کلامِ نرم ونازک بے اثر
27 ستمبر 2020 (13:33) 2020-09-27

 ستمبر! آیا اورگز رگیا۔ ڈاکٹر عافیہ کی 86 سال قید تنہائی کی سزا کے 10 سال مکمل ہوگئے۔ جرم بے گناہی پر تین بچوں کے ساتھ دن دہاڑے 2003ءمیں اٹھائی گئی۔ یوں اسے ہم نے ساڑھے سترہ سالوں سے بے یار ومددگار گلوبل ولیج کے چودھریوں کے باڑے میں چھوڑ رکھا ہے۔ یہ ریکارڈ سزا ہے جو ایک منحنی سی پاکیزہ خاتون، صحیح معنوں میں صنف نازک کے حصے میں آئی ہے۔ اس دنیا میں جہاں بڑے بڑے قاتل دندناتے پھرتے ہیں۔ مودی، بشارالاسد، نیتن یاہو، امریکی صدور جیسے۔ خود پاکستان میں کراچی میں 70,80 قتل کرنے والے، 400 قتل (بذریعہ پولیس مقابلے) کا مرتکب راو¿ انوار موجود ہے۔ مگر عافیہ کو حوالہ¿ کفر کرنے کا جرم خود ہمارے اداروں، حکومتوں کا ہے۔ اس کے ایک بچے کا خون، ساڑھے سترہ سالوں کی آہیں اور کراہیں سب میں ہمارا حصہ ہے۔ ایک عورت پر ملک کے اندر ظلم ہوا، (گجرپورہ) تو بجا طور پر پورا ملک ہل گیا۔ بینرز لہراتے غم وغصے کا اظہار کرتے خواتین سڑکوں پر نکل آئیں۔ کیا ڈاکٹر عافیہ کی پاکستانی شہریت منسوخ ہوچکی ہے؟ وہ جس جیل میں رکھی گئی ہے، اس کا نام ہی دہشت کدہ (ہاو¿س آف ہارر) ہے۔ جو عورت پر تشدد کے لیے بدنام ہے۔ پاکستان کی بیٹی کا مقدر! مگر کیا کیجیے کہ وزیر برائے حقوق انسانی، محترمہ شیریں مزاری نے بہن، بیٹی والے احساس، شرمسار کردینے والے تصور پر قومی اسمبلی کی تقریر میں شدید بوچھاڑ کی۔ ’مت کہیے کہ بیوی، بیٹی ماں ہے۔ عورت کو صرف عورت کی حیثیت سے عزت دینے کی بات کریں‘۔ یہ ان کا اعتراض ہے۔ سو پاکستانی مردوں کا یہ محمد بن قاسمؒ ہونے والا جذباتی رشتہ تو ختم ہوا۔ کہ وہ ڈاکٹر عافیہ کو بہن، بیٹی اور ایک ماں ہونے کے ناطے رہا کروانے کا غم کھائیں۔ صرف عورت باقی رہ گئی (گجرپورہ والی) ! گزشتہ 20 سالوں میں پلوں کے نیچے سے جو خون رنگ پانی بہا وہ پہلے ہی ڈیڑھ ارب امت کو بے حس کرچکا ہے۔ جو حساس تھے وہ گھربار چھوڑکر دیوانہ وار نکلے تو راستے میں راو¿ انوار مل گیا۔ کہانی ختم ہوگئی۔ باقیوں کو سبق ہوا اور وہ کالی اسکرینوں میں غم غلط کرتے جہاں آج کھڑے ہیں وہاں تسلی دینے کو وزیر صاحبہ کا بیان مزید کافی ہے۔ سو ڈاکٹر فوزیہ! جہاں آپ نے تنہا یہ جنگ لڑی، سسکتے، اپیلیں کرتے حکومت کو 159 خطوط بھیج چکیں۔ کسی کان پر جوں تک نہ رینگی! ایک یوم قتل انصاف اور آیا اور گزر جائے گا۔ تحریک انصاف بھی آپ کی بہن کو انصاف نہ دلا سکی! ہمارے ضمیر کو کچوکے لگاکر شرمسار نہ کریں۔

 پاکستان کے مقدمات یوم حشر جب کھلیںگے تو ایک مکمل Planet ، سیارہ بھر زمین درکار ہوگی اس کے کھاتوں کے لیے۔ ظلم، جبر اور ناانصافی کی خوں رنگ داستانوں کے لیے۔ خوش پوش خوش لباس، مہذب چہروں کے پیچھے کلبلاتے ہولناک کارناموں کے لیے۔ گھٹ گھٹ کر زندہ درگور ہزاروں خاندانوں کی فائلوں میں دبے کیسوں میں دربدر ہونے والوں کی کہانیوں کے لیے۔ وہ دن تو آنا ہے۔ ویل یومیذ للمکذبین۔ تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے! ’جب قبروں میں جو کچھ (مدفون) ہے اسے نکال لیا جائے گا اور سینوں میں جو کچھ (مخفی) ہے اسے برآمد کرکے اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔‘ (العادیات۔ 9,10) ساری سیکولرزم دھری کی دھری رہ جائے گی۔ اندازہ کیجیے حقوق انسانی کے غلغلوں بیچ عافیہ کا 4 سال سے خاندان سے رابطہ منقطع ہے۔ فون تک نہیں میسر! گجرپورہ پر آپ رو دیے؟ ہاں یقینا وہ اذیت ناک تھا۔ مگر عافیہ جیل در جیل رلتی رہی۔ اس پر برہنہ کرکے تشدد کیا جاتا تلاشی کے نام پر۔ ایٹمی پاکستان کی کیا اوقات رہ گئی۔ قرآن اس کے قدموں میں لاکر ڈال دیا جاتا رہا اسے ہلا مارنے کو! قوم بے حس ہوچکی! کالی اسکرینوں نے نوجوانوں (جو قوم کا سرمایہ ہوا کرتے ہیں) کی آنکھوں سے حیا اور سینے سے غیرت چھین لی۔ اب ان کا خون سرد اور زرد ہوچکا۔ اس میں ابال نہیں آتا۔ ہاں موبائل کھو جانے پر تڑپ اٹھتے ہیں! عذاب کے کوڑے امریکا پر برس رہے ہیں قہر بن کر۔ کورونا نے دنیا میں سب سے بڑا ہدف امریکا ہی کو بنایا ہے۔ عافیہ کے سینے سے اٹھنے والی آہوں کے شرارے ایکڑوں زمین پر امریکا میں آگ بھڑکا کر بھسم کرچکے ہیں۔ سمندری طوفانوں کے تھپیڑے سنبھلنے کا موقع نہیں دے رہا۔ اسی کے ہمراہ زہریلے مچھروں کی یلغار نے مویشی مار ڈالے۔ معیشت تباہ ہورہی ہے۔ بے قراری بے سکونی کے ڈیرے ہیں۔ خودکشی میں 10-24 سال کی عمر میں 57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ وزیر صاحبہ کا صرف عورت ہونے کا بیانیہ .... ماں، بہن، بیٹی نہیں! یہ مغرب کا بیانیہ ہے۔ وہاں یہ رشتے مٹ گئے۔ صرف غیرذمہ دار، خودپرست، آزادی کی ماری ہوئی عورت رہ گئی۔ مامتا کا شفیق لمس، بہن کی پاکیزہ محبت کی نرمی اور مٹھاس، بیٹی کی تھکے اعصاب کو تازہ دم کردینے والی خدمت گزاری۔ ان رشتوں سے تشکیل پانے والا گھر کو سکینت مو¿دت رحمت کدہ بنا دینے والا نظام زندگی! سبھی کچھ جدیدیت، لبرل سیکولر اقدار کے جنگل میں کھویا گیا۔بھیڑیے اور خنزیر بستیوں آبادیوں پر حملہ آور ہوگئے!

 انقلاب حیات کیا کہیے

آدمی ڈھل گئے مشینوں میں

 اور مشین کے سینے میں دل نہیں ہوتا!

پاکستان کے اپنے جھگڑے بہت ہیں۔ حکومت جس بل کی منظوری پر پھولے نہیں سما رہی وہ فیٹف بل ہے۔ یہ کیا ہے؟ فٹے منہ اور فٹافٹ کا مخفف ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ پاکستان کے گرد معاشی شکنجہ کس کر فٹافٹ عوام کا بھرکس نکالنا، دہشت گردی کے خطرات (خطرہ انہیں لاحق ہے ہر مسلمان سے!) سے محفوظ رکھنے اور دیگر ضمنی مقاصد جس کی تکمیل کے لیے دیگر عالمی ادارے فیٹف کے پیچھے قطار باندھے چلے آتے ہیں۔ جن کے مطالبات کی فہرست میں توہین رسالت قوانین کے خاتمے/ نظرثانی سرفہرست اور قادیانیت نواز سہولتوں کی فراہمی مزید ہے۔ اہل دین کے فلاحی ادارے مدرسے ہسپتال مساجد بند۔ نصاب تباہ۔

 دہشت گردی کے جملہ حقوق بڑی طاقتوں کے نام محفوظ ہیں۔مسلمان سر جھکاکر میزائل کھائے، گرتے گھروں تلے دب کر مرے، ان کے سارے ملک اجاڑ دیے پھر بھی دہشت گرد مسلمان ہی ٹھہرے۔ ساری کہانی فیٹف کی مالیاتی نظام کو شفاف رکھنے کی ہے اور ہم گرے لسٹ میں ہیں! ملین ڈالر سوال تو یہ ہے کہ امریکا اور 49 ممالک نے کھرب ہا کھرب ڈالر افغانستان (عراق اور شام بھی) کی تباہی میں بہائے مگر یہ کرتوت شفاف، دودھ میں دھلے تھے؟ طالبان! ہینگ لگی نہ پھٹکری، کسی نے ڈالر تو کیا روپیہ نہ دیا۔ منی لانڈرنگ تو کیا، اپنے جوڑوںکی لانڈرنگ جتنے پیسے بھی نہ تھے، مگر تمہیں خالی ہاتھ ناکوں چنے چبوا دیے؟ ٹرمپ نے 18 ستمبر کی پریس بریفنگ میں کہا، طالبان بہت سخت جان، چست وچالاک اور تیزطرار، ہوشیار ہیں! ذرہ نوازی ہے جناب آپ کی! ورنہ مومن کی تو تعریف ہی ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی ہے کہ: ’مومن کی فراست سے ڈرو، وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے‘۔ ( امریکی عالی شان یونیورسٹیوں، تربیتی اداروں، تھنک ٹینکوں کی دانشوری رائیگاں ہوئی!) اور آپ کا بھروسا نائٹ وژن عینک پر تھا جو دھوکا دے گئیں۔ آج وہ بھی مال غنیمت میں طالبان کے پاس ہیں اور ٹرمپ کہہ رہا ہے، 8 ہزار میل دور، 19 سال تک لڑنا! بس بہت ہوگئی! ہم بہت جلد اپنی تعداد 4 ہزار فوجیوں سے کم پر لے آئیںگے۔ موازنہ کرلیجیے طالبان کا فیٹف کے آگے ہتھیار ڈالتے ایٹمی پاکستان سے، شرمناک اسرائیلی معاہدوں میں بندھتے مسلم ممالک سے!

بھانڈے تو ٹرمپ پھوڑتا ہے یہ کہتے ہوئے پریس بریفنگ میں کہ: ’کویت ان معاہدوں پر بہت خوش اور پرجوش ہے اور وہ بھی بہت جلد شامل ہوجائے گا۔ میرے سامنے 7,8 ممالک ہیں جو اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں بہت جلد، بہت آسانی سے! کسی کو گمان نہ تھا کہ ایسا ممکن ہے! مشرق وسطی ٹھیک ہوتا جارہا ہے۔ ہم شام سے بھی نکل آئے ہیں لیکن وہاں کا تیل ہمارے پاس ہے اور اس پر امریکی فوجی تعینات ہیں!‘ سو یہ ہے مسلمانوں کے خون اور سیال دولت (تیل) کی کہانی! میرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازی! امیر کویت کو اعلیٰ ترین عسکری ایوارڈ امریکا نے دیا ہے۔ خونخوار اسلام دشمنوں سے ایوارڈ، اعزاز نہیں ہوا کرتا! اللہ کے ہاں بھی سفید، گرے اور کالی لسٹ ہے۔ دشمن کے ہاں شفاف/ سفید ہوتا اللہ کے ہاں روسیاہ ہوجایا کرتا ہے۔ یہ ربانی پیمانے ہیں چند روزہ زندگی کے اسیروں کی سمجھ سے باہر! مرد ناداں پر کلام نرم ونازک بے اثر! اسرائیل نے فوری غزہ پر حملہ کرکے امت کو روسیاہی دے ڈالی۔ فلسطینی، گرے گھروں زخمی عورتوں بچوں کو لیے عرب حکمرانوں کے منہ تکتے رہ گئے!


ای پیپر