بھارت کی فطری ریاستوں میں تقسیم، عالمی امن کی ضمانت
27 ستمبر 2019 2019-09-27

کشمیر پاکستان کے بہت نزدیک ہے لیکن کشمیر کی بھارت سے آزادی کتنی دور ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ جو کہا جاسکتا ہے وہ یہ کہ ناامیدی کے اس منظرنامے میں بھی بہادر اور پرعزم کشمیریوں نے بھارت سے آزادی لینے کا جھنڈا بلند کیا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے مختلف دن جلسے جلوسوں اور بیانات کے ذریعے منائے جارہے ہیں جبکہ کشمیری دنیا کا ضمیر جھنجھوڑنے کے لیے بارہ مہینے اپنا خون دے رہے ہیں۔ انسانیت کے دکھوں پر موٹے موٹے آنسو بہانے والی ہمدرد اور نرم دل دنیا بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کے کٹے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو دیکھ نہیں پاتی۔ عالمی فیصلہ سازی کے طاقتور ٹھیکیدار یورپ اور امریکہ کی اہم شخصیات ذاتی محفلوں میں اس بات کا برملا اعتراف کرتی ہیں کہ ماڈرن دنیا میں ریاستی ظلم ڈھانے اور آزادی کی تحریک کے لیے ان گنت قربانیاں دینے کی سب سے لمبی تاریخ کشمیر میں ہی لکھی جارہی ہے لیکن انسانی حقوق کے گورے چہرے لیے یہ شخصیات جب سرکاری حیثیت میں آتی ہیں تو کشمیریوں کے بہنے والے خون کو دو ملکوں کے درمیان کا معاملہ کہہ کر چپ سادھ لیتی ہیں۔ اُن سے اس شرمناک دوہرے معیار کی وجہ دریافت کی جائے تو صرف ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ بھارت جیسے بہت زیادہ آبادی والے ملک کو ناراض کرکے مغرب اور امریکہ کے کاروباری مفادات کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔ حالانکہ مغرب اور امریکہ اپنے کاروباری مفادات کو نقصان پہنچائے بغیر بھی ایشیاء میں مستقل امن لاسکتا ہے۔ وہ ایسے کہ برصغیر میں ہندوستان کی ہزاروں برس پر پھیلی تاریخ بتاتی ہے کہ اس خطے میںشروع سے ہی چھوٹی چھوٹی کئی ریاستیں قائم تھیں جو اپنے اپنے راجائوں کے زیر انتظام تھیں۔ مسلمان حکمرانوں نے برصغیر میں پھیلی اِن چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو یکجا کرکے بڑی آبادی والا ایک ملک بنا دیا۔ مسلمان حکمرانوں کی شاید یہ ایک بڑی غلطی تھی کیونکہ ہندوئوں نے 1947ء میں انگریزوں کے جانے کے بعد برصغیر کے پورے زمینی خطے پر قبضہ کرنا چاہا جس کے لیے انہوں نے اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگایا۔ اپنے آپ کو دنیا کے بہترین سکالر اور تاریخ دان کہنے والے ہندو پروفیسروں میں سے کوئی بھی یہ نہیں بتا سکتا کہ مسلمانوں اور انگریزوں کی حکومت سے پہلے ہندوستان کب اکھنڈ بھارت تھا؟ ہندوئوں کی مذہبی کتاب مہابھارت میں بھی ہندو کزنوں کی آپس کی لڑائیوں کا ہی ذکر ہے۔ ہندوئوں کی اس مذہبی کتاب میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ایک دوسرے کی ریاستوں پر قبضے کے لیے خونی رشتے کیسے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے لیکن ہندوئوں نے 1947ء کے بعد دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک دی اور تاریخ کے وہ صفحات غائب کردیئے جن میں پرانے اصل ہندوستان کی سرزمین کئی ریاستوں پر مبنی تھی۔ طاقتور ممالک اب بھی ہندوستان کی تاریخ کی اُس کتاب کو پڑھ کر ایشیاء میں امن لاسکتے ہیں اور اپنے کاروباری مفادات بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔ اگر بے ڈھنگے اور بے ہنگم پھیلے موجودہ ہندوستان کو پہلے کی طرح کے پرانے اصل ہندوستان کی طرح تاریخی اعتبار سے چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کردیا جائے تو جارحانہ پالیسی، دوسروں پر قبضہ کرنے اور خون بہانے والے موجودہ ہندوستان کے مرکزی تخت سے جان چھوٹ جائے گی۔ دوسرا یہ کہ برصغیر کی چھوٹی چھوٹی اِن نئی ریاستوں سے مغربی ممالک اور امریکہ کو کاروباری معاملات طے کرنے میں بھی آسانی ہوگی۔ یہ مجوزہ ریاستیں کئی یورپی ممالک کے سائز کے برابر یا اُن سے بڑی ہوں گی۔ موجودہ بھارت جہاں اپنے ہمسایوں کے لیے ایک خونخوار ہمسایہ ہے وہیں اپنی آبادی میں مختلف نسلوں اور قومیتوں کے لیے بھی ایک عذابِ عظیم ہے۔ نچلی ذات کے ہندو، تامل، سکھ، مسلمان، عیسائی، بنگالی، میزورام، ناگا لینڈ، آسام، تری پورہ وغیرہ اور سب سے زیادہ کشمیری ایسی قومیتیں ہیں جو گزشتہ 72 برس سے ہندوستان کے خودغرض حکمرانوں کے فلسفہ اکھنڈ بھارت کی آگ میں جھلس رہی ہیں۔ اگر انٹرنیشنل اداروں کے تحت ہندوستان میں اکھنڈ بھارت کے نظریئے پر ریفرنڈم کرایا جائے تو موجودہ تاریخ کی سب سے بڑی حقیقت اور ظلم واضح ہو جائے گا۔ حقیقت یہ کہ ہندوستان کی مذکورہ قومیں اکھنڈ بھارت کی بجائے اپنی علیحدہ علیحدہ ریاستیں قائم کرنا چاہیں گی اور ظلم یہ کہ اکھنڈ بھارت کے نظریئے کے مختصر حمایتی ٹولے نے ہندوستان کی 80فیصد سے زائد آبادی کو اپنے پنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ اکھنڈ بھارت کے اِن خون آلود صفحات میں سب سے زیادہ لرزہ خیز باب کشمیر کا ہے۔ اصل حقیقت جاننے والے جانتے ہیں کہ کشمیر پر بھارتی قبضے کا سہرا نہرو کے ساتھ ساتھ کسی اور کے سر بھی جاتا ہے۔ کشمیر پر قابض موجودہ بھارتی فوجیوں اور موجودہ ظالم بھارتی حکمرانوں کو اس سلسلے میں نہرو کی بیوی کا زیادہ شکرگزار ہونا چاہئے کیونکہ نہرو کی بیوی کے ساتھ خصوصی تعلقات کے ہاتھوں مجبور ہوکر ہی مائونٹ بیٹن نے کشمیر کی گردن پر چھری رکھی تھی۔ ہندوئوں کا عقیدہ ہے کہ پہلے جنم میں اچھے کام کرنے والے مرنے کے بعد دوسرے جنم میں اچھے جانوروں کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں جبکہ پہلے جنم میں برے کام کرنے والے مرنے کے بعد دوسرے جنم میں بری صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ ہندوئوں کے اس عقیدے کے تحت دلی کی گلیوں میں بیمار اور خارش زدہ کتے کی جو سسکیاں سنائی دیتی ہیں وہ یقینا مائونٹ بیٹن کی ہی ہوں گی اور اگر انسانی روپ میں 1947ء کو مائونٹ بیٹن کا دوسرا جنم تھا تو اُس کے پہلے جنم کی بدبختیوں کی سزا کشمیریوں کو کیوں ملی؟ جذبات کو چھوڑ کر منطق کی بات کریں تو دنیا بھر میں خفیہ دستاویزات کو عام کرنے کا رواج بڑھ رہا ہے۔ اسی کا تقاضا ہے کہ 1947ء اور اُس کے بعد کشمیر کو تقسیم کرنے اور اُس پر قبضہ کرنے کے لیے نہرو اور بعد کے ہندوستانی حکمرانوں کی جو آپس کی سرکاری خط و کتابت یا میٹنگز ہوئیں اور ان ہندوستانی حکمرانوں کی بعض دوسرے ممالک سے جو خفیہ خط و کتابت اور میٹنگز ہوئیں انہیں دنیا کے سامنے اوپن کیا جائے تاکہ سیکولر اور جمہوری ہندوستان کا اصل کالا چہرہ سامنے آسکے۔ ہندوستان کے زیرقبضہ موجودہ زمینی خطے کی ریاستوں میں اکھنڈ بھارت یا آزاد ریاست کا ریفرنڈم کرایا جائے تو یہ ضرور پتہ چل جائے گا کہ اکھنڈ بھارت کا نظریہ حکومتی امپائر کی بجائے انسانوں کا خون پینے والا ایک ریاستی ویمپائر ہے۔ لہٰذا دنیا کے امن کے لیے ضروری ہے کہ اکھنڈ بھارت کے نظریئے کی جگہ موجودہ بھارت میں کشمیر، تامل، سکھ، مسلمان، عیسائی، بنگالی، دلت، میزورام، ناگالینڈ، آسام اور تری پورہ وغیرہ جیسی مختلف قومیتوں کی علیحدہ علیحدہ آزاد پرانی تاریخی فطری ریاستیں قائم ہوں۔


ای پیپر