ہندوستان مذاکرات سے انکاری کیوں؟
27 ستمبر 2018 2018-09-27

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی تاریخ 70سال پرانی ہے۔ایک تحریر یا چند سو الفاظ میں اس کو بیان کرنا ایسا ہی ہے جیسے سمندر کو کوزے میں نہیں بلکہ پیالی میں بند کر نا ۔دلی نے جب بھی اسلام آباد کے ساتھ بات چیت کی ہے ،تو ان کی کوشش رہی ہے کہ مذاکرات دو شعبوں دوطرفہ تجارت اور ثقافت (فلم اور ڈرامہ) تک محدود رہیں۔تجارت میں بھی ان کی کوشش ہو تی ہے کہ اس میں افغانستان کو بھی شامل کیا جائے۔ ہندوستان کی خواہش ہے کہ ان کے ٹرک دلی سے واہگہ بارڈر پار کرتے ہوئے پاکستان کی سرزمین کا سینہ چیرتے ہوئے کابل جائیں۔وہاں سے سامان لاد کر طورخم کی سرحد کو پارکرتے ہوئے واپس دلی پہنچ جائے۔اسی طرح ان کی کوشش ہے کہ ثقافتی یلغار سے پاکستان کو زچ کیا جائے۔جب بھی دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کسی بھی سطح پر شروع ہوئی ہے ، ہندوستان کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان میں ہندوستانی فلمیں سنیماگھروں کی زینت بنیں اور کیبل پر ان کے ڈرامے چلیں۔کسی زمانے میں ہندوستان اس ثقافتی یلغار میں کامیاب بھی ہوا تھا۔ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں سنیماگھروں میں ہندوستان کی فلمیں لگا کرتی تھی،جبکہ کیبل پر بھی ہندوستان کے ڈراموں کی مکمل آزادی تھی۔ثقافتی یلغار میں ہندوستان اس لئے ہمیشہ سے کامیاب رہا ہے کہ پاکستان میں ایک خا ص طبقہ اس نعرے کا علم بردار ہے کہ ’’فن اور فنکار کی کو ئی سرحدنہیں‘‘۔

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات میں نشیب و فراز کے پورے داستان کو ایک تحریر میں سمونا ممکن نہیں،اس لئے گز شتہ 20 سالوں کا ایک اجمالی جائزہ لیتے ہوئے دو سوالوں کے جوابات تلاش کر نے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک یہ کہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے انکاری کیوں ہے؟ دوسرا پاکستان کا ہر حکمران اقتدار میں آنے کے بعد ہندوستان کے ساتھ مذاکرات میں جلد بازی کیوں کرتا ہے؟جبکہ ان کو اچھی طرح سے معلوم ہوتا ہے کہ دلی کے حکمرانوں نے کبھی بھی اسلام آباد کی پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا ہے۔

پر ویز مشرف نے جب اقتدار پر قبضہ کیا تو ابتدائی چند بر سوں تک وہ اندرونی محاذ پر مصروف رہے۔اس دوران وہ ملک میں جو ڑ توڑ میں مگن تھے،اپنے اقتدار کو مستحکم اور طوالت دینے میں۔پھر امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا ۔چند بر س وہ امریکا کے ساتھ مصروف رہے۔جونہی ان کو فرصت ملی تو انھوں نے ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی صدا بلند کی،حالانکہ ان کو اچھی طر ح سے معلوم تھا کہ پوری دنیا میں پاکستان کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ۔اس لئے کہ اسلام آباد کے ماتھے پر دہشت گردی اور دہشت گر دوں کا ساتھ دینے کا لیبل لگ چکا تھا۔وہ اس بات سے بھی با خبر تھے کہ عالمی چوہدری امریکا نے ہندوستان کو اس خطے کا تھا نیدار بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ان وجوہات کو جاننے کے با وجود پر ویز مشرف کا ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کا ڈھول بجانا سمجھ سے بالاتر تھا۔ اس لئے کہ ہر کوئی جانتا تھا کہ دلی ،اسلام آباد کی اس پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیگا۔

پرویز مشرف کے جانے کے بعد پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی ۔یو سف رضا گیلانی ملک کے وزیر اعظم منتخب ہو ئے۔چند مہینے بعد پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری ملک کے صدر منتخب ہو ئے۔ملک کا پورا نظام وہ چلانے لگے۔کوئی بھی حکومتی حکم نامہ ان سے منظوری لئے بغیر جاری نہیں ہو تا تھا۔پانچ سالہ دور اقتدار میں آصف علی زرداری نے بھی کئی بار ہندوستان کو مذاکرات کی دعوت دی،لیکن ہندوستان نے ان دعوتوں کو بھی انتہا بے دردی کے ساتھ مسترد کیا۔حالانکہ پرویز مشرف کی طرح آصف علی زرداری بھی اس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ تھے کہ پوری دنیا میں اس وقت پاکستان کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں۔پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی عروج کی حدوں کو بھی پار کر چکی تھی۔ ایک ایسا ملک جس میں روزانہ کی بنیاد پر چار یا پانچ دھماکے ہو رہے ہوں وہ کس طر ح اپنے پڑوسی ملک جس میں امن ہو، ان کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتا ہے؟پھر وہ ملک کیوں مذاکرات کے لئے تیار ہو کہ جس کو خطے میں اہم کردار سونپا جا رہا ہو۔ان تمام حقائق کا ادراک ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کی حکومت کا ہندوستان کو بار بار مذاکرات کی دعوت سمجھ سے با لاتر ہے۔

پیپلز پارٹی کے بعد 2013 ء میں میاں نوا ز شریف ملک کے وزیر اعظم منتخب ہو ئے۔ انھوں نے آتے ہی اعلان کیا کہ پاکستان کی عوام نے ان کو مینڈیٹ اس لئے دیا ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر کریں۔میاں نوا ز شریف کو اچھی طر ح سے معلوم تھا کہ ہندوستان نے اس سے پہلے پر ویز مشرف اور آصف علی زرداری کی پیشکش کو انتہائی بے دردی اور حقارت کے ساتھ مسترد کیا ہے۔پھر بھی ان کو ذاتی دوستی پر ناز تھا۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کی نواسی کی شادی میں شرکت بھی کی ،لیکن مو دی سرکاری اسلام آباد اور دلی کی شادی میں ناچنے میں رکاوٹ بنے رہے۔ میاں نوا ز شریف جب وزیر اعظم تھے ،تو یہ بات بالکل عیاں ہو چکی تھی کہ امریکا نے پاکستان کو غیر مستحکم کر نے کے لئے افغانستان کی سرزمیں استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ دی تھی۔اس بات سے بھی انکار نہیں کہ ہندوستان پاکستان میں دہشت گردی کے لئے نہ صرف افغانستان کی سرزمین امریکا کی اجازت سے استعمال کر رہا تھا ،بلکہ امریکا اور افغانستان اس دوران ان کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ بھی کر تا رہا۔ان تمام تر حقیقتوں سے شنا سائی کے با وجود میاں نواز شریف کی ہندوستان کی طرف پینگیں بڑھانے کا منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔

میاں نوا ز شریف کے بعد عمران خان وزیر اعظم منتخب ہو ئے ۔وہ بھی جانتے تھے کہ دلی سرکار نے گزشتہ 20 سالوں میں سلام آباد کے کسی بھی حکمران کو مذاکرات پرآمادگی کا مثبت جواب نہیں دیا ہے،لیکن پھر بھی انھوں نے نریندر مودی کو مذاکرات کی دعوت دی۔ مو دی نے پہلے ہاں کیا ۔پھر چند ہی گھنٹوں بعد پسپائی اختیار کی۔وزیر اعظم عمران خان کو مو جودہ حالات میں مو دی کو مذاکرات کی دعوت ہر گز نہیں دینی چاہئے تھی۔ اس لئے کہ اگلے سال ہندوستان میں چناؤ ہے۔دوسرا مقبو ضہ کشمیر میں اس وقت ہندوستان کو شدید مذاحمت کا سامنا ہے۔ ہندوستان وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ اب بین الاقوامی برادری میں سے بھی ہندوستان کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔افغانستان کے محاذ پر بھی امریکا اور ہندوستان کی گر فت کمزور ہو رہی ہے۔اس لئے تھو ڑا سا انتظار کر نا چا ہئے تھا۔

اب رہا یہ سوال کہ پاکستان کیسے ہندوستان کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ مذاکرات پر آمادہ ہو؟اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو تسلسل کے ساتھ عالمی سطح پر اجاگر کریں،تاکہ بین الاقوامی دباو ان پر بڑھیں۔افغانستان میں ان کے اثرو رسوخ کو کم کرنے کے لئے اقدامات کرے۔ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے نئی منڈیا ں تلاش کرے،خاص کر افغانستان، وسطیٰ ایشیاء ،ایران اور چین کے ساتھ دو طر فہ تجارت کو فروغ دیں۔جب تک ہندوستان کو خطے اور بین الاقوامی طور پر تنہا نہیں کیا جاتا ،اسی وقت تک وہ اسلام آباد کے کسی بھی حکمران کے ساتھ بات چیت پر آمادہ نہیں ہو گا،چا ہئے ان کی ہندوستان اور بین ا لاقوامی سطح پر کتنی ہی دوستیاں کیوں نہ ہوں۔


ای پیپر