کابینہ میں رد و بدل
28 اپریل 2019 2019-04-28

چند روز قبل وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں تبدیلی کرکے حکومتی ایوانوں اور ملکی سیاست میں ایک ہلچل برپاکردی ہے۔سب سے زیادہ سوالات اور تشویش وفاقی وزیر خزانہ اسدعمر کے ہٹانے پر اٹھائے جارہے ہیں،اس لئے کہ وہ ٹیم کے اوپنر تھے۔کپتان کو ان پر مکمل اعتماد تھا۔اپوزیشن کے پانچ سالہ دور میں اسد عمر کپتان کے شیڈو وزیر خزانہ تھے۔اقتدار میں آنے سے قبل اگر کسی کی وزارت پکی تھی تووہ اسد عمر کی وزارت ہی تھی۔کپتان کو بھی ان پر ناز تھا۔ اس لئے کہ اپوزیشن کے دور میں اسد عمر نے ہی کپتان کو یہ پٹی پڑھائی تھی کہ ملک کے معاشی حالات خراب ضرور ہیں لیکن آپ کی سحر انگیز شخصیت ہی ایسی ہے کہ بہتری کے لئے بین الاقوامی اداروں کے پاس جا نا نہیں پڑے گا۔آپ حکم دیں گے اور عوام ٹیکس سے خزانہ بھر دیں گے۔اس سے بھی زیادہ مبالغہ آرائی جو اسد عمر اپوزیشن کے دور میں عمران خان کوخوش خبری کی صورت میں سنا چکے تھے کہ دیار غیر میں موجود پاکستانی آپ پر جان نچھاور کرتے ہیں تو ڈالر ،پونڈ،یورو، ریال اور درہم کیا چیز ہے ؟ بس اقتدار سنبھالنے کی دیر ہے۔آپ اپیل کریں گے اور قومی خزانہ لباب بھر جائے گا۔پھر آپ کی مر ضی ہو گی جس کے منہ پر جو مارنا ہو مار دیجئے ۔کپتان کو چونکہ عوام کے ساتھ کبھی براہ راست واسطہ نہیں پڑا تھا ۔ملک اور بیرون ملک ان کا میل جول چونکہ ہمیشہ خواص ہی سے رہا ہے ۔ اس لئے جو ش میں آکر بیان داغ دیا کہ اقتدار میں آکر خودکشی کر لونگا لیکن آئی ایم ایف سے قرض نہیں لو نگا۔جب اقتدار میں آگئے تو شیڈو وزیر خزانہ جو اب حقیقی وزیر خزانہ تھے ۔انھوں نے درخواست کی کہ بادشاہ سلامت اب وقت ہے سمندر پار پاکستانیوں سے اپیل کی ،انھوں نے بھی نہ آئو دیکھا اور نہ تا ئو ۔جاری کردی ڈیم بنانے کے لئے چندہ مہم کی ویڈیو۔لیکن جس بے دردی سے سمندر پار پاکستانیوں نے اس ویڈیو کو وزیراعظم عمران خان اور ان کے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کے منہ پر دے مارا وہ نہ صرف ایک شرمناک باب ہے بلکہ ایسا پہلی مرتبہ ہی ہوا کہ سمندرپار پاکستانیوں نے بے دردی سے وزیر اعظم کی اپیل کو مسترد کر دیا۔اس اپیل کی شرمناک ناکامی کے بعد وزیر خزانہ اسد عمر نے وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دیا کہ اب خود کشی کر ہی لیں۔مطلب آئی ایم ایف کے پاس خود جا ئیے۔ان سے خود ہی خودکشی کی درخواست کیجئے ، اس لئے کہ میرا ضمیر یہ گوارا نہیں کرتا کہ اپنے کپتان کے لئے کسی سے مو ت کی درخواست کر لوں۔اسدعمر کے مشورے پر وزیر اعظم عمران خان نے نہ صرف خودکشی کر لی بلکہ خودکشی کرنے کے لئے موڑ مڑنے کے فضائل بھی بیان کر نا شروع کر دئیے۔وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کشکول دے کر وزیر اعظم عمران خان کو دوست ممالک میں بھکاری کی طرح گھمایا۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، چین، ملائیشیااور ترکی سے جھولی پھیلا کر امداد مانگی گئی، پھربھی اسد عمر کا خالی خزانہ بھر نہیں سکا۔وزیر اعظم عمران خان کو دوست ممالک کے سربراہوں کا ڈرائیور بننا پڑا ،لیکن اسد عمر کی خالی جھولی بھر نہیں سکے۔اقتدار میں آئے ابتدا کے 8 مہینے وزیر اعظم عمران خان اسدعمر کے خزانہ کو بھرنے کے لئے جہاں تک ہو سکتا تھا انھوں نے ذلت برداشت کی ،لیکن ان کو اب یقین ہو گیا تھا کہ پانچ سال تک کشکول کے ساتھ وزیر اعظم رہنا ہو گا ،اس لئے اب ان کے پاس دو ہی راستے تھے کہ اسد عمر کو ہٹانے کا زہر غٹا غٹ پی لیں یا پانچ سال تک کشکول کو بھی اپنے لباس کا حصہ بنا لیں۔بھیک کو قومی مشغلے کا نام دیں۔اسد عمر کے جانے کے بعد یہ جو کہا جارہا ہے کہ مافیاز یا سازشیوں نے ان کا تختہ الٹ دیا ہے بالکل لغوبات ہیں۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ گز شتہ آٹھ مہینوں میں اسد عمر تمام دوست ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے قرض اکھٹا کرنے کے بعد بھی معاشی استحکام کے لئے سمت متعین کرنے میں ناکام نہیں رہے؟حالانکہ جتنا بھی قرض دوست ممالک یا بین الاقوامی اداروں سے اب تک ملا ہے اس میں اسد عمر کا کوئی کردار نہیں۔کیا ان پر لازم نہیں تھا کہ ان آٹھ مہینوںمیں معاشی استحکام کے لئے قلیل مدتی ،وسط مدتی اور طویل مدتی ترجیحات کا تعین کرتے؟اسد عمر کا تمام تر انحصار وزیر اعظم عمران خان پر تھا۔ممکن نہیں تھا کہ وزیر اعظم ،وزیر خزانہ کے ہو تے ہو ئے بھی معاشی معاملات چلاتے۔ اس لئے اسد عمر کو ہٹانے کا سبب خود ان کی نااہلی تھی نہ کہ کوئی مافیاز یا سازش۔

پیٹرولیم کے وفاقی وزیر غلام سرور خان کو بھی وزارت سے ہٹا دیا گیا ہے۔انھوں نے مزاحمت بھی کی،لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ موسم سرما میں تین مہینے گیس صارفین کے ساتھ جو واردات کی گئی کیا وہ صارفین کی جیبوں پر ڈاکہ نہیں تھا؟وزارت میں خسارہ ختم کرنے اور اسے نفع بخش بنانے کا کیا یہی طریقہ ہے کہ آپ صارفین کو رہزنوں کی طرح لوٹنا شروع کردیں؟اس سرعام ’’سرور خانی ڈاکہ‘‘ کے بعد بھی وہ صارفین جنھوں نے رواں برس ڈیمانڈ نو ٹس جمع کئے ہیں ان کو گیس کنکشن دینے پر پابندی عائد ہے۔اربوں روپے لوٹنے کے بعد بھی اگر کوئی وفاقی وزیر وزارت کو نفع بخش نہیں بنا سکتا تو کیا یہ جائزنہیں کہ ان کو منصب سے ہٹا دیا جائے؟ وفاقی وزیر صحت عامر کیانی نے ایک مشتبہ شخص کو ادارے کا سربراہ بنایا۔حکومت نے ان کو اجازت دی کہ وہ دوائیوں کی قیمتوں میں دس سے پندرہ فیصد تک اضافہ کریں ،لیکن نااہلی کی انتہا کہ ادویہ ساز کمپنیوں نے سوفیصد سے بھی زیادہ اضافہ کرلیا اور وفاقی وزیر عامر کیانی کچھ بھی نہ کر سکے۔ایک ایسا شخص کہ جس کو حکومت نرخ بڑھانے کی قانونی اجازت دیں اور وہ اس پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہو تو کیا اس کو وزارت سے بے دخل کرنا برائی ہے؟وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری ناکامی نہیں بلکہ محلاتی سازشوں کا شکار ہو ئے۔نعیم الحق اور سابق چیئرمین پی ٹی وی کو خوش کرنے کے لئے فواد چوہدری کو وزارت سے ہٹایا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں جو رد وبدل کیا ہے ان میں تین وزارتیں بہت اہم تھیں۔وزارت خزانہ ، وزارت پیٹرلیم اور صحت ۔ان تینوں اہم وزارتوں کے وزیروں کوناقص کارکردگی کی بنیاد پر ہٹایا گیا ہے۔وفاقی کابینہ میں ردوبدل پر وزیر اعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بھی بنا یا جارہا ہے لیکن اس میں کوئی ہرج یا عار نہیں کہ اگر کوئی وفاقی وزیر یا وزیر اعلیٰ کارکردگی نہیں دکھا سکتا تو ان کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ وزیر اعظم عمران خان کو اس بات کو مد نظر رکھنا ہوگا کہ ان کے سیاسی مخالفین شاطربھی ہیں اور تجربہ کار بھی،اس لئے ضروری ہے کہ عہدے دیتے وقت میرٹ کا خیال رکھا جائے تاکہ آئے روز تبدیلی نہ کرنی پڑے ،اس لئے کہ روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی کو عوام، ریاستی ادارے اور بین الاقوامی برادری بھی پسند نہیں کرتی۔


ای پیپر