” یہ جو لاہور سے نفرت ہے“
27 ستمبر 2019 2019-09-27

ڈاکٹر فخر عباس سے معذرت ،ان کے شعر میں ترمیم کرنا چاہ رہا ہوں، انہوں نے کہا تھا اور خوب داد حاصل کی تھی، ’ یہ جولاہور سے محبت ہے، یہ کسی اور سے محبت ہے‘ مگرجہاں لاہور سے محبت کرنے والے لاکھوں اور کروڑوں میں ہیں وہاں اس شہرِ بے مثال سے نفرت کرنے والوںکی بھی کمی نہیں، مجھے بلا معذرت کہنا ہے کہ ان نفرت کرنے والوں میں بہت ساروںکو رزق ، چھت اور عزت سمیت بہت کچھ یہی شہر دیتا ہے ،ا ن کا گلہ ہے کہ یہ سب کچھ انہیں اپنے شہر میں کیوں نہیں ملا، میرے پاس اس شکوے کے بہت سارے جواب ہیں مگرجن کے مرغ کی ایک ٹانگ ہو وہ کبھی نہیںمانتے کہ تمام مرغوں کی دو ٹانگیں ہوتی ہیں۔ وہ اصرار کرتے ہیں اور کسی دیوار کے سائے میں ایک ٹانگ اپنے پروں میں دبائے مرغ کو دکھا کے شور مچادیتے ہیں، یہ دیکھو، مرغ کی ایک ہی ٹانگ ہوتی ہے اور اگردو مرتبہ مرغ کو ، شُش شُش کی آواز لگا دی جائے اور مرغ اپنی دونوں ٹانگوں پر بھاگ نکلے تو کہتے ہیں کہ سب خرابی تمہارے شُش شُش کی ہے ورنہ مرغ کی ایک ہی ٹانگ ہوتی ہے۔

شعر میں ترمیم سے بات کہیںاور نکل گئی ورنہ عام طور ایسا صرف سوشل میڈیا پر ہی ہوتا ہے جیسے پہلے لاہوریوں کے ساتھ شہرت کے شو ق میں جنونی ایک خاتون افسر نے گدھے کے گوشت کو جوڑا اور اب مینڈک جوڑ دئیے گئے ۔ زندہ مینڈکوں کے پکڑے جانے کے بعدسوشل میڈیا پر جس طرح ہاہا کار مچی، جس طرح فوری طور پر دنیا بھر کی ویب سائٹس سے اٹھائی گئی فرائی کئے ہوئے مینڈکوں کی تصویریں شیئر کی گئیں، جس جس طرح کی جگتیں اور طعنے ایجاد کئے گئے وہ صاف ظاہر کر رہے تھے کہ یہ سب پھیلانے والوں کے دل میں کتنا بغض اور غصہ بھرا ہوا ہے۔ لاہور کو گالی دینے کا کوئی موقع ضائع نہ کرنے والوں نے ’تخت لاہور ‘کی اصطلاح ایجاد کی تھی اور ایسی ایسی کہانیاں بیان کیں تھیں کہ عقل، منطق اور ضمیر سب ہکا بکارہ گئے تھے۔ انہیں ایک صاف ستھرے، ہرے بھرے لاہور کو دیکھ کر ’ کچیچیاں‘ چڑھتی ہیں، دل میں غم اور غصے کے الاﺅ بھڑکتے ہیں۔ یہ اس نفرت میں اُس پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کے بھی مخالف ہوجاتے ہیں جو ترقی یافتہ ملکوں میں صدیوں پہلے اور ہمارے ہمسایہ ممالک میں عشروں پہلے آ چکا۔ انہیں لاہور کی سڑکیں، انڈر پاسز، فلائی اوورز سب برے لگتے ہیں مگرجب یہ خود ٹریفک کے اژدہام میں پھنستے ہیں تو پھر دہائیاں دیتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں ڈاکٹر فخر عباس کے شعر میں ترمیم کرنا چاہ رہا ہوں کہ ’ یہ جولاہور سے نفرت ہے، یہ کسی اور سے نفرت ہے‘۔

میرا گمان ہے کہ ان میں بہت سارے ایسے ہیں جو اپنے اپنے سیاسی بیک گراونڈ کی وجہ سے لاہور کی سیاسی قیادت سے نفرت کرتے ہیں۔اسی کی دہائی سے لے کر اب تک ملک کی سب سے مضبوط ترین سیاسی قیادت لاہور نے ہی فراہم کی ہے۔ یہ جب اپنے اپنے صوبوں اور علاقوں کے نااہلوںاور کاسہ لیسوں کو دیکھتے ہیں، یہ جب دیکھتے ہیں کہ ان کی حکومتیں تو مکمل تعاون کے باوجود نہ کوئی گرین لائن منصوبہ مکمل کر پاتی ہیں اور نہ ہی کوئی بی آرٹی مکمل ہوتی ہے تو پھر انہیں پنجاب کی میٹرو بسیں اور اورنج لائنیں بہت تکلیف دیتی ہیں اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب انہیں لاہور کے بارے میں کوئی سازشی تھیوری یا کوئی افواہ ملتی ہے تو یہ پھر اسے لے اڑتے ہیں، فوٹو شاپ تصویروں کے انبار لگا دئیے جاتے ہیں اور حقائق کو منوں مٹی تلے دفن کر دیا جاتا ہے۔ لاہور میں مینڈکوں کے گوشت کے بارے میں افواہ اس وقت پھیلی جب پولیس کے ایک شعبے مجاہد سکواڈ کے پی آر او نے لاہور کے کرائم رپورٹروں کوا یک ، دو تصویروں کے ساتھ ایک خبر واٹس ایپ کی کہ راوی پُل کے ناکے سے پانچ من سے زائد مینڈک پکڑے گئے ہیں اور کہا کہ یہ لاہور سپلائی کئے جا رہے تھے ورنہ ایسا واقعہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا یہاں خبروں میںیہ گمان بھی ظاہر کیا گیا کہ یہ مینڈک امکانی طور پر لاہور کے ریسٹورنٹس کو فراہم کئے جانے تھے۔اب دلچسپ امر یہ ہے کہ جب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اس امر کا نوٹس لیا تو پولیس کی طرف سے جو رپورٹ دی گئی جو اس حد تک جامع تھی کہ اس میں ملوث دونوں مسیحی شہریوں کے فون نمبروں کے ساتھ ساتھ رکشہ نمبر اور متعلقہ اے ایس آئی کا نام تک موجود تھا، اس رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ مینڈک تعداد میں ایک سو دس کے لگ بھگ تھے جنہیں کالجوں میں تجربات کے لئے فراہم کیا جا رہا تھا۔ اب لاہور کے کرائم رپورٹروں کو مجاہد سکواڈ کے پی آر او نے ماموں بنایا اور خبرچلوائی یا وزیراعلیٰ پنجاب کو ماموں بنایا گیا، اس کی تحقیق ضروری ہے۔

کامن سینس وہ شے ہے جو کامن لوگوں میں کامن نہیں ہے کہ انہوں نے یہ سوچا ہی نہیں کہ مینڈک پکڑنا کون ساا ٓسان کام ہے کہ انہیں چکن کی جگہ پیزے، شوارمے اورسوپ میں استعمال کرلیا جائے۔ آپ نے مینڈک تولنے والا محاورہ تو سنا ہی ہو گا کہ انہیں تولا نہیں جا سکتا کہ آپ ادھر ترازو میں دس مینڈک ڈالیں ادھر ان سے آٹھ، نو پھدک کر نکل لیں گے یعنی مینڈک پکڑنا اور انہیں سپلائی کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے اور نہ ہی کسی طور پر یہ مینڈک ، برائلر مرغ سے سستے پڑتے ہیں، ہاں، مردہ مرغیوں کے بارے میں ضرور کہاجا سکتا ہے کہ انہیں کچھ بے ضمیر لوگ بچت اور منافعے کی خاطر استعمال کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف گدھے کے گوشت کے بارے بھی سن لیجئے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ گدھے کا گوشت بہت سستا ہے تو ایک اچھا گدھادیہی علاقوں میں ٹرانسپورٹیشن کے استعمال کی وجہ سے ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے کی قیمت تک پہنچا ہوا ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کون احمق اتنا مہنگا گدھا خرید کر استعمال کرے گا جب اسے بیف اورمٹن سستا دستیاب ہو گا، چلیں، آپ کی مان لیتے ہیں کہ مرے ہوئے گدھے کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی کھال مہنگے داموں ایکسپورٹ کر دی جاتی ہے مگر فوڈ ایکسپرٹ محسن بھٹی بتاتے ہیں کہ گذشتہ کچھ برسوں سے پھیلنے والی افواہوں کے بعدکھال کی ایکسپورٹ پر پابندی لگا دی گئی ہے اور گدھے کا اس کام کے لئے قتل قید اور جرمانے کے مستوجب جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ بہت سارے چائینیز امپورٹرز اس وجہ سے پاکستانی ایکسپورٹرز سے ناراض ہو گئے ہیں کہ وہ اب کھالیں برآمد نہیں کر پا رہے۔ یوں بھی لاہور ترقی یافتہ شہر بن چکا اور یہاں گدھے بہت کم ہیںجبکہ دوسرے علاقوں میں گدھوں کی وافر تعداد موجود ہے ۔ لاہور میں فوڈ اتھارٹی اور بلدیہ سمیت بہت سارے محکمے بھی متحرک ہیں بلکہ یہاں کی ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن بھی کہیں زیادہ ذمہ دار اور فعال ہے لہذا اب یہ فکر ان علاقوں کے لوگوں کو کرنی چاہئے جہاں گدھے ہوتے ہیں ، مرتے ہیں اور ان کے گوشت کے پکڑے جانے کی خبر بھی نہیں آتی۔مجھے یہاں اپنے دوستوں کی دی ہوئی اس خبر کو شیئر کرنا ہے کہ جس گوشت کوعائشہ ممتاز نے گدھے اور سور کا گوشت کہہ کر شہرت حاصل کی تھی اس کی لیبارٹری رپورٹس حکومت پنجاب کے پاس موجود ہیں جس کے مطابق وہ بیف ہے۔

مجھے اپنے لاہوریوں سے کہنا ہے کہ وہ اپنا دل اور جگر مضبوط رکھیں، انہیں علم ہونا چاہئے کہ جو بچہ اپنی جماعت میں اول آرہا ہو اس سے جلنے والے بہت ہوتے ہیں حالانکہ اس کے بارے گندی اور گھٹیا خبریں پھیلانے والوں کو چاہئے کہ وہ اپنا وقت اس کام میں صرف کرنے کی بجائے اپنے آپ کو بہتربنائیں ۔ لاہور سے نفرت کرنے والوں کے لئے ابھی اتنی خوشخبری ہی کافی ہے کہ لاہور سے نفرت کے نعرے پرحکومت میں آنے والی سیاسی جماعت کے دور میں ان کی اورنج لائن کو تباہ کیا جا رہاہے،شہر کو کوڑے کرکٹ میں کراچی کی مثال بنایا جار ہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ ان تمام خوشخبریوں سے انہیں سوائے ناکامی اور بدنامی کے کیا ملے گا۔لاہوریوںنے پورے پاکستان کے لئے اپنے دل اور بانہیں کھول رکھی ہیں، وہ کھلی رہیں گے ، ہاں، لاہور سے نفرت کرنے والوں سے صرف اتنا کہنا ہے کہ کووں کی کائیں کائیں سے کبھی بیل نہیں مرتے۔


ای پیپر