نوجوان نسل کو حب الوطنی کا سبق دینا ہوگا
27 ستمبر 2020 (13:20) 2020-09-27

دنیا آج گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ کسی گھر میں بیٹھے شخص تک پہنچ ممکن ہے۔اگر کوئی ذہن کسی چیز کے بارے میں کلیئر نہیں ہے۔تو وہ کسی کارندے کا آلہ کار بننے کا آسا ن ہدف ہوتا ہے۔دنیا کے کسی بھی خطے کی کوئی بھی انفارمیشن اب سوشل میڈیااور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے حاصل ہورہی ہے۔یوں دشمن کے لیئے اپنے حریف کو تباہ کرنے کے لیئے میدان میں جنگ لڑنے یا فضاﺅں میں جنگی جہاز اڑانے کی ضرورت ہی نہیں رہی ہے۔وہ جھوٹی خبر کو ٹارگٹ آبادی تک انفلوئنس influenceکرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرلیتا ہے۔ اس خطہ کی جمہوریت کو سبوتاڑ کرتاہے اور معاشرتی اقدار کو تباہ کرتا ہے۔

پاکستان کا عیار دشمن اس ملک کی فوج کو اپنا ٹارگٹ سمجھتا ہے۔اس کی جانب سے پاک فوج کے خلاف یہاں کے لوگوں میں بے چینی پید ا کی جارہی ہے۔جمہوریت کے حوالے سے غلط مفروضے پیش کرنے کے بہانے افواج پاکستان کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔او ر پاکستانی عوام کے ذہنوں میں شکوک و شہبات پیدا کیئے جارہے ہیں۔

پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے۔جہاں نوجوانوں کی آبادی 60%ہے۔ اس ملک میں 5کروڑ بچے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں جارہے ہیں۔ہمارا دشمن ان نوجوانوں اور معصوم بچوں کے ذہنوں کو استعمال کرکے لڑے بغیر جنگ جیتنا چاہتاہے۔ نوجوانان وطن کو آج اندرونی بیرونی سرحدی صورت حال کے بارے میں درست آگاہی کی ضرورت ہے۔انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ پاک سرزمین کے دشمن کس قسم کا خطرناک کھیل رہے ہیں۔اس گھناﺅنے کھیل کے لیئے بھارت ہزاروں ڈالر پاکستان کے خلاف خرچ کررہا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ پاکستانی نوجوان کو اکسا کر اپنے ملک کے خلاف ہی بھارت کی کاروائیوں کا حصہ بناسکے۔کبھی وہ زبان نظریہ کی بنیاد پر انار کی 

پھیلاتا ہے۔ کبھی یہاں کے لوگو ں کو اپنے دفاعی ادارے کے خلاف نفرتوں کا ایندھن بنانے کی کوشش کرتا ہے۔اور کبھی سندھی ، مہاجر، بلوچی ، پنجابی کارڈز کو ہوا دیتا ہے۔ بلوچستان میں بلوچی تحریک ہو یا کوئی علاقائی تنظیم انہیں بھی سازشوں کی آگ میں لپیٹ لیا جاتا ہے۔

اس وقت دنیا ففتھ جنریشن وار فیئر میں ہے۔ایک دوسرے کے خلاف انفارمیشن کا استعمال کرکے جنگ کو لڑا جاتا ہے۔ ان جنگوں کی روایات بھی تبدیل ہوچکی ہیں۔مثال کے طور پر جس طریقے سے روایتی جنگ میں جانے کے لیئے آپریشن کی تیاری کی جاتی ہے۔بالکل اسی طرح اب جو جنگ لڑی جاتی ہے۔ اس میں سب سے پہلے ٹویٹراکاﺅنٹس لاﺅنچ کرنے ہوتے ہیں۔تاکہ آپریشن شروع کرنے سے پہلے ساکھ اور اثر ورسوخ حاصل کیا جاسکے۔ اور زمینی سیاسی حقائق کا اندازہ بھی ہوسکے۔آپ کو معاشرتی خرابیوں کا ادراک ہونا چاہیے۔آپ کو پتہ ہو کہ کن لوگوں کو بے وقوف بناکرآپ اپنے مقاصد کے لیئے استعمال کر سکتے ہیں۔ پھر آپ ان میں آپریٹر ز کی مدد سے جھوٹا پراپیگنڈہ پھیلا سکتے ہیں۔ پرامن معاشرے میں افراتفری پھیلاسکتے ہیں۔یا د رہے کہ کوئی نیا تنازع یا جھگڑا بنانا مشکل کام ہوتا ہے۔ جبکہ پہلے سے موجود کسی ایشو کو بڑھاوا دینابہت آسان کام ہوتا ہے۔

اس تناظر میںدیکھا جائے تو اس وقت بدقسمتی سے پاکستان میں مسلم لیگ ن اور اپوزیشن پارٹی کے رہنما بھارتی مکروہ ایجنڈے کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ابھی آل پارٹی کانفرنس میں نواز شریف نے کس طرح اس ملک کے ریاستی ادار ے پاک فوج کے خلاف زہر اگلا ہے۔وہ بھارتی میڈیا کی ہیڈلائنز بنا ہے۔اور پاکستان میں نوجوانوں کے ذہنو ں کو پراگندہ کیا گیا ہے۔افراتفری کی کیفیت پید ا کی گئی۔ ملک کے ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو تہس نہس کیا گیا۔ان کا مقصد پاک فوج کو نشانہ بنانا تھا۔اس ادارے کو بدنام کرکے بھارت اپنا مشن پورا کرنا چاہتا ہے۔افواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ نے دوٹوک کہا کہ پاکستانی قوم اور افواج پاکستان کی باہمی محبت غیر متزلزل ہے۔دشمن اس محبت کو شکست نہیں دے سکتا ہے۔ کیونکہ پاکستانی قوم اپنی افواج سے لازوال اور اٹوٹ محبت رکھتی ہے۔

بھارت اور امریکہ مشترکہ مشن پر کام کررہے ہیں۔انہیں سی پیک ایک آنکھ نہیں بھاتا ہے۔وہ سی پیک کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے کرتے رہتے ہیں۔پاکستان کے یہ دشمن پاک چین دوستی کو بھی پسند نہیں کرتے ہیں۔بلاشبہ سی پیک کا منصوبہ پورے ایشیا کے لیئے نعمت ہے۔لیکن انڈیا اس کو ایسے نہیں دیکھتا۔بھارت اس کو غیر مستحکم کررہا ہے۔اس کے لیئے وہ پاکستانی طالبان کو استعمال کررہا ہے۔وہ بارڈرز پر شرپسند عناصر کو بھی استعمال کررہا ہے۔وہ ان باغی لیڈرز جو میرے نزدیک دہشت گرد ہیں۔ بھارت ان کو شہریت دینا چاہتا ہے۔سیاسی پناہ دے کر ان کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔مودی ایک جنگی جنونی انسان ہے۔وہ خطے میں جنگ کے بہانے تلاش کررہا ہے۔اگر ایسا ہوا تو انشااللہ انڈیا کو منہ کی کھانا پڑے گی۔بھارت درحقیت پاکستان اور چین کی دوستی میں دراڑ ڈالنے کی سازش میں کامیاب ہونا چاہتا ہے۔مگر وہ اس میں بھی کامیاب نہیں ہوسکتا ہے۔

اس موقع پر اب یہ ذمہ داری پاکستان کے ہرشہری پر آتی ہے۔فیس بک،ٹویٹرچینل،وٹس ایپ میں پھیلایا جانے والا شرپسند مواد جس کا تعلق نظریہ پاکستان یا پاکستانی افواج کے خلاف ہو اس کا ڈٹ کر جواب دینا ہے۔بلکہ ہم سب اپنے آپ کوکلمہ طیبہ کی بنیا د پر حاصل کیئے گئے اس ملک کا سپاہی سمجھیں۔جو جذبہ ایمان کی دولت سے مالا مال اور سوشل میڈیا کے ہتھیار سے لیس ہے۔ہمار ا مقصد اپنے ملک کی حفاظت کرنا ہے۔اپنی دلیرj اور غیور افواج پاکستان کا بھر پور ساتھ دینا ہے۔

 پاکستان زندہ باد،

افواج پاکستان زندہ باد۔


ای پیپر