حجاج کرام اورعمرہ زائرین کے لیے بڑی خوشخبری؟
27 ستمبر 2018 2018-09-27

حج سیزن 2018کے لیے دنیا بھر سے آئے حجاج کرام وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔اس سال حج سیزن پرامن طریقے سے مکمل ہوا،کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ سامنے نہیں آیا۔تاہم پاکستانی حجاج کرام کی شکایات سامنے آئیں کہ انہیں رہائش اور دیگر سہولیات میں مسائل کا سامنا کرنا پڑا جس پر نگران حکومت اور سابقہ حکومت سے باز پرس کی جانی چاہیے۔رواں سال پہلی مرتبہ ایسا دیکھنے میں آیا کہ حج سیزن کے دوران عمرہ زائرین بھی حرمین شریفین آگئے۔اس سے پہلے حج سیزن کے مکمل اختتام تک عمرہ سیزن کا آغاز نہیں کیا جاتاتھا،بلکہ حج سیزن کے اختتام کے بعد عمرہ سیزن کے لیے تقریباًایک ہفتے تک وقفہ کیا جاتا تھا۔اس وقفے سے سعودی عرب میں بسنے والے اور خلیجی ممالک کے عمرہ زائرین رش نہ ہونے کی وجہ سے جوق درجوق عمرہ کرنے آتے۔لیکن اس سال یہ وقفہ نہیں کیا گیا۔سعودی وزرات حج کے مطابق اب تک 30 ہزار سے زائد عمرہ زائرین کو ویزے جاری کیے جاچکے ہیں جب کہ 5ہزار سے زائد عمرہ زائرین حرمین شریفین پہنچ چکے ہیں۔

رواں سال سعودی حکومت کی جانب سے ایک اور بڑی خوشخبری یہ سنائی گئی کہ اب عمرہ ویزہ پر عمرہ زائرین مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ سعودی عرب کے دیگر شہروں میں بھی جاسکیں گے۔جس کا مطلب ہے کہ اب عمرہ زائرین حرمین شریفین کے تاریخی اور مقدس مقامات کے علاوہ طائف،بدر،ینبوع،تبوک،خیبر، ،مدائن صالح،قصیم،جازان،حائل،دمام ا ورریاض جیسے شہروں میں جاسکیں گے۔اس سے پہلے عمرہ زائرین اور حجا ج کرام کو مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہ اور جدہ کے علاوہ کسی اور شہر جانے کی اجازت نہ تھی۔سعودی وزارت برائے حج و عمرہ کے مشیرعبدالعزیز الوزن کے مطابق اب عمرہ زائرین کو سعودی عرب کے دیگر شہروں کو دیکھنے کی بھی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔سعود ی مشیر حج کے مطابق سعودی عرب آنے والے زائرین کی بہتری کے لیے یہ ایک بہت بڑا قدم ہے ا س سے سعودی عرب میں سیاحت کو فروغ ملے گا۔تاہم انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 30 روزہ ویزے میں سے زائرین کو کم از کم 15دن دو مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں گزارنا ہوں گے۔دنیا بھر سے مسلمان سعودی حکومت کے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔سعودی حکومت کا یہ فیصلہ نہایت خوش آئند ہے۔اس سے حجاج کرام اور عمرہ زائرین کاجہاں مقدس اور تاریخی مقامات کو دیکھنے کا شوق پورا ہوگا وہیں سعودی عرب میں سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔سعودی عرب میں سیاحت کے حوالے کئی آثار قدیمہ اور اسلامی تاریخی آثار پائے جاتے ہیں۔ مکہ مکرمہ،مدینہ منورہ، ریاض، جدہ، الباحہ، ینبوع، قصیم، جوف، حائل، جازان، نجران، طائف، الاحساء، تبوک، خبیر العلاء ، مدائن صالح، دمام، جبیل، خْبر سمیت دیگر کئی شہر ہیں جہاں تاریخی آثارسمیت

سیاحت کے لیے بہترین جگہیں موجود ہیں۔2008میں پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے ثقافت نے سعودی عرب کے علاقے مدائن صالح کو عالمی ورثہ قراردیا ،چنانچہ اس وقت بھی مدائن صالح اور خیبر میں یونیسیکو کی زیرنگرانی قدیم آثار کی دریافت اور تعمیر کا کام جاری ہے۔بعدازں2010میں "درعیہ"اورپھر قدیم جدہ کو اس فہرست میں شامل کیا گیا۔2015میں حائل شہر میں واقع تاریخی اور قدیم آثار کی وجہ سے حائل کو بھی قدیم آثار کا حامل شہر قراردیا گیا۔سعودی عرب کی جانب سے گزشہ 10سالوں میں حرمین شریفین کی زیارت کے علاوہ دیگر سیاحتی مراکز پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ویڑن 2030کے مطابق سعودی عرب کی موجودہ حکومت نے سعوی عرب کی معیشت کو پٹرول سے دیگر ذرائع پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے لیے سعودی عرب میں سیاحت کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔چنانچہ سعودی نائب بادشاہ محمد بن سلمان نے 2018کے شروع میں ریاض کے جنوب میں "قِدِّیہ" کے نام سے دنیا کا سب سے بڑا سیاحتی وثقافتی شہر بسانے کا اعلان کیا جس کے پہلے مرحلے کا افتتاح 2022میں ہوگا۔سعودی حکومت کے مطابق سعودی عرب کے شہری ہرسال 100ارب ریال سے زائد کی رقم بیرونی دنیا میں سیاحت کے لیے خرچ کرتے ہیں۔سعودی عرب میں سیاحتی مراکز کے قیام سے یہ رقم سعودی عرب کی معیشت کے لیے معاون ثابت ہوگی۔اس کے علاوہ بحراحمر پر 50 کے قریب قدرتی جزیروں کو بھی سیاحت کے لیے تعمیر کیا جارہاہے۔سعودی عرب میں سیاحت کے لیے باقاعدہ ایک کمیشن قائم کیا گیا ہے۔جس کانام "سعودی کمیشن برائے سیاحت وقومی ورثہ "رکھا گیاہے۔اس کمیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق رواں سال سالانہ تعطیلات میں 23لاکھ سیاحتی ٹرپ بیرونی دنیا سے سعودی عرب آئے۔حرمین شریفین کی زیارت کے لیے رواں سال 85لاکھ عمرہ زائرین بیرونی دنیا سے آئے۔بیرونی دنیا سے آنے والے عمرہ زائرین ، حجاج کرام اور دیگر سیاحوں سے سعودی عرب کی معیشت کو 30ارب ریال سے زیادہ کا فائدہ ہوا۔ حجاج کرام اور عمرہ زائرین کو سعودی عرب کے دیگر شہروں تک رسائی دینے سے سعودی عرب کی معیشت کو اور زیادہ فائدہ ہوگا۔

سعودی عرب کا عمرہ زائرین کو دیگر شہروں میں جانے کی اجازت دینا یقینااچھافیصلہ ہے،مگر حیرت اس بات پر ہے کہ سعودی عرب میں ایک طرف سیاحت کو فروغ دیا جارہاہے دوسری طرف عمرہ زائرین اگر سال میں دوبار عمرہ کریں تو ان پر 2ہزار ریال فیس لاگو کردی گئی ہے،بلکہ اب یہ مدت 3سال تک کردی گئی ہے یعنی 3سال میں جب بھی دوبارہ عمرہ کیا جائے گا تو 2ہزار ریال فیس دینا ہوگی۔بظاہر اس کی لاجک یہ بتائی گئی کہ تاکہ دیگر عمرہ زائرین جو پہلی بار عمرہ کررہے ہوں انہیں موقع دیا جائے اور رش سے بچنے کے لیے ایسا کیا گیا۔لیکن اگر 2ہزار ریال فیس دیدی جائے تو پھر سب کے لیے یہ اجازت بھی ہے اور تب رش کا مسئلہ بھی نہیں ہوگا۔اگر سعودی حکومت واقعی سیاحت کو فروغ دینا چاہتی ہے تو انہیں 2ہزار ریال کی فیس ختم کردینی چاہیے تاکہ جہاں سال میں 85لاکھ عمرہ زائرین عمرہ کرتے ہیں وہاں یہ تعداد دوگناہوجائے۔اس سلسلے میں پاکستان کی طرف سے پچھلے ڈیڑھ سال سے کافی احتجاج کیا گیا مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔حکومتی سطح پر پاکستان کو سعودی عر ب سے بات چیت کرکے اس معاملے کو سلجھانا چاہیے۔ ویسے بھی پاکستان کے وزیراطلاعات فواد چوہدری کہہ چکے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ سعودی عرب دورے کے موقع پر ویزوں کے معاملے میں نرمی اور سہولیات پر سعودی حکومت سے بات کی ہے جس کے لیے وزارت خارجہ سے باقاعدہ وفد مذاکرات کے لیے جائے گا۔اگر یہی وفد عمرہ زائرین کے ان مسائل کو بھی ڈسکس کرے تو 2ہزار ریال فیس کا معاملہ حل ہوسکتاہے جویقیناعمرہ زائرین کے لیے ایک اور بہت بڑی خوشخبری ہوگی۔

حجاج کرام اور زائرین کرام کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری یہ ہے کہ سعودی عرب کی تاریخ کے سب سے بڑا ریلوے پراجیکٹ حرمین ٹرین کا افتتاح کردیا گیاہے۔

سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان نے 25 ستمبر 2018 کو ٹرین کا افتتاح مسافر کی حیثیت سے جدہ تا مدینہ سفر کر کے کیا۔

حرمین تیز رفتار ٹرین مکہ، مدینہ اور جدہ کے درمیان چلے گی۔ جدہ سے مکہ کا کرایہ ابتداء میں 40 ریال جبکہ بزنس کلاس 50 ریال مقررکیا گیا ہے۔ مکہ سے مدینہ اور مدینہ سے مکہ 150 سعودی ریال جبکہ بزنس کلاس 250 ریال کرایہ ہوگا۔اکتوبر سے دسمبر کے اختتام تک تمام کرایوں میں 50 فیصد ڈسکاؤنٹ دیا جائے گا۔

حرمین تیز ترین ٹرین 300 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی۔ مکہ سے مدینہ کا سفر صرف ڈیڑھ گھنٹہ سے زائد میں طے ہوگا۔ حرمین ٹرین حج اور عمرہ زائرین کے لئے سعودی حکومت کا بڑا سہولتی منصوبہ ہے۔ حرمین ٹرین یکم اکتوبر سے باقاعدہ چلنا شروع ہوگی۔ ہفتے میں 4 دن جمعرات سے اتوار تک مسلسل ٹرین چلے گی۔روزانہ چار چکر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ اور 4 مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہوں گے۔35 بوگیاں ہیں حرمین ٹرین کی۔ہر بوگی میں 417 افراد سوار ہوسکتے ہیں۔سعودی حکومت کے مطابق سالانہ 6 کروڑ افراد اس ٹرین کے ذریعے سفر کریں گے۔یقیناً حجاج کرام اور زائرین کے لیے یہ بہت بہت بڑا تاریخی منصوبہ ہے۔اس سے سفر میں جہاں سفر میں سہولت ملے گی وہیں وقت کی بھی بچت ہوگی۔


ای پیپر