قحط زدگان کی امداد کا مہنگا ترین فارمولا
27 ستمبر 2018 2018-09-27

سندھ حکومت نے تھر اور صوبے کے دیگر علاقوں کو قحط زدہ تو قرار دے دیا لیکن ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی امدادی کارروائیاں شروع نہیں کی جاسکی ہیں۔تھر سے بچوں کی اموات اور لوگوں کی نقل مکانی کی خبریں مسلسل آرہی ہیں۔ صوبائی حکومت نے غیر متوقع طور پراگست میں ہی تھر کو قحط زدہ قرار دے دیا، ورنہ گزشتہ برسوں میں خشک سالی کے باوجود اس بارانی علاقے کو قحط متاثر قرار دینے سے گریز کرتی رہی ہے۔سندھ حکومت کی اس مرتبہ حد حساسیت حیران کن ہے کہ سندھ حکومت نے تھر سمیت چھ اضلاع کے 315 دیہات آفت زدہ قرار دیا ہے، متاثرہ علاقے میں گندم اور مویشیوں کو چارہ دینے کا اعلان کیا ۔
تھرپارکر اور عمرکوٹ اضلاع میں قحط زدگان میں امدادی گندم تقسیم کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔ جو کہ اتنا پیچیدہ ہے کہ ایک بڑی آبادی اس امداد سے استفادہ نہیں کر سکے گی۔ طریقہ یہ رکھا گیا ہے کہ قومی کارڈ کی بنیاد پر فی خاندان ہر ماہ پچاس کلو گندم مفت دی جائے گی۔گزشتہ سال حکومت نے دو لاکھ ستاسی ہزار خاندانوں میں گندم تقسیم کی تھی۔ لیکن حالیہ امدادی کارروائیوں میں صرف دولاکھ آٹھ ہزار خاندان شامل کئے گئے ہیں۔ جس سے 80 ہزارخاندان امدادی لسٹ سے خارج ہو گئے ہیں۔ بالفاظ دیگر سولہ لاکھ آبادی میں سے ایک چوتھائی آبادی اس امداد سے محروم ہو جائے گی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نادرا ریکارڈ کے مطابق دولاکھ آٹھ ہزار خاندان ہیں۔ مسئلہ نادرا کے ریکاڑد کا ہے جو اپ ڈیت نہیں کیا گیا ہے، اس دلیل کو درست بھی مانا جائے تو گزشتہ سال امدادی گندم دو لاکھ ستاسی ہزار خاندانوں میں کیسے تقسیم کی گئی؟ دوئم یہ کہ اگر خاندانوں کے اعداد و شمار میں فرق آرہا تھا، گزشتہ ماہ جب امدادی کام کی تیاری کے لئے محکمہ ریلیف اور کابینہ کی کمیٹی نے ہوم ورک شروع کیا تب اس کی نشاندہی کیوں نہیں کی گئی؟ اس نقص کے بارے میں نہ لوگوں کو بتایا گیا کہ لوگ اپنا نادرا کا ریکارڈ اپ ڈیٹ کرائیں اور نہ ہی نادرا کو آگاہ کیا گیا اور اس سے ریکارڈ کو اپڈیٹ کرنے کے لئے مدد لی گئی۔ لگتا ہے کہ صوبائی حکومت ذمہ داری اپنے کندھوں سے اتار کر نادرا پر ڈالنا چاہ رہی ہے۔ نادرا کے پاس یہی جواب ہوگا کہ اس ادارے سے نہ صوبائی حکومت نے اور نہ متعلقہ لوگوں نے رابطہ کیا۔
گزشتہ سال بھی حکومت نے گندم کی اقساط دینے کا اعلان کیا تھا جس میں سے اپریل میں تقسیم ہونے والی قسط حکومت کی آئینی مدت مکمل ہونے اور نگراں حکومت آنے کی وجہ سے روک دی گئی تھی۔یہ قسط تاحال تقسیم نہیں کی جاسکی ہے۔ زیادہ تر مستحقین روزگار کی تلاش میں نقل مکانی کر چکے ہیں۔حکومت کے امدادی منصوبے کے مطابق امدادی گندم اور چارہ کی تقسیم کا مرکزتحصیل ہیڈ کوارٹرز میں رکھا گیا ہے۔ 21 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا یہ صحرائی علاقہ چھ تحصیلوں پر مشتمل ہے جس میں 2300 گاؤں ہیں۔ ضلع میں روڈ نیٹ ورک خال خال ہے۔ کئی گاؤں سے تحصیل ہیڈکوارٹر ایک سو سے ڈیڑھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں۔ جہاں تک پہنچنے کے لئے فی خاندان آٹھ سو سے ایک ہزار روپے تک خرچ کرنا پڑے گا، یہ رقم تقریبا پچاس کلوگرام گندم کی قیمت کے برابر ہے۔ مزید یہ کہ گندم کی تقسیم کا عمل بہت ہی پیچیدہ رکھا گیاہے۔ امداد کے مستحق شخص کو چار کاؤنٹرز یا دفاتر سے تصدیق اور داخلہ کرانے کے بعد پچاس کلو گندم دی جاتی ہے۔ چھاچھرو اوردیگر تحصیلوں میں جہاں ایک امدادی کارروائیاں شروع کی گی تھی وہاں پر ان چار دفاتر میں موجود عملے کی جانب سے رشوت لینے کی بھی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ امدادی گندم اور چارے کی تقسیم کے مراکز تحصیل ہیڈ کوارٹرز میں اس لئے رکھے گئے ہیں کہ حکومت کے
پاس یہ گندم گاؤں تک پہنچانے کے لئے مطلوبہ ٹرانسپورٹ کے پیسے نہیں ہیں یا وہ اس پر پیسے خرچ کرنا نہیں چاہتی۔ ماضی میں بھی مختلف ٹرانسپورٹرز کے کروڑوں روپے کے بل روک دیئے گئے تھے، جو بعد میں کمیشن کی ادائیگی اور اثر رسوخ کے بعد ادا ہو سکے تھے۔ صوبائی حکومت کو ہر ماہ دو ارب روپے کی گندم اور اتنی ہی رقم ٹرانسپورٹیشن پر خرچ کرنی پڑے گی۔بارہ ماہ میں یہ رقم کم از کم چالیس سے پچاس ارب روپے تک بنے گی ۔ اتنی بڑی رقم کاصوبائی حکومت آسانی سے بندوبست نہیں کر سکے گی۔ عملاً گندم کی دو تین قسطیں کم ہو جائیں گی۔تقسیم کے حالیہ منصوبے کے تحت جتنی رقم حکومت گندم اور چارے پر خرچ کرے گی، متاثرین کو بھی اتنی ہی رقم یہ امداد حاصل کرنے کے لئے کرایے اور ٹرانسپورٹ پر خرچ کرنی پڑے گی۔ لہٰذا حکومت کا قحط زدگان کی امداد کا فارمولا حکومت اور متاثرین دونوں کے لئے مہنگا ترین فارمولا ہے۔
دوسرے علاقوں میں ابھی امدادی کام شروع ہی نہیں کیا جاسکا ہے ۔اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ تھر میں صورتحال زیادہ خراب ہے۔ اور نقل مکانی ہورہی ہے۔ بلکہ بعض اعدا وشمار کے مطابق خاصی آبادی نقل مکانی کر چکی ہے جس کو اپنی کوتاہی اور نااہلی کو چھپانے کے لئے حکومتی اہلکار معمول کی نقل مکانی قرار دے رہے ہیں۔ ایک لمحے کے لئے اگر اس سرکاری دلیل کو مان بھی لیا جائے، کیا آج اکیسویں صدی میں کسی علاقے سے ہر سال چالیس فیصد آبادی کی نقل مکانی خود حکومت اور یاست کی کارکردگی پر سوالیہ نشان نہیں؟ پیپلزپارٹی جس کو تھر کی 72 فیصد خواتین نے ووٹ ڈالے ہیں اور اس پارٹی کے پاس حکمرانی کا اب تیسرادور ہے۔
صرف تھر میں امدادی سرگرمیاں شروع کرنے سے ظاہرہوتا ہے کہ یہ علاقہ صوبے کے باقی بارانی یا بیراجی علاقوں سے مختلف ہے۔ لیکن قحط زدہ قرار دینے کے فیصلے میں تھر کو دوسرے علاقوں کے ساتھ نتھی کردیا گیا۔ جس سے حکومت تھر میں قحط کی شدت کم دکھانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ صرف بارش پر انحصار کرنے والے اس علاقے کی صرف صورتحال مختلف ہے ، یہاں گزشتہ دو عشروں کے دوران پندرہ سال قحط رہا ہے۔ جس کی وجہ سے غذائیت کی شدید قلت، بدترین غربت ہے۔ مزید یہ کہ قریبی بیراجی علاقے ٹیل( آبپاشی کے آخری سرے پر) ہونے کی وجہ سے معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔ لہٰذا تھر کے لوگوں کے لئے روزگار حاصل کرنے کے قریب ترین مواقع اور مقامات چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔
تھر کوہر دوسرے تیسرے سال خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ دو عشروں سے اس علاقے میں قحط سالی کی آمد اور اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے قحط سالی میں وقفہ کم ہو گیا۔ حکومت کو تھرصرف دو مواقع پر یاد آتا ہے۔ ایک الیکشن ہوتے ہیں دوسرے جب قحط پڑتا ہے۔ الیکشن اور قحط میں دو قدر مشترکہ ہیں۔ دونوں مواقع پر بڑے بڑے وعدے اور اعلانات کئے جاتے ہیں۔ کچھ عرصے بعد حکومت وقت یہ وعدے اور اعلانات بھول جاتی ہے۔حکومت نے ایک بار پھر گندم اور مویشیوں کے لئے چارے کی تقسیم کی صورت میں قحط کا عارضی حل ڈھونڈاہے۔ گندم کی تقسیم ناگزیر ہے یہ اور بات ہے کہ حکمران جماعت اس سے سیاسی اور اس کے اراکین ذاتی فائدے اٹھائیں گے۔لوگ سیاسی طور پر ان کے ماتحت ہو جاتے ہیں۔ حکمران جماعت کے لوگوں کو گندم تقسیم کی ٹرانسپورٹ میں خرد برد کا موقع ملتا ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ حکومت تھر اور اس کے قحط کو امدادی گندم کے فریم ورک سے ہٹ کر نہیں سوچتی۔ تھر کاقحط دراصل ترقی کے سوال سے منسلک ہے۔ یہ خیال بھی پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ صوبائی حکومت تھر کول کے ذخائر کی وجہ سے یہاں پر اب کوئی بنیادی نوعیت کا ترقیاتی کام نہیں کرنا چاہتی۔ وہی کام کرنا چاہتی ہے جو کول کمپنی کو سہولت دیتا ہے۔ باقی کاموں کے لئے لوگوں کو یہ سکھایا جارہا ہے کہ ان کے لئے حکومت کے بجائے کول کمپنی کی طرف دیکھیں۔ سندھ حکومت نے کول کمپنی کے ذیلی ادارے کو کروڑہا روپے اس مقصد کے لئے بطور عطیہ دیئے ہیں۔ رواں سال قحط کی شدت زیادہ ہوگی، اس سے پہلے کہ صورتحال انسانی المیے کی شکل اختیار کرے وفاقی حکومت بھی آگے آئے۔ اورعالمی اداروں سے بھی امداد کی اپیل کی جائے۔ تھر کے لوگوں کو بارش یا پھر امداد کے سہارے چھوڑنے کے بجائے متبادل ذرائع روزگار میسر کئے جاسکتے ہیں۔ انہیں نئے اسکلز سکھائے جاسکتے ہیں لیکن حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ دور میں ماہرین کی مدد سے ایک ترقیاتی منصوبے اور تھر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا مسودہ بنایا گیا تھا، لیکن یہ مسودہ گزشتہ چار برس سے سرد خانے میں پڑا ہوا ہے۔
اس مسودے میں بعض اہم تجاویز دی گئی ہیں۔ ایک یہ دنیا کے مختلف صحراؤں میں زیر زمین کم اور کڑوے پانی پر کاشت کی جاتی ہے۔ اس طرح کے کامیاب تجربے پاکستان کے بعض تحقیقی ادارے بھی کر چکے ہیں۔دوئم یہ کہ سطحی ترقیاتی کاموں کے بجائے مربوط اور بنیادی نوعیت کے منصوبے بنائے جائیں۔سوئم یہ کہ ہر دس کلومیٹر کے فاصلے پر ’’منی ٹاؤن‘‘ بنائے جائیں، جہاں تعلیم، صحت، اور دیگر سہولیات بہم پہنچائی جائیں۔ ان منصوبں پر عمل کر کے تھر کو خوشحال اور سر سبز بنایا جاسکتا ہے۔ یہی قحط کا آؤٹ آف باکس حل ہے۔


ای پیپر