نمبر ہزار....پھر بھی نہ ملے قوم کو معمار!
27 ستمبر 2020 (13:03) 2020-09-27

ہر سال طلبہ کے آتے ہیں نمبر کئی ہزار 

پھر بھی کیوں نہیں ملتے اس قوم کو معمار 

پورا تعلیمی نظام ہے طبقات کا شکار 

بچے سارے لگتے ہیں گویا ذہنی بیمار

پڑھائی اور لکھائی سے ہر لمحہ لاچار

سکول اکیڈمی کے سوا کچھ نہ کرے سرکار 

 اس تعلیمی عمل کا بس رٹا ہے ہتھیار

جس نے ہزار سے کم لیے عتاب کا شکار 

آدھے تیتر آدھے بٹیر جب ہوجائیں تیار 

اسی لیے تو قوم کو ملتے نہیں معمار

ابھی حال ہی میں ایک بار پھر میٹرک کے نتائج کا اعلان کیا گیا ہے اور اس بار بھی بچوں نے حسب سابق بڑے اچھے نمبر حاصل کیے ہیں ہر سکول فخر سے اپنے کامیاب طلبا کی تصویروں والے پوسٹر لگا رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ٹی وی چینلز ریٹنگز کی دوڑ میں کچھ بھی کر گزرتے ہیں ہمارے سکول اور اکیڈمیاں بھی بالکل اسی طرز پربچوں کے نمبروں کی تشہیر کرکے مارکیٹنگ کرکے کاروباری نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس سارے عمل کا دارومدار بچے پر ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس سارے عمل میں سب سے زیادہ نقصان بھی بچے کا ہی ہورہا ہے۔ آخر کیوں؟ کیوں ہم نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ بچے کو اس کی صلاحیت کے برعکس پڑھانا ہے اس کا رحجان جو بھی ہو وہ بھاڑ میں جائے اس نے ہر حال میں 1000 سے زیادہ نمبر لینے ہیں۔ پھر اتنے نمبر لے کر اور میڑک میں اتنی پوزیشن لینے والے بچوں کو دوبارہ کہیں نہیں دیکھا کہ ان میں سے کوئی موجد، سائنس دان، ادیب بنا ہو۔ بلکہ ہم نے تو بچے کو نمبروں کی مشین بنا دیا ہے جو احساسات سے عاری ہے۔ 

یاد رکھیں! ہم نمبروں کی جس دوڑ میں بھاگ رہے ہیں اس کی کوئی منزل نہیں ہے اور یہ ہمارے بچوں میں احساسِ کمتری پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں کر رہی۔ خود سوچیں صبح سکول ،واپس آکر ٹیوشن اکیڈمی اور رات کو ہوم ورک کرنے والے بچے کی تربیت کس وقت ہوگی وہ تخلیقی کام کس وقت کرے گا؟ اگر پندرہ سال کا بچہ چودہ گھنٹے کتابوں کو رٹا لگانے میں گزار دے گا تو اس کی ذہنی و جسمانی نشوونما کیسے ہوپائے گی؟۔ خیر میٹرک کا مرحلہ تو طے ہوہی جاتا ہے پھر انٹرایک مصیبت کی شکل میں سامنے آجاتا ہے۔ اس وقت بچے پر سکول اکیڈمی، اساتذہ معاشرے کا اتنا دباﺅ ہوتا ہے کہ وہ یا تو احساس کمتری کا شکار ہوجاتا ہے یا احساس برتری کا ایک نارمل انسان 

نہیں بن پاتا۔ اللہ نے ہر بچے کو مخصوص صلاحیت دے کر بھیجا ہے لیکن ہم ادب کا شوق رکھنے والے کو بھی زبردستی سائنس رٹواتے ہیں اور سائنس بھی ایسی پڑھاتے ہیں کہ خود سے وہ کوئی نئی ایجاد کے قابل نہ رہے۔ بعض بچے اتنے حساس ہوجاتے ہیں کہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ یار رکھیں گھوڑے گدھے برابر نہیں ہوتے، تو پھر ہم کیوں ایک پوری نسل کو ایک ہی چیز رٹنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ چلو نمبر آبھی جائیں تو باہر کون سی نوکریوں کے انبار ہیں پھر یہی انجنیئر، ڈاکٹر، سافٹ وئیر ایکسپرٹ ریڑھیاں لگا رہے ہوتے ہیں، اوبر کریم چلا رہے ہوتے ہیں یا ڈیلیوری بوائے کی جاب کرتے ہیں۔ 

یاد رکھیں! ہر بچہ اپنے ساتھ کچھ خدا داد صلاحیتیں لے کر پیدا ہوتا ہے مگر ہمارا تعلیمی نظام ان کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔ ہمیں اس وقت اپنے تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانی چاہئیں، تاکہ ہمارا تعلیمی نظام بچے میں چھپی خداداد صلاحیتوں کو پہچاننے کے قابل ہو سکے۔ اس سلسلے میں ہم بہت سے مغربی ممالک میں رائج نظام تعلیم سے استفادہ کر سکتے ہیں جس میں بچے کی پسند اور ناپسند کا خیال رکھتے ہوئے اس کے کیریئر کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ہمیں ایک ایسا تعلیمی نظام ترتیب دینا چاہیے جس میں پرائمری سطح پر ہی بچے کی پسند اور ناپسند دیکھی جائے اور پھر اس کے بعد اس پسند کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے شعبے کا انتخاب کیا جائے۔ فن لینڈ اور جاپان نے تعلیمی شعبے میں صرف اس بات کو مدنظر رکھا ہے کہ بچوں کی تخلیقی صلاحیت زیادہ اجاگر ہو اوران میں تربیت کا پہلو سامنے رہے۔ اپنے تعلیمی نظام کو بہتر اور طلبہ کے لئے آسان و مفید بنانے کے لئے ہمیں دیگر ممالک کے تعلیی تجربوں سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے تعلیمی نظام کو بہتر اور نئی نسل کے مستقبل کو روشن و محفوظ کر سکیں۔

ہمارے نظام کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ایسے طلبہ کے بہتر نتائج دیکھنے میں آئے ہیں جنھوں نے امتحان سے عین پہلے ایسے سوا ل پڑھ لئے جو امتحان میں بھی آگئے برخلاف اس کے وہ طلبہ جو سارا نصاب تو پڑھ چکے سوائے ان دو چار سوالات کے جو امتحان میں آگئے۔قابلیت،صلاحیت،استعداد کی جانچ کے بجائے یہ تو قسمت کی جانچ ہورہی ہے کہ دیکھیں کس کی قسمت ساتھ دیتی ہے؟ 

پاکستان کے مختلف نظام تعلیم، اردو میڈیم ، انگلش میڈیم مل کر بچوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پچھلی ستردہائیوں میں سب سے کم توجہ تعلیم پر دی گئی تاکہ کوئی نئی قیادت سامنے نہ آئے اور مخصوص طبقے لوٹ مار جاری رکھے ، عوام سوئی رہے۔

آخر میں ایک سب سے بڑی غلطی جو ہم کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف کامیاب ہونا سکھاتے ہیں۔ ان کو صرف جیت کا پتہ ہے لیکن وہ شکست کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں۔ کیونکہ والدین انہیں مسئلے کا حل تلاش کرنا نہیں سکھاتے کہ مشکلات کا مقابلہ کس طرح کیا جاتا ہے، ایک نئے ماحو ل میں کس طرح ایڈجسٹ کرنا ہے اور یہی اصل تعلیم اور تربیت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچے ایک اچھی زندگی گزاریں تو انہیں سکھائیں کہ اپنی غلطیوں سے کس طرح سیکھنا ہے؟ یادرکھیں یہی اصل ذہانت ہے اور ہمیں زندگی میں کامیابی سے زیادہ شکست سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے! 

گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں

 وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے


ای پیپر