پاکپتن ، چیف جسٹس اور نکما پولیس افسر!
27 ستمبر 2018 2018-09-27

پاکپتن کا نام پہلی بار ہم نے ملکہ ترنم نورجہاں کے گائے ہوئے ایک عارفانہ کلام میں سنا تھا جس کے بول تھے ” پاکپتن تے آن کھلوتی، بیڑی میری بنے لا، دوروں سن کے آئیاں میں، ایس پتن دا توں اے ملاح“....تب اباجی سے پاکپتن کے بارے میں، میں نے پوچھا، انہوں نے اس شہر کی اہمیت بتائی تودل میں حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کے دربار شریف حاضری کی خواہش پیدا ہوئی ،.... پھر گورنمنٹ کالج لاہور کے زمانہ طالب علمی میں وہاں ادبی سرگرمیوں کے دوران ایک دن سعید احمد شیخ سے ملاقات ہوئی، وہ بہت اچھے ادیب تھے، ہم نے انہیں گورنمنٹ کالج لاہور کی مجلس اقبال کے ایک اجلاس میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا تھا، وہ جب تشریف لائے ہمارے پنجابی کے محترم پروفیسر منیر لاہوری صاحب نے ہمیں بتایا کہ وہ آج کل پاکپتن میں بطور ڈپٹی کمشنر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ شاید 1990ءکی بات ہے۔ ان دنوں ڈپٹی کمشنر بڑی ”توپ“ ہوا کرتے تھے۔ آج کے کچھ ڈپٹی کمشنر ز حرکتوں سے زیادہ سے زیادہ ”پٹواری“ لگتے ہیں، آج بڑے بڑے عہدوں پر چھوٹے چھوٹے ”بونے “ آکر بیٹھ گئے ہیں، ان عہدوں کی ساری ”چمک دمک“ ہی ختم ہوکررہ گئی ہے، کسی زمانے میں تھانیدار کی بھی بڑی حیثیت ہوتی تھی، کسی گاﺅں میں کوئی تھانیدار رہائش پذیر ہوتا اس کی وجہ سے پورے گاﺅں کے ٹھاٹھ باٹھ ہی انوکھے اور نرالے ہوتے تھے، اب بے چارے آئی جی ذلیل ہوتے پھررہے ہیں، انہیں بھی اپنے عہدے کی اہمیت کا احساس تک نہیں ہوتا، وہ ایسی ایسی حرکتیں کرتے ہیں، ایسی ایسی چھلانگیں لگاتے ہیں ، آئی جی کم بندر زیادہ لگتے ہیں، جیسے حال ہی میں ایک بندر پنجاب سے چھلانگ لگاکر سندھ چلے گیا ہے، ....بہرحال سعید شیخ نے ہمیں پاکپتن آنے کی دعوت دی، ہم اپنے کچھ ساتھی طالب علموں اور اساتذہ کے ساتھ وہاں پہنچے تو انہوں نے بڑی عزت دی، وہ ہمیں حضرت بابا فریدالدین گنج شکرؒ کے دربار پر بھی ساتھ لے گئے، دربار شریف کے احاطے میں ہم نے قوالی سنی اور لنگر بھی کھایا، ....اب پچھلے کچھ دنوں سے روحانی اہمیت کا حامل یہ شہر کچھ نکمے اور نااہل افسران کی وجہ سے مختلف اقسام کی بدنامیوں کا شکار ہے جو یقیناً ایک المیہ ہے۔ خاتونِ اول کے سابق شوہر خاور مانیکا اپنی فطرت کے مطابق پولیس ملازمین کے ساتھ بدتمیزی نہ کرتے، جس کے جواب میں پولیس ملازمین کو بھی اپنی فطرت کے مطابق بدتمیزی کرنا پڑ گئی، اور اس پر ایک نکمے نااہل اور جھوٹے آئی جی کلیم امام شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نہ بنتے تو ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے کا معاملہ پولیس اور سرکار کی اس قدر رسوائی کا باعث ہرگز نہ بنتا ۔ خاور مانیکا نے پولیس کے جس رویے کی شکایت کی اس کا شکار عوام روزانہ ہوتے ہیں۔ عوام کی ایسی شکایات پر کتنے ڈی پی او اب تک تبدیل ہوئے ؟موجودہ حکمران اقتدار میں اس نعرے کے ساتھ آئے تھے وہ ایسا پاکستان بنائیں گے جہاں غریب اور امیر کے لیے قانون ایک جیسا ہوگا، اب ہم اس تبدیلی کے منتظر ہیں کہ عام آدمی کو پولیس سے کوئی شکایت ہوئی، جیسی خاور مانیکا کو ہوئی تو اس پر بھی وزیراعلیٰ پنجاب ایسے ہی متعلقہ آرپی او اور ڈی پی او کو طلب فرمائیں گے اور اس پر بھی نصف شب کو ڈی پی او کو ایسے ہی تبدیل اور پھر صوبہ بدر کردیا جائے گا جیسے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو کردیا گیا، اس کا قصور صرف اتنا ہے اس نے ”خاتون اول “ کے سابق ”شوہراول“ جو ہمیشہ کسی نہ کسی طاقت ودیگر اقسام کے نشوں میں دھت رہے کو پولیس ملازمین کے خلاف ان کی شکایت پر یہ کہنے کی جرا¿ت کرلی تھی کہ آپ ان پولیس ملازمین کے خلاف درخواست دیں ہم کارروائی کریں گے، خاور مانیکا کو ”درخواست“ کا لفظ یقیناً ناگوار گزرا ہوگا کیونکہ انہوں نے ہمیشہ حکم دیا ہے۔ ان کی خواہش یقیناً یہی ہوگی ڈی پی او فوراً موقع پر تشریف لاتے اور ان سے پوچھ گچھ کرنے والے پولیس ملازمین کا مو¿قف سنے بغیر انہیں گولی سے اُڑا دیتے ۔ یہ معمول کا ایک واقعہ تھا جسے اس وقت کے نکمے آئی جی پنجاب کلیم امام کی نااہلی نے بے عزتی کے اس مقام پر پہنچا دیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو اس کا ازخود نوٹس لینا پڑ گیا،.... ہمارا خیال تھا فریقین کی پہلی طلبی پر محترم چیف جسٹس آف پاکستان یہ حکم صادر فرمادیں گے ڈی پی او کا تبادلہ فوری طورپر کینسل کرکے پہلے انکوائری مکمل کی جائے۔ اس کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی جائے۔ اس کے مطابق ڈی پی او واقعی قصور وار ہوا تو سپریم کورٹ کو اس کے تبادلے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ پہلی طلبی پر آئی جی کلیم امام نے محترم

چیف جسٹس آف پاکستان اور عدلیہ کا تقدس پیش نظر رکھے بغیر ڈٹ کر جھوٹ بولے، اس کا سب سے بڑا ثبوت جس پر وہ ابھی تک قائم ہے یہ ہے کہ آرپی او اور ڈی پی او کی وزیراعلیٰ ہاﺅس طلبی اس کے نوٹس میں نہیں تھی، اس واقعے پر محترم چیف جسٹس آف پاکستان کے ازخود نوٹس کی اب تک کی کارروائی کچھ تضادات کا شکار ہے۔ کچھ معاملات سمجھ سے بالاتر ہیں، ....دوسری طلبی پر خاور مانیکا کی صاحبزادی نے فرمایا ” پولیس ملازمین نے ان کا بازوپکڑا جو یقیناً بداخلاقی ہے، یہ بھی فرمایا ” پولیس ملازمین نے اس موقع پر شراب بھی پی ہوئی تھی “،....جس پر محترم چیف جسٹس نے ایک طرف اس واقعے کی مکمل چھان بین کا حکم دیا، دوسری طرف پولیس کے اس رویے پر قوم سے معافی مانگ لی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے محترم چیف جسٹس کے اپنے حکم کے مطابق اس واقعے کی انکوائری ابھی شروع ہی نہیں ہوئی تھی تو انہیں قوم سے معافی مانگنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟۔....دوسری اہم بات یہ کہ آئی جی کلیم امام نے اس واقعے میں اپنی روایتی نااہلی کا بار بار مظاہرہ نہیں کیا تو انہیں عدالت سے معافی مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اگر ان کی نااہلی بار بار ثابت ہورہی ہے، جس کا اندازہ دوران سماعت محترم چیف جسٹس صاحب کی باتوں سے بھی ہورہا ہے تو انہیں اتنی آسانی سے معاف کردیا جائے گا کہ وہ آئندہ بھی ایسی اوچھی حرکتیں کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کریں ؟۔محترم چیف جسٹس آف پاکستان کو یقیناً اس بات کا احساس ہوگا چور چوری سے جاتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں جاتا۔ کلیم امام جیسے نکمے اور نااہل افسران کا کوئی نہ کوئی بندوبست کرنا پڑے گا ورنہ ایسے واقعات ہوتے رہیں گے جس سے اداروں کی ساکھ راکھ میں ملتی رہے۔ آئی جی بلکہ ”گئی جی“ کلیم امام کا خیال تھا اس کے زیراثر تیار کی جانے والے انکوائری رپورٹ پر محترم چیف جسٹس آف پاکستان آنکھیں بند کرکے یقین کرکے اسے سپریم کورٹ کے احاطے میں موجود کسی ”کھوہ کھاتے“ میں پھینک دیں گے۔ چیف صاحب نے ایسا نہیں کیا کیونکہ وہ پولیس کے اس ”چھلاوے “ سے پرانا واقف ہیں۔ انہوں نے اس کی انکوائری رپورٹ رد کرکے اب اس کا انکوائری افسر خالق داد لک نامی ایک ایسے ایماندار پولیس افسر کو مقرر کیا ہے جس پر پولیس کا چھلاوہ کلیم امام اس طرح اثرانداز ہونے کی پوزیشن میں نہیں رہا جس طرح وہ پہلے اپنے ماتحت ایڈیشنل آئی جی ابوبکری پر اثرانداز ہونے کی پوزیشن میں تھا، ....پہلے یہ صرف پولیس کی ساکھ کا معاملہ تھا، اب محترم چیف جسٹس کی ساکھ کا معاملہ بھی ہے۔ !


ای پیپر