گالیاں کھاکے بے مزہ ۔۔۔
28 اپریل 2018

دوستو،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں لندن کے ویسٹ منسٹر سینٹر ہال میں ’’بھارت کی بات سب کے ساتھ ‘‘ پروگرام سے خطاب کیا۔پروگرام کے دوران جب ایک شخص نے اْن کی صحت کا راز جاننے کے بارے میں سوال کیا تو مودی نے ازراہ تفنن کہا کہ پچھلے 20سال سے میں روزانہ ’’2 کلو گالیاں ‘‘کھارہا ہوں اور یہی میری صحت کا راز ہے۔۔۔ اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ گالیاں تو تعداد کے حساب سے دی جاتی ہیں، مودی سرکار تو وزن کے حساب سے گالیاں کھا رہے ہیں، یعنی بالکل وہ بات ہوگئی جب ہم نے آم والے سے پوچھا، بھائی آم کیسے لگائے؟ کہنے لگا۔۔۔ جوڑ کے۔۔۔ ہم اس کی قابلیت پہ حیران رہ گئے، سوچاشاید ہمارا سوال اس کی سمجھ نہیں آیااس لئے دوبارہ پوچھا، ارے بھئی کیسے دے رہے ہو؟۔ وہ بولا۔۔۔ تول کے۔۔۔ ویسے سوچنے کی بات ہے اور ہم بالکل ٹھیک سوچ رہے ہیں کہ مودی دنیا کا واحد وزیراعظم ہے جوگالیاں کھا کر بھی فخریہ انداز میں بتارہا ہے۔۔۔ ہمارے یہاں تو گالی سنتے ہی چہرے پہ پہلے لالی آتی ہے، پھر گالی دینے والے کو معاف نہیں کیا جاتا۔۔۔
کھانے پہ یاد آیا، بیگم نے کہا تھا،کچھ لائٹ کھانے کا موڈ ہورہا ہے، شوہرصاحب شام کو گھر لوٹے تو شاپرمیں ’’بلب‘‘ ڈال کے لے گئے،جس کے بعد مارتوپڑی ہی پڑی، لیکن گالیاں تو رانا صاحب کو پڑیں، جو اپنے ہمراہ موم بتی لے گئے تھے۔۔۔ اور گالیاں تو اس بیچارے کو بھی پڑی تھیں، جب ایک مسجد میں جمعہ کے خطبہ کے دوران ایک نوجوان اچانک گرجدار آواز میں بولا، ارے واہ، مسجد میں بھی وائی فائی چل رہا ہے، جملہ ختم ہوا نہیں کہ دوسرے نوجوان کی آواز آئی، مولوی صاحب ذرا پاس ورڈ تو بتائیں۔۔۔ مولوی صاحب نے مائیک پہ کہا۔۔۔ استغفراللہ۔۔۔ مسجد میں پھر پن ڈراپ سائلنس کا سماں تھا،سب کی گردنیں جھکی ہوئی تھیں،شاید سب موبائل فونز میں مصروف ہوگئے تھے۔۔۔ تھوڑی دیر بعد پھر مجمع سے ایک آواز آئی۔۔۔ مولوی صاحب، استغفراللہ میں ’’اے‘‘ سمال لیٹر والا ہوگا یا کیپٹل والا؟؟۔۔۔ جس کے بعد پوچھنے والے کا جو حال ہواہوگاپوچھیں نہ توبہتر ہی ہے۔۔۔ فرض نماز ختم ہوئی تو مولوی صاحب خشوع و خضوع سے دعا کرارہے تھے۔۔۔ یااللہ جس نے ملک لُوٹا،اسے تباہ و برباد کردے۔۔۔ ایک پٹواری اٹھا اور کہنے لگا، مولوی صاحب ، ہن مسجداں وچ سیاست شروع ہوگئی اے۔۔۔
اردو صحافت میں بھی جب مزاحیہ کالم لکھنے کا آغاز ہوا تو اس میں طنز اور مزاح کا استعمال ادبی روایت سے ہٹ کر کرنا پڑا، یہاں ادبی زبان سے زیادہ عوام کے فہم کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے کیونکہ ادب پڑھے لکھے افراد کے لئے تخلیق ہوتا ہے اور کالم عام فہم معمولی سے معمولی پڑھے لکھے افراد کے لئے لکھنا پڑتا ہے۔ معمولی پڑھا لکھا آدمی جب کسی مزاحیہ یا فکاہیہ کالم کو پڑھتا ہے تو اپنی سوجھ بوجھ کے مطابق اس سے لطف اٹھاتا ہے، لیکن جو’’باریک‘ ‘ باتوں کو سمجھ نہیں پاتے، دل کھول کے کالم نگار کو گالیوں سے نوازتے ہیں، اور کالم نگار بے مزہ ہوئے بغیر پھر اگلا کالم داغ دیتا ہے۔۔۔ استاد نے جب اردوکی کلاس میں طلبا سے اچانک سوال کیاکہ ’’گالی ‘‘ کسے کہتے ہیں؟؟ ۔۔۔ ایک شاگرد کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔۔۔ ’’ اِنتہائی غْصَّے کی حالت میں جِسمانی طور پر تَشَدّْد کرنے کے بجائے زْبانی طور سے کی جانے والی پْرتشدد لفظی کارروائی کے لیے مْنتَخِب الفاظِ غَلِیظَہ , اندازِ بَسِیطَہ , لہجۂ کَرِیہہ اور اَثرَاتِ سَفِیہہ کے مَجمْوعے کا اِستعمال ، جِس کی اَدَائیگی کے بعد اِطمینان وسْکْون کی نَاقَابِلِ بَیَان کَیفِیَّت سے قَلب بِہرَہ وَر ہو جاتا ہے اور اِس طَرح مْقَابِل جِسمَانی تَشَدّد کی بہ نِسبَت زِیَادَہ مَجرْوح اور شِکَستَہ ہو جاتا ہے اْسے گالی کہتے ہیں۔۔۔‘‘۔اْستَاد صَاحَب غَش کھا کر کْرسی سے نِیچے گِر گئے۔۔۔ بقولِ مشتاق احمد یوسفی صاحب، ’’گنتی، گالی اور گندہ لطیفہ اپنی مادری زبان میں ہی لطف دیتے ہیں‘‘۔۔۔ رہی پنجابی کی بات تو اس پر میاں محمد طفیل سابق امیرِ جماعت ‘‘اسلامی’’ کیا خوب فرما گئے ہیں کہ ، پنجابی فقط گالیوں کی زبان ہے۔ اس کی مزید تائید منٹو کے ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ سے ہو سکتی ہے۔۔۔
پہلے کبھی غصّہ قومی غیرت بن جاتا تو قومیں اپنی تاریخ بنادیتی یا جغرافیہ بڑھادیتی تھیں۔ اب تو قومی غیرت یا قومی مسائل پر ہمیں غصہ بھی نہیں آتا۔زیادہ سے زیادہ کاتب تقدیر کو کوس کراپنی شخصیت کو جلاب دے کر اپنے ذہن وبدن ہلکا کرلیتے ہیں۔ اب تو غصّہ گھریلو صنعت کی طرح ایک محدود سرگرمی ہوگئی ہے۔علامہ اقبال اپنی ڈائری ’’بکھرے خیالات ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ ’’افراد کا ضبطِ نفس خاندان بناتا ہے اور قوموں کا ضبطِ نفس ملکوں کی سرحدوں کو وسیع کرتا ہے‘‘۔۔۔
ہم نے ایک بار ایک سنگاڑہ صفت (دکن کا ایک نوکیلاپھل) شوہر کو دیکھا جو چبھتی ہوئی گالیاں فضاؤں میں اچھال کر فضائی آلودگی پھیلارہا تھا۔ گالیوں کا موضوع تھا، عورت کومرد کی ڈانٹ پر آہستہ رونا چاہئے ورنہ عورت کی آواز، شرافت کی چلمن سے شقیں ہٹا کر سسکیاں لیتے ہوئے باہر تاک جھانک کرتی ہے۔ غالباً اسے ہی کہتے ہیں’’ مردانہ کمزوری ‘‘۔ایک خونخوار شوہر نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا کہ بعض فقہانے اسلام میں حسبِ ضرورت یامقدار بھر بیوی کی کْٹائی اور پٹائی کی گنجائش نکال لی ہے۔۔۔ گالیوں کا موسم ابھی نہیں آیا بلکہ یہ تو ایک سدابہار موسم ہے، جو پہلے کا شروع ہوا ہے۔ یہ کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ اس معاشرے کا المیہ ہے۔ یہ ’’مولا جٹ‘‘ کے انداز میں تقریریں بہت پہلے سے چلی آ رہی ہیں۔ گالیاں دینے کے بھی آداب ہوتے ہیں، واقعہ مشہور ہے جو جامعہ کراچی میں اردو کے ایک محترم استاد سناتے تھے کہ مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب کے مخالف انہیں خطوط میں گالیاں لکھتے رہتے تھے۔ ایک بار کسی مخالف نے انہیں ماں کی گالی لکھ دی۔ مرزا اسے پڑھ کر ہنسے اور بولے، اس بیوقوف کو گالی دینے کا بھی شعور نہیں ۔ بوڑھے اور ادھیڑ عمر شخص کو بیٹی کی گالی دینی چاہئیے تاکہ اسے غیرت آئے۔ جوان آدمی کو ہمیشہ جورو کی گالی دو کہ اسے جورو سے بہت لگاؤ ہوتا ہے اور بچے کوہمیشہ ماں کی گالی دیتے ہیں کیونکہ وہ سب سے زیادہ ماں سے مانوس ہوتا ہے۔۔۔ ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں کہ ۔۔۔ اردو کی گالیاں فاعل و مفعول کے بغیر لا معنی ہوتی ہیں ،الا یہ کہ یہ امور وضاحت طلب نہ ہوں۔ انگریزی زبان کی بہت سی زود زبان گالیاں اردو میں بلا فاعل بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں مثلا انگریزی کی ‘ف’ کی گالی اردو میں سراسر بے معنی ہے۔ اسی طرح محرمات کی گالی جو اردو کی گالیوں کی بنیادی اصطلاحات میں سے ہے انگریزی زبان میں نہایت بودی ٹھہرے گی۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔ ریت کے ذروں کو ہوائیں اڑاتی پھرتی ہے مگر ریت کے ذرے جب مل کر پہاڑ بن جائیں تو کوئی طوفان بھی ان کو ہلانے میں کامیاب نہیں ہوتا۔۔۔ یہ بات ہمیں مل جل کر رہنے کا سبق دیتی ہے۔۔۔


ای پیپر