عرش والا جب زمین ہلا دیتا ہے…
27 ستمبر 2019 2019-09-27

کوئی ایسا دن نہیں ہے جس میں کوئی انہونی نہ ہو، روز ایک دل خراش واقعہ،ایک نیا سانحہ سامنے آتا ہے اور اس پر ہم سب کی بے حسی اور حکمرانوں کی عدم توجہی کا رویہ معاشرے میں ایک عجیب سی مایوسی پھیلا رہا ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ کیسی لاچاری اور بیماری ہے جس کا علاج نظر نہیں آرہا۔ ایک ہجوم کی طرح ہم سب بے مقصد زندگی گزار رہے ہیں۔صبح سے شام ہو جاتی ہے اور پھر رات سے صبح مگر مجال ہے کہ کسی ایک دن کوئی مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئے۔گھر،دفاتر کے مسائل اپنی جگہ، میڈیا اور سوشل میڈیا میں سامنے آنے والے لاتعداد واقعات بھی ہمیں جذباتی طور پر بہت کمزور بنا رہے ہیں۔اس وقت ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں جنگل کا قانون نافذ ہے جہاں کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں سب کے اپنے اپنے مسائل اور اپنی اپنی جنگ ہے۔ اس لائف سٹائل میں دین، اخلاق اور ضوابط کا دور دور تک نام و نشان نہیں ہے۔ میں کس کس بات کا ذکر کروں، چلیں اس ایک ہفتے کے واقعات کو ہی دیکھ لیں۔

سب سے پہلے تو کشمیر کے معاملے پر اسلامی ممالک کی بے حسی پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ آپ اپنے سامنے اپنے بہن بھائیوں کو تڑپتا دیکھ رہے ہیں مگر ایک مضبوط ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود آپ کو ڈرایا جاتا ہے بھوک اور افلاس سے اور ہمارے حکمران ببانگ دہل قوم کو منع کرتے نظر آتے ہیں خبردار جو نام لیا کشمیریوں کو بچانے کا، یہ بہت بڑا ظلم ہوگا۔ پھر دنیا دیکھتی ہے کہ ٹرمپ اور مودی کس طرح کشمیر کی فتح کا جشن منارہے ہیں اور کھلے عام اسلام پر دہشت گردی کا لیبل لگا رہے ہیں جبکہ ہمارے وزیراعظم کو ملاقات میں چورن پیش کردیا جاتا ہے۔ عالمی منظر نامے میں ہم کہاں کھڑے ہیں یہ سوچ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ کیا ہم اتنے بے غیرت ہیں کہ کوئی کچھ بھی کہے ہم چپ کر کے سن لیں گے کیونکہ بھکاریوں کی کوئی غیرت نہیں ہوتی۔

پھر میں اپنے ملک کے واقعات پر نظر دوڑائوں تو کبھی معصوم ذہنی مریض صلاح الدین کی المناک موت کا منظر نظر آتا ہے کبھی ساہیوال کے ننھے فرشتے انصاف سے مایوس نظر آتے ہیں۔کبھی پتہ چلتا ہے کہ بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے اور کچھ دنوں بعد ان کی لاشوں کے ٹکڑے مل جاتے ہیں۔

کبھی ٹک ٹاک کے ہاتھوں بگڑی نسل کا انجام نظر آتا ہے کہ کس طرح میوزک میں مست ٹک ٹاک کی ویڈیو بناتے بناتے چار نوجوان موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ہاں البتہ ان کی موت پر سوشل میڈیا کے پر پلیٹ فارم پر ماتم ضرور نظر آتا ہے لیکن قصور میں جہاںچار بچوں کے ساتھ زیادتی کرکے ان کو کاٹ کے پھینک دیا گیا کسی کی لاش پوری تھی تو کسی کی آدھی ۔

لیکن ان کے حق میں کوئی آواز بلند ہوتی نظر نہیں آتی۔

سوچیں ذرا ان کے ماں باپ پرکیا گزرتی ہوگی ۔

تبدیلی حکومت سے پہلے اور بعد یہ واقعات مسلسل رونما ہو رہے ہیں کتنی مائوں کی گود اجڑ چکی ہے کون ہے ان کا پرسان حال؟

حال ہی میں سرگودھا کے چک 47 کے ایک پیر نے جن نکالنے کیلئے بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا یہاں تک بچہ انتقال کر گیا۔

اچھا چلیں ایک اور واقعہ دیکھیں سندھ میں ایک بچہ کتا کاٹنے کے بعد ماں کی گود میں سسک سسک کر مر جاتا ہے کیونکہ اس کی ویکسین دستیاب نہ تھی آپ صرف ایک بار خود کو اس ماں کی جگہ رکھ کرسوچیں۔

چلیں یہ بھی معمولی بات سہی، ایک بچی کا ہسپتال میں انتقال ہو جاتا ہے وہ میت لے جانے کے لیے ایمبولینس کا دو ہزار مانگتے ہیں بچی کا باپ اور چچا غریب ہیں موٹرسائیکل پر ہی بچی کی میت لے جا رہے ہوتے ہیں کہ پریشانی میں ان کی بائیک کا ایکسیڈنٹ ہوجاتا ہے اور باپ اور چچا بھی اللہ کو پیارے ہوجاتے ہیں۔

تو ساتھیو یہ ہے ہمارے معاشرے کا مکروہ چہرہ!

کیا یہ وہ ریاست ہے جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھاتھا یا یہ وہ روشن پاکستان ہے جس کی بنیاد قائد اعظم نے رکھی تھی؟

کیا ستر سالوں میں ہم نے یہ ترقی کی ہے؟

ارے ہم نے تو سب کچھ کھودیا اپنی عزت، وقار، غیرت، سرمایہ، ہستی، ایمان۔

اور کہتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں!

یہاں پر ایک اور واقعہ سامنے آیا جب چہرے پر بے شمار زخم لگے ایک بزرگ کی سلاخوں کے پیچھے ایک تصویر نظر سے گزری پتہ چلا کہ یہ نہ تو کوئی مجرم ہے نہ ہی انہوں نے کوئی غبن کیا ہے بلکہ یہ پیشے کے اعتبار سے معلم اور پی ایچ ڈی فزکس ہیں ان کا نام پروفیسر جمیل ہے انہوں نے جہلم میں ڈی سی او آفس جا کر پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی کے خلاف درخواست دی،جس پر ڈی سی صاحب نے پولیس کے ذریعے اس عظیم اُستاد پر خوفناک تشدد کروا کرانِہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا اب جس معاشرے میں سفید بالوں والے ایک معلم کی یہ عزت ہو وہاں خشک سالی ہونا، وبائوں کا پھوٹ جانا اور زلزلوں کا آنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔

ہم وہ بے حس قوم ہیں جو مینڈکوں کی ڈی پیز، سٹیٹس اور ویڈیوز بنا کر اپنا اپنا حصہ ڈال کر خوش ہیں کہ ہم نے معاشرے کی بہتری کا حق ادا کردیا۔

مگر اوپر بتائے جانے والے کسی واقعے سے ہمارے اوپر جوں تک نہیں رینگتی کیونکہ یہ ہمارا درد نہیں ہے۔

کیوں کہ احساس، شرم مرچکی ہے

ہم اس قدر بے حس ہوچکے ہیں؟

افسوس صدافسوس

کس کس چیز پہ روئے بندہ…

اور پھر ذرا دیکھیے کہ اگلے ہی پل میں

عرش والا جب زمین ہلا دیتا ہے… انسان کو اس کی اوقات دکھا دیتا ہے

ہماری آنکھوں کے سامنے ہی منظر تھا جب چند لمحوں کے زلزلے نے مضبوط عمارتیں اور سڑکیں زمیں بوس کردیں۔ اس کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بن گئیں پل میں منظر بدل گیا وہ بھی ہم میں سے ہی تھے اور ہم بھی ان میں ہوسکتے تھے تو پھر غفلت کیسی؟

یاد رکھیں ایک ایسا زلزلہ بھی آنا ہے جس کی ویڈیو یا تصویر بنانے والا کوئی نہ ہوگا۔ تو کیا آپ اس وقت تک خود کو نہیں بدلیں گے؟

انسان اس رب العالمین کے آگے بے بس ہے، وہ چاہے تو ایک جھٹکے میں زمین و آسمان ایک کردے اورایک سانس کی بھی مہلت نہ دے۔ لیکن ابھی جو مہلت ملی ہے اس کو غنیمت سمجھیں توبہ کریں اور ہر کوئی اپنے کیے کی معافی مانگے۔اپنے آپ کو بدلنے کا تہیہ کریں انشا اللہ یہ معاشرہ بھی بہتری کی طرف گامزن ہوجائے گا۔ مگر یاد رہے قدرت بار بار موقع نہیں دیتی۔


ای پیپر