نونی سیاست کی بیک چینل ڈپلومیسی
27 ستمبر 2020 (12:52) 2020-09-27

سیاست دو طرح کی ہوتی ہے ایک تو وہ ہے جو ہمیں نظر آتی ہے اور دوسری وہ ہے جو نظر نہیں آتی اور نظر نہ آنے والی سیاست ہی اصل سیاست ہوتی ہے۔ جب میاں نواز شریف نے مشرف دور میں عوامی مقبولیت کے بل بوتے پر فوج سے ٹکر لینے کا فیصلہ کیا اور جنرل مشرف کو ان کے عہدے سے معزول کر دیا تو یہ پہلی قسم کی سیاست تھی جسے سب نے دیکھا بلکہ اس فیصلے کا انجام بھی دیکھا مگر اس کے بعد جب میاں صاحب راتوں رات جیل کی کال کوٹھڑی سے جدہ کے السرور پیلس منتقل ہوئے تو کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ میڈیا چاروں شانے چت ہو گیا۔ دنیا کو اس وقت خبر ہوئی جب میاں صاحب اپنے اہل خانہ کے ساتھ بخیرو عافیت جدہ پہنچ گئے۔ یہ دوسری قسم کی سیاست تھی جسے عرف عام میں بیک چینل ڈپلومیسی کہا جاتا ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ چھپ کر کی جاتی ہے کیونکہ اس کا اعلان کیا جائے تو پھر ناکامی کا خطرہ ہوتاہے۔ 

میاں نواز شریف کی نصف صدی پر محیط سیاست اس بات کی گواہ ہے کہ ان کے پاس "Right man for the right job" ہر موقع پر موجود ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جدہ روانگی کیس میں انہوں نے لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے بیٹے سعد حریری تک رسائی حاصل کی۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کے لیے رفیق حریری کے پاکستانی پائلٹ شجاعت عظیم خان کو استعمال کیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب سعد حریری کے سعودی شاہی خاندان اور حکومت سے بہت اچھے تعلقات تھے۔ ویسے تو اس میں بین الاقوامی Establishment کا دخل تھا لیکن جنرل مشرف اور شہباز شریف خاندان کے درمیان جو معاملات طے پائے اس میں سعد حریری کا نمایاں کردار تھا۔ اس ساری گیم کے پیچھے چونکہ شجاعت عظیم خان کی گراونڈ بریکنگ کوشش تھی لہٰذا جب میاں صاحب برسر اقتدار آئے تو آپ نے شجاعت عظیم خان کو محکمہ ہواز بازی کا خصوصی مشیر مقرر کیا جن کا عہدہ وزیر کے برابر تھا۔ شجاعت عظیم خان کو میاں نواز شریف نے تو بعد میں نوازا اس سے بہت پہلے جب مشرف دور تھا تو ق لیگ کی حکومت میں ان کے بھائی طارق عظیم خان کو مشرف کے کہنے پر اوورسیز پاکستانیز کا وزیر بنایا گیا۔ نواز شریف کی آخری حکومت میں طارق عظیم خان کو ایک بار پھر کینیڈا میں پاکستانی ہائی کمشنر مقرر کیا گیا گویا اس فیملی نے مذکورہ معاہدے کے عوض دونوں فریقین یعنی جنرل مشرف اور میاں نواز شریف سے فوائد حاصل کیے۔ 

اس موقع پر ہمیں چوہدری نثار علی خان بہت یاد آ رہے ہیں۔ Right man for the right job کے ضمن میں ان کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ فوج کے ساتھ معاملات طے کرنے کے ایکسپرٹ تھے۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ وہ جنرل افتخار علی خان مرحوم کے بھائی تھے لہٰذا ایک سابق جرنیل کے بھائی ہونے کی وجہ سے فوج ان پر اعتماد کرتی تھی۔ نثار علی خان کے ن لیگ سے الگ ہونے کی بنیادی وجہ بھی ڈان لیکس کے معاملے پر میاں صاحب کا مو¿قف تھا وہ سمجھتے تھے کہ ان کی بات نہیں مانی جا رہی اور میاں صاحب پارٹی میں موجود خواجہ آصف اور احسن اقبال جیسے فوج مخالف Hardliners کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں وہ ن لیگ کی موجودہ رینک اینڈ فائل میں سب سے سینئر ترین لیڈر تھے اور اپنے آپ کو میاں نواز شریف کا جانشین سمجھتے تھے جو کہ ایک الگ بحث ہے۔ 

قطر کے شاہی خاندان کے ساتھ معاملہ فہمی کے لیے سابق سینیٹر سیف الرحمن اب بھی قطر میں مقیم ہیں اور شریف خاندان کے سیاسی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ پانامہ معاملہ میں قطر کے سابق وزیراعظم کا خط جسے قطری خط کہا جاتا ہے اس کے پیچھے سیف الرحمن تھے۔ اسی طرح بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ بیک چینل ڈپلومیسی کے لیے انڈیا کے سٹیل ٹائیکون سجن جندال کا نام آتا ہے یہ وہی جندال ہیں جب نواز شریف مودی کی تقریب حلف برداری میں دہلی گئے تھے تو آپ نے کشمیری وفد سے ملاقات کرنے کی بجائے جندال فیملی کی ہائی ٹی کو ترجیح دی تھی۔ 

چوہدری نثار علی خان کی رخصتی کے بعد ن لیگ میں بڑی اہم آسامی خالی پڑی تھی کہ کوئی ایسا بندہ ہو جو فوج کے ساتھ پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جا سکے جو پارٹی کا وفادار بھی ہو اور فوج کے لیے بھی قابل قبول ہو۔ بالآخر وہ بندہ ن لیگ کو مل گیا ہے۔ 

سابق گورنر سندھ محمد زبیر کے بارے میں آئی ایس پی آر نے بیان جاری کیا ہے کہ ان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف کے ساتھ اگست اور ستمبر میں 2ملاقاتیں ہوئی ہیں جن کو خفیہ کہا گیا جبکہ محمد زبیر کہتے ہیں کہ جنرل قمر باجوہ ان کے پرانے دوست ہیں اور یہ ملاقاتیں خفیہ نہیں تھیں۔ اس سے سیاسی حلقوں خاص طور پر آل پارٹیز کانفرنس اٹینڈ کرنے والی پارٹیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ میاں صاحب نے اس دفعہ بھی نثار علی خان کی جگہ جو بندہ چنا ہے ، اس کا تعلق بھی فوج کے ساتھ ہے کیونکہ محمد زبیر کے والد میجر جنرل غلام محمد بنگلہ دیش کے سقوط کا ایک مرکزی کردار تھے اور حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں ان کا کردار خاصا داغدار تھا جس میں احکامات پر عمل نہ کرنا، مالی بے ضابطگی اور جنگ میں بہادری کا مظاہرہ نہ کرنے جیسے امور شامل ہیں جس کی بنا پر فوج سے ان کے کورٹ مارشل کی سفارش کی گئی تھی۔ 

ایک عام قاری یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ن لیگ ایک طرف فوج سے خفیہ مذاکرات کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف میاں نواز شریف نے اے پی سی کانفرنس میں اپنے خطاب میں فوج کو للکارا ہے۔ اس سے ایک بات عیاں ہوتی ہے کہ محمد زبیر کی بیک چینل ڈپلومیسی میں ناکامی کے بعد میاں نواز شریف نے اپنا پرانا مو¿قف پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ دہرانے کا مظاہرہ کیا ہے جس کے بعد فوج کا ردعمل یقینی تھا۔ یہ ردعمل دو طرح سے سامنے آیا پہلے تو آرمی چیف نے بیان دیا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسرا حربہ یہ استعمال کیا گیا کہ محمد زبیر کی فوج سے ملاقاتون کی نیوز بریک کر دی گئی جس سے باقی سیاسی پارٹیاں خاصی محتاط ہو جائیں گی بیک چینل ڈپلومیسی ہر دور میں ہوتی ہے ۔ محترمہ بےنظیر بھٹو ایک طرف ن لیگ سے لندن ڈیکلیئریشن یا چارٹر آف ڈیموکریسی کر رہی تھیں جبکہ دوسری طرف بے نظیر اور جنرل مشرف کے درمیان مذاکرات جاری تھے کہ انہیں جلاوطنی ختم کرکے پاکستان آنے دیا جائے۔ 

ایک رائے یہ بھی ہے کہ جب تک تحریک انصاف اور مقتدر اداروں کی آپس میں ورکنگ ریلیشن قائم ہے ن لیگ اقتدار سے باہر ہی رہے گی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حکمران جماعت جتنی تیزی سے عوامی حمایت کھو رہی ہے ، اس سے تو لگتا ہے اگلے الیکشن کا نقشہ یکسر مختلف ہو گا۔ 

بیک چینل ڈپلومیسی میں آصف زرداری اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ حسین حقانی جیسے بندے کو امریکہ میں سفیر لگانا اور منصور اعجاز کی شکل میں ایسا گمنام بندہ تیار کرنا جو خفیہ خط لے کر امریکی صدر تک پہنچ جائے یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ البتہ یہ پلان لیک ہو گیا تھا جسے میمو گیٹ کہا جاتا ہے۔ جن حالات میں محمد زبیر کی ملاقاتیں افشاءہوئی ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ن لیگ کے لیے محمد زبیر ایک اچھے مذاکرات کار ثابت نہیں ہو سکے لہٰذا کسی متبادل ایلچی کی ضرورت ہے۔


ای پیپر