خلیل جبران سے میرزا ادیب اور احمد عدنان طارق تک…
27 ستمبر 2019 2019-09-27

نارمن وزڈم، جیری لیوس یہ مزاحیہ فلموں کے ہیروز تھے جن سے میں اسکول / کالج کے زمانے میں متاثر تھا ان کی مزاحیہ فلمیں مجھے اچھی لگتی تھیں اور میں دیر تک یہ فلمیں دیکھ کر ہنستا رہتا۔ پھر میرے لڑکپن کے دور میں ’’مون ریکر‘‘ نامی فلم آئی یہ 007 سریز کی تھی اور میں جیمز بانڈ کی اس فلم کے سحر میں دیر تک رہا۔ پھر ’’بن حر‘‘ میں کھو سا گیا اور طویل عرصہ تک کھویا رہا … یہ چھ گھنٹوں میں دیکھی جانے والی نہایت ہمت والے لوگوں کی فلم تھی … کالج کے زمانے میں ولیم ورڈز ورتھ کی نظمیں مجھے متاثر کر رہی تھیں اور یہ شخص میرے اعصاب پر سوار رہا … مگر جب زمانہ کالج کے آغاز میں والد صاحب نے مجھے خلیل جبران کی ساری کتابیں لا کر دیں تو مجھے لگا جیسے میں بیروت کے مضافات میں (بیروت خلیل جبران کا دیس ہے) کہیں رہتا ہوں اور چھوٹی پہاڑی پر قبر ( خلیل جبران عیسائی مذہب سے ہے) میں لیٹے خلیل جبران سے ہر شام دیر تک بیٹھا باتیں کرتا رہتا ہوں … میں نے جب پڑھا کہ خلیل جبران کی کتاب "Broken Wings" دنیا میں قرآن پاک کے بعد پڑھی جانے والی بڑی کتاب ہے تو میں نے پھر سے خلیل جبران کی کتاب "Broken Wings" نکالی اور بار بار پڑھنے لگا … مجھے آج احمد عدنان طارق کی تحریریں پڑھ کر خلیل جبران کا انداز یاد آ جاتا ہے …ویسے محترمہ تسنیم جعفری بھی تراجم کے حوالے سے بچوں کے ادب میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔دھڑا دھڑبچوں کے لیئے اُن کی کتابیں بھی مارکیٹ میں آرہی ہیں...

پھر جب کالج کے ابتدائی دنوں میں میرزا ادیب کی کتاب ’’صحرا نور کے خطوط‘‘ میرے ہاتھ آئی تو میں نے اُس خوبصورت ترین تحریروں سے مزین کتاب کا کچومر نکال دیا۔ پھر ’’صحرا نور کے رومانس‘‘ ، ’’مٹی کا دیا‘‘ … یہ کتابیں تو میں نے نہ جانے کتنی کتنی بار پڑھ ڈالیں … اور میرزا ادیب کی دوسری جاذب تحریریں اس کے علاوہ تھیں…مرزا ادیب نے بچوں کے لیئے نہایت سادہ زبان میں ڈرامے بھی لکھے جو عام طور اسکولوں کے سٹیج پر بھی بچوں نے پیش کیئے... اب ایسے لکھاری دستیاب نہیں...

احمد عدنان طارق کی ’’تزئین اور تتلیاں‘‘ جب ہمارے گھر آئی تو میری بیٹی نے اس کتاب کو اتنا پڑھا اتنا پڑھا کہ شاید وہ اب احمد عدنان طارق کو اُن سے بہتر انداز میں اُن کی وہ کہانیاں سنا سکے جو ’’تزئین اور تتلیاں‘‘ میں چھپی ہیں …

بتانے والی بات یہ تھی کہ جب میں نے زمانہء طالب علمی میں ’’صحرا نور کے خطوط‘‘ پڑھی اور اس کے سحر میں کھو سا گیا تو میں بے ساختہ اٹھا اور چل پڑا … ایک اخبار کے دفتر گیا اور پوچھا …

’’صحرا نورد … میرزا ادیب ‘‘ کہاں ملیں گے … وہاں موجود صحافی نے بتایا … وہ چوہان روڈ، کرشن نگر رہتے ہیں ویسے آج عصر کے بعد شاہ محمد غوث لائبریری میں اک مشاعرہ ہے جس کی مرزا ادیب صدارت کریں گے … میں خوفناک گرمی میں پیدل چلتا … شاہ محمد غوث لائبریری پہنچا … تین کلو میٹر کا یہ سفر میں نے پیدل طے کیا تانگوں ریڑھوں کی گرد سے اٹا جب میں لائبریری داخل ہوا تو میرے اسکول کے استاد راز کاشمیری مل گئے … میں نے مدعا بیان کیا تو میری پریشانی دیکھ کر باہر آئے اور انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے بولے … ’’ابھی ابھی مشاعرہ ختم ہوا اور وہ پیدل ہی دہلی دروازہ سے کرشن نگر اپنے گھر جائیں گے۔‘‘

تم بھی پیچھے پیچھے چل پڑو … کہیں نہ کہیں ملاقات ہو جائے گی …

میں پھر پیدل چل پڑا … راستے میں کسی نیک دل نے حضرت امام حسینؓ کی سبیل لگا رکھی تھی … وہاں سے میں نے ٹھنڈے دودھ کے تین گلاس پئے اور بتائے راستوں پر چل نکلا … پھر سے سات کلو میٹر پیدل چلا اور ہانپتا ہانپتا … میرزا ادیب کے گھر جا پہنچا … میرزا صاحب نے میرا حلیہ دیکھا (اُس دور میں مت پوچھئے لاہور میں کس قدر گرد اڑتی تھی) تو فوراً اندر بلا لیا … ’’بیٹھک‘‘ میں بیٹھے … میرے لیے حکیمی شربت منگوایا اور بولے … تم پیاس بجھائو میں ابھی شاہ محمد غوث لائبریری سے مشاعرہ کی صدارت کر کے آ رہا ہوں ’’شوز‘‘ اتار لوں پھر بات کرتے ہیں … یا اللہ خیر میرزا صاحب شوز کیوں اتاریں گے …؟

گویا ہم دونوں کہیں ساتھ ساتھ ہی پیدل آ رہے تھے … یہ تھی میرے صحرا نورد کے خطوط کے خالق سے ملاقات کی خواہش … اب جب میں بچوں کو احمد عدنان طارق کی کہانیاں ذوق و شوق سے پڑھتے دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ کسی دن کوئی حافظ مظفر محسن پیدل نکل پڑے گا اور آٹھ دس کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے جھنگ پہنچے گاا ور تھانہ صدر جھنگ کے محرر سے ہانپتا ہانپتا … جا کر کہے گا …

’’مجھے ’’تزئین اور تتلیاں‘‘ کے مصنف احمد عدنان طارق سے ملنا ہے‘‘ اور … محرر بچے کو اک ٹھنڈی کوکا کولا پلاتے ہوئے محبت سے کہے گا ’’بیٹا پچھلے ہفتے لکھاری انسپکٹر احمد عدنان طارق کی سلسلہ ملازمت جھنگ سے فیصل آباد تعیناتی ہو چکی ہے‘‘… !!!

اس وقت جو بہت خوبصورت لکھنے والے جو دل لگا کر بچوں کا ادب تخلیق کر رہے ہیں اُن میں نزیر انبالوی، علی اکمل تصور ،ریاض قادری ،محترمہ تسنیم جعفری ، احمد عدنان طارق ، راحت عائشہ ،سحر فارانی اور دوسرے شامل ہیں۔حکومت وقت کو چاہیے کہ پاکستان رائٹرز گلڈ اِس وقت چونکہ ادبی کے لیئے اِک فعال ادارے کے طور پرکام نہیںکر رہا لہذا کوئی اور ادارہ تشکیل دیا جائے جو بچوں کا ادب تخلیق کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کا فریضہ سر انجام دے۔


ای پیپر