینہ، کسی سے سن لیا اور تقریروں میں شامل کرلیا۔ بس کافی ہے، عوام کو لبھانے، بہلانے سمجھانے کا اس سے بہتر نسخہ ہو ہی نہیں سکتا کہ مدینہ کا نام سن کر سر عقیدت سے جھک جاتے ہیں۔ فلاحی ریاست کون نہیں چاہے گا۔ اسی لیے تو لائے تھے کہ غریبوں کے دن پھریں گے۔ عوام کی قسمت بدلے گی لیکن بقول حبیب جالب، ’’دن پھرے ہیں فقط امیروں کے‘‘ آج بھی وہی حال ہے کہ

ہر بلاول ہے قوم کا مقروض

پائوں ننگے ہیں بے نظیروں کے

اس طرف کسی کی توجہ نہیں ’’لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے‘‘ طوفان بد تمیزی بپا ہے۔ کب تک جاری رہے گا تھمے گا یا نہیں؟ سنجیدہ تجزیہ کار اور اہل درد اس طوفان بد تمیزی کو پورے سسٹم کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ ایوانوں میں پہنچ گئے، جانے کیا سوچ کر آئے تھے۔ زبانوں پر قابو نہیں، دوسروں کی عزت نفس کا خیال نہیں، احساسات اور جذبات مجروح کرنے ،کچوکے لگانے میں جھجک نہیں۔ دوسروں کو ذلیل کرنے میں عار نہیں، جواب دیا جائے تو برداشت نہیں ہوتا۔ دس پندرہ اکٹھے بولتے ہیں۔ سر پر بیٹھے لوگ کب تک یہ دلدوز مناظر برداشت کریں گے۔ حالات کی مانیٹرنگ ہو رہی ہے، لوگ اپنے لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ ’’جس کو بھی آگ لگانے کا ہنر آتا ہے وہی ایوان سیاست میں نظر آتا ہے‘‘ ایوانوں کا کیا حال ہے نئے آنے والوں میں دو چار کو چھوڑ کر سب ’’بے بی ارکان‘‘ ،کہنے کو عمر چالیس پچاس سال لیکن لہجہ میں شوخی، رویہ بچکانہ، لہجے تلوار، تیور تیز دھار خنجر کا وار، بس نہیں چلتا ورنہ ہر اجلاس میں دو چار کو گرا دیا کریں۔ ایک دو وفاقی وزیر پرانے بلکہ سیاست کے آثار قدیمہ لیکن سیاسی ماحول کو تباہ کرنے میں سب سے اہم کردار کے حامل ’’یہ صحن گلشن میں جب گئے ہیں بہارہی لوٹنے گئے ہیں‘‘ وزیر اعظم نے جوش خطابت یا ’’سلپ آف ٹنگ‘‘ سے بلاول بھٹو کو صاحبہ کہہ دیا۔ شیخ رشید چیکو کہنے سے باز نہ آئے۔ غالب نے دکھ سے کہا تھا۔ ’’زبان بدلی تو بدلی تھی خبر لیجے دہن بدلا‘‘ ٹاک شوز ہوں یا قومی و صوبائی اسمبلی، تان جانے والوں پر ٹوٹتی ہے، ’’یہ کیسا قرض ہے نفرت کا کم نہیں ہوتا کہ بڑھتا جاتا ہے جتنا چکائے جاتے ہیں‘‘۔ ہمارے یہاں نفرت اور سیاسی مخالفت نہیں بلکہ ذاتی دشمنی پنپ رہی ہے۔ جو قومی سیاست کے لیے انتہائی خطرناک اور سسٹم کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ تقریریں کرتے ہوئے ہمارے لیڈروں کے منہ سے آگ کے شعلے نکلتے ہیں جیسے آتش فشاں لاوا اگلنے لگا ہو، ماضی میں اپنی چرب زبانی سے ہر ڈکٹیٹر اور سویلین حکمران کے منظور نظر بنے حتیٰ کہ نواز شریف جیسا وزیر اعظم بھی ’’جوہر کامل‘‘ کو نہ پہچان سکا لیکن اشارہ پاتے ہی اپنے ساتھ صنم کو بھی لے ڈوبے، خود تو تیر کر نکل آئے ’’صنم‘‘ پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر ذاتی حملوں کو حذف کرتے تھک گئے۔ سندھ اسمبلی میں ایک دوسرے پر لعنتیں نوبت ہاتھا پائی تک آن پہنچی۔ اچھے بھلے لیڈر کو صاحبہ کیوں کہا ایک رکن نے مائیک دے مارا۔ اللہ سندھ اسمبلی کے چوہوں کی عمر دراز کرے کہ انہوں نے ایوان کے مائیک سسٹم کی تاریں کاٹ ڈالیں، ورنہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی۔ بد تہذیبی اور بد زبانی کا بد ترین مظاہرہ، کہیں ایسا تو نہیں کہ زمین و آسمان کے درمیان خلائوں میں کسی جگہ براجمان ’’فرشتوں‘‘ نے کچھ طے کرلیا ہو، فرشتے دونوں بڑے لیڈروں سے تنگ آ گئے تھے۔ اکڑ فوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی گردن میں سریا ڈال کر کب تک وزیر اعظم بنتے رہیں گے، ترقیاتی کام کیے ،کیے ہوں گے لیکن مداخلت فی الدنیا قبول نہیں، دوسرے نے کچھ نہیں کیا اس لیے خارج از بحث، تنگ آکر علی الصبح شہر پناہ میں داخل ہونے والے شخص کو خلعت فاخرہ پہنا دی گئی۔ فیصلہ ووٹ دینے والوں کا نہیں، ووٹ گننے والوں کا تھا، آنے والا کرپشن کرپشن کے نعرے لگاتا آیا۔ ایک شور قیامت اٹھا جو اب تک تھمنے میں نہیں آرہا، کرپشن کے الزامات اپنے دامن پر لیے جانے والوں کی ساری وضاحتیں سارے دلائل مسترد، ثبوتوں کے لیے اِدھر اُدھر سے بندے تلاش کیے گئے انہوں نے چور ڈاکو ثابت کرنے کے لیے دن رات ایک کردیے ایک کو تا حیات نا اہلی اور سالہا سال کی سزا اربوں کے جرمانے دوسرے پر تلوار لٹک رہی ہے، تیر چل رہے ہیں۔ سوتے جاگتے سزا کا خوف، جانے والے بھیانک مستقبل کے خوف میں مبتلا دن بدن گھلے جا رہے ہیںسیاست کیا خاک کریں گے، شہر پناہ میں داخل ہونے والا شخص ہر فکر سے آزاد، اس کی پناہ میں آنے والوں کو عام معافی، ایک وفاقی وزیر پر اربوں کے اثاثوں کا الزام، کسی کی نظر نہیں پڑی۔ ’’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘‘ سب کچھ درست، کرپشن، منی لانڈرنگ، دولت لوٹنے کے الزامات کے مقدمات زیر سماعت، فیصلہ بھی ہوجائے گا۔ ملزم اپنے انجام کو پہنچیں گے، کچھ ثابت نہ ہوا تو بری کردیے جائیں گے۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ آپ کرپشن کرپشن اور چور ڈاکو کی گردانیں چھوڑ کر ملک کو ’’ریاست مدینہ‘‘ کی طرح فلاحی مملکت بنانے پر توجہ دیں، کنٹینر سے اترے سال گزر گیا مگر اندر باہر تقریروں کا ایک ہی ڈھب، معافی ملے گی نہ این آر او، ہرگز نہ دیں لیکن شور شرابے سے فائدہ، مہنگائی، ابتری، افرا تفری کا خاتمہ بہتر معیشت کا خواب، سب کچھ چھوڑ چھاڑ، ترقیاتی ایجنڈے پر توجہ درکار 1435 ریفرنسز دائر ہیں، فیصلے ہونے میں پانچ سال بیت جائیں گے۔ اس عرصہ میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں مہذب رویوں کے ساتھ قانون سازی کرلی جائے گالم گلوچ اور ہاتھا پائی کی بجائے اپوزیشن کو بہتر رویہ کے ساتھ اپنے قریب لایا جائے، نہیں ہوسکتا تو بجٹ کے بعد آنے والے کسی بھی مہینہ کا انتظار کرلیا جائے۔ عدم برداشت سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ قوت برداشت سے کام لیتے ہوئے کسی ضابطہ اخلاق پر اتفاق رائے کرلیا جائے، ورنہ سب کچھ خلائوں میں تحلیل ہوجائے گا۔


ای پیپر