پاک و ہند تعلقات اور عمران خان کی سعی لاحاصل
27 ستمبر 2018 2018-09-27

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے مستقبل میں بہتر تعلقات کے لئے کوششوں کے آغاز کا عندیہ یقیناً ایک بڑی حوصلہ افزا اور خوش آئند پیش رفت ہے، جس پر عمل درآمد سے دونوں ملکوں کے داخلی اور خارجہ حالات پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور اس سے خطے میں معاشی اور معاشرتی ترقی کی رفتار میں اضافہ ہو سکے گا۔ جس پر بھارتی قیادت نے بھی مثبت رویے کا اظہار کیا تھا لیکن نہ جانے پھر کیا ہوا کہ بھارتی قیادت پاکستان کے ساتھ کئے گئے اتفاق رائے پر قائم نہ رہی۔ بھارت کی جانب سے یہ صورتحال کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ایسے اتفاق رائے اس سے پہلے بھی کئی بار کئے گئے اور پھر اسی طرح قدم سمیٹ لئے جاتے رہے۔ ایسے وقت میں جب کچھ ایسی طاقتیں اس خطے میں سرگرمِ عمل ہیں جن کا مقصددونوں ملکوں کے درمیان بد اعتمادی پیدا کر کے اور کشیدگی بڑھا کر اپنے مذموم ایجنڈے کی تکمیل کو یقینی بنانا ہے یہ بہترین شروعات تھیں لیکن بھارت نے وزیرخارجہ سطح کی ابتدائی ملاقات سے بھی یو ٹرن لے لیا۔ اس حقیقت سے بھارتی قیادت بے بہرہ نہیں ہو سکتی ہے کہ انتہا پسند قوتیں اس وقت خطے میں انہی کوششوں میں مصروف ہیں اور ان کا مقصد پاکستان

کے ساتھ بھارت کو بھی کمزور کرنا ہے۔ اس طرح کشیدگی برقرار رکھنا بالواسطہ طور پر انتہا پسند قوتوں کے ایجنڈے کو تقویت دینے کا باعث بننے کے مترادف ہے۔

ماضی میں جب بھی مزاکرات کا سلسلہ شروع ہونے لگتا ہے تو بھارت بہانے تراش کر اسی طرح مزاکرات سے کتراتا ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت مل کر آگے بڑھیں تو ہماری ترقی مغربی دنیا کو حیران کر سکتی ہے۔ جنگوں نے انسانیت کو سسکیوں اور آہوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ پاکستان اور بھارت کو بھی اب کشیدگی کی فضا کو خیر آباد کہہ کر امن و دوستی اور باہمی تعاون کے سفر کا آغاز کرنا چاہئے۔اگر ہم نے آج مل کر امن، سلامتی اور ترقی کے حق میں اہم فیصلے کر لئے تو ہماری آئندہ نسلیں ہمیں دعائیں دیں گی لیکن اگر ہم نے وقت کھو دیا تو پھر اس غلطی کی تلافی ممکن نہیں ہو سکے گی۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ خلوص نیت کے ساتھ آگے بڑھا جائے، جس کی ماضی میں بھارتی قیادت کی سوچ اور رویے میں شدید کمی محسوس ہوتی رہی۔ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مزاکرات کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بھارت کے رویے میں خلوص کی یہی کمی تھی۔ اب جب کہ دونوں ملکوں نے دوستانہ تعلقات کے لئے نئے دور کے آغاز کی توقع ظاہر کی ہے تو ضروری ہے کہ کھلے دل کے ساتھ تمام ایشوز کو زیرِغور لایا جائے۔ دونوں ملکوں کو جموں و کشمیر، دہشت گردی، سیا چن، سر کریک، پانی کی تقسیم اور دیگر تمام معاملات پر تسلسل کے ساتھ مزاکارت جاری رکھنے چاہئیں اور اس کے لئے ایک ترتیب وار لائحہ عمل مرتب کیا جاناچاہئے۔ لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی

اعتماد کا فقدان اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اول مزاکرات کے مرحلے تک پہنچنے کی نوبت ہی کم آتی ہے اور آ بھی جائے تو ایسے کسی آغاز سے قبل ہی مایوسی اور ناکامی کے خدشات کا برملا اظہار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ دونوں ملکوں میں ایسے گروہوں کی موجودگی ہے جو بوجوہ ان دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور ٹینشن ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور جن کی سیاسی بقاء کا دارومدار تنازعات ختم کرنے میں نہیں بلکہ ان کو باقی رکھنے میں ہے۔بھارت مزاکرات سے انکاری ہے لیکن اسے اس بات کا ادراک کرنا چاہئے کہ باہمی مسائل کا حل دو طرفہ مزاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے محاذ آرائی اور کشیدگی برقرار رکھنے کی صورت میں دونوں ملکوں کے عوام کے لئے پریشانیاں اور مصائب میں اضافہ ہی ہو سکتا ہے کمی ممکن نہیں۔ پاک بھارت وزرائے خارجہ کی ملاقات سے کچھ زیادہ امید نہیں ہے لیکن اس سے جامع مزاکرات کے لئے پیش رفت ممکن ہے۔

بھارت کی طرف سے فوجیوں کے سر قلم کئے جانے کی بات کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ ردِ عمل بالکل درست ہے کہ پاکستان کی افواج دنیا بھر میں پروفیشنل ترین مانی جاتی ہیں ان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ گرفتار کئے گئے فوجیوں کے سر قلم کرتیں۔ بھارت کو الزام تراشی کے ذریعے مزاکرات سے گریز اور اجتناب کرنے کی بجائے زیادہ بہتر طریقہ یقیناًیہ ہو سکتا ہے کہ دونوں ممالک متذکرہ امور کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات میں بھی مذاکرات کے ذریعے حالات معمول پر لانے کی کوشش کریں۔ بعض بڑے معاملات کے حل میں ابھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے مگر جو معاملات آسانی سے طے ہو سکتے ہیں پہلے ان پر توجو دی جا سکتی ہے۔ اصل ضرورت دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کی ہے، دنیا اپنے تجربات کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے قیام اور استحکام کے سوا بہتری کا کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔

دونوں ملک گزشتہ 70سالوں سے باہمی تنازعات میں الجھے ہوئے ہیں۔ ان تنازعات کے حل کے سلسلے میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگیں بھی ہو چکی ہیں جن میں دونوں کا نقصان ہوا فائدہ کسی کا بھی نہیں ہوا۔ بھارت پاکستان کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دے رہا ہے، جب کہ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ان پرانے ناکام تجربوں کی بجائے اب دونوں ملکوں کے نمائندے ملک کر بیٹھیں اور تنازعات ختم کرنے کی کوشش کریں کہ اس کے سوا ان دونوں ملکوں کے عوام کی غربت اور احتیاج ختم کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ موجود نہیں ہے۔ غربت دونوں ملکوں کے عوام کا مقدر بن چکی ہے ۔ دہشت گردی کے عفریت نے بھی دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ دہشت گرد اس خطے میں بد امنی اور افراتفری کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ ان سے مقابلہ کرنے کے لئے بھی دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کا قیام ضروری ہے۔ یہاں ہمیں اس بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ کشمیر جیسے متنازعہ موضوع پر پہلو تہی بھارت کا وطیرہ ہے اور اس پوائنٹ پر آ کر تمام مزاکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہو جاتے ہیں اور ہر سعی لاحاصل ثابت ہوتی ہے۔ بھارت کو اب یہ روش ترک کرنا ہو گی۔ دنیا کے تمام ممالک باہمی تنازعات نمٹا کر اپنے ملک و قوم ک ترقی کے لئے کا کر رہے ہیں جب کہ پاک بھارت دونوں اپنی آزادی کی 7دہائیاں مکمل کرنے کے باوجود بھی وہیں کے وہیں کھڑے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے فہمیدہ حلقے ان دیرینہ معاملات کے مستقل اور پائیدار حل کی جانب فیصلہ کن پیش رفت کریں تا کہ خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کی تعبیر مل سکے۔


ای پیپر