ناکامی، کامیابی کا پہلا زینہ
27 ستمبر 2019 2019-09-27

بھارت کے چندریان IIمشن کی ناکامی پہ لطائف بھی بنائے جا سکتے ہیں اور جگتیں بھی کسی جا سکتی ہیں۔ اور ایسا ہوا بھی ہے۔ اس میں کسی طور مضائقہ نہیں ہے۔ بلکہ اگر دشمن حقیقی ہے (اور کوئی شک نہیں کہ ہمیں داخلی و خارجی محاذ پہ جس سے خطرہ ہے وہ ہمارا یہی ہمسایہ ملک ہی ہے) تو اس کی کامیابیوں پہ غم اور ناکامیوں کا جشن منانا ضروری ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو جو دانشور اس ناکامی پہ جشن منانے والوں کی کلاس لے رہے ہیں ان سے عرض ہے کہ دشمن کی کامیابی کبھی بھی دل میں گھر نہیں کرتی تو جشن بنتا ہے منانے دیجیے۔

اب آئیے اس ناکام مشن کے دوسرے پہلو کی جانب۔ اسرو یعنی انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) اس وقت خلاقی تحقیق میں نمایاں کردار ادار کر رہا ہے۔ خبریں گردش میں آئیں تھیں فروری 2017 میں کہ انڈیا نے خلائی تحقیق کے حوالے سے ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ یہ ریکارڈ تھا کیا؟ برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرو نے ایک وقت میں 104 سیٹلائٹس خلا میں بھیجے جو کہ ایک نیا ریکارڈ تھا۔ جب کہ اس سے قبل روس کے پاس یہ ریکارڈ 2014 میں ایک وقت میں 37 مصنوعی سیارے خلا میں بھیجنے کی وجہ سے تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس میں خود بھارت کے صرف تین مصنوعی سیارے تھے۔ باقی تمام سیٹلائٹس امریکہ سمیت مختلف ممالک کے تھے۔ اور ان کو خلاء میں بھیجنے سے خبریں یہی تھیں کہ بھارت نے اس مشن کا کافی خرچ پہلے ہی حاصل کر لیا ہے۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ یہ مشن بھارت کو شائد آدھے میں پڑا ہو گا۔ اب ذرا ایک لمحہ یہاں سوچیے بھارت خود تو خلائی تحقیق کے میدان میں آگے بڑھ رہا ہے، ساتھ ہی ساتھ وہ اس کو کمرشل بنیادوں پہ بھی استعمال کر رہا ہے۔

بھارت کا خلائی تحقیقات کا ادارہ خلائی تحقیق کو کمرشل بنیادوں پہ استعمال کرنے کا آغاز کر چکا ہے۔ اور چندریان2 سے قبل، چندریان 1 کو چاند کے مدار میں بھیج چکاہے۔ اور ایسا 2008 میں ہوا۔ اس پہلے مشن میں بھارت کو امید تھی کہ یہ خلائی مشن دو سال تک اپنی جگہ پہ کام کرئے گا لیکن ایسا نہ ہو سکا اور 312 دنوں کے بعد باقاعدہ اس کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا گیا کیوں کہ اس میں کچھ تکنیکی مسائل آنا شروع ہو گئے تھے۔ لیکن وقت سے پہلے مشن کے خاتمے کے باوجود محتاط اندازوں کے مطابق نوے فیصد مقاصد حاصل کر لیے گئے۔ اور اس مشن کی خاص بات یہ تھی کہ اس مشن میں خلائی تحقیق کے 11 آلات تھے, جن میں سے بھارت کے 5 تھے۔ باقی آلات ناسا، ایسا، اور بلغاریہ کے تھے اور بھارت انہیں بغیر کسی معاوضے کے اپنے مشن مین لے جا رہا تھا۔ اس سے آپ انداہ لگا لیجیے کہ بھارت اپنی خلائی تاریخ کے اُس وقت تک کے اہم ترین مشن میں عالمی شراکت داری کو کس قدر اہمیت دے رہا تھا۔ یہ مشن کسی نہ کسی حد تک کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اور اس مشن کی خاص بات یہ تھی کہ چین و چاپان خطے کے جو ممالک خلائی بالادستی میں بھارت کے سامنے تھے ان سے بہت کم لاگت میں یہ پراجیکٹ تکمیل تک پہنچا۔ یہ یقینی طور پر ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔

اب ذکر اگر کریں چندریان 2 کا تو اس بارے میں سب سے بہتر رائے یہ ہو سکتی ہے کہ بھارت خلائی تحقیق اور چاند پر لینڈنگ کے حوالے سے روس، امریکہ اور چین کے بعد دنیا کا چوتھا ملک بننے سے 2.1 کلومیٹر کے فرق سے رہ گیا۔ کیوں کہ لینڈر (وکرم) کا چاند سے اس دوری پہ اسرو سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ یہاں قابل غور پہلو ہے کہ اس مشن میں آربیٹر، لینڈر اور روور تین حصے تھے۔ آربیٹر اس ناکام مشن کا مدار میں بدستور موجود ہے۔ جب کہ لینڈر چاند کی سطح پہ بظاہر سب کچھ ٹھیک ہونے کی وجہ سے بھی لینڈ نہ کر سکا۔ اور روور کو چاند کی سطح پہ تجربات کرنے تھے۔ کیا واقعی یہ مشن ناکامی سے دوچار ہوا ہے؟ سائنسی بنیادوں پہ جائزہ لیا جائے تو تکنیکی وجوہات کی وجہ سے یہ مشن ناکام شمار ہونے لگا ہے لیکن یہ ایک ایسی ناکامی ہے جو بھارت کی خلائی تحقیق میں بہت بڑی کامیابی ہے۔ چاند کی سطح کے جس حصے میں یہ لینڈنگ ہونا تھی اگر ہو جاتی تو بھارت اس حصے میں لینڈنگ کرنے والا پہلا ملک بن جاتا۔ ایک لمحہ سوچیے ناکامی کے باوجود پوری دنیا اس مشن کو سراہ رہی ہے کیوں کہ کامیابی و ناکامی کے درمیان یہ لگ بھگ صرف دو اعشاریہ ایک کلومیٹر حائل ہو گئے۔ اور اگر یہ مشن کامیاب ہو جاتا تو تمام لطائف و جگتوں کا پہلو بھی تبدیل ہوجاتا۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت میں بھارت کے ممتاز سائنسدان گوہر رضا کا کہنا یقیناً غلط نہیں کہ اس مشن کی کامیابی سے پوری دنیا کو فائدہ ہوتا کیوں کہ عالمی سطح پہ ڈیٹا شیئرنگ خلائی تحقیق میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اور اس میں کوئی شک بھی نہیں۔ لیکن بہرحال جس ملک کا خلائی مشن کامیابی سے ہمکنار ہو گا فائدہ اسی ملک کا زیادہ ہوگا اور خلائی بالادستی کی جانب بھی اس ملک میں اہم قدم شمار ہو گا۔ اور کچھ وقت قبل سعودی ولی عہد دورہء پاکستان کے دوران 2030 تک بھارت کے چین کے بعد دنیا کی دوسری بڑی معیشت بننے کا پہلے ہی کہہ چکے ہیں۔ ان حالات میں خلائی تحقیق میں بھی بھارت اس وقت اپنے خطے میں جہاں جاپان اور چین سے مقابلے پہ ہے وہیں ناسا (NASA) اور ایسا (ESA) جیسے خلائی تحقیقاتی ادارے بھی بھارت کے ساتھ شراکت داری کی راہ پہ ہیں۔

اب اس پورے منظر نامے کو ایک لمحہ ایک طرف رکھیے۔ اور پاکستان کی خلائی تحقیق کے ذمہ دار ادارے اسپارکو (SUPARCO) کی کارکردگی کا ذمہ داری سے جائزہ لیجیے۔ آپ بہتر طور پہ یہ جائزہ تب لے سکتے ہیں جب آپ خود کو جانبدار رکھ کے سوچیں۔ غیر جانبدار رہ کے سوچیں تو آپ کو بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے اور اسپارکو کے درمیان واضح فرق محسوس ہو گا۔ بحث یہ نہیں کہ اُن کی آبادی کیا ہے، اُن کا بجٹ کیا ہے، اُن کے شراکت دار کتنے ہیں۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اگر ہم خطے میں ہمسایہ ملک سے مقابلے کی فضاء میں ہیں تو خلائی تحقیق میں اتنے پیچھے کیوں ہیں۔ بھارت اپنی اس ناکامی کو آنے والی کامیابی کا زینہ بنا رہا ہے۔ اور ہم اس میدان میں کہاں کھڑے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہم جاننے میں دلچسپی ہی نہیں رکھتے۔

ہم جگتیں بنانے میں ماہر ہیں، تنقید کرنے میں ہمارا ثانی نہیں، لطائف گھڑنے میں ہماری مہارت قابل دید ہے۔ لیکن عملی میدان میں ہم کب اپنی کارکردگی ثابت کریں گے کچھ معلوم نہیں۔


ای پیپر