دنیا میں پا کستا ن کا تجا ر تی مقا م
28 اپریل 2018 2018-04-28

کر ہِ ار ض پر مو جو د 53مما لک ایسے ہیں جو دو لتِ مشتر کہ کے ممبر ا ن میں شا مل ہیں۔ یہ مما لک جو یو ر پ، ا یشیا اور ا فر یقہ کے بر ا عظمو ں سے تعلق ر کھتے ہیں، دنیا کی آ با دی کا ایک تہا ئی حصہ ہیں۔بڑے ممالک میں برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ کے علاوہ ترقی پذیر ممالک بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش بھی اس تنظیم کا حصہ ہیں۔ دولت مشترکہ میں آبادی کے لحاظ سے بھارت کے بعد پاکستان کا نمبر آتا ہے۔حا لیہ سا ل یعنی 2018ء کے او ا ئل میں برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے دولت مشترکہ کے سربراہ اجلاس کے اختتا م پر پریس کانفرنس میں خطاب میں اجلاس کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ دولت مشترکہ کے سربراہان مملکت نے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق کیا ہے جس سے 2030ء تک دولت مشترکہ ممالک کی باہمی تجارت کو 2 کھرب ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔ اس امر سے انکا ر کر نا کسی کے لیے ممکن نہیں کہ اس وقت دنیا بھر میں بڑی طاقتوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ تجارت کو فروغ دینے اور معاشی فوائد سمیٹنے کے لیے دوڑ لگی ہوئی ہے۔ اس حقیقت کا سب کو ادراک ہوچکا ہے کہ معاشی میدان میں ترقی کے بغیر کوئی بھی ملک دنیا میں اہم مقام حاصل نہیں کرسکتا اور عالمی سطح پر ہونے والے فیصلوں میں بھی اس کا کوئی کردار تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی طاقتوں نے معاشی میدان میں اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے سائنس و ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا اور آج ٹیکنالوجی کے کاروبار سے وہ سالانہ کھربوں ڈالر کمارہے ہیں۔ تسلیم کر نا پڑتا ہے کہ ہما رے خطہ میں بھا رت اور یہا ں تک کہ بنگلہ دیش بھی معا شی تر قی کے کسی بھی منا سب مو قع سے فا ئد ہ ا ٹھا نے سے نہیں چو کتے۔ یورپی ممالک نے تجارت کے فروغ کے لیے باہمی رنجشوں اور اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا اور باہمی آمد و رفت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے موثرقوانین تشکیل دیئے۔ انہوں نے دوسرے ممالک تک اپنے تجارتی مال کی بآسانی رسائی کے لیے یورپی یونین، دولت مشترکہ سمیت مختلف ناموں سے تنظیمیں تشکیل دیں، سائنس و ٹیکنالوجی اور معاشی میدان میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے مختلف مقاصد اور اہداف کا تعین کیا اور ان کے حصول کے لیے دن رات ایک کردیا۔ اب برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسامے کا دولت مشترکہ ممالک کی باہمی تجارت کو 2 کھرب ڈالر تک بڑھانے کا اعلان بھی حقیقت میں یورپی ممالک کی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ دولت مشترکہ کی باہمی تجارت میں چین اور بھارت بڑی تیزی سے اپنا مقام بنارہے ہیں۔ ہما رے لیے سو چنے و ا لی بات یہ ہے کہ کھربوں ڈالر کی اس تجارت میں پاکستان کا کیا مقام اور کتنا حصہ ہے۔ یہ حقیقت انتہائی افسوسناک ہے کہ پاکستان اپنی ناقص پالیسیوں اور حکومتوں کی نااہلی کے باعث عالمی منڈی میں کوئی اہم مقام حاصل نہیں کرسکا اور آج صورت حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ درآمدات اور برآمدات کے میدان میں اسے بڑے پیمانے پر تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ بے شک ما ضی کی حکو متو ں نے بھی ملکی و غیر ملکی قرضوں کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں ، تا ہم موجودہ حکومت ان میں سب سے آگے ہے، جس نے ساڑھے چار سال میں قرضوں کے بوجھ میں ریکارڈ 12 ہزار 500 ارب کا اضافہ کیا ہے۔ با ر با ر کہنا پڑ تا ہے کہ ہم نے جو ترقی بھی کی ہے وہ قرضے لے کر کی۔ کھلم کھلا آ نکھو ں میں دھو ل جھو نکنے کی غر ض سے سا بق وز یرِ خز ا نہ غلا م اسحق ڈ ار عو ا م کو ا عد ا دو شما ر میں ا لجھی ہو ئی معیشت کی کچھ ایسی تفا صیل پیش کیا کرتے جس کا حقیقت سے دور دور کا بھی واسطہ نہ ہوا کرتا۔ ملکی و غیر ملکی قرضوں سے متعلق رپو ر ٹ کے مطا بق قرضوں کا کل حجم 26 ہزار 814 ارب روپے ہوچکا ہے۔ سٹیٹ بینک کی دستاویز سے واضح ہوتا ہے کہ ملکی قرضے 15 ہزار 437 ارب روپے ہیں جبکہ غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 9 ہزار 816 ارب روپے ہوچکا ہے ۔
تا ہم اب پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی تجارت بڑھانے کا فیصلہ کرکے مثبت قدم اٹھایا ہے۔ پاکستانی حکام نے افغان حکام کو ملاقات کے دوران بتایا کہ 2010-11ء کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 2 ارب 40 کروڑ ڈالر تک تھا جو اب کم ہوکر صرف 80 کروڑ ڈالر تک رہ گیا ہے۔ ادھرامریکی
دارالحکومت واشنگٹن میں افغان وزیر خزانہ اکلیل احمد حکیمی اور پاکستان کے مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاکستان اور افغانستان دو طرفہ تجارتی مسائل حل کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ اس سلسلے میں ورکنگ گروپ بنایا جائے گا جبکہ آئندہ ماہ کے آغاز میں دونوں ممالک اس حوالے سے تجاویز کو حتمی شکل دیں گے ۔ پاکستان ابھی تک لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ہی حل نہیں کرسکا۔ دوسری جانب پانی کا تیزی سے بڑھتا ہوا بحران صنعتی، زرعی اور معاشی میدان کے لیے نئے چیلنجز لے کر آرہا ہے۔ ترقی کے بلند گراف دعووں اور بیانات میں تو دکھائی دیتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کے فروغ اور برآمدات بڑھانے کے لیے کوئی موثر پالیسی اور منصوبہ سامنے نہیں آرہا، کوئی ایسی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جس سے یہ امید بندھے کہ پاکستان دولت مشترکہ ممالک کی باہمی تجارت میں زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد سمیٹ سکے گا۔ چین اور دیگر ممالک پاکستان کی داخلی تجارتی منڈیوں سے تو فائدے اٹھارہے ہیں مگر پاکستان ان ممالک کی تجارتی منڈیوں میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ صر ف چین کے سا تھ جا ری تجا ر ت کا اگر ہم جا ئز ہ لیں تو یہ تلخ حقیقت سا منے آ تی ہے کہ عملاً پا کستا ن چین کی تجا ر تی منڈی میں تبد یل ہو چکا ہے۔ گو یا چین سے ہما ری در آ مد ا ت کا حجم مسلسل تیز ی سے بڑھتا چلا جا رہا ہے، جبکہ ہماری چین کو بر آ مدا ت آ ٹے میں نمک کے بر ا بر ہیں۔ یہ ایک تشو یش نا ک صو رتِ حا ل ہے۔ اوپر سے چینی عوا م پا کستا ن میں جا ئید ا دیں خر ید نے میں بے حد زیا د ہ دلچسپی کا مظا ہر ہ کر رہے ہیں۔ لہٰذا ضر و رت اس امر کی ہے کہ حکو مت اس سلسلے میں سخت سے سخت پا لیسیاں وضع کرے۔ ہمیں اپنی بر آ مد ا ت کو بڑھا نے کی غر ض سے اپنی عر صہِ درا ز سے بند پڑی فیکٹر یوں کو دو با رہ سے چلنے کے قا بل بنا نا ہو گا۔ فیکٹر یو ں کو چلا نے کے لیے جس تو ا نا ئی کی ضر و رت ہو تی ہے، اس کی کمی کو دور کرنے کے لیے بجلی اور قد رتی گیس کی لو ڈ شیڈ نگ کو ختم کرنے کے لیے سنجید گی اور خلو صِ نیت سے کا م کر نا ہو گا۔ خوشحالی اور ترقی کے مواقع ابھی بھی مو جو د ہیں، لیکن دولت مشترکہ ممالک کی تجارتی منڈیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے پہلے اپنی حا لت در ست کرنا ہو گی۔ وگر نہ کہیں یہ نہ ہو کہ پا کستا ن دو لتِ مشتر کہ کے مما لک کی محض ما ل فر و خت کر نے وا لی تجا ر تی منڈی بن کے رہ جائے۔


ای پیپر