آئین کی تشریح اور مسلم لیگ ( ن) کا بیانیہ
28 اپریل 2018 2018-04-28

نماز ختم ہوئی تو ایک آدمی محراب کی طرف بڑھا ۔ اس نے امام صاحب کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کیا ۔ اس نے سوال کیا کہ جناب میں نے وضو کیا ! اس کے بعد میں نے بال کٹائے پھر میں اسی طرح نماز میں شریک ہو گیا! کیا میری نماز درست طریقے سے ادا ہو گئی ؟ عالم نے بات غور سے سنی۔۔۔ کہنے لگے مسح وضو کا فرض رکن ہے جن بالوں پہ مسح ہوا تھا وہ نہیں رہے تو وضو نہیں رہا۔ جب وضو نہیں رہا تو نماز بھی نہیں ہوئی۔وہ شخص پریشان ہوا اور ساتھ بیٹھے دوسرے عالم کی طرف دیکھنے لگا ۔ اُنہوں نے کہا میں بات کو دوسرے طریقے سے دیکھتا ہوں ۔ جب وضو کیا گیا تو وضو قائم ہو گیا۔ اس کے بعد وضو ٹوٹنے کی اپنی شرائط ہیں ۔ جب تک ان میں سے کوئی شرط وارد نہ ہو بال کٹانے کے باوجود وضو قائم اور نماز درست ہے۔ اس مثال سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ محض بیانیہ بدل جانے سے نتیجہ بھی تبدیل ہو گیا ۔
دنیا میں تحریری آئین اس بناء پر اختیار کیا گیا کہ بنیادی اصول حقوق وفرائض اور ان کا بیانیہ نہ صرف نظر آنے والا ہو بلکہ سب کے لئے یکساں ہو ۔ پھر ان حدود سے تجاوز پر نگہبانی کا اصول اختیار ہوا تاکہ من مانی اور حدود سے تجاوز کا خیال بھی ختم ہو جائے۔ سب اہتمام کے باوجود ہم حدود کے احترام پر مبنی انداز ریاست ،سیاست ، حکومت اور عدالت اختیار کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہر موقع پر معمولی تبدیلی کے ساتھ نئی تشریح ، طاقت ، مصلحت ، حال حیلے اور وسیلے سے نیا بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے ہم دلنشیں منزل اور بامراد ساحل کی امید میں آج تک بھٹک رہے ہیں۔
ملک میں ہیجان خیز سیاست کے موجودہ دور کا آغاز دھرنا ون ،ٹو پانامہ ہنگامہ ، کرپشن کے الزامات اور ان کے سامنے عدالتی ریاستی نظام کے منہدم ہو جانے سے ہوا۔ اس بے کیف اور بے جان مشق میں روح سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈال دی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ایک ایسی پٹیشن سماعت کے لئے قبول کر لی گئی جسے پہلے مسترد کیا جاچکا تھا۔ پٹیشن انسانی حقوق کے نفاذ کیلئے دائر کی گئی تھی۔ اس میں نیب جیسے ادروں کو کاروائی کرنے کا حکم صادر کیا جائے کی استدعا کی گئی تھی۔ اقامہ، اس سے وابستہ تنخواہ اور کرپشن کا کوئی باقاعدہ مقدمہ عدالت کے سامنے پیش نہ کیاگیا۔ عدالت کی جانب سے تنخواہ اور اثاثے کی تعریف کا تعین کرنے کے لئے انکم ٹیکس قانون یا ملازمت کا قانون بنیاد کے طور پر قبول کرنے کی بجائے لغت کا سہارا لیا گیا۔ یوں ارکان پارلیمنٹ کی اہلیت سے متعلق شق62(1)(f)) کی تشریح اور اطلاق کرتے ہوئے وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا گیا۔ مزید تشر یح میں قرار دیا گیا ہے کہ یہ اہلیت تا حیات ہے۔ یہ شق کہہ رہی ہے کہ بیان کی گئی شرائط پر پورا نہ اترنے والے انتخاب کے اہل نہ ہوں گے۔ جب جنرل مشرف کے وردی سمیت دوسری بار صدر بننے کا سوال یا موقع آیاتومنفعت بخش عہدہ سے متعلق شق(63) (1 d )آڑے آئی۔ اس وقت یہ تشریح سامنے آئی کہ{ 62 (1)} ۔۔۔ ’’انتخاب کے اہل نہ ہوں گے ‘‘ کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ وہ تو پہلے ہی صدر ہیں۔نواز شریف بھی پہلے سے و زیر اعظم تھا لیکن۔۔۔مستقل نااہلی کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئین سپریم دستاویز ہوتا ہے۔ اس کا کوئی لفظ زائد نہیں ہوتا۔ ہر لفظ لائق تسلیم ہوتا ہے۔ وغیرہ۔۔
اس پس منظر میں وہ بیانیہ شروع ہوتا ہے جو مسلم لیگ ن کی جانب سے اختیار کیا جارہا ہے۔ اسی بیانیے کوالفاظ اور انداز بدل بدل کر دہرایا جا رہا ہے۔ اس میں ہر اس شخص کی آواز کو بھی شامل سمجھنا چاہیے جو ریاست کے معاہدہ عمرانی کا حصہ ہے، وہ اس کے بلا استثناء احترام ا ور نفاذ پر یقین رکھتا ہے۔ آج پوچھا جارہا ہے کہ جب آئین سے بغاوت ہوئی تو ہر ہر حرف کا تقدس اور وقار کہاں تھا۔ آئین سے بھی بلند supra constitutional حکم جس نے ریاست کے سپریم لاء کو معطل کیاکس ڈکشنری سے لیا گیا۔ جب دستوری نظام کے برعکس دس دفع وردی میں صدر منتخب کرنے کی باتیں ہو رہی تھیں تو دستور اور جمہوریت کی حفاظت کے عہد نامے کہاں تھے۔دستور معطل ہونے اور منسوخ ہونے میں حد فاصل کہاں ہوتی ہے اس کاتعین کون کرتا ہے ۔اس پر کس کی مہر لگتی ہے کیا اس بارے میں کبھی سوچا گیا ہے۔ دستور منسوخ اور معطل ہونے کا مطلب تنا کٹ جانا ہوتا ہے۔ تنا کٹنے کے بعد سب شاخیں حکومت ، اسمبلی ، عدالتیں ،افواج سب دستوری بنیاد سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ لیکن عجب ہے تنے کو فرض کرکے شاخیں بیٹے کو باپ پیدا کرنے کی اجازت ریاست کی سب بڑی مہر کے ساتھ دے دی جاتی ہے۔فرق بیانیے کا ہے۔ جو بیلیٹ سے آیا جواب دہ بھی گرد ن زدنی بھی ہے۔۔۔ جسے بریگیڈ لا یا وہ محفوظ بھی رہا اور ممنون بھی ہے ۔
کیونکہ عدالت کے بیا نئے کے مقابلے میں ن لیگ کا بیانیہ زیادہ مقبول ہے لہذا عدالت کو بھی ایک جوابی پاپولر طرز عمل اختیار کرنے کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ کچرا ، پانی ، دودھ ، فیس ، قومی وسائل کی لوٹ مار اور انتظامی فیصلے عدالت ہر طرف توجہ کر رہی ہے اور ہر شہ سرخی میں جھلک رہی ہے۔ عدالت کے فیصلے میں کہی گئی بات کہ آئین کا ہر لفظ لائق عمل ہے تو سب سے پہلے خود عدالت پر لازم آتا ہے کہ وہ مانٹیسکو کے تقسیم اختیارات کے دستور پاکستان میں اختیار کئے گئے نظام کو قبول کرے اور دوسروں کو اس پر عمل کرنے کا پابند کرے۔ رجسٹرار صاحب سے گزارش ہے کہ وہ سپریم کورٹ کا تقسیم اختیارات سے متعلق ہدایت نامہ چائے کے وقفے میں کسی لارجر بنچ کے سامنے رکھیں ۔ اس ہدایت نامے میں کہا گیا تھا کہ آئندہ کوئی جج قائم مقام صدر یا گورنر کے طور پر کام نہیں کرے گا کیونکہ یہ بھی تقسیم اختیارات کے اصول کے منافی ہے۔کہاں یہ باریک تقسیم اور کہاں ہسپتالوں کے دورے انتظامی امور میں مداخلت اور افسران کی طلبی ۔۔۔
یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ایک قابل توجہ بیانیہ تشکیل دینا سیاسی عمل کا لازمی حصہ ہے۔ اپنی مد مقابل سیاسی قوتوں کے سامنے کھڑا ہونا ، انہیں دلیل، حکمت عملی سے زیر کرنا بھی سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ لیکن کوئی عدالت ایسا طرز عمل اختیار کرے کہ اسے متبادل بیانیہ سمجھا جانے لگے ایک نئی بات ہے۔ سچ یہ ہے کہ ایسے بیانات جو عدا لت کی بجائے سیاسی مد مقابل کا بیان لگتے ہیں تواتر سے شہ سرخیوں میں جگہ پا رہے ہیں۔ عدالتی وقار کو بچانا اور احترام کو قائم رہنے دینا موجودہ حالات کا اولین تقاضا ہے۔اس وقت جب ملک انتخابی عمل کی دہلیز پر کھڑا ہے کسی بھی جماعت کے لئے یہ موقع پیدا کرنا جس سے دیوار سے لگانے کا تاثر پیدا ہو بے یقینی اور انتشار تو لا سکتا ہے استحکام نہیں !


ای پیپر