درخت: ماحولیاتی نظام کی حیات
27 ستمبر 2018 2018-09-27

سب سے پہلے میں مشہور قول کا حوالہ دوں گا ’’جب ارادہ ہو تو راستے خود ہی نکل آتے ہیں‘‘۔ جس طرح ہماری آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اس لحاظ سے ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت تو پہلے بھی تھی لیکن بد قسمتی سے اس شہر کو سیاست نے برباد کر دیا اوردیگر معاملات کی طرح اس پر بھی کسی نے توجہ نہیں دی۔ مجھے یاد ہے 80 کی دہائی میں مشہور ماہر باغبان خان صاحب مرحوم نے سخی حسن نالہ کے ساتھ ساتھ درخت لگائے جس کی وجہ سے پورا علاقہ بہت پر کشش لگتا تھا۔ پھر کئی سالوں بعد ان کو کسی کی ہدایت پر کاٹ دیا گیا جبکہ وہ تناور درخت بن چکے تھے اور ان کوپانی دینے کی بھی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ نالہ کے ساتھ ساتھ تھے اور وہیں سے پانی حاصل کرتے تھے۔ ایسا کس نے کیا اور کیوں کیا اورکیا کسی نے ان کے خلاف کارروائی کی ؟

مرحومہ بے نظیر بھٹو کے دور میں جب جناب آصف علی زرداری وزیر منتخب ہوئے تو انہوں نے پورے ملک میں بڑی تعداد میں درخت لگانے کی ہدایت کی اور فیکٹری مالکان کو بھی’’go green policy‘‘ پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ پاکستان اسٹیل مِل میں بھی درخت لگانے کی مہم کا آغاز کیا گیاجو اسٹیل مِل سے لیکر جناح ایئرپورٹ تک لگائے گئے لیکن وقت کے ساتھ سارے درخت غائب ہونا شروع ہوگئے جس میں حکام کی غفلت شامل ہیں۔

کراچی کے ایک سابق میئرنعمت اللہ خان نے شارعِ فیصل پر کھجور کے درخت لگوائے جس کی وجہ سے شارعِ فیصل کا رستہ بہت خوبصورت لگنے لگا تھا لیکن پھر نامعلوم وجوہات کی وجہ سے وہ بھی ختم ہوتے گئے اور کچھ عرصہ بعد ان میں سے بمشکل 5فیصد ہی بچ سکے۔

اسی طرح ایک اور سابق میئر جناب مصطفی کمال نے کراچی میں بہت شاندار کارگردگی کا مظاہرہ کیا اور کونوکارپس (Cornocarpus)کے درخت لائے جو کہ پورے شہر کی سڑکوں کی گرین بیلٹس پر لگائے گئے۔ لیکن افسوس کہ کے ایم سی کے کسی اہلکارنے اور خصوصاً ہارٹی کلچر ڈپارٹمنٹ سے کسی فرد نے یہ مشورہ نہیں دیا کہ کراچی جیسے شہر میں، جہاں پانی کی بے حد کمی ہے، کس طرح کے درخت لگانے چاہئیں، جوکہ ان کی بنیادی ذمہ داری تھی۔

ایک طویل عرصہ بعد اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ (Cornocarpus) کے درخت ہمارے ماحولیاتی نظام کو تباہ کررہے ہیں جب کہ ہمارے یہاں زیرزمین پانی کی سطح مزید نیچے جاچکی ہے۔چنانچہ ان درختوں کو کاٹنے کا فیصلہ کیا گیا جس پر فوری عمل ہوااور شارع فیصل سے یہ درخت کاٹے جارہے ہیں اور اب ان کی جگہ دوسرے پودے لگائے جارہے ہیں۔ڈی ایچ اے کراچی نے بھی کچھ عرصہ پہلے پورے ڈی ایچ اے میں گرین بیلٹس پر کھجورکے درختوں کو دوبارہ لگانے کا آغاز کیا تھا، لیکن یہاں بھی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا گیا اوراب یہ درخت کہیں نظر نہیں آتے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان درختوں پر خرچ کی جانے والی کثیر رقم ، جو عوام کا پیسہ تھا، اس کے نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

ہمارے یہاں کی ایک اور مثال کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کراچی کی ہے جس نے ماضی میں ڈیفنس کے بہت سے گھروں میں پودے مفت تقسیم کئے تھے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ درخت اگانا تھاجس سے موسم گرما میں شدید گرمی کی لہر پر قابو پایا جاسکے لیکن شاید ان کو اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ اس علاقے میں پانی کی کس قدر شدید کمی ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے پودوں کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھااور یہ محسوس نہیں کیا کہ پہلے یہاں وافر پانی فراہم کیا جائے اور پھر ڈیفنس کے لوگوں کو پودے لگانے کی ترغیب دی جائے۔ اس طرح سی بی سی بھی اپنے مقاصد میں ناکام ہوگیا اور ان کی تمام کوششیں بے کار گئیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس معاملہ پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور سائنسی طریقہء کار کے مطابق زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی مہم شرو ع کی جائے۔ اس سلسلے میں میں یہاں چند تجاویز پیش کرنا چاہتا ہوں، لیکن اس سے پہلے یہ کہنا ضروری ہے کہ ایک احتساب بورڈ قائم کیا جائے جو اس بات پر نظر رکھے کہ کہیں عوام کا پیسہ غلط طور پر تو خرچ نہیں ہورہاکیونکہ اس میں سفید کالر کے جرائم کی کافی گنجائش ہے۔

چند کارآمد تجاویز:

۱) ہارٹی کلچر ڈپارٹمنٹ کو یہ ذمہ داری سونپی جائے کہ وہ شہروں کے موسمی حالات کی مناسبت سے درختوں کا انتخاب کریں۔

۲) مختلف جگہوں پر سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے جائیں اور نکاسی کے پانی کو کھلے سمندر اور جھیلوں میں پہنچایا جائے۔حقیقت یہ ہے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ سے حاصل ہونے والا پانی آبپاشی کیلئے بہترین ہے۔ایک بڑی مثال یہ ہے کہ کراچی میں کئی لاکھ گیلن میں سیوریج کا پانی بغیر ٹریٹمنٹ کے سمند ر میں بہا دیا جاتا ہے اور اگر ہم کراچی میں شجر کاری کیلئے مختلف جگہوں پر ایسے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگا لیں۔ میرے خیال میں اس طرح بہت کم عرصہ میں شہر کا منظر ہی بدل جائیگااور ہمارا سمندر بھی آلودہ پانی سے محفوظ ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ کراچی کے شہریوں کو درخت اگانے کیلئے کم قیمت میں صاف پانی حاصل ہوسکے گا۔

۳) اللہ کے فضل سے ہمارے ملک میں سب کچھ موجود ہے۔ قدر ت نے ہمیں ہر موسم کے پھلوں، سبزیوں اور دیگر اجناس کی بڑی ورائٹی عطا کی ہے۔ اگر ہم عوام کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ مختلف طرح کی اجناس کے استعمال کے بعد ان کے بیجوں کو کوڑے دان میں پھینکنے کی بجائے محفوظ رکھیں اور بلدیہ کے ڈپارٹمنٹس ان بیجوں کوگھروں، دکانوں اور مارکیٹس سے جمع کرلیں اور ان کوہیلی کاپٹر کے ذریعہ ایسی جگہوں پر پھیلا دیں جہاں کوئی کاشتکاری نہیں کی جارہی تو چند سالوں میں ہی جنگل کا جنگل ہرا نظر آنے لگے گا۔

اس کیلئے تعلیمی اداروں میں بھی درختوں کی اہمیت کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ عوام میں بھی آگہی کی مہم شروع کی جائے۔

سیاسی گندگی نے تو بہت کچھ برباد کیا ہے لیکن اب ہم خود متحد ہوکرا س کا سدباب کرسکتے ہیں تاکہ ہمارا ملک سرسبز وشاداب ہوسکے۔ایسا قانون بنایا جائے کہ کسی کو بلاوجہ درخت کاٹنے کے اجازت نہ ہو اورہمارے ملک کی خوبصورتی کے نظام کو تباہ کرنے والے کیلئے سخت سزا مقرر کی جائے ۔ آخری بات یہ کہ ایسے پودوں کا انتخاب کیا جائے جو انسان دوست ہوں۔

یقین رکھئے کہ ’’جب ارادہ ہو تو راستے خود ہی نکل آتے ہیں‘‘ ۔


ای پیپر