تھوڑا صبر اور تھوڑی سنجیدگی !
28 اپریل 2018

احتیاجات اور ضروریات بڑھتے ہیں تو ذرائع پیداوار بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ پھر مزاج اور سوچ کے زاویے بھی بدل جاتے ہیں! یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی کہ دنیا کے اندر تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں کوئی کس اعتبار سے اور کوئی کس لحاظ سے تبدیلی کے عمل سے دو چار ہے ۔ وجہ اس کی یہی ہے کہ انسانی نفسیات یا انسانی کیفیت ایک ہی رخ پر قائم نہیں رہتی اس میں مدو جزر آتے رہتے ہیں۔ !
وطن عزیز کی سیاسیات سماجیات اور معاشیات کو دیکھا جائے تو وہ بھی تبدیلی کی زد میں ہیں کیونکہ ستر اکتہر برس کے بعد اب نہ تو عوام کا روایتی طرز بودو باش برقرار رہ سکتا ہے اور نہ ہی معاشی و سماجی ڈھانچہ موجود حالت میں کھڑا رہ سکتا ہے۔ لہٰذا یہ جو تینوں شعبوں میں ایک طغیانی آئی ہوئی ہے وہ حیران کن نہیں اسے آنا ہی تھا لہٰذا وہ آرہی ہے مگر کچھ لوگ اسے قبل از وقت ، غیر متوقع اور غیر ضروری تصور کر رہے ہیں۔ اور نہیں سوچتے کہ عوام مسلسل ایک ہی انداز سے زندگی بسر کر رہے ہیں تو وہ بیزار ہو گئے ہیں ان کی بیزاری تو اس لئے بھی ہوگی کہ انہیں زندگی کے لوازمات جو انہیں درکار ہیں پورے اب تک میسر نہیں آئے۔ کیونکہ ان پر ایک طرح کے حکمران مسلط رہے ہیں یعنی کبھی فوجی آمر تو
کبھی روایتی سیاستدان حکمران جنہوں نے عوامی خدمت کم اور ذاتی بھلائی و بہتری کے لئے زیادہ سوچ بچار کی اس دوران عوام کے مسائل بڑھتے گئے ان میں پیچیدگیاں پیدا ہوتی گئیں اور پھر انہیں حل کرنا انتہائی مشکل ہوگیا۔ لہٰذا آج عوام بلبلا رہے ہیں۔ ایک طرف پانی اور دوسری جانب تعلیم و انصاف کا فقدان ہے مگر ان پر قابو پانے کے لئے مطلوبہ رقوم اور حوصلہ ناپید ہیں اور حکمران طبقہ ہے کہ عوام کو محض تسلیاں دیتا اور اپنے خزانے بھرتا چلا جا رہا ہے جبکہ اس وقت ضروتیں بے حد بڑھ چکی ہیں کیونکہ وسائل سکڑ گئے ہیں اور آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے تناسب سے کبھی بھی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ اس کی ایک اہم وجہ شاید یہ بھی ہے کہ حکومتیں اپنے پاؤں اقتدار کے جبوترے پر ٹھیک طور سے نہیں جماسکیں۔ کیونکہ ہماری معیشت اور سیاست دونوں ہی غیر ملکی مالیاتی اداروں کی مرہون رہی ہیں پھر یہ بات بھی ماننا پڑے گی کہ یہاں کوئی بھی حکمران آیا تو اس کو واشنگٹن کی اشیر باد ضرور حاصل تھی۔ اس صورت میں وہی کچھ ہوا جو مالیاتی ادارے اور واشنگٹن چاہتے تھے۔ اب جبکہ خزانہ خالی سماجی اور سیاسی نظام مضطرب ہو چکا ہے تو ہمیں سمجھ آئی کہ روایتی انداز زیست اور انتظامی طریق میں تھوڑی تبدیلی لانا ہوگی۔ لہٰذا کہا جا رہا ہے کہ ہم خود بدلنے جا رہے ہیں پرانی دوستیاں بھی بدل دینا چاہتے ہیں اور دشمنیاں بھی ۔ لہٰذا آج واشنگٹن پہلے کی طرح اثر انداز نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ہم سابق سوویت یونین سے فاصلے پر کھڑے ہیں وہ ہمارے قریب آگیا ہے ہمارے ساتھ مختلف النوع معاہدے کر رہا ہے ۔ سی پیک میں بھی شامل ہو رہا ہے علاوہ ازیں چین روس پاکستان اور ایران ایک بلاک میں آرہے ہیں انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ اگر اس خطے میں مغربی طاقتوں کے اثرو نفوذ میں کمی نہ لائی تو یہاں بھوک ننگ، بیماری اور جہالت عام ہو جائیں گے اور انہیں کنٹرول کرنا ناممکن ہو گا۔ پھر کیا منظر ہوگا۔ اس کا اندازہ چشم تصور سے بخوبی کیا جاسکتا ہے لہٰذا ہمارے لئے ایک نئے دور میں داخل ہونا لازمی تھا۔ سو اہل دماغ و خرد نے خوب غور و فکر کے بعد ملک و قوم کے مفاد میں تجاوید پیش کر دیں۔ لہٰذا آج کی صورت حال کو اسی تناظر میں دیکھا جائے کہ اس میں کوئی نیا پن نہیں آتا تو حالات کسی اور جانب کا رخ اختیار کر سکتے تھے لہٰذا جو ہوا چل پڑی ہے وہ ہر شاخ کو ہلائے گی۔ جو پتے زرد ہوں گے وہ نیچے آجائیں گے لہٰذا کوئی تشویش والی بات نہیں کہ جب پوری دنیا کے معاشی سماجی اور سیاسی نظاموں میں ہلچل مچ گئی ہے تو ادھر بھی کچھ لرزش پیدا ہوگی ہی ۔؟
عرض ہے تو اتنی کہ اگر نااہلیاں ہو رہی ہیں یا مزید ہونے جا رہی ہیں تو اس پر طیش میں آنا اور قہقہے بلند کرنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ یہ ایک ارتقائی اصول ہے کہ جس میں پرانے مناظر دھندلے ہو جاتے ہیں اور نئے جنم لے لیتے ہیں۔ البتہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمیں از خود ہی ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ہوگا تا کہ جو خرابیاں اور خامیاں ہمارے نظام حیات میں موجود ہیں دور کر کے وطن عزیز کو مضبوط ، توانا اور خوشحال بنایا جاسکے۔ مگر افسوس ابھی تک رضا کارانہ طور سے کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ لہٰذا مجبوراً قانون کو اپنے فرض کی آنکھ کھولنا پڑی ہے۔ جس پر ایک دھڑے کا شدید رد عمل سامنے آرہا ہے جو کہ جائز نہیں۔ اکتہر برس میں ہمیں کہاہونا چاہئے تھا ہماری ترقی کا گراف کتنا اوپر ہونا چاہئے اور ہمارے تخیل کی پرواز کتنی بلند ہونا چاہئے تھی اس بارے غور کرنا ہے مگر نہیں خواجہ آصف کو کیوں نااہل کیا گیا۔ اس پہلو پر ہی ساری توانائیاں صرف کی جا رہی ہیں۔ ہاں اگر خواجہ آصف نے قومی پالیسیوں میں کوئی کمال کر رکھا ہے تو یقیناًدردمندی کی ایک لہر جسم میں ابھرنی چاہئے انہوں نے اگر گونگلوؤں سے مٹی ہی جھاری ہے اور اپنی ذمہ داری کو پورا نہیں کیا تو پھر خاموشی اختیار کر لینی چاہئے مگر مٹھائیاں بانٹنا کچھ قابل فخر بات نہیں۔ کل وہ لوگ بھی نااہل ہوں گے جو بڑے پوتر بنے ہوئے ہیں۔ جہانگیر ترین نااہل ہو بھی چکے ہیں ابھی تو اور نے بھی ’’ نااہل کلب‘‘ میں شامل ہونا ہے۔ لہٰذا تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کے مصداق آگے کیا ہونے جا رہا ہے اس پر نظر رکھنی چاہئے۔ اور جو ہونے جا رہا ہے وہ سو فیصد ملکی بہتری میں ہوگا کیونکہ اوپر میں نے بیان کیا ہے کہ مسائل و مشکلات کے پیش نظر اس نظام حیات اور طرز حکمرانی کو ایک ہی رخ پر نہیں چلنا اسے اپنا راستہ بدلنا ہے سو وہ سلسلہ چل نکلا ہے اس پر تو اظہار مسرت ہونا چاہئے کہ وہ اب تک انصاف سے محروم چلے آرہے ہیں ان کی غربت مفلسی اور بے چارگی ختم نہیں ہوسکے۔ ان کے سامنے ناجائز منافع خور لینڈ مافیا، قبضہ گروپ کمیشن مافیا رشوت خور سینہ زور دندناتے پھر رہے ہیں اور ان کی سوچوں اور جسموں پر حاوی ہیں۔ انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ ان لوگوں کے لئے اپنا خون جلائیں نفرتیں پالیں اور رشتے داریاں ختم کریں۔ یہ لوگ فقط اپنے مفادات کو عزیز سمجھتے ہیں اور آپس میں ملتے
جلتے ہیں۔ اور ایک اہم بات یہ کہ ایک دوسرے کے کارباروں کا خیال بھی رکھتے ہیں لہٰذا کوشش یہ کی جائے کہ اختلافات ‘ اختلافات ہی رہیں کسی عداوت اور کسی دشمنی میں نہ بدلیں۔ تحمل اور بردباری کا دامن ہاتھ سے کسی بھی موقع پر نہ چھوٹے مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ گالیاں دی جا رہی ہیں اور الزام تراشیاں کی جا رہی ہیں کیا اس سے کوئی فیصلہ واپس ہو جائے گا۔ بدل دیا جائے گا نہیں کبھی کمان سے نکلا ہوا تیر واپس آسکتا ہے۔ لہٰذا خواجہ آصف ہو یا کوئی اور دوسرا اس کی خاطر ماحول کو کشیدہ کرنا مناسب نہیں۔ سوشل میڈیا پر جن حضرات و خواتین کے ریمارکس نے صورت حال کو تلخ بنا رکھا ہے وہ بھی سوچیں کہ کسی کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہاں تو ان روایتی حکمرانوں اور سیاستدانوں نے بڑے بڑے قابل اور اہل کا راستہ روکا ہوا ہے اور اس ملک کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ رکھا ہے جو جیسے چاہیں اس کے ساتھ سلوک کریں عوام جائیں بھاڑ میں لہٰذا یہ جو کچھ بدل رہا ہے عوام کے حق میں ہے اور اگر یہ احتساب اور بدلاؤ جاری رہتا ہے تو ایسی کوئی بات نہیں کہ کوئی خوشگوار منظر نہ ابھرے بس ذرا صبر اور سنجیدگی کی ضرورت ہے۔


ای پیپر