اسلحے کا جنونی بیوپاری
27 ستمبر 2020 (13:06) 2020-09-27

بھارت کی چین اور پاکستان سے کشیدگی میںمسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کے تناظر میں دہلی دنیا بھر سے ہتھیارجمع کرنے میں مصروف ہے پہلے بھی خطے میں ہتھیاروں کا بڑا خریدار تھا اب نئی کشیدگی کی بناپر ہتھیارجمع کرنے کا جنون تیز ہو گیا ہے جس کی وجہ سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ خارج ازامکان نہیں حالانکہ بھارتی معیشت کوتاریخ کے بدترین زوال کا سامنا ہے اور معاشی پہیہ چلانے کے لیے حکومت کامزید قرضے لینا ناگزیرہے بڑی تعداد میںصنعتوں کی بندش اورمہنگائی و بے روزگاری نے معاشی ترقی کو بریک لگا دی ہے کاروباری مواقع کم ہوگئے ہیںلیکن حکومت کو کسی قسم کی پرواہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کو لاحق ایسے خدشات کا حل تلاش کرنا زیادہ اہم ہے جو جنونی قیادت کے اپنے پیدا کردہ ہیں فرانس سے رافیل طیاروں کے حصول سے بھارتی قیادت کو نیا حوصلہ ضرورملا ہے مگر یہ حوصلہ عوام کی بجائے صرف حکمرانوں اور میڈیا تک محدود ہے جو دھمکی آمیزلہجے میں ہمسایوں کو للکارنے لگے ہیں مگر جنگیں صرف طیاروں سے نہیں جذبے سے لڑی جاتی ہیں جس سے بھارتی فوج محروم ہے پاکستان نے ایک سے زائد بار محدود وسائل کے باوجود بھارتی برتری خاک میں ملائی ہے جبکہ چین کو تو فوج اور ہتھیاروں کے حوالے سے واضح برتری ہے پھربھی معیشت کو بھول کر ہتھیاروں کے حصول پر توجہ عقل سے باہر ہے میدانِ جنگ میں ہونے والی ہزیمت کا بدلا غریب عوام کو بھوکا مارنا دانشمندی کے منافی ہے۔ 

اسرائیل سے جدید ترین ہتھیارخریدنے کے ساتھ مشترکہ تیاری کے دہلی نے کئی معاہدے کر رکھے ہیں جبکہ امریکہ سے بھی دھڑا دھڑ اسلحہ خریدا جا رہا ہے برطانیہ سے تین شعبوں جنگی سامان کی فراہمی،نقل و حمل اور تربیت میں تعاون کا معاہدہ کرنے کے ساتھ مزید شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے دونوں ممالک جائزہ لے رہے ہےں دفاعی معاہدے فرانس ،اسرائیل،امریکہ اور برطانیہ تک ہی محدود نہیں بلکہ آسٹریلیا،جنوبی کوریا،سنگاپوراور جاپان سے بھی ہیں میزائل کلب کی رُکنیت کے بعد میزائل کی صنعت کو جدید سے جدید تربنانے کے لیے دن رات کوشاں ہے مگر اتنی بھاگ دوڑ کے بعد یہ تصور کر لینا کہ بھارت کو اپنے ہمسایوں چین اور پاکستان پر برتری مل گئی ہے غلط ہے میدان جنگ میںملنے والی پہ درپہ سُبکی کے تناظر میں ایسے تصورات خاصے احمقانہ معلوم ہو تے ہیں لیکن اگر سرحدی تنازعات کو طے نہیں کیا جاتا تو مستقبل میں بھی سبکی کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

بھارتی فوج کوکئی چیلنجز کا سامنا ہے ملک میں دودرجن سے زائد علیحدگی کی تحریکیں جاری ہیں جن کی بڑی وجہ محرومیاں اور نا انصافی ہیں لیکن کسی حکومت نے آج تک محرومیوں اور نا انصافیوں کوختم کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ انتخابی کامیابی کے لیے اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کرنا مجرب نسخہ سمجھ لیا ہے 

جس کی بنا پر علیحدگی کی تحریکیں ختم ہونے کی بجائے زورپکڑ رہی ہیں یوں بھارت کی تقسیم کا امکان بڑھ گیا ہے اِن حالات میں اسلحے کا جنون بہت عجیب ہے لیکن لگتا ہے اسلحے کے جنونی بیوپاری کو سرحدی تنازعات کو حل کرنے اور محرومیاں وناانصافی ختم کرنے سے ملک کی ٹوٹ پھوٹ بہتر لگتی ہے۔

بھارت کے پاکستان،چین اور نیپال سے سرحدی تنازعات میں گزشتہ چند ماہ سے شدت اور کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں کو ختم کرنے کے لیے بھارت نے آٹھ لاکھ فوج جھونک رکھی ہے مگر گزشتہ برس پانچ اگست کو خصوصی حیثیت کے خاتمے سے سیاسی جدوجہد عسکریت پسندی میں تبدیل ہو سکتی ہے لیکن امن قائم کرنے کی بجائے بھارت اسلحے کا جنونی بیوپاری بن گیا ہے 1962کی جنگ بندی کے معاہدے کی رو سے اقصائے چین پر چین کا حقِ ملکیت تسلیم کر چکا پھر بھارت کیوں جارحانہ پالیسی پر کاربند ہے اگراسلحے کا جنونی بیوپاری ہتھیاروں کی خریدکم کردے تو کروناوبا سے بے روزگار ہونے والے دس کروڑ افراد کو روزگار دے سکتا ہے ویسے بھی بھارت کی سالانہ معاشی نمو، فوجی اخراجات، جنگی سازوسامان اور عالمی تجارت کا حجم اِس قابل نہیں کہ بیک وقت پاکستان اور چین سے طویل مدت کے لیے جنگ لڑ سکے 1962 میں چین اور 1965میں پاکستان سے ہونے والی سرحدی جھڑپیں اِس امر کا واضح ثبوت ہیں۔

مشرق میںارونا چل پردیش کا نوے ہزارکلو میٹراور مغرب میں اقصائے چین کا 33000 کلومیٹر کا علاقہ چین اور بھارت کے درمیان وجہ تنازع ہے اِن علاقوں پر دونوں ملک اپناحقِ ملکیت جتاتے ہیںکشمیر کی خصوصی حثیت کے خاتمے کے بعد چین نے درشت رویہ اپنالیاہے کیونکہ بھارت کے سی پیک پر تحفظات اور مخالفت کوئی ڈھکی چُھپی نہیں چین کو خدشہ ہے کہ امریکی شہ پر بھارت سی پیک کو ناکامی سے دوچار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سازش کر سکتا ہے جس سے خطے کا امن تہہ بالا ہونے کے ساتھ چین کی معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ آ سکتی ہے اِس لیے جوابی حکمتِ عملی کے طور پر اقصائے چین میں فوجی موجودگی بڑھائی گئی ویسے چین کو لاحق خطرات میں بھارتی عسکری قوت کا کوئی حصہ نہیں بلکہ جب چاہے بھارت کی گردن دبوچ سکتا ہے مگر فوجی تنازعات میں الجھنے سے زیادہ اُسے معاشی نمو میں اضافے سے دلچسپی ہے اسی بناپر پندرہ جون کوبھارت کے بیس فوجی مارنے کے باوجود کشیدگی میں اضافہ نہیں کیا لیکن بھارت امریکہ بڑھتی قربت پریشانی کا باعث ضرور ہے ۔

چین اور بھارت کے درمیان1962 میںہونے والی میں ایک ماہ کی مختصرمدت کی سرحدی جھڑپوں کے بعددونوں ممالک کی حدود کے بارے میں نقشوں سے وضاحت کی گئی جسے لائن آف ایکچوئل (LAC)کانام دیا گیا لیکن دونوں ممالک کے تحفظات مکمل ختم نہیں ہو سکے بلکہ نیپال کو بھی شدید اعتراضات ہیں چین کی طرف سے مشرقی اور وسطی سے زیادہ مغربی سیکٹر پر زیادہ توجہ دینے کی کئی وجوہات ہیں بڑی وجہ بھارت امریکہ بڑھتی گرمجوشی ہے کیونکہ امریکہ چین کی معاشی ترقی روکناچاہتاہے علاوہ ازیں چین سے فاصلہ رکھنے والے ممالک سے بھارت کے بڑھتے مراسم ہیں جس کا ماہرین مطلب یہ لیتے ہیں کہ چاہے بھارت چین کی ہم پلہ فوجی طاقت نہیں لیکن امریکہ کی چین کے اردگردممالک سے بڑھتی دلچسپی کا بھرپورادراک ہے جاپان جنوبی کوریااور تائیوان امریکہ کے زیرِ اثر ہیں علاوہ ازیں بحرالکاہل کا مغربی ساحل بھی چین کے لیے بہت اہم ہے بھارت سے سختی سے پیش آکر چین اصل میں امریکہ کو پیغام دے رہا ہے کہ وہ اُسے چھیڑنے یا گھیرنے سے باز رہے چین کے لیے ساﺅتھ چائنہ سی کی بھی بڑی اہمیت ہے جہاں امریکیوں کی مداخلت ناگوارگزرتی ہے مگر بھارت کا چین کوللکارنا،مقابلے کی تیاری اور اسلحے کے انبار جمع کرنے سے چین کو پریشانی نہیں مگر اسلحے کا جنونی بیوپاری پاکستان کوزک پہنچانے کی کوشش کر سکتا ہے جس سے پاکستان کو محتاط رہنے کی اشد ضرورت ہے عین ممکن ہے چین سے ہزیمت کا بدلاوہ پاکستان کو نقصان پہنچاکر برابر کرعوام کی نظروں میں سرخرو ہونے کی کوشش کرے۔


ای پیپر