زوال
28 اپریل 2018 2018-04-28



امت مسلمہ کے مفتیان کرام اور مذہبی پیشوا جب جہاز میں اُڑان بھرتے ہوں گے، ایئر کنڈیشن کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں سستاتے ہوں گے ،بلٹ ٹرین میں سفر کرتے ہوں گے، ایل ای ڈی کی چکا چوند روشنی میں استراحت کے ساتھ محو مطالعہ ہوں گے، بڑی لگژی گاڑیوں میں سیر کو جاتے ہوں گے ریفریجریٹر سے یخ بستہ آئس کریم سے لطف اندوز ہوتے ہوں گے، ٹچ موبائل سے سلفی بنا کر اتراتے اور واٹس اپ کے ذریعے اپنے سٹیٹس کو اپنے پیج پر اپ ڈیٹ کرتے ہوں گے۔انٹرنیٹ کے ذریعے درس و تدریس اور پیغام رسائی کا فریضہ انجام دیتے ،سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوں گے تو نجانے دل ہی دل میں کیا محسوس کرتے ہوں گے۔ انہیں یہ احساس تو ہوتا ہوگا کہ وہ جن سہولتوں سے استفادہ کررہے ہیں یہ سب کی سب یہودو نصاریٰ کی ایجاد ہیں جن کی تباہی اور بربادی کی دعا وہ ہر مسجد اور مدرسہ میں ذوق و شوق سے کروانا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کبھی غور فرمایا کہ موذی سے مو ذ ی بیماری کا علاج صرف اور صرف جدید طب کی تحقیق سے ہی ممکن ہوا بدقسمتی سے یہ ریسرچ بھی یہود و نصاریٰ کے دم سے ممکن ہوئی۔ اک لمحہ کیلئے چشم تصور میں لائیے کہ اگر چار پانچ ہزار فی گھنٹہ کی رفتار سے جہاز اڑان کی سہولت انہیں میسر نہ آتی۔چھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی سبک رفتار سے چلنے والی بلٹ ٹرین دستیاب نہ ہوتی ،موسم کی حدت اور شدت میں درجہ حرارت کو نارمل کرنے کا کوئی اہتمام نہ ہوتا ، ا نٹرنیٹ کی عدم موجودگی میں وہ معلومات کے خزانے سے محروم رہتے ،طب کے میدان میں جدید تحقیق کے بغیر موذی بیماریوں کی تشخیص ممکن نہ ہوتی۔ ٹچ موبائل سے سلفی بنانے کی آسانی نہ ہوتی تو ان کیلئے زندگی کتنی بے کیف بے رنگ ہوتی۔اس حیاتی میں اتنی ساری نعمتوں کی فراہمی کے پیچھے یہودونصاریٰ کی تحقیق ہے جو انسانیت کیلئے آسانیاں پیدا کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ سفری سہولتوں کی بدولت حج و عمرہ کی سعات حاصل کرنے والوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ فی زمانہ قرآن کے پیغام کو پورے عالم تک پہنچانا آسان سے آسان ترہوتا جارہا ہے۔
یہودو نصاریٰ کی فراہم کردہ سہولیات سے فائدہ اٹھانے والے اس قبیلہ میں وہ حضرات بھی شامل ہیں جنہوں نے لاؤڈ سپیکر میں اذان دینے کو اس لئے منع فرمادیا تھا کہ یہ کافر کا بنایا ہوا ہے۔ یورپ کی مشینوں پر قرآن کی چھپائی کی اجازت اس لئے نہ دی گئی کہ یہ فرنگی کی ایجاد ہے۔ ٹچ موبائل سے سلفیاں بنوانے کا شوق پالنے والے، خواتین اینکر کے پہلو میں بیٹھ کر انٹرویو دینے والے اور ٹی وی پرکوریج نہ ملنے کا شکوہ کرنے والے اس قماش کے لوگ اک عہد تک فوٹو او ر ٹی وی کو حرام قرار دیتے رہے۔ اسی تنگ نظری کا یہ فیض ہے کہ یہود ونصاریٰ دنیا پر غالب اور امت مسلمہ مغلوب ہے۔
حالانکہ ان کی تحقیق کے سارے دھارے اس الہامی کتاب سے پھوٹتے ہیں جسے ہم نے طاق میں بند کرکے رکھا ہوا ہے جس کو محض قسمیں اٹھانے ، تعویذ دھاگہ کرنے اور فروعی مسائل کو ہوا دینے کیلئے استعمال میں لاتے ہیں ۔لیکن ایسے سینکڑوں افراد کے نام لیے جاسکتے ہیں جنہوں نے قرآن حکیم کو اپنی تحقیق کی بنیاد بنایا اور پھر حقانیت سے متاثر ہوکر دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا شرف حاصل کیا۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ دنیا کے تمام علوم اس کتاب سے ہی ماخوذ ہیں۔ چاند او رستاروں پے کمند ڈالنے کا راستہ اسی علم سے ہو کر گزرتا ہے۔ہمیں اعتراف ہے کہ مستشرقین نے مسلمانوں ہی کے علوم اور ایجادات سے بھرپور استفادہ کیا ۔منطق ، ریاضی ، جغرافیہ، طب فزکس، قانون کے شعبہ جات میں ترقی کی بنیاد مسلم سائنسدانوں کی خدمات کا نتیجہ ہے لیکن تعصب کی عینک اور چھوٹا دل ان کی خدمات کو سرخم تسلیم کرنے میں ہمیشہ رکاوٹ بنا رہا۔
عمومی رائے یہ ہے کہ انیسویں صدی کا صنعتی انقلاب ہی آج کی ترقی کا نقطہ آغاز ہے۔ یہ تبدیلی بھی مذہبی اجارہ داری کے ردعمل کے طورپر وقوع پذیر ہوئی جب کلیسا کے ذمہ داران نے اہل یورپ کی ناک میں دم کیے رکھا، مذہب کے نام پر معاشی بوجھ نے کلیساء کا طوق گلے سے اتار پھینکنے پر عوام کو مجبورکیا اسی شر سے مذہب ہر کسی کا ذاتی معاملہ کا نعرہ بلند ہوا اورپھر دیکھتے ہی دیکھتے سارا سماج مدرپدر آزاد ہوگیا ۔آج اس کی غالب اکثریت دل کی تسکین کیلئے روحانیت کی متلاشی ہے جس کا ذخیرہ امت مسلمہ کے پاس نسخہ کیمیا کی صورت میں موجود ہے اس سے فیض حاصل کرنے میں بڑی رکاوٹ امت مسلمہ کا اپنا کردار اور وہ تمام اخلاقی اور سماجی برائیاں ہیں جو مسلم معاشروں میں پروان چڑھ رہی ہیں۔ اس کی تمام تر ذمہ داری انہی مذہبی راہنماؤں کے سر ہے جنہوں نے قرآن و سنت کے پیغام کو پورے عالم تک پہنچانے کا بوجھ اٹھایا ہے۔
موجودہ عالمی منظر نامہ میں ہماری پہچان اک انتہا پسند کی سی ہے اک گنوار اور جاہل کے طور پر ہم اپنا تعارف رکھتے ہیں کیونکہ اہل مغرب نے جو پیمانے ہمارے کردار کو ماپنے کیلئے مقرر کیے ہیں وہ اعدادوشمار ہیں ۔تعلیم و تحقیق کے میدان میں امت مسلمہ کتنا بجٹ صرف کررہی ہے ، اس میں قائم درس گاہیں عالمی معیار کے کس مقام پے کھڑی ہیں، ہماری شرح خواندگی کیا ہے، ہم اپنے ممالک میں کتنے سائنسدان پیدا کر سکے ہیں، مسلم سائنسدانوں کی تحقیق کو ہم نے کس سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھایا ہے، قرآنی علوم کو بنیاد بنا کر ہم نے کونسی سائنسی تحقیق کی بنیاد رکھی ہے، یہ سب روز روشن کی طرح عیاں ہے۔
دوسری جانب عرب شہزادے کونسی ایسی تفریح نہیں کرتے جو مغرب میں روا ہے، بدعنوانی کی داستانیں یہاں زدعام ، سچائی سماج سے اٹھ رہی ہے۔ جھوٹ کا دور دور ہ ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا بے بسی ہوگی کہ شام ، یمن، اور کشمیر کے حق میں اٹھنے والی آواز بھی مغرب سے آرہی ہے۔
یہودونصاریٰ کی تحقیق نے جہاں آسانیاں پیدا کی ہیں وہاں امت مسلمہ کی نسل نو کی بے راہ روی کا بھی کافی سامان موجود ہے، انٹرنیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وساطت سے اخلاق سوز مواد ہمارے گھروں تک آن پہنچا ہے جس سے مذہبی طبقہ بھی محفوظ نہیں ۔ روحانیت کے متلاشی مغربی عوام کو صراط مستقیم دکھانے کا فرض اگر اس طبقہ کی وساطت سے ادا ہوا ہوتا تو انہیں بڑے القابات سے کبھی نہ نوازا جاتا۔بہترین امت قرار دینے کی کچھ لاج تو یہ رکھتے۔علم و تحقیق کے علم بلند کرتے تو انہیں یہود نصاریٰ کی ایجادات کا مرہون منت نہ ہونا پڑتا۔
سبک رفتار جہاز پر بیٹھ کر جب یہ آقا ؐ کے روضہ اقدس پر حا ضری دیتے ہوں گے تو اس وقت ان کی کیفیت کیا ہوتی ہوگی؟ جب آقا ؐ دو جہاں چشم تصور سے سوال کرتے ہوں گے کہ امت کے زوال میں کیا تمہارا بھی کچھ ہاتھ ہے؟ نجانے اس سوال کا جواب یہ کیا دیتے ہوں گے؟۔


ای پیپر