پاکستان ریلوے کی کامیابی
27 ستمبر 2019 2019-09-27

ہم دنیا بھرکی محکمہ جاتی کامیابیوں کی داستانیں سنتے اور پڑھتے رہتے ہیں، قوموں کے ابھرنے اور ترقی کرنے کی مثالوں سے بھی انسپائریشن حاصل کرتے ہیں مگر اب پاکستان میں بھی اس کے قومی ادارے پاکستان ریلوے کے کارکنوں اورافسران نے وفاقی وزیر ریلویز شیخ رشیداحمد کی قیادت میں بحالی،ترقی اور جدت کے حوالے سے قومی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک نئی داستان رقم کی ہے۔موجودہ حکومت کے پہلے ہی سال میں پاکستان ریلوے نے کامیابیوں کے نئے ریکارڈ قائم کئے جو کہ بہتر حکمت عملی اور بروقت فیصلوںکی بدولت ممکن ہو سکے جن کے مطابق٭ 24نئی مسافر ٹرینیں چلائیں ٭ 4نئی فریٹ ٹرینیں چلائیں ٭ 60 لاکھ مسافروں کا اضافہ کیا ، اسوقت مسافروں کی تعداد ساڑھے چھ کروڑ ہے ٭خسارے میں پچھلے سال سے 4ارب کی کمی کی ٭ آمدنی میں پچھلے سال سے 5ارب90لاکھ کا اضافہ کیا ٭ 35لاکھ لٹر فیول کی بچت ٭ لائیو ٹریکنگ سسٹم اور ٹرینوں میںوائی فائی سسٹم متعارف کرایا ٭ 65 سال سے زائد عمر مسافروں کیلئے 50 فیصد رعایت ٭ 5 7سال سے زائد عمر مسافروں کیلئے سال میں چار بار مفت سفر ٭ 383 ایکٹر قیمتی ریلوے اراضی قبضہ مافیا سے واگزار ٭ بڑے سٹیشنوں پر فارمیسی کا قیام ٭ بڑے سٹیشنوں کی تزئین و آرائش ٭سٹیٹ آف آرٹ کنٹرول سسٹم اور شکایت سیل کی بنیاد ٭28اپریل کو بیجنگ میں ML-1پشاور تا کراچی ٹریک اپ گریڈیشن کا معاہدہ سائن کیا اور PC-1جمع کرادیا ٭ کراچی سر کلر ریلوے کی زمین سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت 43کنال میں سے 37کنال واگزار کرالی گئی ۔ ٭ 141 ایکڑ پر محیط رائل پام کا قبضہ پاکستان ریلوے نے لے لیا اس کا انٹرنیشنل ٹینڈر جاری ۔

مالی سال 2017-18میں پاکستان ریلوے کا سا لانہ خسارہ 36ارب62کروڑ روپے تھا جو اب 4 ارب3کروڑ روپے کم ہو کر 32ارب59 (انسٹھ )کروڑ روپے رہ گیا ہے۔یہ 4ارب روپے کی تاریخی کمی ہے جوپاکستان ریلوے کی گزشتہ 4دہائیوںکی تاریخ کا ایک ریکارڈ ہے۔تاریخ میں پہلی دفعہ پاکستان ریلوے خسارے سے نکلنے کی طرف چل پڑی ہے۔ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوںمیں اضافے کی وجہ سے 2 ارب روپے کے اضافی اخراجا ت بھی اس مالی سال میں برداشت کئے ہیںورنہ سالانہ خسارے کو2ارب روپے مزید کم کیا جا سکتا تھا۔مالی سال2018-19میں 54ارب 59کروڑ روپے ریونیو کمایاجو پاکستان ریلوے نے اپنی 70سالہ تاریخ کا سب سے بڑا ریونیو اکٹھا کیا ہے۔ جوکہ پچھلے مالی سال2017-18میں49 ارب 50کروڑ روپے تھا۔پچھلی حکومت کے آخری مالی سال کے مقابلے میںیہ آمدن 5ارب 90لاکھ روپے زیادہ ہے۔ یہ ایک نیا تاریخی ریکار ڈ ہے جوپاکستان ریلوے نے 30جون2019کو قائم کیا ہے۔الحمد اللہ پاکستان ریلوے نے مالی سال2018-19کے بجٹ ٹارگٹ کوبھی ناصرف مکمل کیا ہے بلکہ ٹارگٹ سے4ارب روپے اضافی آمدن بھی حاصل کی ہے۔ ریلوے کے اخراجات میں اضافی پے اینڈ پنشن اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے 3ارب33کروڑ روپے کے اضافی مالی بوجھ کو بھی برداشت کیا ہے۔24نئی مسافر ٹرینیںملک کے مختلف شہروںمیں چلانے کے باوجود5 3 لاکھ لیٹر فیول کی بچت کی ہے۔ نئی ٹرینیں نہ چلاتے تو مزید 70لاکھ لیٹر ڈیزل بچا سکتے تھے۔ نئی ٹرینوں کے ذریعے 60لاکھ نئے مسافروں کااضافہ کیا ہے ۔آج پاکستان ریلوے سے سفر کرنیوالوں کی تعدادساڑھے چھ کروڑتک پہنچ چکی ہے۔اگلے مالی سال میں ان مسافروں کی تعداد7کروڑ ہو جائے گی۔انشاء اللہ۔ نئی پسنجر اور فریٹ کوچزسسٹم میں آنے کے بعدایک کروڑ مسافر اور 20فیصد تک فریٹ میں اضافہ ہو سکے گا۔ اب پوری توجہ مال گاڑیوں کی طر ف مرکوز ہے۔ ریلوے فریٹ ہیڈ کوارٹرکراچی منتقل کر دیا ہے۔ ریلوے نے پچھلے سال کی نسبت اس سال 70 ٹن اضافی فریٹ اٹھا یا ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔اس تاریخی اور ریکارڈ کامیابی پرپاکستان ریلوے کے مزدوروں،ورکروں اور افسران کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ جنہوں نے دن رات ریلوے کی ترقی کیلئے کام کیا۔تمام بڑے ریلوے سٹیشنوں کی تزئین و آرائش اوران پر فارمیسی کا قیام بہت ضروری تھا جن پر کام تیزی سے جاری و ساری ہے۔65 سال سے زائد عمر مسافروں کیلئے 50 فیصد رعایت اور 75 سال سے زائد عمر مسافروں کیلئے اپنے شناختی کارڈ پر سال میں چار بار مفت سفر کی رعائت اس وزارت کا ایک احسن اقدام ہے ۔ پاکستان ریلوے کی زمینوں پر مختلف ادوار میں بے شمار قبضے ہوئے تھے جن میںسے ایک سال کے قلیل عرصے میں 383 ایکٹر قیمتی ریلوے اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کروانا کوئی آسان کام نہیںتھالیکن جب کامیابی کی طرف بڑھنے کی لگن ہو تو راسطے بنتے چلے جاتے ہیںاور مشکل اہداف بھی آسان لگتے ہیں۔ اسی طرح کراچی سرکلر ریلوے کی زمین سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی کے تحت43 کلومیٹر میں سے 38 کلو میٹر واگزار کروالی گئی ہے جس سے سرکلر ریلوے بحال ہونے کی امید بڑھ گئی ہے۔ تمام بڑے ریلوے سٹیشنز پرمفت وائی فائی سروس کی سہولت فراہم کی گئی ۔کلین اور گرین ریلوے مہم کے تحت مختلف ڈویژنوں میں 25 کے قریب نرسریا ں قائم کی اور لاکھوں درخت لگائے گئے تاکہ خوبصورت اور صاف ستھرا ما حول میسرآئے ۔ پاکستان ریلوے میں0 1 ہزار ضروری آسامیوں پر بھرتی کا کام شروع ہو چکا ہے اور مختلف کیٹگریز میں انٹرویوز کے بعد مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔آسامیوں پر بھرتی کے سلسلے میں وزیر ریلویز شیخ رشید احمد کی خصوصی ہدایت ہے کہ بھرتیوں میں صرف اور صرف میرٹ اور حکومتی پالیسی کو کو مدِ نظر رکھا جائے ۔بغیر کسی اخراجات کے ریلوے میں لائیو ٹریکنگ سسٹم کو متعارف کروایا گیا ہے جس سے10لاکھ مسافراپنے موبائل کے ذریعے مستفید ہو رہے ہیں۔ سی پیک منصوبے کے تحت کراچی۔پشاورML۔ 1 (ون) پر1872کلومیٹرٹریک کی اپ گریڈیشن کیلئے چین کے ساتھ معاہدے پر دستخط کئے جا چکے ہیں اور بہت جلد کام کا آغاز شروع ہو جائیگا۔۔ سی پیک منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد ٹرین سپیڈ160کلومیٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی جس سے سفر کا دورانیہ انتہائی کم رہ جائے گا۔141 ایکڑ پر محیط رائل پام کا قبضہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں پاکستان ریلوے نے لے لیا اوراس کا انٹرنیشنل ٹینڈر جاری ہو چکا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان ریلوے کے جدید ترین کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرکا افتتاح بہت جلد کر یں گے جس سے ریلوے کے نظام میں ایک نیا انقلاب آئے گا۔ موجودہ حکومت کے پہلے ہی سال میں محکمہ ریلوے میں جو بہترکام ہوئے ہیں بلاشبہ وہ قابل ستائش ہیں۔وزیر ریلوے شیخ رشید احمدکی سربراہی میںموجودہ سیٹ اپ کے ساتھ چیئرمین ریلویز سکندر سلطان راجہ اور چیف ایگزیکٹو آفیسرریلویز اعجاز احمد برڑو سے ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ کامیابیوں کے تسلسل کو مزید احسن طریقے سے جاری رکھا جائے۔ کیونکہ اگر محکمہ ریلوے ترقی کرے گاتواس کے ملازمین،افسران اور عام عوام کو ہر ممکن کو ریلیف مہیا ہوتا رہے گا۔


ای پیپر