سندھ میں غیر یقینی حالات اور بے چینی کیوں؟
27 ستمبر 2019 2019-09-27

وفاق سندھ حکومت اور کراچی کی انتظام کاری کے لئے کیا کرنا چاہتا ہے؟ تاحال وفاق کی جانب سے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی جاسکی ہے۔ نیب کی جانب سے اقدامات جاری ہیں۔ نتیجتاً صوبے میں غیر یقینی حالات ہی نہیں بلکہ بڑی بے چینی بھی پائی جاتی ہے۔ صوبے کے سیاسی و اہل نظر حلقے اس معاملے میں پیپلزپارٹی کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں۔بعض حلقوں میں سنجیدگی سے بحث ہورہی ہے کہ اس غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے میں کہیں وفاقی حکومت کا ہاتھ تو نہیں؟ بدین ٹھٹھہ وغیرہ میں زرعی پانی کی شدید قلت حکومت تو دور نہ کر سکی لیکن گزشتہ ایک ماہ سے وقفے وقفے سے جاری بارشوں کے بعد صورتحال بہتر ہو گئی ہے۔ تاہم فصلوں پر ٹڈی دل کے حملے کی اطلاعات آرہی ہیں۔ کراچی کے گٹروں کے بعد اب کچرا سیاست کا اہم موضوع ہے۔کراچی کے معاملات کی حساسیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعلیٰ خود صفائی مہم کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کراچی میں کچرا سڑک پر پھینکنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔ اچھی حکمرانی اور قانون پر عمل درآمد ٹھیک طور پر نہ ہونے کی شکایات پہلے ہی تھیں اب مختلف علاقوں میں بنیادی ضروریات کی فراہمی، انسانی حقوق یا قانون کی خلاف ورزی کے واقعات صوبائی حکومت کی کارکردگی پر مزید سوالیہ نشان ڈال رہے ہیں۔صوبائی حکومت کبھی بارش کے پانی کی نکاسی، تو کبھی کسی ضلع میں صحت کی صورتحال، تو کبھی کتوں کے پیچھے دوڑ رہی ہے۔یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سسٹم ٹھیک سے کام نہیں کر رہا۔ پیپلزپارٹی کے رواں دور حکومت میں اس کو کام کرنے کا کم ہی موقعہ مل رہا ہے۔ صوبے میں گاہے بگاہے اقلیتوں کے تحفظ کا سوال اٹھتا رہتا ہے۔ گزشتہ دنوںگھوٹکی میں اقلیتوں کے خلاف واقعہ اور آصفہ بی بی میڈیکل کالج کی طالبہ نمرتا کی پراسرار حالات میں موت کے واقعہ پر سندھ نے شدید ردعمل دیا۔ مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، کئی شہروں سے لوگوں کے وفود گھوٹکی پہنچے اور اقلیتوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ اپوزیشن کی سیاست اسمبلی یا پھر صرف کراچی تک محدود ہے۔باقی صوبے بھر میں پیپلزپارٹی کسی نہ کسی طور پر سرگرمی کرتی رہتی ہے۔ ان تمام موضوعات پر اخبارات میں خبروں کے علاوہ مضامین اور کالم لکھے جارہے ہیں۔

روزنامہ پہنجی اخبار اداریے میں رقمطراز ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے سندھ میں رہائش پذیر اقلیتوں اور خاص طور پر ہندو برادری کو جس طرح سے نشانہ بنایا جارہا ہے، اس سے عدم تحفظ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ہندو لڑکیوں کا زبردستی مذہب تبدیل کرا کے شادی کرنے کے واقعات ہوں یا اغوا برائے تاوان کی وارداتیں۔ اب ان واقعات میں ہندوئوں کی مذہبی عبادت گاہوں، اور املاک پر منظم حملے بھی ہونے لگے ہیں۔ یہ واقعات جہاں ریاست کی کمزور ہوتی ہوئی رٹ کی نشاندہی کرتے ہیں وہاں اقلیتوں کو تحفظ دینے کی حکومت کی آئینی و قانونی ذمہ داری کی نفی کرتے ہیں۔اس معاملے کا باریک اور حساس نقطہ یہ ہے کہ ہمارے سماج میں مذہبی رواداری، بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

ریاستی قوانین پر عمل درآمد کرانا، جرائم پیشہ عناصر کو قابو میں لانا، اور فتنہ فساد کی سازش کرنے والوں کو قانون میں گرفت میں لانا ریاستی اداروں کا فرض اور ذمہ داری ہے۔ لیکن اکثر کیسوں میں دیکھا گیا ہے کہ ڈنڈا بردار ہجوم نہایت ہی آزادی سے اقلیتوں کی املاک کو نقصان پہنچاتے اور نذر آتش کرتے رہتے ہیں ۔ مگر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کوئی ایکشن لیتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ یہ منظر اقلیتوں میں مزید خوف اور ناامیدی کا باعث بنتا ہے، کسی بھی مجرم کے جرم کاتعین کرنا انصاف کے اداروں کا کام ہے۔ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں، لیکن پھلہڈیوں سے گھوٹکی تک کے واقعات میں صورتحال کچھ یوں نظر آئی جیسے نہ قانون ہو، اور نہ ہی حکومت ۔ یہ واقعات جہاں اقلیتوں میں عدم تحفظ پیدا کرتے ہیں وہاں کاروباری سرگرمیوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ پھر دنیا میں ہمارے لئے ایک جنونی مذہبی انتہاپسند ریاست کا تاثر ابھرتا ہے۔ گزشتہ روز سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر ہندو برادری کو تحفظ دینے اور ان کی عبادت گاہوں کو سکیورٹی فراہم سے متعلق ایک قرارداد منظور کی ہے جو قابل تحسین قدم ہے۔ لیکن یہ وقتی یا عارضی حل ہے۔ یعنی عمل سے مشروط ہے۔ رواداری کا معاشرہ بنانے کے لئے صرف حکومت ہی نہیں ، معاشرے کے تمام حصوں اور اداروں کو مربوط طریقے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

روزنامہ کاوش اداریے میں لکھتا ہے کہ سندھ میں زرعی معیشت کے بعد آبادی کے بڑے حصے کا زریعہ معاش آبی معیشت پر ہے۔ سندھ کی آبگاہوں سے مختلف اقسام کی گھاس وغیرہ پیدا ہوتی ہے، لیکن مچھلی کی پیداوار اہم ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں سے ان جھیلوں میں مچھلی کی پیداوار کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر محکمہ ماہی گیری نے مچھلی کے بیج کی فراہمی کے لئے مختلف اضلاع میں مچھلی کی ہیچریز قائم کی ۔ یہ ہیچریز اپنے بنیادی کام کی تکمیل میں ناکام رہی ہیں۔ محکمہ ماہی گیری کے افسران غیر فعال ہیچریز کی فیڈ اور دیگر سامان کی مد میں بجٹ باقاعدگی سے لیتے رہے ہیں۔ لیکن مچھلی کا بیج مارکیٹ سے خرید کر کے ڈلا جاتا ہے۔ کبھی کبھی این جی اوز یا عالمی ادارے مہربانی کر کے محکمہ کا کام آسان کر دیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان ہیچریز کو فعال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مچھلی کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکے۔


ای پیپر