حکمرانوں کو آگاہی اور آگہی کی ضرورت ہے
27 ستمبر 2020 (12:56) 2020-09-27

کسی زمیندار کی بھینس نے دودھ دینا بند کر دیا، زمیندار بڑا پریشان ہوا ، اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا، ڈاکٹر نے ٹیکے لگائے لیکن کوئی فرق نہ پڑا،تھک ہار کر وہ بھینس کو پیر کے پاس لے گیا، شاہ جی نے دھونی رمائی، دم کیا، پھونک ماری لیکن وہ بھی بے سود رہی۔بھینس کو کوئی فرق نہ پڑا۔ اس کے بعد وہ بھینس کو کسی سیانے کے پاس لے گیا، سیانے نے دیسی ٹوٹکے لگائے لیکن وہ بھی بیکار ثابت ہوئے ۔ آخر میں زمیندار نے سوچا کہ شایدکھانے کی مقدار بڑھانے سے مسئلہ ٹھیک ہو جائے! خوب کھل بنولہ کھلایا، کسی چیز کی کسر نہ چھوڑی لیکن بھینس نے دودھ دینا شروع نہ کیا۔لاچار وہ اسے قصائی کے پاس لیکر جانے لگا کہ یہ اب کسی کام کی نہیں تو چلو ذبح ہی کروا لوں،راستے میں اسے ایک سائیں ملا۔ سائیں بولا پریشان لگتے ہو، زمیندار نے اپنی پریشانی بیان کی، سائیں نے کہا تم کٹا کہاں باندھتے ہو؟ زمیندار بولا بھینس کی کھرلی کے پاس۔ سائیں نے پوچھا: کٹے کی رسی کتنی لمبی ہے؟ زمیندار بولا: کافی لمبی ہے!سائیں نے اونچا قہقہہ لگایا اور بولا سارا دودھ تو کٹا پی جاتا ہے! تمہیں کیا ملے گا، کٹے کو بھینس سے دور باندھو!قومی اسمبلی اور سینیٹ کی 50 کمیٹیاں ہیں! اور ہر کمیٹی کا ایک چیئرمین ہے۔ ہر چیئرمین کے ذاتی دفتر کی تیاری پر دو دو کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ ہر چیئرمین ایک لاکھ ستر ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لیتا ہے، اسے گریڈ 17 کا ایک سیکرٹری، گریڈ 15 کا ایک سٹینو، ایک نائب قاصد، 1500 سی سی گاڑی،600 لٹر پٹرول ماہانہ، ایک رہائش ،رہائش کے سارے اخراجات بل وغیرہ اس کے علاوہ ملتے ہیں! اس کے علاوہ اجلاسوں پر لگنے والے پیسے، دوسرے شہروں میں آنے جانے کیلئے فری جہاز کی ٹکٹ۔ایک اندازے کے مطابق یہ کمیٹیاں اب تک کھربوں روپوں کا دودھ ”پی“ چُکی ہیں!اگر ان کٹوں کی رسی کو کم نہ کیا گیا تو یہ اجلاس اسی طرح جاری رہیں گے اور یہ کٹے ایسے ہی، کھربوں روپوں کا دودھ "پیتے" رہیں گے!کیا پیٹ پر پتھر باندھنے اور کفایت شعاری کیلئے اقوال زریں صرف عوام کیلئے ہیں؟ کارل مارکس کے نزدیک وہ لوگ جنہوں نے سردی گرمی صرف کھڑکیوں سے دیکھی ہو اور بھوک صرف کتابوں میں پڑھی ہو، وہ عام آدمی کی قیادت نہیں کر سکتے“۔ 

انسان اتنی دیر تک کسی بھی چیز کی غرض و غایت ، ماہیت اور حقیقت سے آشنا نہیں ہو سکتا جتنی دیر تک ان چیزوں کے زمینی حقائق سے پوری طرح آگاہی اور معلومات حاصل نہیں کر سکتا۔ ان تمام چیزوں سے آگاہی کے لیے آگہی اور درد دل، سوچ، تخیل ، مساوات اور ایمانداری کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ بھوک کا اندازہ لگانے کے لیے چند دن بھوکا رہنا ضروری ہے۔ پیاس کا اندازہ لگانا تو صرف سمندر یا منرل واٹر کی بوتل پاس رکھ کر شام تک پانی کی طلب سے نا آشنا ہو جائیے بلکہ بندہ پرور پانی سے خفا ہو جائیے۔ گرمی کی شدت کا پیرا میٹر معلوم کرنے کے لیے اپنے گھر میں چلنے والے سارے ”مفت خور“ ایئر کنڈیشنر اتار پھینکئے اور دور دراز لگی ہوئی ”ٹاہلی“ کے نیچے بیٹھ کر نازیہ حسن کی آواز میں فوک گیت ٹاہلی دے تھلے بہہ کر کریے پیار دیاں گلاں“ سنیے اور سر دھنیے آپ کو گرمی کی شدت کا اندازہ ہو جائے گا۔ غریب کی غربت کا اندازہ لگانے کے لیے مزدوری کیجیے.... سردی کا اندازہ لگانے کے لیے ”لنڈے“ سے کوٹ اور جرسیاں خرید فرمائیں.... خط غربت سے نیچے عوام کی زندگیوں کا مطالعہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک پاو¿ دودھ ، پاو¿ چینی، پاو¿ گھی اور آدھا کلو ”موٹے چاول“ خریدیے آپ کو اندازہ ہو جائے گا جس عوام نے آپ کو ووٹ دے کر کرسیوں پر چمٹا دیا ہے، وہ کیسے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں.... اپنی بیٹی کی شادی لیٹ کر کے ملک بھر کی لاکھوں بلکہ کروڑوں بیٹیوں کا اندازہ ہو سکتا ہے، جن کے بالوں میں منوں کے حساب سے چاندی جھلک رہی ہے۔ جن کے باپ ہر سال اس آس پر کپاس لگاتے ہیں کہ اس سال اس کپاس سے ان کی بیٹیوں کا جہیز بن جائے گا۔ مگر افسوس وہ کپاس کئی بے بسوں، لاچاروں اور بے یارو مددگاروں کا کفن بنانے کے کام آتی ہے۔ ادویات مہنگی کرنی ہیں تو خود میڈیکل سٹور سے ادویات خرید کر دیکھیں۔ اپنی جیب سے خریدیں۔ میڈیکل فنڈ حکومتی خزانے سے نہ لیں۔ غریب عوام کے ہسپتال سے علاج کروائیں انہی وینٹی لیٹروں پرلیٹ کر دیکھیں۔ انہی بستروں پر لیٹ کر دیکھیں۔ یہی آلودہ پانی پئیں۔ یہی گلی سڑی سبزیاں اور ناقص خوراکوں پر گزارا کریں۔ گندے انڈوں سے بنی بیکریوں کی چیزیں کھائیں۔ لوڈشیڈنگ میں زندگی بسر کریں۔ اپنے بچوں کو غریب عوامی سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم دلائیں۔ پانی ملا گوشت کھائیں۔ جعلی دودھ پئیں۔ لوکل بسوں اور رکشوں میں سفر کریں۔ ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر ڈرائیو کریں۔ تب جا کر پتہ چلے گا کہ عوام کے مسائل کیا ہیں؟ اور عوام کس طرح زندگیاں بسر کر رہی ہے؟ مریض کس طرح بیماری سے لڑ رہا ہے؟ غریب کس طرح غربت سے دو دو ہاتھ کر رہا ہے؟ تب پالیسیاں مرتب کریں۔ تب عوام کے معیار زندگی کا اندازہ لگائیں؟ تب مہنگائی اور بیروزگاری کے تناسب کو کوئی فریم ورک دیں´ بقول ژاں پال سارتر ”جب امیر طبقات اپنے مفادات کے لیے ایک دوسرے کے خلاف جنگیں لڑتے ہیں تو صرف غریب لوگ ہی اس میں مارے جاتے ہیں“۔ ژاں پال ساتر کی یہ بات بالکل درست ہے۔ یہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے اپنی مفادات کی جنگیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور نقصان غریب عوام کا ہو ا ہے۔ عوام غریب ہوئی جا رہی ہے۔ عوام اپنے پیٹ کو بھرنے کے لیے اخلاقی، مذہبی، معاشرتی اور سماجی حدوں کو عبور کرنے پر مجبور ہو رہی ہے۔ مگر ہمارے نمائندوں ، وزیروں، مشیروں اور معاشی آقاو¿ں کی رسیاں اس قدر دراز ہیں کہ وہ خزانے کی بھینسوں کو جب چاہتے ہیں چوس لیتے ہیں۔ا پنے مفادات کی جیبیں بھر لیتے ہیں۔ اپنی چھت کو آسمان کا سائبان کر لیتے ہیں مگر غریب عوام اپنی بھینسوں کے لیے دوا دارو اور تعویذ ڈھونڈھتے رہتے ہیں اور ان کی جمہوریت کا دودھ ان کے اپنے جمہوری نمائندے پی جاتے ہیں بلکہ آخری قطرہ تک نکال لیتے ہیں۔


ای پیپر