عطائی دندان ساز:انسانی صحت کے لیے خطرہ ہیں
27 ستمبر 2018 2018-09-27

دانت، انسانی اعضاء کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کا براہ راست تعلق ہماری محفوظ اور صحت مند زندگی سے ہے ۔ صحت مند دانتوں کے بغیر نہ ہم خوراک کو چبا سکتے ہیں اور نہ ہی مناسب طر یقے سے ہضم کر سکتے ہیں ۔ دانت ہمارے جسم کا اہم حصہ ہیں اور ان کی صحیح حالت کا ہماری اچھی صحت اور پر سکون زندگی سے تعلق ہے ۔ ہماری خوراک منہ اور دانتوں سے ہوتی ہوئی ہمارے جسم کا حصہ بنتی ہے۔ لہٰذا ہمارے دانتوں کا صاف اور صحت مند ہونا بہت ضروری ہے۔اسی طرح دانتوں سے متعلق معالجین کا مستند ، معیاری ، تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ ہونا بھی بہت ضروری ہے ۔ماہر دندان یا ڈینٹس کا پنجاب ہیلتھ کےئر کمیشن سے رجسٹرڈ ہونا بھی بہت ضروری اور قانونی طور پر لازمی ہے۔ہم اکثر ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کو بھی دندان سازوں میں شمار کر لیتے ہیں جبکہ ایک ڈینٹیسٹ کااپنے شعبے کا ڈگری ہولڈر ہونا لازمی ہے اور جو اپنی متعلقہ کونسل پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سے بھی رجسٹرڈ ہو ۔ ان کے علاوہ عطا ئی ڈینٹسٹ انسانی صحت اور زندگی کے لیے خطرہ ہیں ۔اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ اسسٹینٹ ٹیکنیشنز اور ہائی جئنٹس جو ڈینٹسٹ کے ساتھ ان کی کلینک پر کام کر رہے ہوتے ہیں وہ بھی بطور ماہر دندان ساز کام شروع کر دیتے ہیں اور مریض کو چیک کر کے ان کا علاج کرتے ہیں ۔ یوں وہ مریض کی صحت کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں ۔ یہ لوگ قانونی طور پر ایسا کرنے کے مجاز نہیں ہیں اور نہ ہی اس کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ یہ عطائیت کے زمرے میں آتے ہیں ۔ اس طرح کے عطائی اکثر اپنی دوکان پر کسی ڈاکٹر /ڈینٹسٹ کا بورڈ لگا کر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ ان لوگوں کی نااہلی کی وجہ سے مریض کو ایچ آئی وی ، ایڈز اور ہیپا ٹائٹس جیسی خطرناک بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں ۔ ان میں ایک بہت بڑی تعداد مختلف بازاروں ، چوک اور سڑکوں کے فٹ پاتھوں پر بیٹھے عطائی بھی ہوتے ہیں جو ناک، کان ، گلا ، آنکھ اور جلدی بیماریوں کا بھی علاج کرتے ہیں ۔یہ فٹ پاتھیے معالجین آپ کو سڑکوں ، ریلوے اسٹیشن ، جنرل بس اسٹینڈ اور دیگر پبلک مقامات پر اپنی دوکانیں اور عطائیت کے اڈے سجائے بیٹھے نظر آئیں گے ۔ گا ؤں کی سطح پر ایسے عطائی ، دندان ساز بڑی تعداد میں نظر آئیں گے اور لوگ ان سے علاج کرانے میں کوئی خطرہ ، عار یا قباحت محسوس نہیں کرتے ۔ اس کے وجہ ایک تو یہ مستند اور رجسٹرڈ ڈینٹسٹ کے مقابلے میں ان کا علاج سستا دوسرے گھر سے قریب اور آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں ۔یہ اپنے اڈے پر پرکشش پیغامات اور اپنے علاج کی مشہوری کو نمایاں کر کے لگاتے ہیں ۔ ان کے اخراجات بھی بہت کم ہوتے ہیں ۔جبکہ فٹ پاتھوں پر بیٹھے یہ عطائی ڈینٹسٹ بھی کم پیسے لینے پر تیار ہو جاتے ہیں ۔ تاہم ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ایک تو یہ طبی تعلیم سے بے بہرہ ہوتے ہیں دوسرے غیر مستند، غیر معیاری اور غیر محفوظ علاج کرتے ہیں ۔ یہ علاج کے بنیادی اصولوں اور مرض کی نوعیت کے بارے میں بہت محدود یا کم علم رکھتے ہیں ۔ لہٰذا یہ غلط یا غیر معیاری علاج کرتے کرتے مریضوں کے صحیح ہو سکنے والے دانتوں کا بھی بیڑہ غرق کر دیتے ہیں ۔ انفیکشن کنٹرول سے بے بہرہ اور لا علم ہوتے ہیں ۔ درحقیقت اسے معالج کہنا ہی غلط ہے ۔ علاج کے در پردہ یہ مریض کو مزید بیمار اور ان کی بیماری کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں ۔ لوگ اکثر کم قیمت علاج کی وجہ سے ان کے چکر میں پھنس جاتے ہیں ۔

پنجاب ہیلتھ کےئر کمیشن نے عطائیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کے اڈے اور نام نہاد کلینکس بند کر دیے ہیں ۔ایسے سنٹروں کے معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ اسسٹنٹ ٹیکنیشنز اور ہا ئی جینس جو ڈئنٹل سرجنز کے ساتھ ان کے کلینک پر کام کرتے تھے ، انہوں نے بطور ڈینٹس مریضوں کے دانتوں کا علاج کرنا شروع کر دیا۔ یہ صورتحال مریضوں کے دانتوں کی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ ثابت ہو سکتی ہے ۔ یہ افراد قانونی طور پر مریضوں کے علاج کرنے کے مجاز نہیں ہیں اور ٹیکنیکی اور طبی صلاحیت کے اعتبار سے بھی ایسا کرنے کے اہل نہیں ۔ ڈینٹل کلینکس کی رجسٹریشن اورلائسنسنگ اس مسئلے کا ایک موثر حل ہے جس پر کمیشن نے خصوصی توجہ دی ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ مستند ڈینٹس گا ؤں کی سطح پر اپنی خدمات پیش کریں جو نام نہاد اور عطائی دندان سازوں کے خاتمے کے لیے ایک موثر کوشش ہو گی۔

پنجاب ہیلتھ کےئر کمیشن نے جو کہ معیاری صحت کی فراہمی کا انضباطی ادارہ ہے ، نے اس سلسلے میں دوسرا بڑا قدم سرکاری و غیر سرکاری سطح پر کام کرنے والے ڈینٹل سرجن، ڈینٹل کلنکس اور پولی کلنکس کے لیے (MSDS) یعنی صحت کی فرہمی کے کم سے کم معیارات بھی تیار کیے ہیں ۔ ان پر تربیت بھی دی جارہی ہے اور ان پر عمل در آمد شروع ہو چکا ہے ۔یہ ایم ایس ڈی ایس دانتوں کے مستند معالجین کو صحت کی خدمات ، کلینک میں موجود ضروری سہولیات و خدمات ، عملے کی قابلیت اور تربیت ، انفکشن کنٹرول ، محفوظ خدمات ، علاج گاہ کا کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے اور متعلقہ ریکارڈ رکھنے کے بارے میں کم سے کم معیار کی خدمات اور انتظامات کا پابند کرتا ہے ۔ ان پر عمل در آمد سے مریضوں کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔یہ تمام سرکاری وغیر سرکاری ہسپتالوں ، ڈینٹل کلنکس اور اسی طرح کی مستند علاج گاہوں میں رائج ہیں ۔کمیشن وقتاََفوقتاََماہرین دندان کو تربیت بھی فراہم کرتا ہے اور ان کی خدمات کے معیار کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔


ای پیپر