” آل پارٹیز کانفرنس۔ ایک اچھا شگون “
27 ستمبر 2020 (12:59) 2020-09-27

 ایک پٹھان ٹرین میں سفر کر رہا تھا۔ ساتھ بیٹھی سواریاں گفتگو میں مشغول تھیں۔ایک سواری نے پٹھان کو جاری گفتگو میں شامل کرنے کی خاطر پٹھان سے سوال کیا ” خانصاحب ، پاکستان میں ذات پات کا نظام خاصا رائج ہے۔ کچھ ذاتیں اپنے آپ کو دوسری ذاتوں سے اعلیٰ سمجھتی ہیں۔ آپ کے مطابق کونسی ذات اعلیٰ ہے “ خانصاحب نے کہا ، بھئی سیدھی سی بات ہے ۔ اول ذات ” ©© سیَد“کا کیونکہ وہ حضور کے خانوادے سے ہیں ۔ دوسری ذات ہم” پٹھان“ کا ، باقی سب” خدمَت“ کے لیے ہیں۔اپنے ملک میں موجود حالات دیکھ کر مجھے پٹھان کی بات یاد آتی ہے اور کچھ یوں لگتا ہے کہ اس ملک میں دو ہی ذاتیں اعلیٰ ہیں۔ ایک ذات مقتدر حلقوں کی‘ یعنی ’محکمہ زراعت ‘ کے لوگوں کی اور دوسرے اس ملک کے سیاستدانوں کی۔ باقی سب ”خِدمت کے لیے ہیں “۔ آپ دیکھ رہے ہیں اس ملک میں تحریک انصاف کی حکومت کو دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چلا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت تو نہیں کہنا چاہیے کیونکہ ہمارے ملک میں ایک شخص ہی کل پارٹی ہوتا ہے۔آپ بتائیں کیا صرف نواز شریف ہی مسلم لیگ ’ن‘ نہیں ، تحریک انصاف صرف عمران خان ہی نہیںاور پیپلز پارٹی صرف بھٹو خاندان نہیں۔ بہر طور عمران خان کی حکومت کو اس ملک میں دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چلا ہے۔ اس عرصہ میں اُن کی حکومتی کارکردگی سے اُن کا اور اُن کی جماعت کا ایک characteristic Distinguishing سامنے آیا ہے۔ characteristic  Distinguishing وہ ہوتا ہے جو اُسے اپنے جیسوں سے ممیز کرتا ہے، اور وہ ہے ، ان کی نالائقی اور نااہلی۔ تحریک انصاف کی حکومت میں جدھر بھی نظر ڈالیں ، ایک سے بڑھ کر ایک نالائق نظر آئیگااور اگر کوئی نالائق نہیں اور اس حکومت میں ہے تو وہ ایک بہت بڑا استحصال کرنے والا ہوگایا conflict of interestکا شاہکار۔آپ سوچ رہے ہونگے کہ میں نے اے پی سی (APC) کو اچھا شگون کیوں جانا ہے۔اس لیے کہ میں چاہتا ہوں کہ اس ملک میں کسی حکمران کو smooth sailing نہ ملے۔آپ کے ذہن میں آئیگا کہ اگر کسی حکومت کو smooth sailingنہیں ملے گی تو وہ ملک اور قوم کے لیے کیسے کارہائے نمایاںسر انجام دے سکیں گے۔یہ سب باتیں معصوم اور غیر تعلیم یافتہ قوم کو دھوکہ دینے کے لیے ہیں ۔ اس ملک کی تاریخ کو بغور دیکھ لیں ۔ اس ملک میں یا تو فوجی جرنیلوں نے حکومت کی ہے یا سیاستدانوں نے۔ فوجیوں سے کیا توقعات ، نہ تو اُ س ادارے کاکام کسی ملک پرحکمرانی کرنا ہوتا ہے اور نہ ہی عوام اُنھیں حکمرانی کے لیے لاتی ہے۔لیکن اس ملک کے سیاستدانوں نے جنہیں عوام خود حکومت کرنے کے لیے چنتی ہے اور حکمرانی کے لیے لاتی ہے انھوں نے اس قوم کو مفلسی اور جہالت کے سوا کیا دیا۔ سب کے خاندانوں پر نظر ڈال لیں،سب کے سب اربوں پتی۔

 پہلے میں ارب پتی لکھنے لگا تھا لیکن پھر مجھے خیال آیا، کہاں گھوم رہے ہو ،ارب تو ان کے لیے ایک Peanut ہے ۔ عمران خان کی حکومت نے اس قوم کو سوائے سبز باغ دکھانے اور لاروں کی میٹھی گولیاں دینے کے اور کیا کیا ہے۔ اس کی حکومت میں عام آدمی کی زندگی روز بروز تلخ تر ہوتی جاتی ہے لیکن اس کی صرف اور صرف ایک بات مجھے اچھی لگی ہے اور وہ ہے اس کی اپوزیشن جماعتوں سے متعلق اس کی strategy یا حکمت عملی ۔ انگلش میں کہتے ہیںOffense is the best defense ۔اس نے تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے خلاف موجود نیب کیسز کو تندہی سے آگے بڑھایا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کی نیب ادارے اور اپنے خلاف 

نیب کیسز کو ختم کرانے کی ہر کوشش اور سعی کو کارگر نہیں ہونے دیا۔سب کی سب بڑی سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کی شامیں وکیلوں کے ساتھ کیسز کی تیاری میں اور دن احتساب عدالتوں کے کمروں میں گزرتے ہیں۔آپ کو یاد ہوگا کہ بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی نواز شریف اور اُن کی پارٹی کو جنرل ضیاءکی باقیات سمجھتی تھی اور بطور سیاسی حریف دونوں جماعتیں ایکدوسرے پر کڑی نگاہ رکھتی تھیں لیکن پھر ان ہوشیار سیاستدانوں کو خیال آیا کہ یہ روش دونوں پارٹیوں کے لیے باعث نقصان ہے سو دونوں نے مشترکہ طور پر ایک معائدہ تیار کیا جسے چارٹر آف ڈیموکریسی (COD ) کا نام دیا گیا اور پھر چل سو 

چل۔ان دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے کے خلاف کیسز تو درج کرائے لیکن عملی طور پر ٹھنڈ

پروگرام رہا اور کیسز الماریوں کی زینت بنے رہے۔ بقول چوہدری نثار کے کہ اگر انھوں نے ا ن کیسزکو persue کرنے کی کوشش بھی کی تو بڑے گھر سے پیغام پہنچ جاتا کہ خاموش رہو، تو یوں اس ملک کے لیڈران امیر ہوتے گئے اور عوام غریب تر۔سچ پوچھیں اس ملک کے ہر باشعور انسان کے ذہن میں یہ خیال ضرور آتا ہے کہ یہ کیسی جمہوریت ہے اور کیسا نظام ہے کہ اس کے حکمرانوں میں غریب تو کیا ایک متوسط طبقہ کا آدمی بھی موجود نہیں۔سچ سچ بتائیں کہ اس ملک میں جو نظام حکمرانی بطور جمہوریت کے رائج ہے اُس میں غریبوں کا اور متوسط طبقہ کا استحصال نہیں ہو رہا تو اور کیا ہو رہا ہے۔

 آپ نے دیکھا ہو گا کہ پیپلز پارٹی کے بے تاج بادشاہ زرداری نے بھی عمران خان کی حکومت کی طرف تعاون اور صلح جوئی کاہاتھ بڑھایا ، اسی طرح مسلم لیگ (ن) کی جماعت نے بھی شہباز شریف کے زیر سربراہی تعاون کا ہاتھ بڑھایا لیکن عمران خان کی طرف سے سرد مہری ہی آڑے آئی۔لہذا اب ان دونوں بڑی جماعتوں نے باامر مجبوری مولانا فضل الرحمان کے ساتھ چلنے کو ہی مناسب جانا۔مولانا بیچارہ تو پہلے دن سے ہی مجسم ماہی بے آب کی طرح گھوم رہا ہے۔اب تمام جماعتیں عمران خان کی حکومت کو چین کی نیند نہیں سونے دیں گی ۔ اس کی حکومت کی صرف ایک ہی لائف لائن ہو گی اور وہ یہ کہ اپنے ارب پتی مصاحبوں کی خوشحالی کا نہیں بلکہ اس ملک کے غریب اور لاچار عوام کی خوشحالی کا سوچے، لیکن صرف زبانی کلامی نہیں ورنہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تو تیار بیٹھی ہے۔اس ملک کے غریبو ، اپنے ملک کے ارب پتی حکمرانوں کو چین کی ایک رات بھی نہ سونے دینا۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔


ای پیپر