ا یسا کب تک چلے گا ،آ خر کب تک؟
27 ستمبر 2018 2018-09-27

آ ج کیو ں نہ کا لم کا آ غا ز ایک حکا یت سے کیا جا ئے۔ ا لبتہ یہ حکا یت ز یا دہ پر ا نی نہیں، بلکہ جد ید ہے تا کہ ہما ری نئی نسل کو اسے فر سو دہ کہہ کر ایک طر ف ر کھ دینے کا مو قع نہ مل سکے۔ تو یہ حکا یت کچھ یو ں ہے کہ ایک مر تبہ ایک دانا کہلا ئے جا نے و ا لے آدمی کی گاڑی گاؤں کے قریب خراب ہوگئی اس نے سوچا کہ گاؤں سے کسی سے مدد لیتا ہوں۔ وہ جیسے ہی گاؤں میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا ایک بوڑھا شخص چارپائی پر بیٹھا ہے اور اس کے قریب مرغیاں دانہ چگ رہی ہیں، ان مرغیوں میں ایک باز کا بچہ بھی ہے جو مرغیوں کی طرح دانے چگ رہا ہے وہ حیران ہوا اور اپنی گاڑی کو بھول کر اس بوڑھے شخص سے کہنے لگا کہ یہ کیسے خلاف قدرت ممکن ہوا کہ ایک باز کا بچہ زمین پر مرغیوں کے ساتھ دانے چگ رہا ہے ، تو اس بوڑھے شخص نے کہا دراصل یہ باز کا بچہ صرف ایک دن کا تھا جب یہ پہاڑ پر مجھے گرا ہوا ملا میں اسے اٹھا لایا یہ زخمی تھا میں نے اس کو مرہم پٹی کرکے اس کو مرغی کے بچوں کے ساتھ رکھ دیا جب اس نے پہلی بار آنکھیں کھولیں تو اس نے خود کو مرغی کے چوزوں کے درمیان پایا یہ خود کو مرغی کا چوزہ سمجھنے لگا اور دوسرے چوزوں کے ساتھ ساتھ اس نے بھی دانہ چگنا سیکھ لیا۔ اس دانا شخص نے گاؤں والے سے درخواست کی کہ یہ باز کا بچہ مجھے دے دیں تحفے کے طور پر یا اس کی قیمت لے لیں میں اس پر تحقیق کرنا چاہتا ہوں۔ اس گاؤں والے نے باز کا بچہ اس دانا شخص کو تحفے کے طور پر دے دیا۔ دا نا شخص اپنی گاڑی ٹھیک کروا کر اپنے گھر آ گیا۔ وہ روزانہ باز کے بچے کو چھت سے نیچے پھینک دیا کرتا مگر باز کا بچہ مرغی کی طرح اپنے پروں کو سکیڑ کر گردن اس میں چھپا لیتا۔ وہ روزانہ بلاناغہ باز کے بچے کو اپنے سامنے میز پر بیٹھاتا اور اسے کہتا کہ تو باز کا بچہ ہے مرغی کا نہیں اپنی پہچان کر۔ اسی طرح اس نے کئی دن تک اردو پنجابی سندھی سرائیکی پشتو ہر زبان میں اس باز کے بچے کو کہا کہ تو باز کا بچہ ہے مرغی کا نہیں اپنی پہچان کر ، اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کرو۔ آخر کار وہ دانا شخص ایک دن باز کے بچے کو لے کر ایک بلند ترین پہاڑ پر چلا گیا اور اسے کہنے لگا کہہ خود کو پہچاننے کی کوشش کرو تم باز کے بچے ہو اور اس شخص نے یہ کہہ کر باز کے بچے کو پہاڑ کی بلندی سے نیچے پھینک دیا۔ باز کا بچہ ڈر گیا اور اس نے مرغی کی طرح اپنی گردن کو جھکا کر پروں کو سکیڑ لیا اور آنکھیں بند کر لیں تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں تو اس نے دیکھا کہ زمین تو ابھی بہت دور ہے تو اس نے اپنے پر پھڑ پھڑائے اور اڑنے کی کوشش کرنے لگ۔ جیسے کوئی آپ کو دریا میں دھکا دے دے تو آپ تیرنا نہیں بھی آتا تو بھی آپ ہاتھ پاؤں ماریں گے۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ اپنے آپ کو بیلنس کرنے لگا کیونکہ باز میں اڑنے صلاحیت خدا نے رکھی ہوتی ہے، تھوڑی ہی دیر میں وہ اونچا اڑنے لگا۔ وہ خوشی سے چیخنے لگا اور اوپر اور اوپر جانے لگا۔ کچھ ہی دیر میں وہ اس دانا شخص سے بھی اوپر نکل گیا اور نیچے نگاہیں کرکے اس کا احسان مند ہونے لگا۔ تو دانا شخص نے کہا اے باز میں نے تجھے تیری شناخت دی ہے اپنے پاس سے کچھ نہیں دیا۔ یہ کمال صلاحیتیں تیرے اندر موجود تھیں مگر تو بے خبر تھا۔ بعین یہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہے۔ہماری ایک خاص شناخت ہے، ہم ایک خاص امت کے ارکان ہیں، ہم ایک ایٹمی ملک کے شہری ہیں، ہمارے اندر اللہ رب العزت نے بے پناہ صلاحیتیں رکھی ہیں مگر پرابلم یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد بے شمار مرغیاں ہیں جن میں ہمارے ٹی وی چینل اور اخبارات بھی شامل ہیں جو مسلسل ہم کو بتاتے ہیں کہ ہم باز کے بچے نہیں مرغی کے بچے ہیں، جو مسلسل بتاتے ہیں کہ تم سپر پاور نہیں ہو سپر پاور کوئی اور ہے، جو مسلسل بتاتے ہیں کہ تم بہادر اور طاقتور نہیں ہو بلکہ بزدل اور کمزور ہو، تمھاری تو قوم ہی ایسی ہے، تم دہشت گرد ہو تم لوگ آگے نہیں بڑھ سکتے، کامیابی کی شرط یہ ہے کہ ہم خود کو پہچاننے کی کوشش کریں تاکہ ہم ایک بہترین امت اور بہترین قوم بن کر اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
اب آ تا ہو ں میں حکا یت اور اس کے سبق سے ہٹ کر اپنے ملک کے ا صل حقا ئق کی جانب۔ لکھتے و قت دل دکھتا ہے کہ یہ حقا ئق انتہا ئی تلخ ہیں۔ ذرا ا یک نظر ان کیسز پہ تو ڈ ا لئے جن پہ قو م کا پیسہ اور وقت لگا کر کا م ہو ر ہا ہے۔ عزیر بلوچ رزلٹ صفر، عابد باکسر رزلٹ صفر، ڈاکٹر عاصم رزلٹ صفر، شرجیل میمن رزلٹ صفر، کرنل جوزف رزلٹ صفر، ریمنڈ ڈیوس رزلٹ صفر، مجید رکن بلوچستان اسمبلی پولیس اہلکار کا قتل رزلٹ صفر، انسپکٹر اعجاز قتل رزلٹ صفر، ماڈل ایان علی رزلٹ صفر، 12 مئی قتل عام رزلٹ صفر، احد چیمہ ریمانڈ پر ریمانڈ رزلٹ صفر، فواد حسن فواد صرف ریمانڈ رزلٹ صفر، منشی اسحاق ڈالر رزلٹ صفر، راجہ رینٹل کیس رزلٹ صفر، نیو بینظیر ائیر پورٹ کرپشن کیس رزلٹ صفر، رئیسانی حرام کمائی گھر سے برآمد رزلٹ صفر، ایم کیو ایم غداری کیس ثبوت موجود رزلٹ صفر، ایم کیو ایم دہشتگردی را فنڈنگ ثبوت موجود رزلٹ صفر، اصغر خان کیس رزلٹ صفر، شہد کی بوتل رزلٹ صفر، بلدیہ ٹاؤن رزلٹ صفر، ماڈل ٹاؤن رزلٹ صفر، شاہ رخ جتوئی کیس رزلٹ صفر، راؤ انوار ناحق قتلِ عام ثبوت موجود رزلٹ صفر، 56 کمپنی سکینڈل رزلٹ صفر، صاف پانی کرپشن کیس رزلٹ صفر، سستی روٹی تندور کرپشن رزلٹ صفر، کلبھوشن یادیو دشمن جاسوس رزلٹ صفر، ٹڈاپ کرپشن کیس رزلٹ صفر، بابر غوری ایم کیو ایم کیس رزلٹ صفر، گستاخ بلاگرز کیس آزاد رزلٹ صفر، آسیہ ملعونہ گستاخی کیس رزلٹ صفر، ارسلان افتخار کیس
رزلٹ صفر، حافظ عبد الکریم کرپشن کیس رزلٹ صفر، حسین حقانی کیس رزلٹ صفر، پرویز رشید غداری کیس رزلٹ صفر، جیو ٹی وی غداری کیس رزلٹ صفر، اور نجانے ان جیسے ہزاروں کیس امیروں، وڈیروں، جاگیرداروں اور بزنس مینوں کے رزلٹ صفر، مگر غریب آدمی کے لئے قانون اپنی شد ت سے آ ن مو جو د ہو تا ہے۔ عد ا لتو ں کے دھکے اس کی تقد یر بن جا تے ہیں۔ مگر انصاف جیتے جی قسمت سے ہی ملتا ہے۔ ہزاروں بے گناہ قید میں ہیں اور گناہ گار آزاد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں۔ یہاں کوئی غریب آدمی ادارے پر تنقید کر لے تو غداری میں دھر لیا جاتا ہے مگر الطاف بھائی آزاد، زرداری اینٹ سے اینٹ بجائے آزاد، پرویز رشید آزاد، میٹر ریڈر شاہ صاحب آزاد، حسین حقانی آزاد، اسفند یار ولی آزاد، محمود خان اچکزئی آزاد، سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والے آزاد، تھانوں پر حملہ کر کے اپنے بندے چھڑوانے والے آزاد، ناکے پر کھڑے پولیس اہلکاروں پر شراب کے نشے میں دھت گاڑیاں چڑھانے والے آزاد۔ بہ ز بانِ اقبا ل پو چھتا ہو ں کہ’کیا ز ما نے میں پنپنے کی یہی با تیں ہیں‘۔ کیا جمہو ریت کی یہی روا یا ت ہو تی ہیں؟ کیا ز ند ہ قو مو ں کی یہی رو ا یا ت ہو تی ہیں؟ ایسا کب تک چلے گا ؟ آ خر کب تک ؟


ای پیپر