سفینہ چاہیے اس بحر بے کراں کے لیے
28 اپریل 2018

تعلیم کا منکر وحدانیت اور اس کی سچائیوں سے کیسے واقف ہو سکتا ہے۔وہ پہلا لفظ جو خاتم النبیین محمد عربیؐ پر وحی کی صورت میں اُترا تھا وہ ’’اقرا‘‘ تھا ۔پڑھ ،،،پڑھ اپنے رب کے نام سے ۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے، ایک ان پڑھ انسان شعور کی وہ منزلیں جن کا اختتام انا اللہ واناالیہ راجعون پر ہونا ہے طے کر سکے۔تعلیم ہر ذی روح کا بنیادی حق ہے ۔تعلیم فرد کی مکمل ذہنی، جسمانی ،اخلاقی،روحانی اور جذباتی قوتوں کی مربوط اور مسلسل نشوونما اور توسیع کا نام ہے ۔
کسی بھی ملک کے نظامِ تعلیم کی یہ خوبی ہونی چاہیے کہ وہ اُس قوم کے مخصوص مذہبی،قومی اور ملی تقاضوں اور مزاج کے عین مطابق ہو۔تعلیم ہی وہ عنصر ہے جو کسی بھی قوم کے بحر بے کراں کے لیے سفینے کا کام دیتی ہے۔وطن عزیز کہنے کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے جانا چاہتا ہے،اسلام کہ جس کی بنیاد ہی اقرا پر رکھی گئی مگر تعلیمی میدان میں ہم کہیں بھی کوئی بھی نمایا ں مقام نہیں رکھتے۔وہ تعلیمی پالیسیاں جو انگریز جاتے ہوئے وراثت میں دے گئے ہم آج تک ان پر عمل پیرا ہیں۔ دوسری جانب ہر کلاس کا اپنا نظام تعلیم ہے ۔ جس ملک کا نظام تعلیم ہی مساوی بنیادوں پر استوار نہ ہو وہاں
معاشرتی طور پر یکسانیت کا تصور عبث ہے۔
بنیادی تعلیم کا نعرہ تو لگایا جاتا ہے مگر عملی طور پر یہ کہاں ملتی ہے کچھ خبر نہیں۔تعلیمی نظام قوموں کے مزاج اور مقاصد کا آئینہ دار ہوتی ہے ، ہر قوم اپنے نظامِ تعلیم کو اپنے نظریات اور فلسفہِ حیات پر ہی تشکیل کرتی ہے۔ اس لحاظ سے ہر ملک کا نظامِ تعلیم ایک دوسرے سے منفرد اور جداگانہ حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ اگر نظام تعلیم ملک و ملت کے معاشرتی تقاضوں ،قومی اور ملکی امنگوں کا عکاس نہ ہو اور قومی نظریہ حیات سے متصادم ہو تو قوم وملک کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں ۔وہ اپنے مرکز سے ہٹ جاتے ہیں اور ان کا وہی حال ہوتا ہے جو آج ہماراہو رہا ہے۔ڈگری ہے ،ملازمت نہیں۔تعلیم یافتہ ہیں مگر تہذیب یافتہ نہیں۔ اخلاقیات سے عاری تعلیم اور تعلیمی نظام جو اپنے طالب علم کو صحیح معنوں میں زندگی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہی نہیں کر پاتی۔وہ ترقی کی راہ پر کہاں تک ساتھ لے کر چلے گی۔ جب تعلیمی قابلیت کی بجائے حسب نسب ہی اعلیٰ ملازمت کے حصول کا ذریعہ بن جائے تب بھی ترقی صرف مخصوص دائرے میں گردش کرے گی۔
ہم نے لارڈ میکاولے کا جونظامِ تعلیم ورثے میں پایا ہے وہ ہماری قومی امنگو ں اور ملی تقاضوں کا آئینہ دار نہیں ۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی وہی نظام تعلیم جاری وساری ہے، کہنے کو تو اب نہیں ہے مگر عملی طور پر صورتِ حال اس سے کہیں زیادہ بدتر ہے۔ اب ہم آئی ایم ایف،ورلڈ بینک کی خواہشات کے مطابق اپنا نصاب تشکیل دے رہے ہیں جو کسی طرح بھی ہمیں راس نہیں، بس حکمرانوں کو امدادی قسطیں مل جاتی ہیں، ان کے ذاتی اکاؤنٹ بھر جاتے ہیں اور ملک و ملت مزید
ذلت کی گہرائیوں میں گر جاتی ہے۔ماہ رمضان میں شیطان قید کر لیا جاتا ہے مگر اس کے باوجود سب کچھ ویسے ہی جاری و ساری رہتا ہے۔ اس کے چیلے اس کے حصے کا کام بڑی کامیابی سے کر جاتے ہیں جو کہ انسانوں کے روپ میں موجود ہیں کیونکہ بدی نیکی کی غیر موجودگی کا نام ہے، تاریکی روشنی کی عدم دستیابی کو کہتے ہیں ۔ اس طرح لارڈ میکاولے اپنے پیچھے اس قدر گماشتے اور اپنے جیسے میکاولے چھوڑ کر جا چکا ہے کہ اسے خود اب براہِ راست اس قوم پر حکمرانی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس قوم کو معذور کرنے کا کام اس کے کارندے کامیابی سے کر رہے ہیں۔
قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک یعنی گزشتہ ستر برسوں میں وطنِ عزیز نے تقریباً 14 ہزارکے لگ بھگ پی ایچ ڈی سکالرز پیدا کیے ہیں(یہ وہ تعداد ہے جو H.E.Cکے پاس رجسٹرڈ ہے کیونکہ کوئی پی ایچ ڈی جب تک H.E.C سے تصدیق شدہ نہیں ہوگی اور اس کانام ان کی ڈائریکٹری میں شامل نہیں ہو گا وہ کسی بھی سرکاری سہولت سے فائد ہ نہیں اٹھا سکے گا)۔ ایسے کئی لوگ ہیں جنہوں نے پی ایچ ڈی کی مگر ایچ ای سی سے تصدیق نہیں کروائی تو ان کو معاشی میدانوں میں مسائل
رہے جن کو میں جانتی ہوں وہ سکولز میں جاب کرتے ہیں۔ لوگ اپنے ساتھ یہ ظلم کیوں کر رہے ہیں یا وہ کون سی وجوہات ہیں کہ وہ اپنی ڈگری کی اہمیت حاصل نہیں کر پاتے۔ یہ شعور کی کمی نہیں نظام تعلیم کی وہ خامیاں ہیں جن کو کوئی بھی حکومت درست کرنے کے لیے تیار نہیں۔
یہ تو پی ایچ ڈی لیول کی بات ہے یہاں تو آٹھویں کلاس کے پرچے تک آؤٹ ہوجاتے ہیں۔
ہمارے نظامِ تعلیم کا تو خدا ہی حافظ ہے۔ جہاں پر پیسے دے کر تعلیمی ڈگریاں خرید لی جائیں،اپنا تحقیقی کام دوسروں سے کروایا جائے۔ جہاں پر میڈیکل کالجز کو پرائیویٹ سیکٹرمیں دے دیا جائے وہاں سے کس قسم اور مزاج کے ڈاکٹر آئیں گے ہم نہ صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ بھگت بھی رہے ہیں۔جوڈاکٹر صرف اپنی تنخواہ بڑھانے کے لئے ہڑتال کرتے ہیں اور ایمرجنسی میں کام روک دیتے ہیں ان کو اشرف المخلوقات اور مسیحا کہنا انسان کی توہین کے علاوہ کچھ نہیں۔
تعلیمی نظام کی خامیوں کو دور کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری میں آتا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں میں کوئی چار یا پانچ فیصد بچے پڑھتے ہونگے مگر تقریباً 95سے 96فیصد تو سرکاری اداروں سے وابستہ ہیں ۔ اگر یہ سرکاری تعلیمی ادارے ہی اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کر لیں تو پاکستان کو ترقی کی شاہراہوں پر سفر کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔مگر اس کام کے لیے بھی لیڈر شپ چاہیے جو پہلی جنگ عظیم کے بعد جرمنی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان کو ملی تھی۔ جنہوں نے صرف تعلیم کے بل بوتے پر اپنی قوم کی راہوں میں بچھی تاریکیوں کو اُمید کے جگنوؤں میں بدل دیا تھا۔تاہم پاکستان کو بدقسمتی سے کوئی بھی ایسی لیڈر شپ نہیں ملی جو اس قوم کو تعلیم میں آگے لانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ لیپ ٹاپ دینا کوئی خدمت نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، استاد اور تعلیم کو موثر بنانا،اصل کام ہے ،یہ وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے۔


ای پیپر