پسپائی کی طرف
27 ستمبر 2018 2018-09-27

حکومت تو اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھتی ہے اور خاموشی سے کام کرتی ہے مگر یہاں تو معاملہ الٹ ہے۔ ایک کے بعد ایک ایشو وہ خود سامنے رہی ہے۔ یہ طرز اچھی حکمرانی کا نہیں ہوتا۔ ذوالفقار علی بھٹو جنوری 1972ء میں اقتدار میں آئے تھے۔ انہوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے کافی کھیل تماشا کیا تھا۔ یہ کہانی 1966ء سے شروع ہوئی تھی جب بھٹو کو ایوب خان نے حکومت سے نکالا تھا۔ بھٹو کو اپنا لائحہ عمل تیار کرنے میں ایک ڈیڑھ سال لگ کیا۔ لاہور میں پارٹی بنائی پھر اس پارٹی کو نظریہ اور لائحہ عمل دیا۔ بھٹو نے عوام کے لیے جمہوریت کا نظام پسند کیا تھا۔ عوام سے کیا تم ہی سب کچھ ہو، تمہاری وجہ سے ہی پاکستان کا نظام چل رہا ہے۔ بھٹو نے عوام سے یہ بھی کیا کہ کارخانوں کی چمنیوں سے جو دھواں اٹھتا ہے اور آسمان تک جاتا ہے۔ یہ دھواں نہیں آپ کا خون پسینا ہے۔ پھر بھٹو نے دہقانوں سے کیا کہ زمینوں پر آپ کی طاقت سے جو خوشے نکلتے ہیں، اس کا سارا حق زمیندار کا نہیں جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور دولت مندوں کو للکارتے ہوئے بھٹو نے کہا اقتدار میں آ کر عوام کو روٹی ، کپڑا اور مکان دوں گا۔ عوام نے دیکھا کوئی تو ہے جو ہمارے بند دروازوں پر دستک دے رہا ہے جب بھٹو یہ سب کچھ کر رہے تھے سیاسی شطرنج پر ایوب کو اقتدار سے نکالنے کی تیاریاں اور پورے زوروں پر تھیں۔ پھر جو کچھ ہواکافی رنجیدہ کرنے والا ہے۔ نئی نسل تو اس کی تاریخ تک سے واقف نہیں۔ بھٹو نے جو مقام تین سال میں حاصل کیا یہاں تو 22 سال لگ گئے وہ بھی کسی کی انگلی پکڑ کر ایک ماہ میں ہی حکومت کی پسپائی نظر آ رہی ہے۔ سو دن کا جو ایجنڈا اس نے دیا تھا وہ وزیراطلاعات فواد چودھری کے بیانات سے تو تیز تر ہے۔ مگر زمینی حقائق یہ ہے کہ عوام اس کارکردگی کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوڑ رہے ہیں۔ مہنگائی کا ایک ایسا طوفان ہے کوئی اس کو ایڈریس کرنے والا نہیں۔
قومیں اپنی تاریخ، ثقافت اور اثاثوں کو نہیں بیچا کرتیں۔ آج بھی دنیا میں ورثہ بڑا مقام رکھتا ہے۔ جمع تفریق کو چھوڑیں ریڈیو پاکستان کی عمارت میں بلکہ یہ وہ مقام ہے جہاں سے پاکستان کی آزادی کا اعلان ہوا، پاکستان زندہ باد کے نعرے لگے۔ 1965ء کی جنگ سرحدوں پر جاری تھیں مگر اصل جنگ ریڈیو پاکستان کی عمارت کے اندر بیٹھ کر لڑی گئی۔ کپتان کا قصور نہیں اوسط درجے کی ٹیم کے ساتھ ایسا ہی ہونا تھا۔ دعویٰ تو ادھر سے کیا گیا تھا کہ کشکول توڑیں گے اب قرضے لینے کے لیے کشکول اٹھائے پھر رہے ہیں یہی بات تو بلاول کو پریشان کر رہی ہے۔ ’’ملک چندے سے نہیں چل سکتا۔ جمہوریت ہو کیسی بھی ہو عمران خان نے وزیراعظم بننے کے لیے بڑے یوٹرن لیے ہیں اور یہ یوٹرن ابھی تک ختم نہیں ہوئے۔ حمید گل پہلے جرنیل تھے جنہوں نے عمران خان کو سبز باغ دکھائے اور بینظیر بھٹو کا دوسرا اور اقتدار ختم کر کے کچھ عقل مند لوگوں کو اقتدار میں لانا تھا اس مقصد کے لیے عمران خان کے ساتھ عبدالستار ایدھی کچھ اور لوگوں کو ملایا گیا۔ اس گروپ کا نام پریشر گروپ تھا۔ حمید گل کے منصوبے کی ناکامی نے کپتان کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا۔ اس کے بعد پریشر گروپوں کی بجائے انہوں نے ایک سیاسی جماعت قائم کر لی۔ اس جماعت نے پہلی بار 1997ء کے انتخاب میں حصہ لیا۔ عوام کے بڑے بڑے جلسے تو ہوئے مگر ناکامی تھی تباہ کن یہی وہ انتخابات
تھے جب پہلی بار عمران خان کے خلاف ’’سیتا وائٹ سکینڈل‘‘ منظر عام پر آیا۔ اس وقت سیتا وائٹ زندہ تھی۔ عمران خان کے خلاف سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی جماعت کی طرف سے نا اہلی کا معاملہ اٹھایا گیا۔ دوسرا چودھری تنویر کے صاحبزادے بیرسٹر دانیال عزیز نے یہی مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں لے جا رہے ہیں اور افتخار چوہدری کی درخواست میں وہ بھی فریق بننے جا رہے ہیں۔ مقدمے میں یہ سوال بڑا اہم ہے کہ نواز شریف کو اقامہ کیس میں زندگی بھر کے لیے نا اہل قرار دے دیا گیا ہے۔ دوسری جانب یہ سوال بھی بڑا اہم ہے کہ حنیف عباسی نے عمران خان کی آف شور کمپنی کے حوالے سے نظرثانی کی جو درخواست کی ہے، اس میں استدعا کی گئی ہے اس کے لیے فل بنچ تشکیل دیا جائے جب چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بنچ نے عمران خان کو آف شور کمپنی رکھنے اور غلط بیانی کرنے کے مقدمے میں صادق اور امین قرار دیا تھا تو نوا زشریف اس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے رہے اور عمران خان کو چیف جسٹس کا لاڈلا قرار دیتے رہے۔ حکومت کے پالیسی بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ عمران خان وزیراعظم نہیں بلکہ اب بھی دھرنے میں کھڑے ہوئے ہیں۔ انصاف، عدالتوں اور نیب کے بارے میں حکومت جو بیانات دے رہی ہے، وہ کھلم کھلا مداخلت کی ہے ۔
ایک طرف وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی واشنگٹن میں کہتے ہیں کہ بھارت سے معاملات بگاڑنا نہیں چاہتے ،د وسری جانب دھمکیاں دوستی اور دشمنی ڈپلومیسی میں اکٹھے نہیں چل سکتی۔ پھر خارجہ حکمت عملی ایسی ناکام نہ ٹیم ہے، نہ وژن جسے سب کچھ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہو۔ تحریک انصاف کے ایک مشیر نے اقتصادی راہ داری پر سوال اٹھائے شیر کے بچے تھے تو اس سوال پر اڑے رہتے مسٹر رزاق داود نے جو کچھ کہا تھا وہ منظوری سے کیا انہوں نے راستے میں روڑے اٹکانے کی بات کی اب پھر یہاں یوٹرن پنجاب سے خارجہ پالیسی تو ناکام ہے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ بیورو کریسی کے ان افسروں کو ہی کھڈے لائن لگایا گیا ہے جو مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے قریب جانے جاتے تھے یہاں تو پریشانی پر پریشانی ہے ۔ کے پی کے وکلاء انتظامیہ کے خلاف ہڑتال پر چلے گئے ہیں۔ بطور خصوصی معاون اور عمرہ کے لیے عمران خان کو مفت جہاز کی سہولت دینے والے زلفی بخاری نے ابھی حلف اٹھایا ہی تھا کہ ان کی تقرری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے دوہری شہریت والا وزیر کا عہدہ نہیں رکھ سکتا سنجیدہ آئینی نکتہ ہے۔ دوسری جانب عمران خان کے لیے سب سے بڑے حریف نواز شریف کے لیے مشکلات کم ہوتی رجا رہی ہیں ان کو کلثوم نواز کی موت کے بعد ملنے والے ریلیف جس میں نواز ، مریم اور صفدر کے لیے جیل کے پھاٹک کھلے اور وہ رہا ہوئے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے لیے یہ بڑی خوشی کی بات ہے۔ نواز شریف اور مریم کے لیے کلثوم نواز کا جدا ہونا بڑا صدمہ ہے بلکہ زندگی کا سب سے بڑا نقصان ہو گا۔ کچھ کم ظرف لوگ اس سوال پر بھی سیاست کر رہے ہیں کہ نواز شریف ووٹ کو عزت دو کا نعرہ کیوں نہیں لگاتے۔ ان کو پارلیمنٹ کی طرف دیکھنا چاہیے کہ کس طرح حکومت کے پرخچے اڑ رہے ہیں۔ اپوزیشن گھیرا تنگ کر رہی ہے۔ اصل سوال تو یہ ہے جارحانہ حکمت عملی ایسی ہے جیسے لگتا ہے حکومت کو خود جانے کی جلدی ہے۔ جمہوریت سے محبت کرنے والوں کے لیے سر اٹھاتی محاذ آرائی پریشان کن ہے۔ مگر کیا کیا جائے یہ تو ہونا ہے اور ہو کر رہنا ہے۔ آزادیوں کی دعوے دار حکومت نے میڈیا پر جو لگا دیا ہے یہی وہ میڈیا ہے جس نے نواز شریف کے ساتھ کھلی جانبداری کی ۔ اینکرز مرضی کے قصے بیان کر رہے تھے۔ عدالت عظمیٰ جن مقدمات کا ٹرائل کر رہی تھی، اینکر ز انہی مقدمات کا ٹرائل کر رہے تھے۔ یہ تھے کپتان کے وفادار یا کسی اور کے۔ مگر ماضی تو گزر گیا نوا زشریف کا سب سے مشکل مقدمہ کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے حق میں آیا۔ ریڈ زون کے دھرنے میں سازش کر کے یہ نام شامل ہوئے تھے لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف، شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ سمیت مسلم لیگی قیادت کے خلاف سانحہ ماڈل ٹاؤن کی درخواستیں مسترد کر دیں یہ شریف فیملی کے لیے بڑا ریلیف ہے۔ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے نام آ چکے ہیں اگر حکومت نے چیئرمینی کا عہدہ اپنے پاس رکھا اس کا مطلب ہے حکومت محض وقت گزار رہی ہے انہیں نہ صرف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمینی چھوڑنی پڑے گی بلکہ دھاندلی کی تحقیقات کی سربراہی سے بھی دستبردار ہونا ہو گا۔ اکتوبر کا مہینہ سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بننے جا رہا ہے۔ مریم نواز بڑی رباطہ مہم سے شروع کر سکتی ہیں کیونکہ ان کی والدہ کا چہلم ہو چکا ہو گا۔ سیاسی سرگرمیاں اکتوبر میں شروع کر چکی ہوں گی۔ اب نیب کے بارے میں بھی بڑے سوالات اٹھنے والے ہیں۔ فارم 45 کا تنازع جب تک حل نہیں ہوتا حکومت ملٹری سیکرٹری کے سابقہ گھر تک محدود رہے گی کیونکہ کپتان کی سادگی مہم یا ان کا ریاست مدینہ کا ماڈل کا بھرم کھل گیا ہے۔ اب ان کی مہم ضیاء الحق کے سائیکل چلانے کی طرح ہے۔


ای پیپر