” سر سے ایک ملاقات “ 
27 ستمبر 2020 2020-09-27

میں نے پوچھا، سر ، کتنی نامناسب بات ہے کہ وزیراعظم نے صحت کے شعبے پر عامر کیانی اور ظفر مرزا کے بعد تیسرا مشیر مقرر کیا اور اس نے ان دوبرسوں میں تیسری مرتبہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ،یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ اس اضافے نے پورے پندرہ برس کی کسر نکال دی ہے۔ میرا کہنا تھا کہ عامر کیانی کی شہرت بھی یہی ہے کہ وہ اچھی خاصی دیہاڑی لگا کر گئے ہیں، ظفر مرزا کی کورونا کی کمائی بھی اربوں روپے بیان کی جا رہی ہے اوراب ڈاکٹر فیصل سلطان نے بھی عجیب و غریب توجیہ پیش کی ہے کہ اگر ہم ادویات مہنگی نہ کرتے تو ان کی سپلائی نہ رہتی۔ یہ عین وہی دلیل ہے جو پٹرول مہنگا کرتے ہوئے دی گئی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی گورننس اور مینجمنٹ کتنی کمزور ہے، اس کے پاس طلب و رسد کے نظام کو برقرار رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ اشیا مہنگی کر دے۔ میں نے عرض کیا ، سر، یہ فارما سیوٹیکل کمپنیاں اپنی مارکیٹنگ میں اتنی ظالم اور کرپٹ ہیں کہ یہ ڈاکٹروں کو محض اپنی ادویات نسخے میں لکھنے پر یورپ کی سیر کروا دیتی ہیں، نئی ٹویوٹا کورولا لے دیتی ہیں، نیا کلینک بنوا دیتی ہیں تو میں سوچتا ہوں کہ انہوں نے اپنی ادویات کی قیمتوں میں اب تک مجموعی طور پر ساڑھے سات سو فیصد تک اضافے کے لئے کتنے ارب اور کھرب پیش کر دئیے ہوں گے۔

سر میری بات سن کر مسکرائے اور بولے، یہ تاریخ کی پہلی حکومت ہے کہ جہاں وہ ر یاستی خزانہ بھرنا چاہتی ہے وہاں اپنے مینوفیکچررز کو بھی ریلیف دینا چاہتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ عوام کی بھی سچی ہمدرد ہے۔ سر نے بتایا کہ جب ادویات یا پٹرول مہنگے ہوں گے تو اس کے نتیجے میں ریاست کو ٹیکس بھی زیادہ ملیں گے جس سے ملک کا فائدہ ہو گا۔ جب مینوفیکچررز اور امپورٹرز کا منافع بڑھے گا تو ان کا ترقی کرتا ہوا کاروبار ملک کی گرتی ہوئی جی ڈی پی کو سہارا دے گا اور اس میں سب سے بڑھ کر فائدہ عوام کا ہے۔تم نے وہ کہانی تو انٹرمیڈیٹ میں پڑھی ہی ہو گی، ’ دا مین ہُو واز اے ہاسپٹل‘، ہمارے ہاں بھی یہی مسئلہ ہو گیا ہے کہ ہر شخص خود کو نہ صرف بیمار سمجھتا ہے بلکہ الٹی سیدھی ادویات چونکہ سستی مل جاتی ہیںلہٰذا کھائے چلا جاتاہے۔ اس کے نتیجے میں جب ا س کی صحت زیادہ خراب ہوتی ہے تو پھر وہ ہسپتالوں کی طرف دوڑتا ہے اور آخر میں زندگی کی بازی ہار جاتا ہے جس سے ہمارے ہسپتالوں کی بھی بدنامی ہوتی ہے۔ اب نہ سستی ادویات ملیں گی اور نہ ہی عام آدمی انہیں پھانک سکے گا۔ اس کے نتیجے میں اس کی اپنی قوت مدافعت بڑھے گی لہٰذا تاریخ کی پہلی عوامی ہمدرد حکومت کا جو بھی مشیر آتا ہے وہ چاہتا ہے کہ ان تینوں پہلوو¿ں سے ریاست، معیشت اور عوام کی خدمت کر سکے۔ اس میں کرپشن نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ کرپشن صرف پیپلزپارٹی اور نون لیگ والے کرتے تھے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ کرپشن کا نام نہیں جوڑا جا سکتا۔

میں نے سر کا پی ٹی آئی پر یہ اعتماد دیکھ کر عین قومی مفاد میں رتی برابر بھی حیرت ظاہر نہیں کی۔ سر نے مجھے بتایا کہ ملک میں شوگر کا مرض بڑھتا چلا جا رہا ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ چینی بہت کھاتے ہیں۔ مجھے ان کی بات سن کر فوری طورپر چینی کی قیمت میں اضافے کی وجہ سمجھ آ گئی جو دواڑھائی برسوں میں پچاس روپوں سے ایک سو دس روپے کلو تک جا پہنچی ہے۔ سر نے مجھے بتایا کہ ہمارا مزدور طبقہ بہت زیادہ چینی استعمال کرتا ہے اور جب وہ ذیابیطس کا مریض ہوجاتا ہے تو پھر وہ کام نہیں کر سکتا لہٰذا اپنی ورک فورس برقرار رکھنے کے لئے چینی کا استعمال روکنا ضروری ہے۔ یہ طبقہ ماہرین کی بات بھی نہیں سنتا کہ چینی ایک سفید زہر ہے جسے ہم اپنے ہاتھوں اپنے منہ میں اتارتے ہیں لہٰذااس کا وواحد طریقہ یہی تھا کہ چینی مہنگی کر دی جائے، نہ وہ خرید سکے گا ، نہ چائے میں ڈال سکے گا اور نہ ہی اسے شوگر ہوگی۔ا نہوں نے مجھے بتایا کہ مرچیں بھی اسی وجہ سے تین گنا مہنگی کر دی گئی ہیں کیونکہ معدے کاالسر بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ان ہی کی سفارش پر گھی اور کوکنگ آئل مہنگے کئے گئے ہیں کیونکہ ان کے ڈرائیور سمیت تمام ملازم موٹے ہوتے چلے جا رہے تھے اور انہوں نے خود دیکھا کہ وہ گوشت اور سبزی میں اچھی خاصی ’تری‘ ڈال کر کھا رہے تھے۔ انہوں نے اپنے ملازمین کے گھی کے زیادہ استعمال پر پابندی عائد کر دی مگر ان کے سینے میں پوری قوم کا درد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گھی کے زیادہ استعمال سے آنتوں میں چربی جم جاتی ہے اوراس کے نتیجے میں لوگوں میں ہارٹ اٹیک کی شرح بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ تمہاری طرح موٹے نہ ہوں اور عمران خان کی طرح سمارٹ ہوں تو وہ گھی کا استعمال کر سکتے ہیں مگر تم لوگوں کو گھی نہیں کھانا چاہئے۔ سر کا خیال تھا کہ آٹے کا بھی بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔

میرے لئے ضروری تھا کہ میںسر کے قوم کے لئے درد دل کا مداح ہونے کی ایکٹنگ کروں کیونکہ اس وقت سارا کام ہی ایکٹنگ پر چل رہا ہے جیسے پہلے برس ایکٹنگ کی گئی کہ” ہم مصروف تھے“۔ سر نے مجھے بتایا کہ ان کے روڈ میپ کے مطابق اگر قوم کم و بیش دس برس تک صحت کے ان زریں اصولوں پرعمل کرے جس میں چینی اور گھی وغیرہ کا استعمال کم سے کم ہو تو یہ دنیا کی بہترین صحت مند قوم بن کے سامنے آسکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے خیال میں عمران خان کی حکومت کو دس برس ضرور رہنا چاہئے اور وہ حکومت دوبارہ ہرگز نہیں آنی چاہئے جس کا وزیراعظم سری پائے، نہاری اور کھدیں کھانے کی وجہ سے مشہور تھا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ سر ملک و قوم کے بہترین مفاد میں اگلے انتخابات میں بھی تحریک انصاف کو ہی کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں نے سر سے پوچھا کہ مہنگائی کے ساتھ ساتھ بے روزگاری بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے، اس کا کیا حل ہے۔ سر نے مجھے بتایا کہ لوگ نوکریوں سے فارغ ہو رہے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ بے روزگاری بڑھ رہی ہے بلکہ وہ آدمی جو ایک کمپنی میں جنرل مینیجر تھا اور روزانہ مالکوں کے ہاتھوں ذلیل ہوتا تھا اب اس نے اپنے گھر کے باہر دال چاول بیچنے شروع کر دئیے ہیں تو مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنا کاروبار شروع کرلیا ہے۔ فوری طور پر کوتاہ نظروں کو یہی لگے گا کہ بندہ ایک اچھی نوکری سے فارغ ہوگیا ہے مگر یہ نہیں دیکھ رہے کہ اس نے اپنے کاروبار کے ذریعے اپنے اور اپنے بچوں کے سنہرے مستقبل کی بنیاد رکھ دی ہے۔

سر نے مجھے بتایا کہ پٹرول کے ساتھ ساتھ موٹروے کا ٹال ٹیکس اس لئے بڑھایا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق موٹروے پر شادی شدہ افراد نے ڈیٹ کے لئے جانا شروع کر دیا تھا۔ اب نہ ان کے پاس پٹرول ہو گا اور نہ ٹول ٹیکس کے پیسے لہٰذا اس کے نتیجے میں معاشرے میں بے وفائی اور بے حیائی کم ہو گی۔ سر کو یقین ہے کہ مہنگی بجلی بھی ملک و قوم کے لئے فائدہ مند ہے حالانکہ میں نے انہیں بتایا کہ جب لوگ سارے بلب بند کر کے لیٹ جائیں گے تو اس کے نتیجے میں ملک کی آبادی مزید بڑھ سکتی ہے تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑے اور بولے کہ یہ بھی عمران خان کی حکومت کا ہی کارنامہ ہو گا کہ وہ ملک کو ایک نئی نسل دے کر جائے گی۔ آج سے پچیس برس کے بعد اس مہنگی بجلی کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہوں گے۔ عام سیاستدان اگلے انتخابات کے بارے میں سوچتے ہیں اور عمران خان اگلی نسلوں کے بارے میں سوچتا ہے ۔ یہ عمران خان ہی ہے جسے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اجاگر کر دیا ہے۔ میں سر کی بات سن کر خاموش ہو گیا کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت خٹم کرنے اور بھارت کا آئینی حصہ بنانے کے بعد مسئلہ کشمیر اجاگر ہونا ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص کے قتل کے بعد کہہ دیا جائے کہ اس شخص کو اپنے قتل سے بہت مشہوری ملی، کئی اخبارات میں اس کی تصویر شائع ہوئی۔

کیا آپ یقین کریںگے کہ مجھے سر کے دلائل پر رتی برابر بھی حیرت نہیں ہوئی اوریہ شک بھی نہیں ہوا کہ سر اپنی کہی ہوئی باتوں میں خود کو غیر سنجیدہ یا غیر منطقی سمجھ رہے ہوں کیونکہ ان دو برسوں میں جان چکا ہوں کہ موجودہ حکومت اپنی کارکردگی میں اسی میں قسم کی منطقوں کے سہارے چل رہی ہے ،ہمیں قومی تعمیر اور ترقی بارے اس قسم کے دلائل ابھی مزید تین برس سننے ہیں۔


ای پیپر