سرابوں کا سفر
28 اپریل 2018

کچھ عرصے سے پاکستان میں تحریک انصاف کے علاوہ انصاف کا ہتھوڑا اور کوڑا چہار جانب کار فرما ہے۔ ہر صبح ہسپتالوں ، یونیورسٹیوں، بازاروں، گوالوں ، مرغیوں تک کے حوالے سے شہ سرخیاں فراہمئ انصاف پر مبنی خبریں عوام کے چودہ طبق روشن کئے دے رہی ہیں۔ مخصوص سیاست دانوں پر خاص نظرِ عنایت ہے! تاہم اس دوران ایک حیران کن خبر سامنے آئی کہ موٹر وے پولیس کا ایک اہل کار حصولِ انصاف کے لیے جوتیاں چٹخاتا پھر رہا ہے۔ قانون کی حکمرانی کے اس غلغلے میں یہ چوک کیونکر ممکن ہے؟ تفصیل ملاخطہ فرمایئے۔ ضیاء اللہ سال بھر سے بے روز گار ہوا بیٹھا ہے۔ وجہ یہ بنی کہ اس نے چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو 2016ء میں تیز رفتاری پر جرمانہ کر دیا تھا۔ اس گستاخی کی سزا وہ آج تک بھگت رہا ہے۔ پہلے اسے انضباطی کارروائی کے تحت اس ’جرم‘ پر صوابی سے اٹھا کر گوادر پھینک دیا گیا۔ بعد ازاں تنزلی کر کے پٹرولنگ افسر سے ہیڈ کانسٹیبل بنا دیا گیا۔ انہی حیلوں بہانوں میں اسے شوکاز نوٹس بھیجے گئے اور بالآخر ملازمت چھین لی گئی۔ چیئرمین صاحب جو پاکستان کی سڑکوں کے بادشاہ تھے، انہوں نے دوبارہ 25 منٹ بعد ہی تیز رفتاری کی حد دوسری مرتبہ بھی پار کی۔ دو خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ان کی لاکھوں کروڑوں بھری جیب نے مبلغ 1250 روپے کا جرمانہ بھرا۔ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے افسر دونوں مقامات پر چار تھے۔ تاہم اپنا حق مانگنے اور احتجاج کرنے کے نتیجے میں ضیاء اللہ خصوصی نشانہ بنا۔ یوں بھی چیئرمین صاحب اسے جرمانے کے نتیجے میں وارننگ دے چکے تھے نتیجہ بھگتنے کا ۔ المیہ یہ بھی رہا کہ ضیاء اللہ جو قبل ازیں غیر معمولی کار کردگی کی بنا پر خصوصی ایوارڈ کا مستحق ٹھہرایا گیا تھا، اسے اس اعزاز سے بھی محروم کر دیا گیا۔ اس بنا پر ڈیڑھ لاکھ روپے کے انعام سے بھی اسے ہاتھ دھونے پڑے۔ انصاف کی تلاش میں یہ فرض شناس ، باصلاحیت افسر مارا مارا پھر رہا ہے۔ قانون شکن چیئرمین صاحب ترقی کی منزلیں سر کرتے بجا طور پر ورلڈ بینک، واشنگٹن ڈی سی میں اعلیٰ تر عہدے پر فائز ہوچکے ہیں۔ ( ان کی استحصالی صلاحیتوں کے اعتراف پر انہیں اب غریب مسکین افراد کی بجائے غریب قوموں کے معاشی استحصال کا موقع ملے گا!) جن آئی جی موٹروے نے چیئرمین کی شکایت پر پٹرولنگ افسران کو سزا دی ، وہ اب ایک ایسے ادارے کی سربراہی فرما رہے ہیں جو پولیس اصلاحات کا فریضہ سر انجام دے گا! ( دی نیوز: 29 اپریل ۔ عمر چیمہ ) اصلاحات میں قانون شکنی کے مرتکب حکام بالا کے حفظ مراتب کے آداب سکھانے بھی یقیناً شامل ہوں گے۔ ضیاء اللہ کا انجام دکھانا عبرت پذیری کیلئے بھی نہایت اہم ہے۔ ہمارے ہاں ترقی کی منازل طے کرنے کا فارمولا چیئرمین ہائی وے، آئی جی صاحب سے سیکھا جاسکتا ہے۔ راؤ انوار کو اعلیٰ عدالتوں میں ملنے والا پروٹو کال بھی اسی کی مثال ہے۔ اسلامی نظام حیات اور شریعت تو بہت ہی اعلیٰ وارفع ہے۔ درجِ بالا تماشے تو مغربی ممالک کی سیکو لر ازم میں بھی ممکن نہیں۔ ہمارے ہاں سے نازنخرے اٹھواتا قاتل ریمنڈ ڈیوس امریکہ پہنچ کر چھوٹے موٹے جرائم پر فوراً دھر لیا گیا۔ حالانکہ اس کیلئے براہِ راست اوباما اور ہیلری نے یہاں مداخلت کی تھی! رہی بات شریعت کی تو چہ نسبت خاک رابہ عالم پاک۔ ہمارے ہاں حکمران، مقتدر طبقے پر بجا طور پر اسلام کے نام سے ہی لرزہ طاری ہوتا ہے۔ امریکہ سے بڑھ کر یہ طبقہ اسلامی نظام کے راستے کا کوہِ گراں ہے۔ یہ جانتے ہیں کہ شریعت عوام دوست ، مساوات و عدل کی حکمرانی اور ظلم کی ہر شکل کو مٹا ڈالنے والی
ہوتی ہے۔ انصاف آسان اور فوری حاصل کیا جاتا ہے۔ خلافتِ راشدہ اور عدل ایک ہی سکے کے دو رخ تھے۔ ہمہ نوع افسران بالا کڑے شفاف بلا امتیاز احتساب کی زد میں رہتے تھے۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: ’اے لوگو! میں نے اپنے گورنروں کو تمہارے پاس اس لئے نہیں بھیجا کہ وہ تمہاری چمڑی ادھیڑیں اور مال ہڑپ کر لیں۔ ان کو میں نے بھیجا ہے تاکہ تمہارے آپس کے مظالم کے درمیان حائل ہوں‘۔ امیر المومنینؓ اور ابی بن کعبؓ اپنے ایک فیصلے کے لئے زید بن ثابتؓ کے پاس گئے۔ انہوں نے ( ازراہِ احترام) سید نا عمرؓ کو تکیہ پیش کیا۔ سیدنا عمرؓ اس پر ناراض ہوئے کہ بہ حیثیت قاضی ترجیحی سلوک ان سے کیوں کیا۔ فرمایا: ’’ اے زیدؓ تم نے فیصلے کے آغاز ہی میں غلطی کر دی۔ مجھے میرے فریق کے ساتھ بٹھاؤ‘۔ اور پھر وہ دونوں حضرت زیدؓ کے سامنے برابر بیٹھ گئے۔ حضرت معاویہؓ کے نام خط میں تاکید فرمائی: ’ کمزور و غریب کو قریب رکھو تا کہ اس کی ہمت بندھے اور وہ اپنی بات کر سکے‘۔ دیکھئے یہ سنہرے اصول۔ ایک ذیلی ادارے کا سربراہ نہیں۔۔۔ عمرِ فاروقؓ ۔۔۔ مرادِ رسولؐ، یکے از عشرہ مبشرہ، امیر المومنین۔۔۔ ایک تکیہ بھر عدم مساوات اسی ذات کیلئے برداشت نہیں کرتے۔ انصاف کیلئے کمزور و غریب کیلئے تاکید فرما رہے ہیں۔ یہاں اربوں میں کھیلنے والے غریب و بے نوا اہل کاروں اور عوام پر مبلغ ساڑھے بارہ سو روپے کے عوض بے روز گاری ، فاقہ کشی مسلط کرتے اور نقیب اللہ جیسوں کے بے دردی سے خون بہا کر تحفظ و ترقی پاتے ہیں۔ وہاں سید نا عمرؓ نے قاضی شریح کو اس بنا پر قاضی مقرر کیا کہ انہوں نے سید نا عمرؓ کے خلاف فیصلہ دیا۔ نہ صرف اس فیصلے پر سر جھکایا‘ قبول کیا بلکہ یہ فرما کر کہ فیصلہ اسی طرح دیا جاتا ہے۔ انہیں قاضی بنا دیا! یہاں پچھلا انعام بھی چھین لیا! محنت ، دیانتداری کے عوض خون پسینے کا حق ڈیڑھ لاکھ بھی چھن گیا! پچھلے دنوں عطاء الرحمن صاحب نے اپنے کالم کا عنوان لگایا۔۔۔ ’ اگر قائد اعطم زندہ ہوتے‘۔ عنوان پڑھتے ہی بے ساختہ ردِ عمل یہ تھا۔۔۔ کہ ’ فوراً وفات پا جاتے یا سکتہ طاری ہو جاتا! ‘ اخبارات میں اختیارات کا ہر سطح پر برستا کوڑا عجب گردو غبار کی آندھیاں اٹھا رہا ہے۔ نہیں پتا چل رہا کہ حکومت کس کی ہے۔ اقتدار کن ہاتھوں میں ہے۔ چیف جسٹس صاحب نے فرمایا کہ ’ کس میں ہمت ہے کہ مارشل لاء لگائے۔ 17 جج مارشل لاء لگنے نہ دیں گے‘۔ بالکل بجا فرمایا۔ آپ نے ملک کو مارشل لاء سے مامون کر دیا۔ اب اس کی ضرورت بھی کیا ہے۔ انہیں کیا پڑی خوار ہونے کی جب کام یوں نکل رہا ہے۔ ہینگ لگی نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا۔ صاحب انصاف ( تحریک انصاف نہیں) کے پھریرے چہار جانب لہرا رہے ہیں۔ یہی کافی ہے۔ گوجرانوالہ کے ایک انتخابی امیدوار نے اپنے بینر میں بلا وجہ ہی حقیقت پر سے پردہ اٹھا دیا۔ بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی۔ موصوف نے اپنی تصویر کے ساتھ عمران خان، چیف جسٹس اور آرمی چیف کی تصاویر بھی لگا دیں۔ (نئی بات 26 اپریل ) منظر نامہ واضح ہو گیا۔ لوگ بلا وجہ کنفیوز ہوئے پھر رہے تھے۔ اُدھر امریکہ کو ٹرمپی جمہوریت تو میسر ہے مگر ان کے ہاں آئے روز اندھا دھند فائرنگ کے واقعات نے سپر پاور کے چھکے چھڑا رکھے ہیں۔ ایک دن میں ملک بھر میں ایسے 74 واقعات میں 22 افراد ہلاک اور 54 زخمی ہوگئے۔ ہر سال اب ہزاروں افراد ایسے افراد کے ہاتھوں مر رہے ہیں۔ (جو ان کے لیڈر دنیا میں کر رہے ہیں، عوام بھی وہی کر رہے ہیں!)۔ مگر یہ قاتل ، دہشت گرد نہیں کہلاتے۔ کیونکہ نہ تو یہ مسلمان ہوتے ہیں نہ ہی ان کی ڈاڑھیاں یا شرعی حلیے ہوتے ہیں۔ یہ صرف امریکی قاتل یا نفسیاتی مریض ہوتے ہیں۔ ادھر اسرائیل میں 5-10 سال کے بچوں کو اسلحہ سکھانے اور جنگی شوق پیدا کرنے کی مہم جاری و ساری ہے۔ ( گریٹر اسرائیل، ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی تیاری دیکھئے!) ادھر مسلمان ؟ سعودی عرب میں رنگا رنگ تفریحات پر مبنی پورا شہر (Entertainment City) بسانے کی تیاری ہے۔ بچہ بچہ ، ہر ہر عورت ناچ گانے پر قادر ہوسکے۔ پاکستان میں بچوں کیلئے کھلونا پستول کی بھی ممانعت ہے۔ دہشت گردی پھلتی پھولتی ہے! تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی! اسرائیلی بچہ ’ مجاہد فی سبیل الدجال‘ بن کھڑا ہونے کو ہے۔ ادھر ہم ساری احادیث سے صرفِ نظر کئے۔ قرآن کی بڑی بڑی سورتوں کے اسباق بھلائے ایسے پُر عزم دشمنوں کے مقابلے میں امن کے راگ الاپتے بیانیے جاری کر رہے ہیں! دکھ دینے والی خبروں کے بیچ کچھ بات ذائقہ بدلنے کو مغرب کے خوش باش دیوانوں کی بھی ہو جائے۔ برطانوی ارب پتی عورت نے اپنے ’ ٹیڈی بیئر‘ ( کھلونا بھالو) کی شادی رچانے کو مصر کا مہنگا ترین ہوٹل بک کروایا۔ دنیا بھر سے مہمان اس لئے مصر آئے اور یوں لاکھوں ڈالر کے خرچ سے یہ شادی ہوئی۔ ‘ دلہا دلہن‘ بنے ٹیڈی بیئروں کی تصویر جاری کی گئی۔ اپنی شادی کی راحت سے محروم ، بدلتی پارٹنر شپ کے ہاتھوں بیزار اب شادی کی خوشیاں یوں سمیٹیں گی ! یہ ہے معراج مغربی تہذیب میں آزادئ نسواں کی۔ کھانا گرم کرنے کے جھنجٹ سے آزاد! ہماری آزادی زدہ عورتوں کی طرح یہ بینر بھی انہیں اٹھا کر مارچ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ’ زہریلی مردانگی صحت کیلئے مضر ہے‘۔ ( مردانگی اب بھالو کی بھاگئی ہے۔) پر سکون شوہر بیوی، بچوں سے مہکتے خاندانی نظام اجاڑ کر مال و دولت کھلونوں کی شادی میں لٹانے تک کا یہ سفر دلپذیر ہے؟ اے وائے بہارے اگر ایں است بہارے ۔۔۔ ! لق و دق صحراؤں میں سرابوں کا سفر ۔۔ اسلام بیزاری کے ہاتھوں۔


ای پیپر