امریکہ کے صدارتی انتخابات اور پاکستان کی سیاست
27 ستمبر 2020 (13:36) 2020-09-27

امریکہ کے صدارتی انتخابات سر پر آن کھڑے ہوئے ہیں.... آئندہ 3 نومبر کو ہو رہے ہیں.... بالغ رائے دہی کے اصول کی بنیاد پر ووٹ ڈالے جائیں گے.... عام طور پر اکثریت کے حامل کا جیت جانا یقینی ہوتا ہے.... لیکن ضروری نہیں ہوتا.... کیونکہ وہاں پر ایک انتخابی ادارہ بھی ہے.... جس کے اندر پاپولر ووٹ کے ذریعے ہر ریاست کے شہری آبادی کے تناسب سے اپنے نمائندگان کا چناﺅ کرتے ہیں.... ان کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے.... اکثروپیشتر یہ فیصلہ پاپولر ووٹ کی عکاسی کرتا ہے لیکن کبھی کبھی اس کے برعکس بھی ہو جاتا ہے.... جیسا کہ 2000 میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر یعنی پاپولر ووٹوں کی اکثریت ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار الگور کے حق میں تھی لیکن جب انتخابی ادارے کا پیچیدہ میکنزم عمل میں آیا تو ری پبلکن امیدوار جارج بش کی جیت کا اعلان کر دیا گیا.... اسی طرح 2016 کے گزشتہ انتخابات میں بھی ہلیری کلنٹن بظاہر کامیاب ہوتی نظر آ رہی تھیںرائے عامہ کے جائزے ان کی جیت کی پیش گوئیاں کر رہے تھے.... لیکن ایک تو آخری دنوں میں ہوا کا رخ بدل گیا.... امریکہ کے عام سفیدفام باشندے ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت میں یکجا ہو گئے.... دوسرا انتخابی ادارے کے بالواسطہ ووٹوں کا تناسب ان کے حق میں جھک گیا.... یوں ٹرمپ جیسے شتر بے مہار نے یہ معرکہ جیت کر امریکہ کے فہمیدہ طبقوں کے علاوہ پوری دنیا کو حیران کر دیا.... اس مرتبہ بھی ری پبلکن پارٹی کے نمائندہ کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد اور اوباما دور کے سابق نائب صدر جو بائیڈن ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں رائے عامہ کے جائزے مقبولیت کے لحاظ سے صدر ٹرمپ کو جوبائیڈن کے پیچھے دکھا رہے ہیں.... لیکن امریکی آئین کے تحت آخری فیصلہ چونکہ ہر ریاست کے اندر پڑے ووٹوں کے تناسب نے کرنا ہے لہٰذا ضروری نہیں جو 3 نومبر کو جیتے وہی 21 جنوری 2021 کو اگلے صدر کا حلف اٹھائے.... صدر ٹرمپ اسی امکان پر امیدیں لگائے بیٹھے ہیں ویسے بھی انہوں نے اپنی مقبولیت کا گراف گرتے دیکھ کر آنے والے انتخابات کو متنازع بنانے کی کوشش شروع کر دی ہے.... ان کے مطابق بذریعہ ڈاک پڑنے والے ووٹوں میں شفافیت نظر نہیں آ رہی.... برملا کہا ہے اگر میرے مقابلے میں جوبائیڈن جیت گئے تو نتائج تسلیم نہیں کروں گا.... اس پر ٹرمپ صاحب سخت تنقید کی زد میں آ گئے ہیں.... ان کی اپنی ری پبلکن پارٹی کے کچھ لیڈروں نے بھی کہا ہے صدر ٹرمپ کو ہرگز حق حاصل نہیں امریکی آئین کے طے شدہ طریق کار کو مشکوک بنا دیں.... آئینی نظام پر ہر صورت میں عمل ہو گا.... اس کے تحت جو بھی نتائج سامنے آئے قبول کرنے ہوں گے.... انتقال اقتدار لازماً غیرمتنازع طریق سے ہو گا.... لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مزاج کے لحاظ سے کسی بات کو خاطر میں نہیں لاتے.... چنانچہ خطرے کی گھنٹیاں بجنی شروع ہو گئی ہیں.... ٹرمپ نے نتائج کو قبول نہ کیا تو آئین کی حرمت پر زد پڑے گی یوں امریکی جمہوری عمل مشکوک ٹھہرا دیا گیا تو جسد سیاست پر اس کے منفی اثرات پڑیں گے.... لہٰذا اس کی روک تھام کے لئے ابھی سے امریکی میڈیا، تھنک ٹینکوں کے دانشور، تجزیہ کار اور کانگریسی نمائندوں نے سخت آراءدینا شروع کر دی ہیں.... اس لحاظ سے یہ انتخاب خاصا دلچسپ ہو گا.... کرونا کی وبا کی وجہ سے اس مرتبہ دونوں امیدوار زیادہ تر بند کمروں میں بیٹھ کر مہم چلا رہے ہیں.... سڑکوں پر کھڑے عوام کے استقبالیہ ہجوم کے پاس جانے اور دونوں امیدواروں کے اپنے اپنے حامیوں کے ساتھ پُرجوش انداز میں ہاتھ ملانے اور بچوں کو گود میں لینے کے روایتی مناظر دیکھنے کو نہیں مل رہے.... زیادہ تر مہم ٹیلی ویژن کے اشتہارات اور امیدواروں کے بیانات کی بنیاد پر چل رہی ہے....

امریکہ کی غیرمعمولی ترقی کا دوسرے عوامل کے علاوہ ایک راز یہ بھی ہے اس ملک اور قوم نے برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد 1789 میں اپنے لئے صدارتی نظام پر مبنی جو جمہوری آئین تیار اور نافذ کیا تھا آج تک سختی کے ساتھ اس کے تسلسل کو قائم رکھا ہے.... آئینی طریق کے تحت (کانگریس کے دونوں ایوانوں کی دوتہائی اکثریت) ترمیمیں ہوئی ہیں.... مختلف اوقات میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے ذریعے آئینی دفعات کی تشریحیں بھی کی گئی ہیں تاکہ بدلے ہوئے وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر چلا جائے لیکن کسی طالع آزما کو کبھی ہمت نہیں ہوئی فوجی طاقت کی بنا پر آئین کو بوٹوں تلے روند ڈالے یا اس میں من مرضی کی تبدیلیاں لا کر حلیہ بگاڑ دے.... پوری امریکی سیاسی تاریخ ہر طرح کے حالات میں آئین کی بالادستی کو یقینی بنا کر رکھنے اور منتخب حکومتوں کے تسلسل کو جاری رکھنے کے عزم کی آئینہ دار ہے.... جب بھی کوئی آئینی تنازع اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو وہاں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے یہ مسئلہ اگر بانیان ریاست و آئین کو درپیش ہوتا تو وہ کیا رائے قائم کرتے.... پاکستان کے برعکس جس کے بانی قائداعظم محمد علی 

جناحؒ نے گورنر جنرل کا حلف اٹھاتے ہوئے عہد کیا تھا کہ جو بھی آئین بنے گا وہ اس کے ساتھ وفاداری کا ابھی سے عہد کرتے ہیں.... لیکن ان کی وفات کے چند سال بعد آئین شکنی کا وہ مکروہ کھیل شروع ہوا کہ ملک دو ٹکڑے ہو گیا لیکن ہمارے طالع آزما خواہ براہ راست حکومت چلا رہے ہوں یا پس پردہ بیٹھ کر ڈوریاں ہلا رہے ہوں قوم کے متفق علیہ آئین یا دستور مملکت کو کاغذ کے پرزے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے.... بھارت کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ کشمیر پر اس کے تمام تر غاصبانہ قبضے کے باوجود اس ملک کے داخلی اتحاد اور ایک رہنے کا سب سے بڑا سبب یہ ہے جنوری 1952 میں پارلیمنٹ نے جو آئین تیار کر کے نافذ کیا اس کی حرمت اور تسلسل پر حرف نہیں آنے دیا گیا.... ورنہ یہ ملک ایک مارشل لاءیا فوجی حکمرانی کی مار نہ ہوتا....

بات امریکہ کے آنے والے صدارتی انتخابات کی ہو رہی تھی.... صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خیالات اور پالیسیاں وہاں کے سفید فام باشندوں کے نسل پرستانہ جذبات کی آئینہ دار ہیں وہ امریکی صنعتی ایمپائر کے مالک ارب پتیوں سمیت فوجی طاقت پر غرور کرنے والی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی پروگراموں کی علمبردار ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ہیں جگہ ان کے حریف اور سابق نائب صدر جو بائیڈن مڈل کلاس کی اشرافیہ کی نمائندہ ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد ہیں.... جس میں درمیانے درجے کے کاروباری طبقات ، قومی دھارے کا میڈیا، دانشوروں اور یونیورسٹی اساتذہ کی بڑی تعداد، امریکی کالوں اور دوسری اقلیتوں کے لوگ شامل ہیں.... دونوں جماعتوں کے صدور باری باری منتخب ہو کر چار سال یا اگر دوسری مرتبہ منتخب ہو جائیں تو زیادہ سے زیادہ آٹھ برس کے لئے حکومت کرتے ہیں.... ٹرمپ کی حمایت وہاں کی سب سے زیادہ طاقتوریہودی لابی بھی کر رہی ہے کیونکہ انہوں نے پہلے چار سالوں کے دوران خارجہ پالیسی کے میدان میں سب سے زیادہ توجہات اسرائیل کے توسیع پسندانہ اور جارحانہ استحکام پر مرکوز رکھی ہیں.... جو اگرچہ ہر امریکی صدر کا وتیرہ رہا ہے.... لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی عرب دنیا خاص طور پر سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں پر ایسا دباﺅ ڈالنا شروع کیا کہ انہیں اسرائیل کے ساتھ دوستی پر مجبور کر دیا.... متحدہ عرب امارات اور بحرین اسے تسلیم کر چکے ہیں جبکہ سعودی عرب تذبذب کی کیفیت کا شکار ہے.... اسی طرح انہوں نے وعدہ کیا تھا افغانستان سے اپنی افواج نکال لیں گے.... جس پر عمل شروع ہو گیا ہے افغان انتظامیہ اور طالبان ایک میز پر آن بیٹھے ہیں.... پاکستان کا تعاون حاصل ہے اور قریب ہے معاہدہ امن عملاً بھی ظہور پائے.... انہوں نے چین کے ساتھ کھلم کھلا دشمنی کی راہ اختیار کر کے اپنے عوام کو باور کرانے کی کوشش کی ہے وہ امریکہ کے واحد سپر طاقت کے مدمقابل آنے والے کسی ملک کو برداشت نہیں کریں گے.... اس سال کے آغاز پر کورونا کی وبا پھیلی تو ٹرمپ صاحب نے اسے بھی امریکہ کے خلاف چین کی سازش قرار دیا.... ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار انہی راہوں پر قدرے اعتدال کے ساتھ قدم آگے بڑھانے کے حامی ہیں.... امریکی میڈیا، چوٹی کے دانشور، مڈل کلاس کے تعلیم یافتہ عناصر اور یہودیوں کو چھوڑ کر دوسری اقلیتوں کے لوگ ان کی کھلم کھلا حمایت کر رہے ہیں....اسی بنیاد پر رائے عامہ کے ابھی تک کے جائزوں میں صدر ٹرمپ سے آگے ہیں....

امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج نے ہمیشہ پاکستان کی سیاست پر گہرے اثرات ڈالے ہیں....ری پبلکن پارٹی ہمارے یہاں کی فوجی حکومتوں کی حامی اور مارشل لاﺅں کی پشت پناہی کرتی رہی ہے جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر امریکی مفادات کو ترجیح دینے کے ساتھ جمہوریت کا جھوٹا یا سچا دم بھی بھرتے رہے ہیں.... پچاس کی دہائی کے آغاز پر پاکستان امریکی فوجی معاہدوں سیٹو اور سنٹو کا رکن بنا تو ری پبلکن پارٹی کے جنرل آئزن ہاور امریکہ کے صدر تھے.... انہی کے ایام میں جنرل ایوب کا پہلا پاکستانی مارشل لا آیا.... امریکہ کو خفیہ طور پر ہوائی اڈہ دیا گیا اس کے عوض وقتی طور پر ڈالروں اور اسلحے کی امداد ملی.... 1961 میں ڈیموکریٹک پارٹی کے جان کینڈی اور ان کے بعد لنڈن جانس صدر بنے تو ایوب خاں کے زوال کے سال شروع ہو گئے.... 1971 میں جنرل یحییٰ کا مارشل لا پاکستان کے دولخت ہو جانے پر منتج ہوا تو ہمارے حکمران جرنیل نے ری پبلکن صدر نکسن سے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں جو اگرچہ پوری نہ ہوئیں لیکن نکسن اور وزیرخارجہ ہنری کسنجر جنرل یحییٰ کو اپنا دوست قرار دیتے تھے.... اسی ہنری کسنجر نے سویلین وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ایٹمی پروگرام شروع کرنے کی پاداش میں ناقابل فراموش سبق سکھانے کی دھمکی دی.... 1979، 1980 میں افغان جہاد شروع ہوا تو معاً بعد ری پبلکن پارٹی کے ریگن امریکہ کا انتخاب جیت کر صدر بن گئے.... جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءکو نئی زندگی مل گئی.... افغان جہاد امریکہ کی جنگ بھی تھا.... ضیاءالحق نے اس کا خوب خوب فائدہ اٹھایا اور اپنے گیارہ سالہ فوجی اقتدار کی تقویت کا سامان کیا.... 1998 میں پاکستان کے منتخب وزیراعظم نوازشریف نے بھارت کے جواب میں ایٹمی دھماکہ کر ڈالا تو امریکہ نے اگرچہ کھل کر مخالفت کی.... پابندیاں بھی عائد کیں لیکن اس وقت ڈیموکریٹک پارٹی کے کلنٹن صدر امریکہ تھے.... واحد سپر طاقت پر جلال کی کیفیت طاری تھی مگر کچھ اس وقت کے سعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ کے ایما پر اور کچھ اپنے ڈیموکریٹ ہونے کی بنا پر کلنٹن نے قدرے ہتھ ہولا رکھا.... بعد میں جنرل پرویز مشرف نے شب خون مارا تو کلنٹن نے بھارت جاتے ہوئے پانچ گھنٹے کے لئے پاکستان آنے کے باوجود ان سے ہاتھ ملانے سے اغماض برتا.... پھر ری پبلکن پارٹی کے جارج بش دوم صدر بنے تو نائن الیون کی وجہ سے افغان جنگ کا موجودہ دور شروع ہوا.... بش اور مش ایک ہو گئے.... پاکستان کے تمام وسائل امریکہ کی نذر کر دیئے گئے.... پھر جو کچھ ہوا وہ ہماری بدقسمت تاریخ کا تلخ باب ہے.... نوازشریف کا تیسرا منتخب دور بھی پہلے دو کی مانند اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکا.... طاقتور عناصر ہمیشہ کی طرح غالب آ گئے.... اب نیم سویلین نیم فوجی حکومت کا تجربہ آزمایا جا رہا ہے.... اسی کے تحت 2018کے انتخابات ہوئے.... عمران خان وزیراعظم بنے.... امریکہ میں ری پبلکن پارٹی کے موجودہ صدر ٹرمپ کی دعوت پر واشنگٹن گئے.... صدر ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کا وعدہ کیا عمران خان خوشی سے پھولے نہ سمائے.... جوش اور جذبے کے ساتھ وطن واپس لوٹے اسی اثناءمیں ہمارے آرمی چیف جنرل جاوید قمر باجوہ بھی وہاں کے دورے پر تھے.... پینٹاگان ( امریکہ کی وزارت دفاع کا مرکز) میں موصوف کے استقبال میں سرخ قالین بچھا دیا گیا.... افغانستان پر معاملات طے ہوئے.... کشمیر پر ثالثی کی ٹرمپ پیشکش مگر جھانسا ثابت ہوئی.... 5 اگست 2019 کو نریندر مودی طاقت کے زعم میں ریاست جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت ختم کر کے اسے آئینی لحاظ سے بھی بھارت کے اندر ہڑپ کر لیا.... امریکہ نے ایک لفظ نہ کہا.... تاہم افغانستان سے امریکی افواج کا پُرامن انخلا شروع ہو چکا ہے.... اب نگاہیں 3 نومبر کے انتخابات پر ہیں اگر ری پبلکن پارٹی کے ٹرمپ دوبارہ کامیاب ہو جاتے ہیں تو عمران جمع قمر جاوید باجوہ اقتدار کے وارے نیارے ہوں گے....


ای پیپر