کر کٹر دی عمران خان
27 ستمبر 2019 2019-09-27

بالی وڈ میں ’’مانجھی، دی ماؤنٹین مین‘‘ کے نام سے فلم بنی جس نے باکس آ فس پر خوب دھوم مچا ئی

یہ فلم اگست 2015 میں نمائش کے لیے پیش کی گئی ۔فلم کی کہانی بھارت میں کم تر سمجھی جانے والی ذات سے تعلق رکھنے والے ایک بد حال مزدور دشراتھ مانجھی کے بارے میں تھی، جس کی بیوی 1959میں ایک حادثے کے بعد اس لیے انتقال کر گئی تھی کہ پہاڑ پر سے گرنے کے بعد بروقت پر طبی امداد نہیں مل سکی تھی۔

مشرقی بھارتی ریاست بہار میں واقع اس گاؤں کے سب سے قریبی ہسپتال تک جانے کے لیے بھی ایک پہاڑ کے اردگرد چکر کاٹ کر جانا پڑتا تھا ۔ یہ کوئی پچپن کلومیٹر کا سفر بن جاتا تھا۔ مانجھی نے سوچا کہ اْس کی بیوی تو جان سے چلی گئی لیکن وہ اپنی بیوی کی یاد میں اس پہاڑ کو کاٹ کر اِس کے اندر سے ایک ایسا راستہ بنائے گاجس کے ذریعے آسانی سے ہسپتال تک پہنچا جا سکے گا اور آئندہ کبھی گاؤں کا کوئی شخص طبی امداد نہ ملنے کے باعث موت کے منہ میں نہیں جائے گا۔ صرف ایک ہتھوڑی اور چھینی کے ساتھ مانجھی نے پہاڑ کاٹنے کا کام شروع کر دیا، شروع میں گاؤں والوں نے اْسے ایک دیوانہ سمجھا لیکن رفتہ رفتہ وہ اْس کے عزم کے قائل ہوتے چلے گئے، یہاں تک کہ بائیس سال کے بعد مانجھی اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا

مانجھی کا یہ منصوبہ 1982میں یعنی تقریباً بائیس سال میں مکمل ہوا۔ وہ پہاڑ کو کاٹ کر ایک 110 میٹر یعنی 360 فٹ لمبا ایک راستہ بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس راستے کے باعث ہسپتال تک کا سفر پچپن کلومیٹر سے کم ہو کر محض پندرہ کلومیٹر رہ گیا۔

دشارتھ مانجھی 2007 میں 73 برس کی عمر میں مثانے کے سرطان کے باعث انتقال کر گیا تھا اور ریاست بہار کی جانب سے اْس کی آخری رسوم کا انتظام سرکاری سطح پر کیا گیا تھا۔ بعد میں حکومت نے اس راستے کو باقاعدہ ایک سڑک بنادیا

میرا بھی ایک ایسی ہی فلم بنانے کا ارادہ ہے۔۔

’’ کر کٹر دی عمران خان ‘‘

دشراتھ مانجھی اور عمران خان میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں کی جدو جہد بائیس سال پہ مشتمل ہے

یہ وزیر اعظم پاکستان بنے اور اس نے دشوار گزار پہاڑ کو کاٹ کر راستہ بنایا۔

عمران خان اپنی قوم کے دکھ درد دُور کرنا چاہتے تھے۔ غربت ،مفلسی اور حکمرانوں کی کرپشن سے بلبلاتی ہوئی قوم کے لئے کچھ کرنا چاہتے تھے۔ ’’ کر کٹر دی عمران خان ‘‘ کا آ غاز کہیں سے بھی ہو لیکن یہ تو طے ہے یہ کہانی دشراتھ مانجھی کی داستان سے کہیں بڑی ہے۔ مجھے یہ بھی یقین ہے اس فلم کو کامیاب ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔ عمران احمد خان نے اس بائیس سالہ سفر کے دوران کیا مصائب نہیں جھیلے۔ اتنی رکاوٹیں کہ کوئی عام انسان ہو تا تو ہمت ہار کے گھر بیٹھ چکا ہو تا۔

لیکن باہمت اور بہادر عمران خان نے ہارنے کا کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔

وزیراعظم بننے سے پہلے عوامی اجتماعات کے دوران کرکٹر سے کپتان بنے کی عظیم داستان سناتے رہے کہ کس طرح انہوں نے 1992 کا ورلڈ کپ جیتا۔

عوام مبہوت ہو کر انہیں سنتی۔۔ ٹی وی چینلز کپتان کی تقاریر براہ راست دکھانے کا فریضہ نبھاتے رہے

ان کا یہ قول زریں تو سب کے دل میں کھب جاتا کہ میں نے کبھی شکست نہیں مانی اورظلم کے نظام کو پاش پاش کر دوں گا

عمران خان نے قوم کے درد میں اسلام آ باد جا کر اتنا بڑا دھرنا دیا کہ نواز شریف حکومت کی چولیں ہل گئیں

میرے پاس اس فلم کے لئے اتنا کچھ ہے کہ شائقین اسے دیکھتے ہوئے پلک نہ جھپک سکیں گے

پانامہ وغیرہ آ یا تو اس جدوجہد کو ایک نئی جہت ملی ۔جلتی پہ تیل کا کام ہوا اور عمران خان وزیر اعظم بن گئے

میں نے ان سطور میں جتنی جلدی عمران خان کو وزیراعظم بنایا ہے یہ سب اتنی جلدی نہیں ہوا۔

بہت مشکلیں آ ئیں۔بہت آ زمائشیں ، امتحانات اور بلائیں نازل ہوئیں

فلم میں اس جدوجہد کے دوران کپتان کی دو عددشادیوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جائے گی کیونکہ یہ سب کچھ قوم کے لئے تھا

ریحام خان نامی سابق اینکر کی اپنے شوہر نامدار بارے کتاب کو بھی کسی کھاتے میں نہیں لائیں گے

فلم میں دکھا نے کے لئے بہت کچھ ہے۔ کپتان نے زیراعظم بننے کے بعد کس طرح عوام کو مسائل کے ہیبت ناک سمندر سے نکالا۔یہ ہو گا اصل مو ضوع۔۔

شکر خدا کا انہیں جو ٹیم ملی اس نے انتھک محنت سے پاکستان کے معاشی حالات کو درست سمت پہ ڈالا

’’ کر کٹر دی عمران خان ‘‘ میں دکھائیں گے عوام خوشی سے نہال ہیں

ہر طرف دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ہر شعبہ دیانت اور ایمانداری کی عملی تفسیر اور تصویر بن چکا ہے

وہ جو ریاست مدینہ کا وعدہ تھا اس کی تکمیل احسن انداز میں ہو ئی

دنیا انگشت بدنداں ہوئی کہ عمران خان نے داخلی اور بیرونی محاذ وں پر کس طرح کامیابیاں حاصل کیں

غربت ایک خواب بن چکی

جہالت کبھی ہوا کرتی تھی

تعلیم مفت۔۔صحت کے شعبے کا جواب نہیں

کون ہے جس کے پاس اپنا گھر نہیں

سٹیس کو…۔یہ کس بلا کا نام ہے؟

’’ کر کٹر دی عمران خان ‘‘ کے سامنے ’’مانجھی، دی ماؤنٹین مین‘‘ کسی ذرے سے کم ثابت نہ ہو گی

فلم بنتے ہی پردہ سیمیں کی زینت بنے گی

اک ذرا انتظار…!


ای پیپر