بے حجابی
28 اپریل 2018 2018-04-28

کوئی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے تو کوئی آج تک اپنی شناخت پر حسن سلوک کی مہر ثبت کروانے کا منتظر ہے۔ مرد و عورت کے بیچ کھڑے اپنی جنس پر بات کرتے جہاں یہ کتراتے ہیں وہیں شرمندگی سے زندگی گزارے جاتے ہیں۔ کیونکہ معاشرے میں شاید نہیں یقیناً آج بھی کھلے دل سے ان کی شناخت کو اصل حالت میں قبول کرنے کا رواج نہیں چلا۔ شناختی کارڈ کے ڈبے میں اندراج تو مل گیا لیکن لوگوں کی تنگ نظری سے جیسے یہ بے شناخت سے رہ گئے ہیں۔
کئی بار الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر چلنے والی خبروں پر حکومت کی طرف سے توجہ ملتے دیکھی ہے اس لیے اسے غلط فہمی کہنا غلط ہی ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ 'وہ' پسندیدہ رپورٹر کے ذریعے رپورٹ کرواکے اس پر عملدرآمد کروا دیتے ہیں۔ میری نظر میں یہ سب کچھ دیکھا بھالا ہے۔ مثال کے طور پر سرکاری خزانے میں امداد کی مد میں کچھ پیسے باقی ہوں یا کوئی حاکم شہر حکومتی حکمت عملی میں یکسانگی محسوس کررہا ہوتو کہہ دیتا ہے کہ ایک خفیہ میسج کے ذریعے فلانے فلانے کے حوالے سے داد رسی کی خبر چلادیں۔ حکومت سرکاری خرچ پر کچھ کرنا چاہ رہی ہے۔ تاکہ میڈیا پر چلنے کے لیے اور صبح کے اخبار میں چھپنے کے لیے خود نمائی میں کچھ نظر آجائے۔ خیر اس بحث میں پڑیں گے تو بات بہت دور تلک جائے گی۔ اسی طرح کی کسی خوش فہمی یا غلط فہمی میں مبتلا ہو کر لوگ میڈیا سے رابطے بھی کرتے ہیں۔ سسٹم کا اصل چہرہ دکھاتے ایک درخواست آپ کے سامنے پیش کررہا ہوں جو خادمِ اعلیٰ کے دفتر تک پہنچی۔ ڈائری نمبر 2323/9418 تک لگ گیا مگر درخواست دینے 'والے یا والی' کا ماننا ہے میڈیا شاید اس کی آواز کو بلند سے بلند تر کرسکتا ہے۔
بخدمت جناب وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف صاحب
عنوان: درخواست برائے علاج
جناب اعلیٰ،
مودبانہ گزارش ہے کہ میں حجاب اعجاز ولد اعجاز ایک خواجہ سرا ہوں۔ میری آواز کا آپریشن سروسز ہسپتال سے ہونا تھا جبکہ تین دن ہسپتال میں داخل کرکے عین آپریشن کے وقت مجھے ڈسچارج کردیا گیا۔ یہ کہہ کر کے آپ کا آپریشن نہیں ہوسکتا کیونکہ آپ خواجہ سرا ہیں۔ ہسپتال سے اپنی تذلیل کرواکے میں پرائیوٹ کلینک میں گئی تو انہوں نے مجھے آپریشن کرنے کی فیس ڈیڑھ لاکھ سے زائد بتائی۔ اور تو اور وہاں انہیں میرے خواجہ سرا ہونے سے بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ جبکہ گورنمنٹ ہسپتال جو عوام کی خدمت کے لیے بنائے گئے ہیں وہاں انہیں میرے خواجہ سرا ہونے سے مسئلہ تھا۔ جناب عالی جبکہ میں پاکستانی شہری ہوں اور علاج کا حق رکھتی ہوں۔ آپ سے گزارش ہے کہ انسانیت کے ناتے میرا علاج کیا جائے۔ میں شکل و صورت کے لحاظ سے ایک مکمل لڑکی لگتی ہوں لیکن میری مردانہ آواز مجھے معاشرے میں رہنے اور زندگی کی دوڑ میں رکاوٹ پیدا کررہی ہے۔ جناب عالی میں ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں اور میں اپنی فیملی کےلئے کچھ کرنا چاہتی ہوں۔ آپ سے التماس ہے کہ میرا علاج کرایا جائے تاکہ معاشرے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے میں مجھے کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ امید ہے کہ آپ میری درخواست پر ضرور غور کریں گے۔ خدا آپ کا اقبال بلند کرے۔ آمین۔
درخواست گزار حجاب اعجاز
درخواست گزار کا ایڈرس بھی موجود ہے لیکن اسے سامنے لانا مناسب نہیں۔ اس درخواست پر مزید تحقیق کرنے پر معلوم پڑا کہ سروسز ہسپتال نے تین دن تک حجاب اعجاز کو اس امید اور آس کے ساتھ داخل رکھا کہ بس تمہارا گلے کا آپریشن ہوا ہی چاہتا ہے جس کے بعد وہ اپنی زندگی کے بڑے مسئلے سے دور ہوجائے گی۔ لیکن چوتھے دن اسے ہسپتال سے یہ کہہ باہر کردیا گیا کہ یہ آپریشن نہیں ہوسکتا کیونکہ تم خواجہ سرا ہو۔ اور یقیناً کہیں نہ کہیں اسے یہ محسوس بھی ہوا ہوگا کہ بچپن سے لے کر جوانی تک معاشرے کی ہر بے رخی اس نے سہی۔ یہ ڈاکٹر بھی مسیحا ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر ہیں تو اسی معاشرے کے پروردہ۔ تو مجھے آج بھی ان سے کسی معجزے کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ کاش میری جیب میں ڈیڑھ لاکھ ہوتے تو میری ہر کمزوری جو میری ہے بھی نہیں لیکن شاید نوٹوں کی چمک اس پر غالب آجاتی۔ ایسا ہوتا تو اس درخواست کے ذریعے مجھے اپنی عزت نفس مجروح ہوتے دیکھنا نہ پڑتی۔ راز کی شکل میں قدرت کا دیا ہوا امتحان میرے ساتھ ہی دفن ہوجاتا۔ مگر عزت کی پردہ پوشی کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا تھا۔ تو میں اس 'اشرف المخلوقات' سے اس کی امید کیوں لگا رہی ہوں۔
ابھی یہ درخواست چیف منسٹر آفس میں ایڈیشنل سیکرٹری کی ٹیبل پر موجود ہے مگر بے چاری حجاب اعجاز کو ایک ڈائری نمبر کے ذریعے امید دلا دی گئی ہے کہ ریاست ماں کی جیسی ہے تمہاری مدد کرے گی۔
ایسے موقع پر جب پورا میڈیا چیخ چیخ کر خواجہ آصف صاحب کی نااہلی کو اپنی ذمہ داری سمجھ کے بھرپور طریقے سے دکھا رہا ہے وہاں ایک خواجہ سرا پر ہونے والے ظلم نے پورے سسٹم کو ہی نااہل کردیا ہے۔
اور تو اور جب کئی ممالک میں ان کے حقوق کے لیے مظاہرے ہورہے ہوں، فلاحی و ترقیاتی اقدامات کرنے پر غور و فکر کیا جا رہا ہو، انہیں میڈیا اور دیگر اداروں میں ملازمت کے مواقع مل رہے ہوں،، وہیں خادم اعلیٰ کی پرچی لے کر خاک چھانتی ہوئی حجاب اعجاز کی مثال بھی موجود ہے۔
مانا کہ ٹیلی ویژن سکرینز پر اور اخباری شہ سرخیوں میں ہمیں اتنا معلوم پڑ گیا ہے کہ 'ٹرانس جینڈرز' یعنی خواجہ سراو¿ں کے لیے مزید اقدامات کیے جارہے ہیں۔ جیسے کہ ڈھلتی عمر میں بے ثباتی کا وزن اٹھاتے ہوئے زندگی کی آخری سانسیں گزارنے کے لیے خواجہ سراو¿ں کےلیے شیلٹر ہومز کے قیام پر غور کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف ان کے لیے تعلیمی اداروں میں علیحدہ کلاسز کا اہتمام کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔
لیکن معاشرے کو اس کی اصل شکل دکھانے کے لیے حجاب اعجاز کی یہ درخواست ہی کافی ہے۔


ای پیپر