دیوار برلن سے سبق سیکھنے کی ضرورت
27 ستمبر 2020 (12:48) 2020-09-27

انیسویں صدی میں بہت سے واقعات رونماہوئے۔ خونی جنگوں نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا، کئی نظام بنے اور ٹوٹے۔ اکثر واقعات کا اختتام بد امنی پر ہوا۔ انیسویں صدی کو اگر آگ اور خون کی صدی کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ ان واقعات میں ایک دیوار برلن کا گرنا بھی تھا جس کے بعد مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی ایک ہو گئے۔ دو مختلف نظاموں میں رہنے والی قوم ایک ہو گئی۔ دیوار برلن گرنے سے جرمنی میں امن آیا اور قوم نے متحد ہو کر آگے بڑھنے کی جدوجہد کا آغاز کیا۔ اس کے رونما ہونے سے جرمنی ایک با ر پھر یورپ کی قیادت کرنے کے قابل بن گیا ۔ سچی بات یہ ہے کہ یہاں تک پہنچنے میں مشرقی اور مغربی جرمنی کے سیاستدانوں نے بڑی دانشمندی دکھائی اور ایک نتیجہ پر پہنچ کر جرمنی کا انضمام کر دیا۔ برلن جو جرمنی کا دارالحکومت تھا اس کے درمیان میں دیوار کھڑی کر دی گئی تھی یہ دیوار عوام کے حوصلے کے سامنے ریزہ ریز ہ ہو گئی۔کل تک جو ایک دوسرے پربندوق تانے رہتے تھے انہو ںنے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔جرمنی دو نظاموں کے تابع تھا، مشرقی جرمنی سوویت یونین کے زیر نگین تھا اور مغربی جرمنی سرمایہ دارانہ نظام سے طاقت حاصل کر رہا تھا۔اس واقعہ نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر قوم متحد ہو جائے تو بڑی بڑی دیواریں، حفاظتی جنگلے اور خاردار تاریں ختم ہو جاتی ہیں۔یہ بات اقوام کوحوصلہ دیتی ہے اور اس دور میں خاص طور پر کشمیر کی آزادی کے جدوجہد کرنے والوں کو روشنی کی کرن نظر آتی ہے۔ہمارا یقین ہے کہ جس طرح دیوار برلن گری تھی ایک دن کشمیر کے درمیان لگائی جانے والی باڑ اور لائین آف کنٹرول بھی ختم ہو جائے گی۔بھارت کو بھی دیوار برلن سے سبق سیکھنا چاہیے کہ ایک قوم کو زیادہ دیر تک بندوق کے زور پر غلام نہیں بنایا جا سکتا۔

دیوار برلن کو گرانے کے لیے مشرقی اور مغربی جرمنی کے باسیوں نے بہت قربانیاں دی ہیں۔اتنا عرصہ گذرنے کے باوجود کوئی یہ بات نہیں کر رہا ہے کہ جرمنی کو متحد کرنے میں پاکستان نے بھی اپنا کردار ادا کیا تھا۔حیران نہ ہوں حقیقت میں ایسا ہی ہوا تھا۔یہ وہ دور تھا جب امریکہ اور سوویت یونین کے درمیا ن سردجنگ چل رہی تھی۔سرد جنگ کے محور کئی تھے مگر یہ پاکستان تھا جس نے سوویت یونین کو توڑنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان نے افغان مجاہدین کے ساتھ مل کر برفانی ریچھ کو اتنا زخمی کر دیاتھا کہ وہ بمشکل دریائے آمو کو عبور کر کے واپس جا سکا تھا مگر افغانستان میں ہونے والی جنگ 

نے سوویت یونین کو اس حد تک کمزور کر دیا تھا کہ وہ زیادہ دیر تک اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکا۔ افغانستان سے انخلا کے لیے جو معاہدہ ہوا اس پر چار ممالک نے دستخط کیے تھے جن میں امریکہ ،سوویت یونین ،افغانستان اور پاکستان شامل تھے۔ افغان جنگ نے سوویت یونین کو اس حد تک دیوالیہ کر دیا تھا کہ جب مشرقی اور مغربی جرمنی نے ایک ہونے کا فیصلہ کیا تو سوویت یونین کے پاس اتنی طاقت ہی نہیں تھی کہ اسے روک سکے۔

دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کا مقابلہ کرنے کے لیے اقوام کا جو اتحاد بنا تھا اس میں امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ سوویت یونین بھی شامل تھا۔ ہٹلر کی موت کے بعدان اتحادیو ں نے جرمن کے حصے بخرے کرنے کے عمل کا آغاز کیا۔ برلن شہر کے چا ر حصے کر دیے گئے ،ایک بڑے حصے پر سوویت یونین کا عمل دخل تسلیم کر لیا گیا جبکہ تین حصوںپر امریکہ برطانیہ اور فرانس کی عملداری ہو گئی۔سوویت یونین کے پاس جو حصہ آیا وہ انتہائی زرخیز تھا اور پورے جرمنی کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرتا تھا۔سٹالن نے پورے جرمنی پر قبضہ کرنے کے لیے راتوں رات برلن شہر کے درمیان خارتار تاریں اور رکاوٹیںکھڑی کر دیں تاکہ دوسرے حصے تک خوراک نہ پہنچ سکے اور بھوک اور افلاس کی وجہ سے مغربی حصہ بھی اس کی جھولی میں آگرے۔ برلن شہر کا محاصر ہ ہو چکا تھا ایسے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے لڑنے کافیصلہ کیا اور وہاں پر موجود اپنی فوج اور عوام کے لیے ہوائی جہازوں سے رسد پہنچانے کے کام کا آغاز ہوا ۔ اس کوشش کو تاریخ میں BERLIN AIRLIFT ِ کا نام دیا گیا۔فضاسے شہر کوسپلائی کی رسد کا کام ایک سال سے زائد عرصہ تک جاری رہا اس دوران جہازوں کے ذریعے 2.3 ملین ٹن خوراک اور ایندھن پہنچایا گیا۔سفارتی کوششوں کے بعد سوویت یونین نے 1949 میں اپنامحاصرہ ختم کر دیا۔

مشرقی جرمنی میں روز بروز حالات خراب ہوتے جا رہے تھے۔ تقسیم کو دس سال سے زیادہ عرصہ گذر چکا تھا۔ مشرقی جرمنی اور خاص طور پر مشرقی برلن میںرہنے والے اپنے روزگار اور تفریح کے لیے مغربی برلن کا رخ کرتے تھے۔ ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں جانے پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ اچانک مشرقی جرمنی میں برسراقتدار کمیونسٹ پارٹی اور سوویت یونین نے فیصلہ کیا کہ شہر کے درمیا ن میں دیوار کھڑی کر دی جائے تاکہ لوگوں کو مغربی حصے میں جانے سے روک دیا جائے۔ جون 1961 میں 19000 افراد مشرقی جرمنی کو چھوڑ کر مغربی جرمنی منتقل ہو چکے تھے ۔ اگلے مہینے مشرقی جرمنی چھوڑنے والے لوگوں کی تعداد 30000 تک پہنچ گئی۔ اس انخلا کو روکنے کے لیے راتوں رات شہر میں رکاوٹیں اور خاردار تاریں لگا دی گئیں ۔یہ12 اگست 1961 کی رات تھی۔اس کے ساتھ ہی دیوار کی تعمیر کا آغاز ہو گیا اور تاریخ میں اسے دیوار برلن کا نام دیا گیا۔ اس رات جو جہاں تھاوہ وہیں رہ گیا، خاندان تقسیم ہو گئے۔ لوگوں کے لیے یہ ممکن ہی نہ رہا کہ وہ برلن کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے کا سفر کر سکیں۔ اس دیوار کو عبور کرنے کے لیے تین چیک پوائنٹس بنائے گئے اور ان کے نام الفا، براﺅ اور چارلی رکھے گئے اور ان چیک پوائٹس پر سخت تلاشی کے بعد سرکاری حکام اور سفارت کاروں کو ایک سے دوسرے علاقے میں جانے کی اجازت تھی۔ عام آدمی کے تو جانے کا سوال ہی پید ا نہیں ہوتا تھا۔12 فٹ اونچی کنکریٹ کی دیوار نے مشرقی جرمنی سے لوگوں کے انخلا کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اس کے باوجود اس سارے عرصہ میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد سرنگوں، گیسی غباروں اور دوسرے طریقوں سے مشرقی جرمنی سے مغربی جرمنی آنے میں کامیاب ہوئے ۔ 171 افراد دیوار کو عبور کرتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ جرمنی کے لوگوں میں اس دیوار کو گرانے کی خواہش شدید تر تھی۔ امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے مغربی برلن کے بریڈن گیٹ کے باہر ایک لاکھ بیس ہزار کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایک تاریخی جملہ کہا تھا کہ"I am a Berliner" ۔

9 نومبر1989ءکو مشرقی جرمنی میں کمیونسٹ حکومت کے ترجمان نے اعلان کیا کہ وہ مغربی جرمنی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کرنا چاہتے ہیں اور مشرقی جرمنی میں رہنے والے لوگوں کو اجازت دے رہے ہیں کہ وہ مغربی جرمنی جا سکتے تھے ۔ یہ اعلان ہونا تھا کہ برلن شہر کے دونوں طرف رہنے والے لاکھوں افراد دیوار کے پاس پہنچ گئے اور وہ نعرے لگا رہے تھے کہ دروازوں کو کھول دو ۔ایسے میں کچھ لوگ ہتھوڑے بیلچے اور حتی کہ بلڈوزر لے کر پہنچ گئے اور دیوار کو گرانے کے عمل کا آغاز ہوا۔ اس ویک اینڈ پر مشرقی جرمنی سے بیس لاکھ افراد مغربی جرمنی آئے اور اسے تاریخ کی سب سے بڑی سٹریٹ پارٹی کا نام دیا گیا، عوام کے جوش کے سامنے دیوار برلن زمین بوس ہو گئی اور کچھ عرصہ بعد سوویت یونین بھی۔ دونوں طرف کے سیاستدانوں نے ایک دوسرے سے صلح مشورے کے بعد دیوار کے گرنے کے ایک برس کے بعد مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی کے اتحاد کا اعلان کر دیا۔3 اکتوبر 1990 کو سرکاری طور پر جرمنی متحد ہو چکا تھا اور سرد جنگ کا استعارہ دیوار برلن زمین بوس ہو چکی تھی۔


ای پیپر