اقتدار اُن کا سلامت رہے گا
28 اپریل 2018 2018-04-28

انتخابات کے بعد اگلا وزیراعظم کون ہو گا ۔۔۔ اندازوں اور تخمینوں میں پہلا نام شہباز شریف کا ہے۔۔۔ اس کی جماعت کا ووٹ بینک دوسروں کے مقابلے میں بڑا ہے۔۔۔ تازہ عالمی سروے کے مطابق 36 فیصد ۔۔۔ لیکن یہ پاکستان ہے یہاں ووٹوں کی طاقت سے زیادہ ناپائیدار کوئی چیز نہیں اس کی اہمیت ضرور ہوتی ہے مگر فیصلہ کن نہیں۔۔۔ اوپر کی اشیر باد از حد لازم ہے۔۔۔ ریاستی امور کی گرہیں وہیں کے ناخن ہائے تدبیر سے کھلتی ہیں۔۔۔ اپنی بات منوانے اور اس پر ہر ہر طریقے سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کی طاقت اور رسوخ سب سے زیادہ رکھتے ہیں۔۔۔ اگرچہ نظر کم آتے ہیں محسوس بہت زیادہ ہوتے ہیں۔۔۔ گھر ان کا بڑا ہے سرکار ان کی اونچی۔۔۔ اگرچہ خود کو والیان ریاست نہیں کہتے مگر سمجھتے ضرور ہیں اکثر سیاستدان اور کئی ہمارے دانشور بھی ان کے اسی مقام و مرتبے کے پیش نظر بروقت ان کی جناب میں سر نہوڑائے کھڑے نظر آتے ہیں۔۔۔ وہاں کے پردہ غیب سے شہباز کے سر پر ہاتھ رکھا جائے گا یا نہیں اس کا جائزہ آگے چل کر لیں گے۔۔۔ ابھی دوسرے بڑے امیدوار کا ذکرکرتے ہیں وہ ہیں اپنے عمران خان۔۔۔ وزارت عظمیٰ کے حصول کے لیے عرصہ بائیس برس سے انتھک محنت کر رہے ہیں۔۔۔ ہار ماننے والے نہیں۔۔۔ اس وقت بہت پر جوش ہیں موسمی پرندے جنہیں ہمارے یہاں کی سیاسی اصطلاح میں انتخابات جیتنے کی صلاحیت کے مالک لوگ (Electable) کہا جاتا ہے جوق در جوق پرانی منڈیروں سے اڑ کر ان کے صحن میں اتر رہے ہیں اکثر و بیشتر اس مخلوق کو لوٹے کہا جاتا ہے مگر یہ بڑے خاندانی لوگ ہیں پیشۂ آباء یہی چلا آ رہا ہے خیر اسے چھوڑیے عمران خان خوش ہیں کیونکہ لوٹوں کا آنا علامت ہے اوپر والوں کی خوشنودی۔۔۔ دوسرے ووٹ بینک بھی کرکٹ کے کھلاڑی کا اگرچہ مسلم لیگ (ن) کے مقابلے کا نہیں کافی نیچا (24 فیصد) ہونے کے باوجود دوسرے نمبر پر ہے۔۔۔ بڑے گھر کی سرپرستی اور ووٹ بینک جتنا کچھ بھی ہے مل جائیں تو عمران کے وزیراعظم بن جانے کے امکانات واضح ہو جاتے ہیں۔۔۔ اسی پر موصوف سرشار اور پر عزم ہیں۔۔۔ لیکن راستے کی تمام رکاوٹیں ابھی دور نہیں ہو پائیں وہ کتنی مزاحم ہوں گی۔۔۔ اس کے بارے میں بھی آگے چل کر بات کریں گے۔۔۔ تیسرے بڑے امیداور کی جانب چلتے ہیں جو اپنے آصف علی زرداری ہیں۔۔۔ بھٹو مرحوم کے داماد، پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اندرون صوبہ سندھ کی حد تک ووٹ بینک مضبوط۔۔۔ جوڑ توڑ کے بادشاہ۔۔۔ اقلیت کو اکثریت میں تبدیل کر دینے کے فن پر کمال دسترس کے مالک ۔۔۔ کوئی تین برس پہلے ملک کے اصل حاکموں سے بگاڑ لی تھی۔۔۔ اسلام آباد کی تقریر میں انہیں للکارا تھا۔۔۔ کہا تھا مجھے چھیڑنے کی کوشش کی تو آئینہ دکھا دوں گا ۔۔۔ تمہاری حیثیت سامنے لے آؤں گا ۔۔۔ تقریر نے پورے ملک میں تہلکا مچا دیا۔۔۔ زرداری صاحب بیرون ملک چلے گئے۔۔۔ واپس آئے تو بڑے گھر کی سرابراہی نئے عہدیدار کے پاس تھی۔۔۔ کہا جاتا ہے بھٹو کے داماد اور سیاسی وارث نے جو مرحوم کے مقابلے میں کہیں زیادہ لچک کا مظاہرہ کر دکھاتے ہیں اور یوٹرن لے لیتے ہیں والیان ریاست کے ساتھ بنا سنوار لی ہے۔۔۔ اس کا ثبوت سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں دیکھنے کو ملا۔۔۔ عمران کو ان کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے الفاظ میں اوپر سے اشارہ ملا تھا کہ گمنامی کے پردے میں لپٹے ہوئے صادق سنجرانی کو چیئرمین بناؤ اور زرداری کے نامزد مانڈوی والا کو وائس چیئرمین۔۔۔ کرکٹ کے کھلاڑی نے چونکہ کرسی اقتدار کے حصول کی خاطر زیادہ امیدیں انہی والیان ریاست سے وابستہ کر رکھی ہیں لہٰذا حکم کی تعمیل بجا لاتے دیرنہ لگی۔۔۔ زرداری کے بندے کو کھل کر ووٹ دے ڈالا۔۔۔ ’’میں کوچہ رقیب میں بھی سر کے بل گیا‘‘۔۔۔ اسی سے آج کی سیاست کے اندر پی پی پی کے شریک چیئرمین کی اہمیت کھل کر سامنے آ تی ہے۔۔۔ لیکن ان کے وزیراعظم بننے کے امکانات بھی سو فیصد نہیں جن کے ہاتھوں میں اس کھیل کی ڈوریاں ہیں وہ کچی گولیاں نہیں کھیلے ہوئے، بہت سوچ سمجھ کر مہروں کو آگے پیچھے کرتے ہیں۔۔۔ چوتھے امیدوار کا صادق سنجرانی صاحب کی مانند اچانک آسمان سے نزول ہو سکتا ہے یہ تجربہ اب تک کامیاب رہا ہے۔۔۔ قومی اسمبلی کا قائد ایوان جو وزیراعظم کہلائے گا اس کے من مرضی کے چناؤ کے لیے شطرنج کی بساط از سر نو بچھائی جا سکتی ہے۔۔۔ سوائے قارئین ہماری ریاست و سیاست کی لوح محفوظ کے کاتبوں نے پہلے سے کسی کا نام لکھ رکھا ہے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔۔۔ جو امیدوار ظاہری آنکھوں کو دکھائی دیتے ہیں ان کے بارے میں ہی قیاس آرائی کی جا سکتی کہ ہما بالآخر کس کے کاندھے پر بیٹھے گا ۔۔۔

شہباز شریف کا ووٹ بینک بلاشبہ بڑا ہے۔۔۔ اگر

عوام کی اکثریت کی رائے حتمی فیصلے کی طاقت اپنے اندر رکھتی تو اس کے وزیراعظم بننے کی راہ میں کوئی امر مانع نہ تھا۔۔۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس نے ترقیاتی کام بھی کوئی پسند کرے یا نہ کرے سب سے زیادہ کیے ہیں۔۔۔ ان کی چمک دمک دیکھنے والے کو دور سے نظر آجاتی ہے اوپر والوں کو بھی پنجاب کے وزیراعلیٰ کی ذات سے کوئی پر خاش نہیں۔۔۔ مگر مسئلہ اس بیچارے کے ساتھ یہ ہے نواز شریف کا بھائی ہے۔۔۔ یہ اس کا سب سے بڑا عیب گردانا جاتا ہے۔۔۔ بھائی ہونا کسی کو برا نہیں لگتا لیکن راندہ درگاہ نواز کا سیاسی وفادار ہونا کسی طور قابل قبول نہیں۔۔۔ یہاں مشکل یہ آن پڑی ہے کہ ووٹ بینک جو شہباز کی اصل طاقت ہو سکتی ہے فی الواقعہ نواز کا ہے۔۔۔ برطرف شدہ اور عدالتی فیصلے کے نتیجے میں نا اہل قرار دیا جانے والا وزیراعظم والیان ریاست کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہے۔۔۔ کسی طرح کے ظاہری یا خفیہ سمجھوتے کی طرف نہیں آتا۔۔۔ اوپر والوں کے لیے سخت درد سر کا باعث بنا ہوا ہے۔۔۔ ان کے کہنے پر شہباز اپنی راہ الگ کر لیتا ہے تو خدشہ ہے ووٹ بینک کی طاقت نیچے کی جانب لڑھک جائے گی۔۔۔ یار لوگوں کا خیال تھا اگر شہباز ’’راہ راست‘‘ پر آجائے تو اس کے یار دیرینہ چودھری نثار کے ساتھ جوڑی بنا دی جائے گی۔۔۔ جو اگلی اور ہماری ماتحت حکومت بنائے گی اس کی خاطر شہباز کو حدیبیہ کا تحفہ بھی دے دیا گیا مگر اسے شاید مرحوم والد کی نصیحت یاد آ گئی یا بھائی سے بغاوت کی صورت میں ووٹ بینک کے منہ موڑ لینے کا خدشہ محسوس ہوا جو اوپر والوں سے گریز کے راستے پر چل نکلا ہے۔۔۔ یہ رویہ صاحبان ذی وقار کی نظروں میں گستاخی سے کم نہیں لہٰذا آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی جیسے مقدمات کھول دیئے گئے ہیں۔ شہباز بیچارہ کیا کرے۔۔۔ اسی ڈگر پر قائم رہا تو اوپر جانے کے امکانات پچاس فیصد سے بھی کم رہ جائیں گے اگر جمہوری و عوامی پٹری سے نیچے آن گرا تو کثیر تعداد میں ووٹر منہ پھیر لیں گے۔۔۔ جہاں تک ہیرو کھلاڑی کا تعلق ہے تو سب سے زیادہ امیدیں وہی لگائے بیٹھا ہے۔۔۔ والیان ریاست کی چاہت جو حاصل ہے اس پر موصوف پھولے نہیں سماتے۔۔۔ جلسے پر جلسہ کر رہے ہیں۔۔۔ آج اتوا رکو لاہور میں بڑا شو کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔ لیکن گزشتہ ہفتے ایک روڈ شوکا بازار سجاتے داتا دربار اور پرانے لاہور کے مرکز بھاٹی دروازہ گئے۔۔۔ وہاں عوامی پذیرائی کا پول کھل گیا۔۔۔ الٹے پاؤں بھاگے اور اسلام آباد کے عقب میں اپنے نشیمن بن گالا جا کر سانس لیا۔۔۔ ووٹ بینک یقیناًہے مگر دوسرے نمبر پر ہے۔۔۔ نواز لیگ یا شہباز کی پارٹی سے خاصے نچلے درجے کا ۔۔۔ شہباز قابو میں نہ آیا تو اوپر والے یقیناًان کے سر پر دست شفقت رکھنا پسند کریں گے۔۔۔ مگر مشکل یہ آن پڑی ہے اگر اکیلے عمران کو وزارت عظمیٰ اور ان کی تحریک انصاف کو حکومت دے دی جاتی ہے۔۔۔ جبکہ مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کے پاس مقابلے میں کم درجے کی پارلیمانی طاقت نہ ہو گی۔۔۔ وہ عمران کو سانس نہ لینے دیں گے۔۔۔ پھر مسئلہ یہ آن پڑے گا عمران کتنے لوٹوں کو وزارتیں دے گا اور کتنے اپنے اور نرم گرم حالات میں ساتھ دینے والوں کو۔۔۔ اسی سے حکومت کی اندرونی طاقت کو ضربیں لگنا شروع ہو جائیں گی۔۔۔ والیان ریاست کو سوچنا پڑے گا ۔۔۔ اگر کوئی مخلوط حکومت بناتے ہیں تو یہ مشکلیں دو چند ہو جائیں گی۔۔۔ ان تمام باتوں کی جانچ پر کھ کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ ہو گا ۔۔۔ اب آئیے سب سے بڑے ماہر سیاست اور جوڑ توڑ کے بے تاج بادشاہ جناب زرداری کی جانب جیسا کہ سطور بالا میں عرض کیا گیا سینیٹ کے گزشتہ انتخابات میں موصوف نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔۔۔ پارلیمانی گھوڑوں کی ایسی تجارت کی کہ ایوان بالا میں حقیقی نمائندگی نہ ہونے کے باوجود کئی سیٹیں لے آڑے۔۔۔ طرفہ تماشا یہ کہ داد بھی وصول کر لی۔۔۔ اپنا ڈپٹی چیئرمین منتخب کرا لیا۔۔۔ عمران خان کو اپنی چوکھٹ پر سر جھکانے پر مجبو کر دیا۔۔۔ اس سب کے باوجود حقیقت یہ ہے بھٹو کا داماد ان کے تمام اصولوں کو قدموں میں روند کر بھی اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہ ہو گا ۔۔۔ اس لیے کہ اصل ووٹ بینک صرف اندرون سندھ تک محدود ہے۔۔۔ وہ صوبہ سندھ کی حکومت تو ایک مرتبہ پھر ان کی جھولی میں ڈال سکتا ہے پورے ملک کی سرکار نہیں۔۔۔ پنجاب تمام تر کوششوں کے باوجود بنجر زمین ہے۔۔۔یہاں سے پنچھی اپنے لیے بہتر مستقبل کی امیدیں لگائے اور اوپر والوں کے تیور دیکھ کر تحریک انصاف والوں کے آنگن میں جا بیٹھے ہیں ۔۔۔زرداری صاحب کتنے اراکین قومی اسمبلی کے ضمیروں کا سودا کر لیں گے۔۔۔ اگرچہ دولت کی فراوانی ہے۔۔۔ اسی سے امکان پیدا ہوتا ہے والیان ریاست شاید عمران اور زرداری کو مخلوط حکومت بنانے کا کہہ دیں اور کسی کو مجال انکار نہ ہو۔۔۔ اس صورت میں وزیراعظم کس کا ہو گا ۔۔۔ یہ البتہ ٹیڑھی کھیر ہے۔۔۔

اب آیئے آخری اور آنکھوں میں چکاچوندپیدا کر دینے والے امکان کی طرف یعنی پردہ غیب سے کسی صادق سنجرانی کا نئے روپ میں نزول۔۔۔ سینیٹ کا تازہ تجربہ بتاتا ہے حکم ملے گا تو عمران زرداری اور کئی دوسروں کو اسے قائد ایوان کا ووٹ دینے اور وزیراعظم قبول کر لینے میں تامل نہیں ہو گا ۔۔۔ اس کے ماتحت جو بھی کابینہ بنے گی بالیقین بھان متی کا کنبہ ہو گی اور جیسا کہ ماضی کی مثالیں بتاتی ہیں نئی دھماچوکڑی لگے گی۔۔۔ پوری کی پوری پارلیمنٹ کا وجود رجعت قہقری کا نمونہ بن کر رہ جائے گا ۔۔۔ عوام مزید ابہام کا شکار اور زیادہ پریشان ہوں گے دنیا مذاق اڑائے گی۔۔۔ سینیٹ کے چیئرمین کے پاس انتظامی اختیارات نہیں ہوتے۔۔۔ اس کی نسل کا کوئی آدمی وزیراعظم بن گیا اور ظاہر ہے اس کی حکومت کی طنابیں کسی اور کے ہاتھوں میں ہوں گی۔۔۔ روز نت نئے مطالبات کا سامنا کرے گا ۔۔۔ وزارتوں کے بھی اور زیادہ سے زیادہ ترقیاتی فنڈز کے بھی۔۔۔ اوپر والوں کے بندے کا کوئی انتخابی منشور نہ ہو گا ۔۔۔ وزیراعظم مقرر ہونے کے بعد شاید بنائے گا ۔۔۔ پس ایک سے بڑھ کر ایک مطالبہ کیا جائے گا ۔۔۔ چار دن کی چاندنی پھر معلوم نہیں کیسی رات۔۔۔ فطری طور پر عدم استحکام جنم لے گا ۔۔۔ ایک حکومت آئے گی دوسری جائے گی۔۔۔ پچاس کی دہائی کی کہانی دہرائی جائے گی۔۔۔ میں نے من چلے کے سامنے یہ احوال رکھا اس نے کہا تمہیں کس بات کی فکر ہے اپنی زنبیل میں صرف ایک ووٹ کی اوقات رکھتے ہو۔۔۔ جنہوں نے پس پردہ بیٹھ کر حکومت سازی کی ساری بساط بچھانی ہے۔۔۔ وہ تو خوش ہوں گے، مسرور ہوں گے۔۔۔ اصل اقتدار ان ہی کے پاس رہے گا ۔۔۔ تمام بنیادی امور کے فیصلے ان کی جانب سے آئیں گے۔۔۔ پارلیمنٹ کے ایوانوں میں جو تماشگاہ لگے گی۔۔۔ اس سے ان کی سرکار والا تبار کے ماتھے کی شکنوں پر فرق نہیں آئے گا ۔۔۔ انہیں یوں سمجھو یک گونہ اطمینان حاصل ہو گا ۔۔۔ نشانہ کٹھ پتلی سیاست دان بنیں گے۔۔۔ بدنام وہ ہوں گے۔۔۔ ضربیں آئین کو لگیں گی۔۔۔ چوٹیں بی جمہوریت کو برداشت کرنی پڑیں گی۔۔۔ اقتدار اصل حاکموں کا سلامت رہے گا ۔۔۔ ملک خداداد برقرار رہے گا ۔


ای پیپر